محمد اظہار الحق
محمد اظہار الحق
Muhammad Izhar Ul Haq
آراء
آراء
مصنف: رحمان فارس اشاعت: سنڈے میگزین، روزنامہ جنگ، 09 اگست، 2026 صاحبو! کسی بھی زبان کے ادب میں ایک دو چونکا دینے والی تخلیقات نکال لینا تخلیق کار کی نِری خوش قسمتی بھی ہوسکتی ہے،حُسنِ اتفاق بھی۔ ویسے بھی اُردوغزل کافی سخی ہے۔ برسوں کی ریاضت میں دو ڈھائی اشعار تقریباً سب کو مل ہی جاتے ہیں۔ غزل بھرعطا ہوجائے توکیا ہی بات ہو! مسلسل عالی سخنی کم کم کو نصیب ہوتی ہے۔ لیکن کسی بھی زبان کے ادب میں نابغۂ روزگار کی واضح ترین نشانی اور روشن ترین اعلان اُس کا اسلوب ساز ہونا ہے۔ صدیوں پرانی شعری روایت میں ایک بالکل نیا، انوکھا، نرالا، نادراور نویکلا اسلوب متعارف کروانا کششِ ثقل کی دریافت سے کم نہیں اور یہ کام محمّد اظہارالحق کے حصّے میں آیا ہے۔ فقر اُن کا خاصۂ طبعی ہے اور برسوں مناصبِ عالی پر براجمان رہنے کے باوجود اُجلے پوشی سے گزارہ اُن کی پہچان۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ اظہارالحق ہوں اور بےپناہ سنجیدہ ف… مصنف: رحمان فارس اشاعت: سنڈے میگزین، روزنامہ جنگ، 09 اگست، 2026 صاحبو! کسی بھی زبان کے ادب میں ایک دو چونکا دینے والی تخلیقات نکال لینا تخلیق کار کی نِری خوش قسمتی بھی ہوسکتی ہے،حُسنِ اتفاق بھی۔ ویسے بھی اُردوغزل کافی سخی ہے۔ برسوں کی ریاضت میں دو ڈھائی اشعار تقریباً سب کو مل ہی جاتے ہیں۔ غزل بھرعطا ہوجائے توکیا ہی بات ہو! مسلسل عالی سخنی کم کم کو نصیب ہوتی ہے۔ لیکن کسی بھی زبان کے ادب میں نابغۂ ر…
آراء
Literary Notes : Fall of Dhaka: a new autobiography triggers soul-searching By Rauf Parekh DECEMBER 16 marks an event that many of us would like to forget: the fall of East Pakistan in 1971, or the disintegration of Pakistan and creation of Bangladesh. But forgetting does not solve problems and facing reality may offer a few lessons, enabling us to avoid making the same mistakes again. Luckily, some intellectuals have begun to feel differently, voicing their reservations unambiguously. “What is most painful about East Pakistan is the misunderstanding of West Pakistanis. But the rest of Pakistan was up to its neck in a state of denial that had probably begun from the Fall of Dhaka. If the majority of intellectuals of a country was to put all the blame on Bengalis even half-a-century later and… Literary Notes : Fall of Dhaka: a new autobiography triggers soul-searching By Rauf Parekh DECEMBER 16 marks an event that many of us would like to forget: the fall of East Pakistan in 1971, or the disintegration of Pakistan and creation of Bangladesh. But forgetting does not solve problems and facing reality may offer a few lessons, enabling us to avoid making the same mistakes again. Luckily, some…
آراء
Culture and agency By Dr Ejaz Hussain Muhammad Izhar-ul-Haq’s  Bekhri Hai Meri Dastaan  [Scattered is My Story] marks the first part of his autobiography. Unlike some autobiographies that begin with the author’s birth and early childhood, Izhar opens his narrative by recalling the time after completing his bachelor’s degree at Government College, Asghar Mall, Rawalpindi. From this unusual, if compelling starting point, the reader is immersed in the intellectual and emotional evolution of a young man who stands at the threshold of a transformative journey—both personal and national. The author secures an inter-provincial scholarship from the Government of West Pakistan to pursue a master’s in economics at the University of Dhaka. This part of the autobiography captures his experiences as a stud… Culture and agency By Dr Ejaz Hussain Muhammad Izhar-ul-Haq’s  Bekhri Hai Meri Dastaan  [Scattered is My Story] marks the first part of his autobiography. Unlike some autobiographies that begin with the author’s birth and early childhood, Izhar opens his narrative by recalling the time after completing his bachelor’s degree at Government College, Asghar Mall, Rawalpindi. From this unusual, if compell…
آراء
ممتاز دانشور ‘ شاعر اور کالم نگار  محمد اظہار الحق  سے ایک منتخب گفتگو  مدیر : آپ کے ادبی نظریاتی سبھاؤ سے لگتا ہے کہ آپ کی طینت مشرقی ہے ۔۔۔یہ ایسا برا بھی نہیں اگر عملاً آپ مغربی طرز عمل سے آراستہ ہوں ۔۔۔اس دوئی میں کہیں سانسوں کی گھٹن محسوس نہیں ہوتی آپ کو ۔۔یا اندر کھاتے کبھی آزردہ بھی ہوئے ہیں ؟ (ایک بڑی سول سروس نوکری کی آپ نے ) ۔ ۔ اظہارالحق :شکریہ ضیاء صاحب! آپ کا سوال بہت شاطرانہ ہے  میں بنیادی طور پر مشرقی اور مغربی ثنویت پر یقین نہیں رکھتا لیکن چلیئے ‘ سکہ رائج الوقت گردانتے ہوئے انہی اصطلاحات میں بات کر لیتے ہیں ۔ دوئی تو یہ تھی ہی نہیں اس لیے کہ کوئی ایسی شے جو مشرقی تھی اور اچھی تھی میں نے ترک نہیں کی اور کوئی ئے جو مغربی سمجھی جاتی ہے اور بری ہے ‘ میں نے اپنائی نہیں ۔ کم از کم کوشش ضرور کی ‘ اِسے نہ چھوڑنے کی اور اسے نہ اپنانے کی ۔ اصل میں مشرقیت تمام کی تمام مستحسن نہیں ‘ نہ ہی ج… ممتاز دانشور ‘ شاعر اور کالم نگار  محمد اظہار الحق  سے ایک منتخب گفتگو  مدیر : آپ کے ادبی نظریاتی سبھاؤ سے لگتا ہے کہ آپ کی طینت مشرقی ہے ۔۔۔یہ ایسا برا بھی نہیں اگر عملاً آپ مغربی طرز عمل سے آراستہ ہوں ۔۔۔اس دوئی میں کہیں سانسوں کی گھٹن محسوس نہیں ہوتی آپ کو ۔۔یا اندر کھاتے کبھی آزردہ بھی ہوئے ہیں ؟ (ایک بڑی سول سروس نوکری کی آپ نے ) ۔ ۔ اظہارالحق :شکریہ ضیاء صاحب! آپ کا سوال بہت شاطرانہ ہے  میں بنیادی…