وہ جسے حافظ شیرازی ''دورِ قمر‘‘ کہتے ہیں‘ کیا آج کل پاکستان اسی ''دورِ قمر‘‘ سے گزر رہا ہے؟
پہلے یہ سن لیجیے کہ حافظ شیرازی‘ جن کے دیوان کو قسّام ازل نے وہ شہرتِ دوام بخشی جو شاید ہی کسی اور شعری مجموعے کو ملی ہو، ''دورِ قمر‘‘ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ وہ فرماتے ہیں کہ یہ کیسا شور و غوغا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں‘ اُفق تا اُفق فتنہ اور شر نظر آرہا ہے۔ آرزو یہ ہے کہ اچھے دن آئیں مگر پہلے سے بھی بدتر آ رہے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ احمقوں کو شربت دیے جا رہے ہیں اور دانا خونِ جگر پی رہے ہیں۔ بہترین گھوڑا کاٹھی کی وجہ سے زخمی ہو گیا ہے۔ دوسری طرف گدھے کے گلے میں قیمتی ہار ڈالے گئے ہیں۔ بیٹیاں ماؤں سے لڑائیاں کر رہی ہیں اور بیٹے باپ کا بُرا سوچ رہے ہیں۔ بھائی بھائی کے ساتھ رحم سے نہیں پیش آ رہا اور باپ بیٹے کے ساتھ شفقت نہیں کر رہا۔ یہ ہے وہ صورتحال جو حافظ نے بیان کی ہے اور اسے ''دورِ قمر‘‘ سے منسوب کیا ہے۔ ''دورِ قمر‘‘ کیا ہے؟ اس کی تشریح جو سکالرز نے کی ہے اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس سے مراد زمانہ بھی ہے اور گردشِ روزگار بھی! کچھ نے کہا ہے کہ اجرامِ فلکی کے اپنے اپنے دور ہیں جو ایک ایک ہزار سال پر مشتمل ہیں اور ہم اب چاند کے دور (دورِ قمر) میں رہ رہے ہیں! اور چاند کا یہ دور فتنوں پر مشتمل ہے۔ بہر طور یہ طے ہے کہ ''دورِ قمر‘‘ فتنوں‘ جھگڑوں‘ زبوں حالی‘ مسائل اور مشکلات کا گڑھ ہے۔
آج کے پاکستان کو دیکھیے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے ''دورِ قمر‘‘ سے گزر رہا ہے۔ ہر نیا دن پہلے سے بد تر آرہا ہے۔ خاندانی سطح پر دیکھیے تو بھائی بھائی کو عدالتوں میں گھسیٹ رہا ہے۔ قتل کر رہا ہے۔ قطع کلامی عام ہے۔ نوجوان لڑکیاں ''میری اپنی زندگی‘‘ کے فارمولے کو اپنا رہی ہیں اور ماں باپ کو‘ خاندان کو‘ خاندانی اقدار کو جوتے کی نوک پر لکھ رہی ہیں۔ باپ گھر میں داخل ہو تو فرزند آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔ مائیں سوشل میڈیا میں ڈوبی ہوئی ہیں اور جان چھڑانے کیلئے معصوم بچوں کو سکرین کے نشے پر لگا رہی ہیں۔ اجتماعی سطح پر دیکھیے تو ہم بطور ِقوم ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں گر چکے ہیں۔ کہیں فاقے ہیں تو کہیں دعوتوں میں تیس تیس‘ چالیس چالیس پکوان پیش کیے جا رہے ہیں۔ عوام ہوشربا گرانی کا شکار ہیں اور حکمران انہی عوام کے ٹیکسوں سے ایسی عیاشانہ زندگی گزار رہے ہیں جس کا جمہوری‘ ترقی یافتہ ملکوں کے سربراہ سوچ بھی نہیں سکتے۔ جس سیاسی جماعت کی حکومت ہے اس کے قائد ہر روز لندن کے لیے پا بہ رکاب ہیں۔ زندگی ان کے لیے پکنک ہے۔ آپ اندازہ لگائیے کہ اس ملک کا دارالحکومت ایک گریڈ بیس کے افسر کے رحم و کرم پر ہے۔ کوئی میئر ہے نہ انتخابات۔ کوئی سٹی کونسل ہے نہ اپوزیشن! جو کمشنر ہے وہی ترقیاتی ادارے کا سربراہ بھی ہے۔ اس سے ملاقات کرنا تو دور کی بات ہے‘ بات تک کوئی نہیں کر سکتا۔ آدھے شہر کے درخت اور جنگلات اس کے پیشرو نے کٹوا دیے۔ جو رہ گئے تھے وہ موجودہ حاکم کٹوا رہا ہے۔ کوئی چوں بھی نہیں کر رہا ‘نہ کر سکتا ہے۔ اسلام آباد سے باہر رہنے والوں کو ان دنوں اسلام آباد آنے سے پہلے سو بار سوچ لینا چاہیے۔ پورا شہر کُھدا پڑا ہے۔ جہاں ضرورت نہیں وہاں بھی کھدائی کر کے کچھ نہ کچھ نیا بنانے کا چکر چل رہا ہے۔ کسی مارکیٹ میں جائیں تو وہاں کی پارکنگ اکھیڑی اور ادھیڑی ہوئی ملتی ہے۔ جگہ جگہ کھدائیوں سے گرد کی دبیز چادر نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے! گھمنڈ اور خود پسندی کا یہ عالم ہے کہ چودہ بچوں کے مرنے پر بھی والیٔ شہر سوٹ اور ٹائی میں ملبوس آتا ہے۔
امن و امان کی ریٹنگ صفر سے نیچے ہی سمجھیے۔ دو صوبے مکمل افرا تفری‘ بدنظمی‘ ابتری اور آشوب کا شکار ہیں۔ بلوچستان عملی طور پر باقی ملک سے لاتعلق نظر آتا ہے۔ کیا آپ صوبے کے اندر سفر کر سکتے ہیں؟ نہیں! رہے باقی صوبے تو وہاں جرائم سکہ رائج الوقت بن چکے ہیں۔ کسی دن کا اخبار اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ ڈاکے‘ اغوا‘ چوریاں عام ہیں۔ گاڑیاں‘ موٹر سائیکل‘ زیورات سب کچھ لوٹا جا رہا ہے۔ دوسری طرف پولیس فورس پر اربوں روپے خرچ ہو رہے ہیں۔ افسروں کی مراعات کا کوئی کنارہ نہیں۔ ان کے محلات پر چوبیس گھنٹے پولیس کے جوانوں کے پہرے ہیں۔ نوکر شاہی عوام کے سامنے شاہی بگھیوں سے اترتی ہے۔ عین اسلام آباد میں‘ ایف بی آر کی ناک کے عین نیچے‘ شہر کا سب سے بڑا ماہرِ امراضِ چشم‘ مریضوں سے ایک ایک آپریشن کے لاکھوں روپے لیتا ہے مگر صرف اور صرف کیش کی صورت میں! کریڈٹ کارڈ لیتا ہے نہ چیک۔ یہاں تک کہ آن لائن بھی رقم ٹرانسفر کرنے کی اجازت نہیں! نوٹوں کی گٹھڑی سر پر اٹھائیے اور موتیے کا آپریشن کرائیے۔
دہشت گردی کا جن بوتل سے نکلا ہے تو بوتل میں واپس جا ہی نہیں رہا۔ جوان اور افسر روزانہ کی بنیاد پر شہید ہو رہے ہیں‘ اور ہوئے جا رہے ہیں۔ بچے یتیم ہو رہے ہیں‘ خواتین بیوہ ہو رہی ہیں۔ جو علاج کار گر نہیں ہو رہا‘ اسے ہی جاری رکھا جا رہا ہے۔ کوئی اَنت نہیں نظر آ رہا! عالمی بساط پر ہم اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کر پا رہے۔ پیچیدہ مرض کے لیے پینا ڈول دیے جا رہے ہیں۔ پارلیمنٹ کو قومی مسائل سے کوئی غرض نہیں۔ سب کچھ اس سے باہر باہر ہی ہو رہا ہے۔ ایسے میں معزز ارکانِ پارلیمنٹ کو کچھ تو کرنا ہے۔ آخر وقت تو کاٹنا ہے۔ بیکار مباش کچھ کیا کر۔ چنانچہ ارکانِ پارلیمنٹ اپنی مراعات زیادہ کرنے اور کرانے میں لگے ہوئے ہیں! اپنا موازنہ سول بیورو کریسی سے کرتے ہیں اور صرف سول بیورو کریسی سے ہی کرتے ہیں۔ ایک ایک اجلاس کروڑوں میں پڑتا ہے۔ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس اٹینڈ کرنے کے معاوضے الگ۔ کیفے ٹیریا ارزاں ترین! یومیہ الاؤنس الگ۔ علاج یہاں نہیں تو باہر سے کرا آئیے۔ مشہورِ عالم کتاب Gulliver's Travels کے مصنف جونا تھن سوئفٹ نے اس علامتی ناول میں اپنے زمانے کی پارلیمنٹ کا مذاق اڑایا تھا کہ اور تو کام کوئی نہیں‘ بس اس پر بحث کرتے رہتے ہیں کہ انڈہ کس طرف سے توڑا جائے! شاید چراغ حسن حسرت نے تجویز کیا تھا کہ کرنے کو کچھ نہ ہو تو پورچ یا صحن میں گملوں کی ترتیب بار بار بدلیے! قومی ریلوے‘ قومی ایئر لائن اور سٹیل مل کا ماتم تو عرصے سے ہو رہا ہے۔ سوائے چند ایئر لائنوں کے‘ باقی تمام ہمارے ملک سے پرہیز کر رہی ہیں۔ جیسے ہم اچھوت ہوں! کرنسی ہماری دمڑیوں اور دھجیوں جیسی ہے۔ افغانستان کے ''افغانی‘‘ سے بھی کمتر! جس ملک میں جائیں ہمیں بھکاری‘ چور اور نوسر باز سمجھا جاتا ہے۔ دوست ممالک بھی آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے ہیں!
آپ کا کیا خیال ہے؟ مجھے تو لگتا ہے کہ ہم ''دورِ قمر‘‘ سے گزر رہے ہیں۔ مستقبل قریب میں تو کیا مستقبل بعیدمیں بھی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ صرف ایک چیز کا یقینی علم ہے کہ دونوں خاندان باری باری ہم پر حکومت کریں گے۔ ہمارے مستقبل کے حکمران کچھ تو یہیں ہیں‘ کچھ لندن سے آئیں گے مگر ابھی نہیں! جب ان کی باری آئے گی تو سپیشل جہاز سے آ جائیں گے! ہماری سیاسی جماعتوں کے ارکان سفید ریش اور سفید سر ہو جائیں گے۔ بڑھاپے کی شدت سے چلنا محال ہو جائے گا۔ مگر حکمران خاندانوں کی تیسری چوتھی نسل کے سامنے بھی سر جھکا کر‘ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوں گے!
وہ جسے حافظ شیرازی ''دورِ قمر‘‘ کہتے ہیں‘ کیا آج کل پاکستان اسی ''دورِ قمر‘‘ سے گزر رہا ہے؟ پہلے یہ سن لیجیے کہ حافظ شیرازی‘ جن کے دیوان کو قسّام ازل نے وہ شہرتِ دوام بخشی جو شاید ہی کسی اور شعری مجموعے کو ملی ہو، ''دورِ قمر‘‘ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ وہ فرماتے ہیں کہ یہ کیسا شور و غوغا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں‘ اُفق تا اُفق فتنہ اور شر نظر آرہا ہے۔ آرزو یہ ہے کہ اچھے دن آئیں مگر پہلے سے بھی بدتر آ رہے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ احمقوں کو شربت دیے جا رہے ہیں اور دانا خونِ جگر پی رہے ہیں۔ بہترین گھوڑا کاٹھی کی وجہ سے زخمی ہو گیا ہے۔ دوسری طرف گدھے کے گلے میں قیمتی ہار ڈالے گئے ہیں۔ بیٹیاں ماؤں سے لڑائیاں کر رہی ہیں اور بیٹے باپ کا بُرا سوچ رہے ہیں۔ بھائی بھائی کے ساتھ رحم سے نہیں پیش آ رہا اور باپ بیٹے کے ساتھ شفقت نہیں کر رہا۔ یہ ہے وہ صورتحال جو حافظ نے بیان کی ہے او…
وہ جسے حافظ شیرازی ''دورِ قمر‘‘ کہتے ہیں‘ کیا آج کل پاکستان اسی ''دورِ قمر‘‘ سے گزر رہا ہے؟ پہلے یہ سن لیجیے کہ حافظ شیرازی‘ جن کے دیوان کو قسّام ازل نے وہ شہرتِ دوام بخشی جو شاید ہی کسی اور شعری مجموعے کو ملی ہو، ''دورِ قمر‘‘ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ وہ فرماتے ہیں کہ یہ کیسا شور و غوغا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں‘ اُفق تا اُفق فتنہ اور شر نظر آرہا ہے۔ آرزو یہ ہے کہ اچھے دن …
بلند پروازی کا شوق اچھا ہے۔ ہونا چاہیے! مگر مضبوط بال و پر کے ساتھ! پر کمزور ہوں تو نیچے گرنا یقینی ہے۔ ایسے میں عقل مندی یہ ہے کہ اُڑنے کے بجائے زمین پر چل لینا چاہیے!
ہم تمام مغربی پاکستانی دوست جب ڈھاکہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو کر واپس آئے تو ہمارے ہاتھوں میں‘ اس وقت کے لحاظ سے بہترین ڈگریاں تھیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کی ریٹنگ‘ عالمی سطح پر قابلِ رشک تھی۔ ہم میں سے اکثر کو برطانیہ اور امریکہ کی کسی بھی ٹاپ کلاس یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ مل سکتا تھا۔ مگر ہم میں سے اکثر لوئر مڈل کلاس سے تھے اور کچھ اس سے بھی نیچے!! اگر ہم ضد کرتے کہ ہم نے مزید پڑھنے کے لیے ولایت جانا ہے تو ہمارے والدین کو اپنی زرعی زمینیں اور جائیدادیں بیچنا پڑتیں۔ قرض لینا پڑتا۔ ہماری ماؤں اور بہنوں کو زیور گروی رکھوانے پڑتے۔ تب ہم مل بیٹھے اور ہم نے طے کیا کہ جو قسمت آزمائی بھی کرنی ہے اور جتنی بھی کرنی ہے‘ اپنے ملک میں ہی کریں گے۔ چنانچہ کچھ ہم میں سے سول سروس کے لیے مقابلے کے امتحان میں بیٹھ گئے۔ کچھ نے بینکاری کے شعبے کو اپنا لیا۔کچھ نجی شعبے میں چلے گئے۔ کچھ نے اپنا بزنس شروع کر دیا۔ کچھ محکمۂ تعلیم سے وابستہ ہو گئے۔ قدرت بھی کیا کیا کرشمے دکھاتی ہے۔ ہم میں سے نوّے‘ پچانوے فیصد دوست اپنے اپنے شعبے میں ٹاپ پر پہنچے۔ دوسرے ملکوں میں بھی ذمہ داریاں نبھائیں۔ قابلِ رشک کیریئر بنے۔ ہم نے ملک کی ترقی میں بھی اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ یہ سب کچھ حاصل کرنے کے لیے ہم میں سے کسی نے بھی اپنے والدین کو آزمائش میں نہیں ڈالا۔ انہوں نے قرض لیا نہ زمینیں اور مکان بیچے! سب کچھ اسی وطن سے ملا! سب کچھ اسی مٹی سے حاصل کیا۔ ہم تو خیر کس کھیت کی مولی تھے‘ علامہ اقبال سے لے کر ڈاکڑ عبدالسلام اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان تک‘ سب نے جتنی تعلیم ملک کے اندر ممکن تھی‘ ملک کے اندر ہی حاصل کی۔ ایک خاص مقام حاصل کرنے کے بعد یہ حضرات مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک گئے۔ بھارتی سائنسدان جو بھارت کے ایٹمی اسلحہ کا بابا ہے‘ ڈاکٹر عبدالکلام نے بھی تمام اعلیٰ تعلیم بھارت ہی میں حاصل کی۔
بیس سالہ بچی‘ لائبہ اعجاز نے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں خودکشی کر لی۔ اس دردناک کیس کی تفصیلات ہم سب جانتے ہیں۔ اس نے بی ایس اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی سے امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ وہ بلند پروازی کی خواہش رکھتی تھی۔ Ambitious تھی۔ آرزومندی میں کوئی برائی نہیں! سوچ اونچی ہی رکھنی چاہیے۔ ہر انسان کو اپنی تمناؤں کی پرورش کا حق حاصل ہے۔ مگر اس طالبہ کے ساتھ یہ ہوا کہ بدقسمتی نے اس پر تین اطراف سے حملہ کیا! ایسا حملہ جو افسوس! صد افسوس! جان لیوا ثابت ہوا! اس کی پہلی بدقسمتی یہ تھی کہ اس کا والد پڑھا لکھا نہ تھا۔ وہ شیر فروش تھا۔ اس کے دماغ میں یہ بات بالکل نہ آئی کہ وہ کسی تعلیم یافتہ دوست یا رشتہ دار سے مشورہ کرے کہ لائبہ کو باہر بھیجنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے۔ دوسری بدقسمتی لائبہ کی اس ملک کا ناکارہ نظام تعلیم تھا۔ اس کی یونیورسٹی میں ایک ایسا شعبہ ہونا چاہیے تھا جو طلبہ و طالبات کی بیرونِ ملک جانے کے لیے رہنمائی کرتا اور بھرپور مدد کرتا! اس میں کیا شک ہے کہ اس ملک کا نظام تعلیم فرسودہ‘ یک رُخا اور جدید سہولتوں سے کوسوں دور ہے۔ حیرت ہے کہ اس کے کسی استاد نے اس لائق طالبہ کی رہنمائی نہ کی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ لائبہ نے کسی سے مشورہ کیا ہی نہ ہو! یہ سوال بھی ذہن میں اٹھتا ہے کہ مغربی ممالک کی یونیورسٹیوں کی ہر تفصیل ان کی ویب سائٹ پر موجود ہوتی ہے تو لائبہ نے ویب سائٹس کی ہدایات پر عمل کیوں نہ کیا؟ اور ایک اجنبی پر کیوں بھروسہ کر لیا؟ لائبہ کی تیسری بدقسمتی اس ملک کی پولیس اور نظامِ عدل کا کھوکھلا پن ہے۔ جس بدمعاش نے لائبہ کو دھوکا دیا اور اس کی المناک موت کا سبب بنا‘ وہ ہسٹری شیٹر تھا۔ اس کا ماضی بھی غلیظ اور گھناؤنا تھا۔ اس سے پہلے بھی اس نے لوگوں کے ساتھ فراڈ کیے تھے۔ پولیس کو یہ سب کچھ معلوم تھا۔ اس وحشی جانور کی گردن میں پٹّہ ڈالنا چاہیے تھا اور اسے سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے تھا مگر وہ بے خوف ہو کر دندناتا پھر رہا تھا یہاں تک کہ اس نے ناگ بن کر ایک قابل بچی کی زندگی کو ڈس لیا۔
کاش! بیس سالہ لائبہ کو کوئی سمجھاتا کہ اس کے والدین میں اتنی سکت نہیں کہ وہ اسے‘ اس وقت بیرون ملک بھیج سکیں! کوئی اس کی رہنمائی کرتا کہ مزید تعلیم اسی ملک میں حاصل کرے اور اس وقت کا انتظار کرے جب اسے سکالر شپ ملے گا۔ اس کالم نگار کی معلومات کے مطابق اٹامک انرجی کمیشن جیسے قومی ادارے ایسے لائق طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اپنے سایۂ عاطفت میں لے لینے کے بعد اعلیٰ تعلیم کا بہترین انتظام کرتے ہیں! قیاس یہی ہے کہ لائبہ کو کوئی ایسا شخص نہ میسر آیا جو درست رہنمائی کرتا! اس کے غیر تعلیم یافتہ والدین نے اسے باہر کی یونیورسٹی میں بھیجنے کے لیے وہی راستہ اختیار کیا جو اَن پڑھ والدین بیٹوں کو یورپ بھیجنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور عمر بھر کی کمائی دھوکے باز ایجنٹوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔
ایک بات یقینی ہے۔ لائبہ جیسی بچیوں کی زندگی محفوظ کرنے کے لیے متعلقہ حلقے کچھ بھی نہیں کریں گے۔ یونیورسٹیوں میں طلبہ و طالبات کی رہنمائی کے لیے نئے شعبے قائم نہیں ہوں گے۔ ایچ ای سی جیسے سفید ہاتھی اس معاملے میں ہرگز ممد ثابت نہیں ہوں گے۔ حکومت جو بھی ہو گی جس کی بھی ہو گی‘ اس ضمن میں کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔ حکومتوں کی اولین ترجیح اپنے اقتدار کا دوام ہے۔ کابینہ پر نظر دوڑائیے۔ سطحیت کا ایک سے بڑھ کر ایک نمونہ نظر آئے گا۔ ترکیہ کی کابینہ میں اس وقت سات وزرا پی ایچ ڈی ہیں۔ بھارت کی کابینہ میں بھی سات وزیر پی ایچ ڈی ہیں۔ سنگاپور کی کابینہ میں تین وزیر پی ایچ ڈی ہیں اور باقی میں سے زیادہ تر ہارورڈ‘ کیمبرج اور نیشنل یونیورسٹی جیسے اداروں سے ایم بی اے اور ایم پی اے ہیں۔ جنوبی کوریا کے وزیر خزانہ نے امریکہ سے اقتصادیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ سائنس کا وزیر امریکہ سے ایم بی اے اور کوریا سے پی ایچ ڈی ہے۔ وزیر خارجہ عالمی سیاسیات میں پی ایچ ڈی ہے۔ وزیر زراعت بھی‘ جو ایک خاتون ہے‘ پی ایچ ڈی ہے۔ باقی وزرا کی تعلیم چیک نہیں کی۔ پاکستان کی کابینہ میں صرف ڈاکٹر مصدق ملک پی ایچ ڈی ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی صحت کے انتظامی امور اور پالیسی میں کی ہے مگر وزارت انہیں موسمیاتی تبدیلی کی دی گئی ہے۔ اگر کوئی اور وزیر بھی پی ایچ ڈی ہے تو کم از کم اس کالم نگار کو نہیں معلوم! اور ہاں! جس مجرم نے لائبہ کے ساتھ گھناؤنا فراڈ کیا ہے اور اس کی موت کا ذمہ دار ہے‘ وہ اس وقت تو قانون کی تحویل میں ہے۔ مگر آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی کہ وہ موت کی سزا سے بچ جائے گا۔ کچھ عرصہ جیل میں رہے گا۔ پھر آزاد ہو جائے گا۔ کسی اور لائبہ کی تلاش میں!!
بلند پروازی کا شوق اچھا ہے۔ ہونا چاہیے! مگر مضبوط بال و پر کے ساتھ! پر کمزور ہوں تو نیچے گرنا یقینی ہے۔ ایسے میں عقل مندی یہ ہے کہ اُڑنے کے بجائے زمین پر چل لینا چاہیے! ہم تمام مغربی پاکستانی دوست جب ڈھاکہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو کر واپس آئے تو ہمارے ہاتھوں میں‘ اس وقت کے لحاظ سے بہترین ڈگریاں تھیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کی ریٹنگ‘ عالمی سطح پر قابلِ رشک تھی۔ ہم میں سے اکثر کو برطانیہ اور امریکہ کی کسی بھی ٹاپ کلاس یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ مل سکتا تھا۔ مگر ہم میں سے اکثر لوئر مڈل کلاس سے تھے اور کچھ اس سے بھی نیچے!! اگر ہم ضد کرتے کہ ہم نے مزید پڑھنے کے لیے ولایت جانا ہے تو ہمارے والدین کو اپنی زرعی زمینیں اور جائیدادیں بیچنا پڑتیں۔ قرض لینا پڑتا۔ ہماری ماؤں اور بہنوں کو زیور گروی رکھوانے پڑتے۔ تب ہم مل بیٹھے اور ہم نے طے کیا کہ جو قسمت آزمائی بھی کرنی ہے اور جتنی بھی کرنی ہ…
بلند پروازی کا شوق اچھا ہے۔ ہونا چاہیے! مگر مضبوط بال و پر کے ساتھ! پر کمزور ہوں تو نیچے گرنا یقینی ہے۔ ایسے میں عقل مندی یہ ہے کہ اُڑنے کے بجائے زمین پر چل لینا چاہیے! ہم تمام مغربی پاکستانی دوست جب ڈھاکہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو کر واپس آئے تو ہمارے ہاتھوں میں‘ اس وقت کے لحاظ سے بہترین ڈگریاں تھیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کی ریٹنگ‘ عالمی سطح پر قابلِ رشک تھی۔ ہم میں سے اکثر کو برطانیہ اور امریکہ کی…
مکان ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ انہی مکانوں میں ایک خاتون اپنے کنبے کے ساتھ رہتی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ! سی ایس ایس کرنے کے بعد اچھے باعزت منصب پر فائز۔ کبھی کبھی رات کو اس کے گھر سے چیخوں کی آواز آتی تھی۔ جیسے کوئی کسی مصیبت میں گرفتار ہو۔ ساتھ اونچی آواز میں گالیوں کی آواز آتی۔ یہ چیخیں اس خاتون کی تھیں اور گالیاں اس کا شوہر نکالتا۔ اسے اعتراض تھا کہ فون کیوں آتے ہیں؟ کل دفتر دیر تک کیوں بیٹھی رہیں؟ فائلیں گھر کیوں لاتی ہو؟ پی اے گھر کیوں آتا ہے؟ ڈرائیور سے کیا بات کر رہی تھیں؟ آپ کا کیا خیال ہے ایسا کیوں ہو رہا تھا؟ اس لیے کہ شوہر نیم تعلیم یافتہ تھا۔ معمولی سا کاروبار کرتا تھا۔ اس کا اٹھنا بیٹھنا جن لوگوں کے ساتھ تھا ان میں کوئی دکاندار تھا۔ کوئی کار ڈیلر تھا۔ کوئی ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ دکاندار‘ یا کار ڈیلر‘ یا ٹیکسی ڈرائیور ہونا کوئی جرم نہیں مگر اسے یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کو زدو کوب کرے۔ تاہم دلچسپ اور افسوسناک حقیقت یہ تھی کہ یہ حق اس مرد کو‘ غیر اعلانیہ طور پر‘ خاتون کے ماں باپ نے دیا تھا کیونکہ وہ اپنی ذات سے باہر بیٹی کی شادی نہیں کرنا چاہتے تھے اور ذات کے اندر یہی مرد میسر تھا۔
مدتوں پہلے کا یہ واقعہ دو ہفتے پہلے یاد آیا جب یہ خبر پڑھی کہ ایک بڑے شہر کی‘ ایڈمنسٹریٹر‘ خاتون افسر پر اس کے میاں نے شدید تشدد کیا‘ موبائل فون چھین لیا‘ اسے غیر قانونی حراست میں رکھا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ بالآخر خاتون کو قانون کی مدد لینا پڑی۔ ذہن میں پہلا سوال یہ اٹھا کہ اس کا میاں کرتا کیا ہے؟ تعجب ہے کہ میڈیا میں سے اکثریت نے یہ معلوم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ صرف ایک جگہ یہ نظر آیا کہ شوہر پراپرٹی ڈیلر ہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ یہ شادی والدین نے زبردستی ذات برادری کی بنیاد پر کی یا کسی اور بنیاد پر کی گئی۔ ذات برادری کے اندر شادی کرنے والوں کو جب یہ سمجھایا جاتا ہے کہ مرد کی تعلیم یا پیشہ بھی دیکھو تو جواب ملتا ہے کہ شادی اپنے ''کفو‘‘ کے اندر کرنے کا کہا گیا ہے اور کفو سے مراد ذات برادری ہے۔ نرم ترین لفظوں میں بھی اس جواب کو بدترین لاعلمی ہی کہا جا سکتا ہے۔ کہیں بھی نہیں لکھا گیا یا کہا گیا کہ کفو کا مطلب ذات برادری ہے۔ فقہا نے کفو میں عام طور پر چھ چیزیں شامل کی ہیں۔ اسلام‘ حریت (یعنی غلام نہ ہو)‘ نسب‘ مال و دولت‘ دینداری اور پیشہ!! شادی کے ضمن میں پیشے کی بہت اہمیت ہے۔ چچا یا ماموں کا بیٹا پراپرٹی ڈیلر ہے یا پوسٹ مین ہے تو اس کی شادی اس خاتون سے کرا دینا جو اسسٹنٹ کمشنر ہے یا جج ہے یا پروفیسر ہے‘ ظلم کے علاوہ کچھ نہیں! کفو کا لفظی معنی برابر یا ہمسر ہے۔ یعنی مرد کی عورت کے ساتھ مناسبت‘ ہم آہنگی‘ مطابقت‘ موزونیت اور سازگاری (Compatibility) ہو۔ اَن پڑھ لڑکے کی شادی ڈاکٹر لڑکی کے ساتھ یہ کہہ کر کر دی جاتی ہے کہ ''گھر کی لڑکی ہے‘ گھر ہی میں رہے گی‘‘۔ یہ جہالت ہے اور ظلم! میں ایک ایسی خاتون کو جانتا ہوں جو پی ایچ ڈی ہے اور میاں چِٹا اَن پڑھ! خاتون کا ناول شائع ہو کر آیا تو شوہر نے سارے نسخے نذرِ آتش کر دیے۔ اَن پڑھ یا نیم تعلیم یافتہ یا رتبے میں کمتر شوہر شدید احساسِ کمتری کا شکار ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ شک کرتا ہے۔ حسد کا شکار ہو جاتا ہے۔ تب اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ مرد ہے اور عورت سے برتر! اپنے آپ کو برتر ثابت کرنے کے لیے وہ بیوی کو مارتا پیٹتا ہے۔ اس سے فون چھینتا ہے۔ کبھی اسے میکے نہیں جانے دیتا۔ کبھی گھر میں نظر بند کر دیتا ہے۔ کبھی خاتون کے ماتحتوں کے سامنے خاتون کی بے عزتی کرتا ہے۔ افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسی بے جوڑ اور احمقانہ شادیوں کی کمی نہیں! میں کچھ سال ایک ایلیٹ کلب کی کمیٹی کا رکن رہا۔ اس کمیٹی کا کام یہ تھا کہ ان امیدواروں کا انٹرویو کرے جو کلب کی ممبرشپ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انٹرویو میں میاں بیوی دونوں کو پیش ہونا ہوتا تھا۔ یہ ایک عجیب و غریب تجربہ تھا۔ ایسے ایسے جوڑے دیکھے جن میں ایک اور دس کا نہیں‘ ایک اور پچاس کا فرق تھا۔ عورت ماہر امراضِ چشم ہے تو میاں پراپرٹی ڈیلر۔ بیوی فُل پروفیسر ہے تو میاں میٹرک پاس۔ بیوی پی ایچ ڈی ہے تو شوہر کی جوتوں کی معمولی سی دکان! ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کے میاں نے بیٹھتے ہی کہا کہ یہ جس زمین پر آپ کا کلب ہے یہ ساری زمین ہماری تھی۔ موصوف کی قمیص کے بٹن آگے سے کھلے تھے اور ہاتھ میں مہنگے سگریٹوں کی ڈبی تھی۔ وہ تو اچھا ہوا کہ انہوں نے بیٹھتے ہی سگریٹ سلگانے کے لیے ماچس نہ مانگی! یہ کیسے والدین ہیں جو اپنی بیٹیوں کو پہلے اعلیٰ تعلیم دلاتے ہیں اور پھر انہیں اُن مردوں کے ساتھ باندھ دیتے ہیں جن کے ساتھ ان کا پیشہ مناسبت رکھتا ہے نہ مزاج نہ ماحول!!
عام طور پر سروس سیکٹر اور بزنس سیکٹر کے درمیان بھی شادیاں بے جوڑ ثابت ہوتی ہیں۔ تنخواہ دار طبقے اور کاروباری طبقے کی نفسیات‘ رہن سہن اور ماحول میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ سو فیصد شادیاں ان دو طبقوں کے درمیان ناکام رہتی ہیں۔ کچھ کامیاب بھی رہتی ہیں۔ مگر زیادہ تر بے جوڑ رہتی ہیں۔ میں ایک بار اپنے ایک دوست کے پاس بیٹھا تھا جو انکم ٹیکس کمشنر تھا۔ شہر کا ایک انتہائی متمول بزنس مین اس کے سامنے پیش ہوا۔ میں اسے جانتا تھا۔ اس نے میلا‘ کم حیثیت لباس پہنا ہوا تھا۔ شاید جان بوجھ کر کہ اسے غریب سمجھا جائے۔ سرکاری ملازم یا کارپوریٹ سیکٹر میں کام کرنے والا شخص ایسا کبھی نہیں کرے گا۔ وہ ایسے موقع پر‘ یا کسی بھی موقع پر‘ باعزت اور متاثر کن لباس پہنے گا۔ پاکستان میں فرقہ بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ بین المسالک شادی ممنوع نہیں‘ ہو جاتی ہے اور بالکل ہو جاتی ہے۔ مگر روزانہ کے مسائل تلخی پیدا کرتے رہتے ہیں۔ ایک صاحب کی‘ جنہیں میں جانتا ہوں‘ بیٹی کی شادی بریلوی خاندان میں ہوئی‘ جبکہ لڑکی کا فرقہ مختلف تھا۔ لڑکے والوں کے پیر صاحب تشریف لائے۔ لڑکی نے ان کے سامنے جانے سے انکار کر دیا۔ اور بھی کئی مسائل پیش آئے جن کا اندازہ آپ آسانی سے لگا سکتے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ لڑکی واپس میکے آ گئی اور دوبارہ جانے سے انکار کر دیا۔ یاد رکھیے‘ کوئی کسی کے لیے اپنا عقیدہ بدلتا ہے نہ سیاسی رجحان! بچے الگ خوار ہوتے ہیں۔ شادی کرتے وقت یہ بھی سوچنا چاہیے کہ دس پندرہ سال بعد صورتِ حال کیا ہو گی۔ اہلِ کتاب کے ساتھ شادی جائز ہے۔ ایسی لا تعداد مثالیں موجود ہیں کہ مغربی ملک میں شادی تو پاکستانی یا کسی دوسرے ملک کے مسلمان نے سفید فام عورت سے کر لی۔ بچے بڑے ہوتے ہیں تو تب تک محبت کی چربی آنکھوں کے آگے سے ہٹ جاتی ہے۔ بچہ چرچ اور مسجد کے درمیان گھسیٹا جاتا ہے۔ باپ بچوں کو لے کر چپکے سے وطن واپس بھاگ آتا ہے۔ پیچھے پیچھے ماں بھی آ جاتی ہے۔ عدالتوں میں مقدمہ بازی ہوتی ہے۔ متعلقہ سفارت خانہ بھی درمیان میں کود پڑتا ہے۔ زیادہ تر فتح ماں کی ہوتی ہے۔
مکان ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ انہی مکانوں میں ایک خاتون اپنے کنبے کے ساتھ رہتی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ! سی ایس ایس کرنے کے بعد اچھے باعزت منصب پر فائز۔ کبھی کبھی رات کو اس کے گھر سے چیخوں کی آواز آتی تھی۔ جیسے کوئی کسی مصیبت میں گرفتار ہو۔ ساتھ اونچی آواز میں گالیوں کی آواز آتی۔ یہ چیخیں اس خاتون کی تھیں اور گالیاں اس کا شوہر نکالتا۔ اسے اعتراض تھا کہ فون کیوں آتے ہیں؟ کل دفتر دیر تک کیوں بیٹھی رہیں؟ فائلیں گھر کیوں لاتی ہو؟ پی اے گھر کیوں آتا ہے؟ ڈرائیور سے کیا بات کر رہی تھیں؟ آپ کا کیا خیال ہے ایسا کیوں ہو رہا تھا؟ اس لیے کہ شوہر نیم تعلیم یافتہ تھا۔ معمولی سا کاروبار کرتا تھا۔ اس کا اٹھنا بیٹھنا جن لوگوں کے ساتھ تھا ان میں کوئی دکاندار تھا۔ کوئی کار ڈیلر تھا۔ کوئی ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ دکاندار‘ یا کار ڈیلر‘ یا ٹیکسی ڈرائیور ہونا کوئی جرم نہیں مگر اسے یہ حق نہیں دیا جا سکتا…
مکان ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ انہی مکانوں میں ایک خاتون اپنے کنبے کے ساتھ رہتی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ! سی ایس ایس کرنے کے بعد اچھے باعزت منصب پر فائز۔ کبھی کبھی رات کو اس کے گھر سے چیخوں کی آواز آتی تھی۔ جیسے کوئی کسی مصیبت میں گرفتار ہو۔ ساتھ اونچی آواز میں گالیوں کی آواز آتی۔ یہ چیخیں اس خاتون کی تھیں اور گالیاں اس کا شوہر نکالتا۔ اسے اعتراض تھا کہ فون کیوں آتے ہیں؟ کل دفتر دیر تک …
بارات روانہ ہونی تھی۔ عجیب بات یہ تھی کہ تمام باراتی نوجوان تھے۔ نوجوانوں کی ضد تھی کہ وہ کافی ہیں اور لڑکی کو رخصت کرا کے لے آئیں گے۔ کسی نے پند دی کہ بیوقوفوں والی ضد نہ کرو۔ کسی عمر رسیدہ‘ باراں دیدہ‘ سرد و گرم چشیدہ‘ چِٹ داڑھیے کو ساتھ لے جاؤ۔ مانا کہ خون گرم ہے مگر گرم خون تجربے کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ بوڑھا آدمی مصیبت میں کام آئے گا۔ نوجوانوں نے بادل نخواستہ بات مان لی اور ایک بزرگ کو ساتھ لے لیا۔ لڑکی والوں کے ہاں پہنچے تو انہوں نے لڑکی کی رخصتی کیلئے شرط رکھ دی کہ باراتی دس بکرے کھائیں گے تو لڑکی ساتھ بھیجیں گے ورنہ نہیں! نوجوانوں کے ہوش اُڑ گئے۔ ساری خود اعتمادی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ باراتیوں کی جو تعداد تھی اس کیلئے دس بکرے کھانا ناممکن نظر آرہا تھا۔ تب ان میں سے ایک نے بزرگ باراتی سے پوچھا کہ چاچا جی! کوئی تدبیر سوچیے۔ بوڑھے چاچے نے سوچ کر کہا کہ ٹھیک ہے۔ شرط منظور کر لو مگر ایک شرط تم بھی رکھو کہ دس بھُنے ہوئے بکرے دسترخوان پر اکٹھے نہیں رکھے جائیں گے۔ ایک ایک بکرا لایا جائے گا۔ جب اسے کھا چکیں گے تب اگلا بکرا پیش کیا جائے گا۔ لڑکی والوں نے جوابی شرط مان لی۔ چاچے کی تدبیر کارگر نکلی۔ ایک ایک بکرا آتا گیا اور باراتی چٹ کرتے گئے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ایک روٹی کھانے والا شخص جب دوستوں رشتہ داروں کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہے اور روٹی ایک ایک کر کے پیش کی جاتی ہے تو بہت زیادہ کھائی جاتی ہیں۔ ایک روٹی کھانے والا دو تین کھا جاتا ہے۔
بے برکت ہے وہ گھر جس میں کوئی بزرگ نہ ہو۔ پی ایچ ڈی نوجوان کے مقابلے میں نیم تعلیم یافتہ بابا یا چاچا یا ماما بگڑے ہوئے معاملات کو بہتر طور پر سلجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بے برکت ہے وہ محلہ جس میں بوڑھے نہ ہوں۔ جھگڑے ختم کرانا ان کیلئے نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ بے برکت ہے وہ ملک جس کے پاس آزمودہ کار سیاستدان نہ ہوں۔ سیاست اور حکومت میں ایک عمر گزارنے والے سیاستدان گرداب میں پھنسی کشتی کو نکالنے کا ہنر جانتے ہیں۔ تجربوں کی بھٹی انہیں کندن بنا چکی ہوتی ہے۔ حکومتِ وقت جب کسی مشکل میں ہوتی ہے تو ان تجربہ کار بوڑھے سیاستدانوں سے مشورہ کرتی ہے‘ ان کی بات غور سے سنتی ہے اور با مراد ہوتی ہے۔ اس وقت ملائیشیا اور پاکستان دو ایسے خوش قسمت ملک ہیں جہاں تجربہ کار سیاستدان موجود ہیں۔ اوّل الذکر میں جناب مہاتیر محمد! اور پاکستان میں ہمارے محبوب قائد! جو کئی بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ عمر 76برس ہے اور تجربہ کم و بیش پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے۔ صوبے اور وفاق دونوں میں بلند ترین مناصب پر رہ چکے ہیں! ان کا مقام اس وقت ایک بزرگ قائد کا ہے۔ اہلِ پاکستان خوش بخت ہیں کہ وہ ہر کڑے وقت میں قوم کے کام آتے ہیں۔ تجربے اور تدبر کا یہی تو فائدہ ہے۔
اس وقت ملک کی کشتی بھنور میں ہچکولے کھا رہی ہے۔ بلوچستان میں حالات خطرناک حد تک خراب ہیں۔ عوام وہاں کے برا فروختہ ہیں‘ امن و امان عنقا ہو چکا۔ بھارت اور افغانستان دونوں اس صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ افغانستان سے مسلسل دراندازی دوسرا بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے شہری‘ فوجی اور پولیس کے جوان شہید ہو رہے ہیں۔ معاشی طور پر ہم آئی ایم ایف کے پنجے میں بری طرح جکڑے ہو ئے ہیں۔ ہمارا دیرینہ دوست سعودی عرب حوثیوں کی جارحیت کا شکار ہے۔ ایران امریکہ جنگ ختم نہیں ہوئی‘ چنگاری کسی وقت بھی دوبارہ آگ بھڑکا سکتی ہے۔ عوام میں اضطراب ہے‘ بے چینی ہے۔ مگر الحمدللہ! تین بار حکمرانی کا‘ بلکہ جہانبانی کا تجربہ رکھنے والے ہمارے محبوب قائد ہم میں موجود ہیں۔ آپ ان درپیش مسائل کے حل کیلئے راتوں کو جاگ رہے ہیں اور دن بھر سفارتکاروں‘ سیاستدانوں اور ماہرینِ معیشت کی آرا سنتے اور تجزیہ کرتے ہیں۔ سب سے بڑا قدم آپ نے اس ضمن میں یہ اٹھایا کہ بسنت کے انعقاد اور حتمی تاریخ کے اعلان کے حوالے سے ہونے والے اجلاس کی صدارت فرمائی۔ پتنگ‘ ڈور اور گڈی کے نمونے دیکھے۔ اس اہم اجلاس میں کائٹ فلائنگ کی مختلف ایسوسی ایشنوں کو بھی بلایا گیا مگر انہیں ملاقات کے بغیر واپس بھیج دیا گیا۔ یہ مشاورت 2027ء کی بسنت کے حوالے سے تھی۔ ملک کے وسیع تر مفاد میں قائد نے 2026ء کی بسنت بھی اندرون شہر منائی تھی۔ انہوں نے چھت پر بیٹھ کر اُڑتی پتنگوں کا نظارہ کیا ‘ ڈور اور گڈے کو پکڑا تھا۔ ڈور کی تعریف کی تھی۔ اس موقع پر مہمانوں کے سامنے ہریسہ‘ مٹن چنے‘ انڈوں کا حلوہ اور مٹن پلاؤ پیش کیے گئے تھے۔ ہماری اطلاع کے مطابق‘ مبینہ طور پر‘ تحریک پاکستان کے شیدائی اور قائداعظم سے محبت کرنے میں پیش پیش‘ سینیٹر پرویز رشید بھی اس اہم اور تاریخی موقع پر موجود تھے۔ مگر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ قائد کے پسندیدہ پتنگ ساز جناب اشرف پیدی اس اہم موقع پر موجود تھے یا نہیں۔ یاد رہے کہ قائد محترم ایسے کاریگروں کی ہمیشہ افزائی کرتے ہیں۔ ہمارے ایک سابق سفارتکار کی ایک تصنیف کے مطابق محترم قائد نے‘ جب وہ وزیراعظم تھے‘ اپنے پسندیدہ کبابچی کو ترکی سے بلا کر سرکاری مہمان کے طور پر رکھا تھا۔
ملک کی کشتی کو گرداب سے نکالنے کیلئے محترم قائد عالمی سطح پر بھی کوشش کر رہے ہیں۔ تھوڑا عرصہ پہلے وہ اسی سلسلے میں‘ ایک سپیشل طیارے میں سنگا پور تشریف لے گئے۔ قائد بخوبی جانتے ہیں کہ عالمی سیاست کا مرکز لندن ہے۔ یوں تو قائد سوئٹزر لینڈ بھی جاتے رہتے ہیں مگر ملک کے مسائل حل کرنے کیلئے سب سے زیادہ ان کا دورہ لندن کا ہوتا ہے۔ کچھ عقل کے اندھے الزام لگاتے ہیں کہ زندگی ان کیلئے پکنک سے زیادہ کچھ نہیں اور یہ کہ وہ حکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر‘ لندن کے دورے بہت زیادہ کرتے ہیں اور وہاں ان کا قیام طویل بھی ہو جاتا ہے۔ مگر یہ محض مخالفین کا پروپیگنڈا ہے۔ کے پی اور بلو چستان کے حالات کے تناظر میں‘ تین دن پہلے وہ ایک بار پھر لندن تشریف لے گئے ہیں۔
ہفتہ ڈیڑھ پہلے قائد نے مری میں ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں مری کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ کچھ کم نظر مخالفین نے اس پر گرہ لگائی کہ قائد محترم کو صرف لا ہور‘ رائیونڈ اور مری میں دلچسپی ہے اس لیے کہ ان کے قیمتی اور عالیشان محلات انہی شہروں میں واقع ہیں اور وہ رائیونڈ کے علاوہ صرف مری میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ اور یہ کہ ملک کے کسی اور حصے یا شہر کی ترقی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں۔ حالانکہ یہ سفید جھوٹ ہے۔ وہ ملک کے ہر حصے میں جاتے ہیں۔ مری کے ترقیاتی منصوبوں سے پہلے انہوں نے ملک‘ خصوصاً پنجاب کے تمام اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا اور اجلاسوں کی صدارت کی۔ ملک کیلئے وہ اپنے تجربے کی روشنی میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔ خدا ان کا سایہ ملک و قوم پر ہمیشہ رکھے۔
بارات روانہ ہونی تھی۔ عجیب بات یہ تھی کہ تمام باراتی نوجوان تھے۔ نوجوانوں کی ضد تھی کہ وہ کافی ہیں اور لڑکی کو رخصت کرا کے لے آئیں گے۔ کسی نے پند دی کہ بیوقوفوں والی ضد نہ کرو۔ کسی عمر رسیدہ‘ باراں دیدہ‘ سرد و گرم چشیدہ‘ چِٹ داڑھیے کو ساتھ لے جاؤ۔ مانا کہ خون گرم ہے مگر گرم خون تجربے کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ بوڑھا آدمی مصیبت میں کام آئے گا۔ نوجوانوں نے بادل نخواستہ بات مان لی اور ایک بزرگ کو ساتھ لے لیا۔ لڑکی والوں کے ہاں پہنچے تو انہوں نے لڑکی کی رخصتی کیلئے شرط رکھ دی کہ باراتی دس بکرے کھائیں گے تو لڑکی ساتھ بھیجیں گے ورنہ نہیں! نوجوانوں کے ہوش اُڑ گئے۔ ساری خود اعتمادی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ باراتیوں کی جو تعداد تھی اس کیلئے دس بکرے کھانا ناممکن نظر آرہا تھا۔ تب ان میں سے ایک نے بزرگ باراتی سے پوچھا کہ چاچا جی! کوئی تدبیر سوچیے۔ بوڑھے چاچے نے سوچ کر کہا کہ ٹھیک ہے۔ شرط منظور کر لو م…
بارات روانہ ہونی تھی۔ عجیب بات یہ تھی کہ تمام باراتی نوجوان تھے۔ نوجوانوں کی ضد تھی کہ وہ کافی ہیں اور لڑکی کو رخصت کرا کے لے آئیں گے۔ کسی نے پند دی کہ بیوقوفوں والی ضد نہ کرو۔ کسی عمر رسیدہ‘ باراں دیدہ‘ سرد و گرم چشیدہ‘ چِٹ داڑھیے کو ساتھ لے جاؤ۔ مانا کہ خون گرم ہے مگر گرم خون تجربے کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ بوڑھا آدمی مصیبت میں کام آئے گا۔ نوجوانوں نے بادل نخواستہ بات مان لی اور ایک بزرگ کو س…
چوتھا بڑا مسئلہ جو مصیبت بن کر ہمارے ساتھ چپکا ہوا ہے‘ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ ہم بکری کی حفاظت کیلئے شیر کو بھرتی کرتے ہیں۔ چھیچھڑوں پر بلی کو پہریدار بناتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کی کئی خوفناک مثالیں ہیں۔ بیوروکریسی کی اصلاحات کیلئے ہر حکومت میں کمیشن بنتے رہے ہیں۔ تقریباً ہر بار ڈاکٹر عشرت حسین جیسے شخص کو کمیشن کا چیئرمین بنایا جاتا ہے۔ وہ بیورو کریسی سے نکل گئے مگر بیوروکریسی ان کے اندر سے نہ نکلی۔ جیسے ایک نیم سیاسی‘ نیم مذہبی جماعت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بندہ اس میں سے نکل جاتا ہے مگر وہ بندے میں سے نہیں نکلتی۔ میرے جیسا شخص گاؤں سے نکلتا ہے مگر گاؤں اس میں سے نہیں نکلتا۔ ڈاکٹر عشرت حسین واقعی قابل شخص ہیں‘ مگر ہیں اصلاً بیورو کریٹ!! چینی کا مسئلہ دیکھ لیجیے۔ صرف شوگر مافیا کہنے سے مسئلہ نہیں حل ہو گا۔ ہر سال یہ کھیل کھیلا جاتا ہے۔ پہلے چینی برآمد ہوتی ہے‘ پھر درآمد کی جاتی ہے۔ چینی مافیا کے ارکان کو اربوں کا فائدہ ہوتا ہے۔ عام صارف لہو لہان ہو جاتا ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ فیصلے کرنے میں وہ طاقتور لوگ شامل ہوتے ہیں جن کے چینی کے کارخانے ہیں! انصاف یا عوامی مفاد سے ان کا تعلق اتنا ہی ہے جتنا پوپ کا اسلام سے ہے! انہوں نے فیصلہ اپنے حق میں کرنا ہے اور کرتے رہیں گے۔ سب سے زیادہ ہولناک اور عبرتناک مثال بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں (آئی پی پیز) کی ہے۔ ذرا تھوڑی سی تکلیف کر کے دیکھیے یہ کمپنیاں کن کن افراد کی ہیں؟ یہ انہی اربابِ قضا و قدر کی ملکیت میں ہیں جو اس سلسلے میں پالیسیاں بناتے ہیں اور فیصلے صادر کرتے ہیں۔ کیا کوئی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار ے گا؟ کیا اپنے بچوں اور اپنے اعزہ و اقربا کے خلاف فیصلے کرے گا؟ آپ نے سینکڑوں بار پڑھا اور سنا ہو گا کہ پولیس کے ملازموں سے جرم سرزد ہو تو پولیس ہی کے افراد انکوائری پر مقرر کیے جاتے ہیں۔ مفادات کے ٹکراؤ کی بدترین مثال سالِ رواں کے جون میں سپریم جوڈیشل کونسل کا وہ فیصلہ ہے جو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک جج کے خلاف دائر کی گئی شکایت پر کیا گیا تھا۔ اخبارات میں شائع شدہ تفصیل کے مطابق معروف وکیل کرنل (ر) انعام الرحیم نے سپریم جوڈیشل کونسل کے حضور کیس دائر کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فلاں جج کا سو لہ سالہ بیٹا ایک بڑی گاڑی (ایس یو وی) چلارہا تھا کہ دو لڑکیاں اس کی گاڑی کے نیچے آکر ہلاک ہو گئیں۔ مگر جج نے اپنی سرکاری پوزیشن کا غلط استعمال کر کے اور دباؤ ڈال کر بیٹے کو بچا لیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے یہ درخواست خارج کر دی لیکن خارج کرنے کی وجوہات نہ بتائیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان ججوں پر ہی مشتمل ہوتے ہیں۔ بے حسی کی انتہا دیکھیے کہ شکایت وجہ بتائے بغیر خارج کرنے کی یہ خبر روزنامہ دنیا کے علاوہ کسی اردو اخبار نے شائع ہی نہیں کی۔ مفادات کا ٹکراؤ ہمیں ہر جگہ اس ملک کو پیچھے دھکیلتا نظر آتا ہے۔ بدقسمتی سے صنعتی پالیسی کی تشکیل میں صنعتکار بیٹھے ہوتے ہیں۔ زرعی پالیسی بنانے میں وہ وزیر شامل ہوتے ہیں جو خود وڈیرے ہیں۔ اگر یہی ہوتا رہا تو یہ ملک مافیاز اور گروہوں کے ہاتھوں میں یرغمال ہی رہے گا۔
پانچواں بڑا مسئلہ سزاؤں کا نہ ہونا ہے یا سزاؤں کا بہت کم ہونا ہے۔ آپ چاہیں تو اس مسئلے کو نظامِ عدل سے ملا لیں یا انتظامیہ سے‘ جس میں پولیس شامل ہے۔ طاقتوروں کیلئے سزاؤں کا وجود ہی نہیں۔ اگر آپ وڈیرے ہیں یا سیاستدان یا بلوچ سردار تو قتل ایک نہیں کئی کریں‘ آپ کا بال بھی کوئی نہیں بیکا کر سکتا۔ منصفوں کی اولاد کو کھلی چھٹی ہے کہ غریبوں کے بچوں کو قیمتی گاڑیوں کے نیچے کچل دیں۔ کراچی میں ایک بڑے برانڈ والوں کی بہو نے آدھی فیملی مار دی۔ کوئی سزا نہیں ملی۔ طاقتور حکمران کے نواسے کو چھوڑ دیا گیا۔ ظاہر جعفر صاحب زندہ و سلامت ہیں۔ ایک نہیں کئی ظاہر جعفر جرم کر کے کھلے دندناتے پھر رہے ہیں۔ بے شمار ایسی مثالیں ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ من حیث القوم ہماری ہلاکت کا فیصلہ آسمانوں میں ہو چکا ہے۔ ''تم سے پہلی قومیں اس لیے برباد ہوئیں جب ان کا کوئی بڑا جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی سا آدمی جرم کرتا تو اسے سزا دی جاتی‘‘۔ یہ جو نام نہاد دہشت گردی ہے‘ یہ جو بلوچستان کی صورتحال ہے‘ یہ جو مہنگائی کا عفریت منہ پھاڑے کھڑا ہے‘ یہ جو ہر مرد اور ہر عورت ملک سے بھاگنا چاہتے ہیں‘ یہ سب ہلاکت کے پیش خیمے ہیں۔ چیلنج ہے کہ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کسی کچہری سے زمین یا مکان کا انتقال رشوت دیے بغیر کرا کے دکھا دیں۔ ترقیاتی اداروں سے مکان کا نقشہ رشوت دیے بغیر پاس کرا کے دکھا دیجیے۔ حکمرانوں کی ناک کے عین نیچے جرائم ہو رہے ہیں۔ لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ کوئی سزا نہیں۔ جہاں سزائیں موجود ہیں وہاں سزائیں بہت کم ہیں۔ سزاؤں کا کم ہونا جرائم کا خاتمہ نہیں کر سکتا۔ لاکھوں لوگ ٹرالیوں‘ ٹریکٹروں اور ڈمپروں کے نیچے کچلے جا چکے ہیں۔ یہ کالم نگار اس قتلِ عام کے خلاف کئی کالم لکھ چکا۔ سوائے حافظ نعیم صاحب کے کسی سیاستدان نے اس بربریت کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ ان ڈرائیوروں کو کوئی سزا نہیں ملتی۔ ہمارے ملک میں دنیا کا بدترین ٹریفک سسٹم ہے۔ اس لیے کہ سزائیں کم ہیں۔ چالان ہوتا ہے تو چند سو کی رقم کا جرمانہ ہوتا ہے۔ ایک قریبی عزیزہ کا امریکہ میں چالان ہوا تو چار سو ڈالر کی سزا ملی۔ ہوش ٹھکانے آ گئے۔ بڑے بڑے مجرم بھاؤ تاؤ کر کے بچ جاتے ہیں۔ اربوں کی لوٹ مار ہے تو چند کروڑ واپس دے کر باقی زندگی آزاد پھرتے ہیں۔
کیا یہی پانچ مسائل ہیں جو ہمیں لاحق ہیں؟ نہیں! قارئین حق بجانب ہوں گے اگر کہیں کہ مسائل کے تو انبار لگے ہیں۔ مولانا ظفر علی خان یاد آ گئے:
حذر ہیں اور بھی واجب مگر کہاں تک میں
بتائے جاؤں گا تم کو فلاں فلاں سے بچو
مگر کہیں سے تو تطہیر کی ابتدا ہونی ہے۔ مندرجہ بالا پانچ مسائل ہی حل کر دیجیے تو بہت سے دیگر مسئلے خود ہی ان کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ ایک غلط کار شخص ایک بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اصلاح کی گزارش کی۔ حضرت نے صرف اتنا فرمایا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔ کہنے لگا جی بہتر! یہ کون سا مشکل کام ہے‘ مگر دو چار دن میں بے شمار عاداتِ بد چھوڑنا پڑیں۔ یہ رقم کہاں سے آئی ہے؟ رات کہاں تھے؟ ڈاکا مارا؟ جھوٹ بول نہیں سکتا تھا۔ جرائم سے بھی توبہ کر لی۔ تین چار مسئلوں کا خاتمہ بھی بڑی بات ہے۔ مگر طوطی کی آواز نقار خانے میں کس نے سننی ہے۔ میں نے لکھ دیا۔ آپ نے پڑھ لیا۔ مسائل کا حل جن کی جیب میں ہے وہ کہاں پڑھیں گے۔ کسی نے غلطی سے پڑھ بھی لیا تو زہر خند کے ساتھ لکھے کو دیوانے کی بڑ قرار دیں گے! اقتدار کی کرسی دنیا کی بہترین لکڑی سے بھی بنائیں تو بھی اسے گھمنڈ کی دیمک ضرور لگتی ہے! اس کرسی پر بیٹھنے والوں کی آنکھوں میں ناقابلِ علاج قسم کا موتیا اُتر آجاتا ہے جس کے کارن انہیں ہر طرف اپنی ہی تصویر نظر آتی ہے۔ پھولوں کے ہار سے لدی ہوئی تصویر! مگر تا بکے؟ کب تک؟ تم ایک جہاز سے اترتے ہو تو دوسرا منتظر ہوتا ہے۔ تمہارے دسترخوانوں پر ماکولات اور مشروبات کا شمار ہی ممکن نہیں جبکہ خلقِ خدا علاج کیلئے‘ روٹی کیلئے‘ انصاف کیلئے ترس رہی ہے۔ آہ!! ''مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے‘‘۔ (الشعرا)
چوتھا بڑا مسئلہ جو مصیبت بن کر ہمارے ساتھ چپکا ہوا ہے‘ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ ہم بکری کی حفاظت کیلئے شیر کو بھرتی کرتے ہیں۔ چھیچھڑوں پر بلی کو پہریدار بناتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کی کئی خوفناک مثالیں ہیں۔ بیوروکریسی کی اصلاحات کیلئے ہر حکومت میں کمیشن بنتے رہے ہیں۔ تقریباً ہر بار ڈاکٹر عشرت حسین جیسے شخص کو کمیشن کا چیئرمین بنایا جاتا ہے۔ وہ بیورو کریسی سے نکل گئے مگر بیوروکریسی ان کے اندر سے نہ نکلی۔ جیسے ایک نیم سیاسی‘ نیم مذہبی جماعت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بندہ اس میں سے نکل جاتا ہے مگر وہ بندے میں سے نہیں نکلتی۔ میرے جیسا شخص گاؤں سے نکلتا ہے مگر گاؤں اس میں سے نہیں نکلتا۔ ڈاکٹر عشرت حسین واقعی قابل شخص ہیں‘ مگر ہیں اصلاً بیورو کریٹ!! چینی کا مسئلہ دیکھ لیجیے۔ صرف شوگر مافیا کہنے سے مسئلہ نہیں حل ہو گا۔ ہر سال یہ کھیل کھیلا جاتا ہے۔ پہلے چینی برآمد ہوتی ہے‘ پھر درآمد کی جاتی ہے۔ چینی…
چوتھا بڑا مسئلہ جو مصیبت بن کر ہمارے ساتھ چپکا ہوا ہے‘ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ ہم بکری کی حفاظت کیلئے شیر کو بھرتی کرتے ہیں۔ چھیچھڑوں پر بلی کو پہریدار بناتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کی کئی خوفناک مثالیں ہیں۔ بیوروکریسی کی اصلاحات کیلئے ہر حکومت میں کمیشن بنتے رہے ہیں۔ تقریباً ہر بار ڈاکٹر عشرت حسین جیسے شخص کو کمیشن کا چیئرمین بنایا جاتا ہے۔ وہ بیورو کریسی سے نکل گئے مگر بیوروکریسی ان کے اندر سے نہ نکلی۔ ج…
مسئلہ یہ نہیں کہ کس کی حکومت ہے اور کس کی حکومت ہو گی؟ مسئلہ یہ نہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے یا پیپلز پارٹی کی یا عمران خان کی! یا کسی اور کی! مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جن مصیبتوں میں پھنسا ہے اور جس دلدل میں گلے تک دھنس چکا ہے‘ اُن مصیبتوں سے نکالنا ان میں سے کسی کے بس کی بات نہیں! اس لیے کہ ان میں سے کسی کو اُن مصیبتوں کا ادراک ہی نہیں! ادراک کیسے ہو! ادراک اُن حکمرانوں کو ہوتا ہے جنہیں قوم کے غم میں راتوں کو نیند نہیں آتی! جو بے لوث ہوتے ہیں۔ بے غرض ہوتے ہیں۔ جو اقربا پرور نہیں ہوتے۔ جو دوست نوازی (Cronyism) سے بچتے ہیں۔ جو مہاتیر کی طرح ہوتے ہیں۔ جو سنگاپور کے لی کی طرح ہوتے ہیں‘ جن کی نگاہیں دور تک دیکھتی ہیں۔ جو پچاس‘ سو سال آگے دیکھتے ہیں۔ لیڈر شپ قربانی مانگتی ہے۔ ہمیں قربانی دینے والا لیڈر قائداعظم کے بعد کوئی نہیں ملا۔ کیا جذبہ تھا اور کیا اعصاب تھے! جان لیوا مرض کو چھپا کر رکھا اور پہاڑ جیسی ثابت قدمی سے ایک ملک بنایا۔ ایک قوم پیدا کی! تاریخ میں قائداعظم محمد علی جناح کا مقام بلند ہے۔ وہ پورے قد کے ساتھ کھڑے ہیں! رہے مخالفین! تو شورش کاشمیری نے کہا تھا:
شورش ترے خلاف زمانہ ہوا تو کیا
کچھ لوگ اس جہاں میں خدا کیخلاف ہیں
رومی سے یہ قول منسوب ہے کہ ہم نے مغز لے لیا اور:
استخواں پیشِ سگاں انداختیم۔ ہڈیاں کتوں کے آگے ڈال دیں!
قائداعظم کو خلّاق ازل نے جس کام کیلئے چنا تھا وہ کر گئے اور مخالفین کو اس کام پر لگا گئے کہ کڑھتے‘ سلگتے اور تڑپتے رہیں! کلام پاک میں ہے کہ '' موتوا بغیظکم‘‘ اپنے غصے میں آپ ہی جل مرو۔ پاکستان مسائل میں گرفتار ہے۔ مصیبتوں میں پھنسا ہوا ہے۔ باصلاحیت لیڈر شپ دور دور تک نہیں نظر آرہی ورنہ یہ مسائل ایسے نہیں جو حل نہ ہو سکیں! سب سے بڑا مسئلہ آبادی کا بم ہے جو ہمارے سر پر کھڑا ہے۔ کسی حکومت نے بھی اس ضمن میں فیصلہ کن کردار نہیں ادا کیا۔ مشرقی پاکستان الگ ہوا تو اس کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ تھی۔ آج بنگلہ دیش کی آبادی سترہ کروڑ ہے اور ہماری 25کروڑ سے زیادہ۔ بنگلہ دیش کی حکومتوں نے ایسی پالیسیاں بنائیں جنہوں نے آبادی کی شرحِ اضافہ میں کمی کی۔ ہمارے کچھ علاقوں میں آبادی میں اضافے کی شرح باقی ملک سے زیادہ ہے۔ پھر ہزار کوششوں کے باوجود افغانستان سے آنے والوں کو روکا نہیں جا سکتا۔ نادرا اور پاسپورٹ دفتروں میں کچھ کالی بھیڑوں کو حرام کا چارہ کھانے کی اتنی لت ہے کہ افغانوں کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ مل جاتے ہیں۔ میں کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد کی ایک مضافاتی آبادی میں رہتا تھا۔ پانی بور کرنے کی ضرورت پیش آئی تو معلوم ہوا کہ اس کام میں افغان بھائیوں کی اجارہ داری ہے۔ ایک افغان سے معاملہ طے ہوا۔ وہ ہرروز‘ بلا مبالغہ‘ ایک نیا لڑکا ساتھ لاتا جو اس کے کام میں معاونت کرتا۔ پانچویں چھٹے دن پوچھا کہ ہر روز ایک مختلف لڑکا کہاں سے لاتے ہو۔ اس نے بتایا کہ سب اس کے اپنے بیٹے ہیں۔ اس کے سولہ بچے تھے‘ اور اس نے پاکستان میں مستقل رہنے کا انتظام بھی کر رکھا تھا۔ اسی دن شام کو ایک دوست ملنے آیا۔ صبح والا واقعہ میرے ذہن پر سوار تھا۔ دوست کے ڈرائیور سے پوچھا تو اس کے بھی چودہ پندرہ بچے تھے۔ ایک وجہ آبادی میں اضافے کی قدامت پسند سوچ بھی ہے۔ ابھی تک یہ خیال موجود ہے کہ بچوں کی تعداد کم رکھنا مذہب کے لحاظ سے قابلِ اعتراض ہے۔ ہمارے شہر پھیل پھیل کر عفریت بن چکے ہیں۔ پانی بجلی گیس پوری نہیں پڑ رہی۔ ہاؤسنگ سوسائٹیاں زرخیز زمینوں کو نگلتی جا رہی ہیں۔ حکومتوں کے پاس اس سلسلے میں کوئی منصوبہ بندی ہے نہ پروگرام! ہر روز بڑھتی آبادی اس ملک کیلئے ایسی مصیبت ہے جو کئی اور مصیبتوں کو جنم دے رہی ہے۔
دوسرا سب سے بڑا مسئلہ افغان بارڈر ہے۔ بہت سے دوسرے مسئلوں کی طرح یہ مسئلہ بھی ہمارا اپنا پیدا کردہ ہے۔ ہم نے مشرقی پاکستان کو بھی اپنے کرتوتوں کی وجہ سے الگ کیا۔ دہشت گردی بھی ہماری اپنی پیداوار ہے۔ جو سانپ ہم نے دوسروں کیلئے پالے‘ آج وہ ہمیں ڈس رہے ہیں۔ یہ ہونا تھا۔ ساری دنیا کو معلوم تھا کہ یہ ہو گا۔ صرف ہم بھولے تھے یا انجان ۔ ہم ایران امریکہ میں صلح کرا رہے ہیں اور ہمارے اپنے نوجوان دن رات‘ صبح شام شہید ہو رہے ہیں۔ ہم ایک بند گلی میں ہیں۔ اس مسئلے کے مستقل حل کیلئے عسکری قیادت کے ساتھ سیاسی سیادت بھی درکار ہو گی۔ ہمیں اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ طالبان حکومت عالمی تنہائی کا شکار ہے۔ چین اور روس کے ساتھ ان کی باقاعدہ معاملہ بندی ہے۔ آنے والے کئی برسوں تک اندرونی مخالفت انہیں اقتدار سے محروم کرنے کے قابل نہیں۔ بھارت پوری قوت کے ساتھ ان کی پشت پر کھڑا ہے۔ یہ آج کی ''گریٹ گیم‘‘ ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے صرف ''دے مار تے ساڑھے چار‘‘ والی پالیسی نہیں چلے گی۔ بین الاقوامی طاقتوں کو درمیان میں ڈالنا ہو گا۔
ہمارا تیسرا سب سے بڑا مسئلہ ہمارا مائنڈ سیٹ ہے جو شاید بھارت کے بعد دنیا کا بدترین مائنڈ سیٹ ہے۔ اس عجیب و غریب مائنڈ سیٹ نے ہمیں آگے کا چھوڑا ہے نہ پیچھے کا۔ ہم پیروں فقیروں ملنگوں‘ مجاوروں‘ بابوں‘ اتائیوں‘ تعویذفروشوں کے پنجوں میں پوری طرح جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ پیر‘ جو فیوڈل بھی ہیں‘ ولایت جاتے ہیں تو رقص کرتے ہیں اور عرس پر دستار باندھ لیتے ہیں۔ ان کے لاکھوں مرید انہیں نذرانے بھی دیتے ہیں اور ووٹ بھی! اس کا سبب تعلیم کی کمی نہیں‘ مائنڈ سیٹ ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں بھی موجود ہے۔ جب حکمران پیٹھ پر چھڑیاں کھائیں گے‘ کبھی پہاڑوں سے دور رہیں گے تو کبھی سمندر سے‘ اور آکسفورڈ سے نام نہاد تعلیم حاصل کر کے بھی چوکھٹوں پر سجدہ ریز ہوں گے تو عوام کالانعام کی کیا حیثیت ہو گی۔ شاید ایسے حکمرانوں اور ایسی رعایا کے بارے ہی میں فرمایا گیا ہے: ''جن کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں‘‘۔ پیری مریدی کا فیوڈلزم کے ساتھ پکا پکا گٹھ جوڑ ہے۔ بندہ ہاری ہو اور مرید بھی تو اندازہ لگائیے کہ وہ کیا چیز ہو گی! کروڑوں لوگ اس ملک میں ووٹ ڈالتے وقت اپنا دماغ نہیں استعمال کرتے۔ ووٹ تو دور کی بات ہے‘ بچوں کے رشتے اور شادیوں کی تاریخیں اُن چادر پوشوں سے پوچھے بغیر نہیں طے کی جاتیں جو وڈیرے بھی ہیں۔ ان گدی نشینوں اور وڈیروں کی نشستیں اسمبلیوں میں نسل در نسل چلی آرہی ہیں! یہ لوگ اس ملک کو کبھی ترقی کی راہ پر نہیں چلنے دیں گے۔ ان کی سوچ میں خود غرضی اور تکبر ہے۔ یہ اس کے علاوہ کچھ سوچ ہی نہیں سکتے کہ ان کے بعد ان کا بیٹا کیسے ممبر بنے گا اور کیسے وزارت حاصل کرے گا۔ بلوچستان کا سرداری نظام بھی اسی مائنڈ سیٹ کا شاخسانہ ہے۔ قبیلے کے لوگوں کے خانگی امور بھی سردار ہی طے کرتا ہے۔ حیرت ہوتی ہے یہ سنتے اور پڑھتے ہوئے کہ فلاں سردار کی اتنی بڑی لائبریری ہے اور وہ اتنا بڑا عالم فاضل ہے۔ وہی سردار چور پکڑنے کیلئے لوگوں کو دہکتے انگاروں پر چلاتا ہے اور اگر کوئی میٹرک کر کے اجلے کپڑے پہن لیتا ہے تو اس کے جسم پر گُڑ کا شیرہ مل کر اسے چیونٹیوں بھری غار میں پھینک دیا جاتا ہے۔ (جاری)
مسئلہ یہ نہیں کہ کس کی حکومت ہے اور کس کی حکومت ہو گی؟ مسئلہ یہ نہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے یا پیپلز پارٹی کی یا عمران خان کی! یا کسی اور کی! مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جن مصیبتوں میں پھنسا ہے اور جس دلدل میں گلے تک دھنس چکا ہے‘ اُن مصیبتوں سے نکالنا ان میں سے کسی کے بس کی بات نہیں! اس لیے کہ ان میں سے کسی کو اُن مصیبتوں کا ادراک ہی نہیں! ادراک کیسے ہو! ادراک اُن حکمرانوں کو ہوتا ہے جنہیں قوم کے غم میں راتوں کو نیند نہیں آتی! جو بے لوث ہوتے ہیں۔ بے غرض ہوتے ہیں۔ جو اقربا پرور نہیں ہوتے۔ جو دوست نوازی (Cronyism) سے بچتے ہیں۔ جو مہاتیر کی طرح ہوتے ہیں۔ جو سنگاپور کے لی کی طرح ہوتے ہیں‘ جن کی نگاہیں دور تک دیکھتی ہیں۔ جو پچاس‘ سو سال آگے دیکھتے ہیں۔ لیڈر شپ قربانی مانگتی ہے۔ ہمیں قربانی دینے والا لیڈر قائداعظم کے بعد کوئی نہیں ملا۔ کیا جذبہ تھا اور کیا اعصاب تھے! جان لیوا مرض کو چھپا کر رک…
مسئلہ یہ نہیں کہ کس کی حکومت ہے اور کس کی حکومت ہو گی؟ مسئلہ یہ نہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے یا پیپلز پارٹی کی یا عمران خان کی! یا کسی اور کی! مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جن مصیبتوں میں پھنسا ہے اور جس دلدل میں گلے تک دھنس چکا ہے‘ اُن مصیبتوں سے نکالنا ان میں سے کسی کے بس کی بات نہیں! اس لیے کہ ان میں سے کسی کو اُن مصیبتوں کا ادراک ہی نہیں! ادراک کیسے ہو! ادراک اُن حکمرانوں کو ہوتا ہے جنہیں قوم کے …
عجیب بہادر شخص ہے۔
اسمبلی کی ''جتوائی‘‘ ہوئی سیٹ ٹھکرا دی۔ دھرنے دیے جا رہا ہے۔ جلوس نکالے جا رہا ہے۔ پٹرول کی قیمت سے لیوی کا جگا ٹیکس ہٹوانے کیلئے‘ بجلی کی قیمت میں ریلیف کیلئے۔ جنون نیا نہیں‘ پرانا ہے۔ کبھی کراچی الیکٹرک کے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوا۔ کبھی پانی کے نکاس اور واٹر سپلائی کیلئے لڑا۔ عجیب شخص ہے۔ اپنے ہم چشموں سے یکسر مختلف!! ٹوپی ٹیڑھی کر کے اوڑھی نہ اپنے علاقے میں خواتین ووٹروں کی حوصلہ شکنی کی۔ مغربی تعلیم کے خلاف اور مدرسہ کی تعلیم کے حق میں تقریر کی‘ نہ بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکہ کینیڈا بھیجا۔ اولاد کو دوسری سیاسی جماعتوں میں بھی پلانٹ نہ کیا۔ کسی سکہ رائج الوقت کو ہوا میں اچھالا نہ اس سے خریداری کی۔ نہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنائیں۔ ملک کا واحد سیاستدان ہے جو عوام کیلئے لڑ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ پٹرول لیوی اور آئی پی پیز کے خلاف کیسے بول سکتی ہیں جبکہ وہ حکمرانی میں حصہ دار ہیں۔ امرا کی حکومت (Oligarchy) کی اگلی صفوں میں کھڑی ہیں۔ جو خود مسئلے کاحصہ ہوں وہ کیسے مسئلہ حل کریں گے! اے بادِ صبا ایں ہمہ آوردۂ تست! (یہ باغ کا جو حال ہو رہا ہے وہ بادِ صبا نے خود ہی تو کیا ہے)۔ رہی تحریک انصاف تو وہ بیچاری اپنے زخم چاٹ رہی ہے۔ ان کا رہنما زنداں میں ہے‘ وہ اس کے بغیر کیا کر سکتے ہیں! یہ بھاری پتھر اس بہادر شخص ہی نے اٹھانا تھا‘ سو اٹھا لیا اور اٹھائے ہوئے ہے! اکیلا! اس کے ساتھ اس کے لوگ ہیں مگر کوئی ایسا نہیں جو اس کی طرح پیش قدمی کرے‘ للکارے اور طاقت کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کرے۔ ریاض مجید یاد آ رہے ہیں:
میرا دکھ یہ ہے میں اپنے ساتھیوں جیسا نہیں
میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں
اس ہارے ہوئے جمود زدہ لشکر میں وہ اَن فِٹ ہے! مکمل طور پر اَن فِٹ!! رومی نے کہا تھا: زیں ہمرہانِ سست عناصر دلم گرفت!! سست الوجود ہمراہی!! لیکن قدرت کے اور قسمت کے کھیل عجیب ہیں۔ ہیرا کنکروں میں اور چنگاری راکھ میں ہوتی ہے!
دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا
گنبدِ نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا
پس نوشت!! کیا مضافات میں بڑے شہروں کی نسبت بہتر شاعری ہو رہی ہے؟ یہ بحث پرانی ہے اور ایسی بحث ہے جس کا کوئی نتیجہ آج تک نکلا ہے نہ نکلے گا۔ شاعری کا شہر‘ قصبے یا گاؤں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ شاعری کا تعلق صرف شاعر سے ہے۔ ظفر اقبال صاحب کی زندگی کا بیشتر حصہ اوکاڑہ میں گزرا۔ پہلا شعری مجموعہ ''آبِ رواں‘‘ آیا تو دھماکا ہوا اور یہ دھماکا کسی بڑے شہر سے نہیں‘ اوکاڑہ جیسے قصبے سے ہوا۔ رستم نامی ایک ایسا شاعر ہے جو مضافات میں نہیں بلکہ مضافات کے بھی مضافات میں رہتا ہے؛ یعنی شنکیاری میں! عمر محکمۂ جنگلات میں بسر کی۔ یعنی مضافات سے بھی دور! مگر شعر کمال کے کہے۔ مختلف! یکسر مختلف! اردو ادب میں ہزارہ کا حصہ بہت بڑا ہے۔ رستم نامی ایسا شاعر ہے جس پر اردو شاعری کو بھی ناز ہے اور ہزارہ کو بھی۔ اس کی شاعری گل و بلبل کی ہے نہ زلف و رخسار کی۔ اس میں زندگی کی تلخیاں ہیں اور پیچیدگیاں مگر رستم نامی نے یہ شاعری رو کر نہیں‘ ہنس کر کی ہے۔ کبھی معصومیت سے سوال کرتا جاتا ہے۔ کبھی بھگو بھگو کر لگاتا ہے۔ یہ مختلف ذائقے کی شاعری ہے۔ ذرا چند اشعار چکھ کر دیکھیے:
رک بھی سکتا ہے کسی دن چند سانسوں کا نظام
یہ عمل ہر وقت جاری ہو‘ ضروری تو نہیں
بے ضمیری بھی تو آخر کار کوئی چیز ہے
لغزشوں پر شرمساری ہو ضروری تو نہیں
لیتے ہیں چند لوگ وطن اپنا لوٹ کر
اس پار کے مزے کبھی اس پار کے مزے
ادا ہو گا نہ جب تک چائے پانی
ہمارا کام بابو تک رہے گا
بقدرِ اختیار و ظرف اس کو لوٹتے ہیں سب
سلامت ہے مگر تاحال پاکستان تقریباً
فقط چالیس نمبر شاعری کے ہیں
بقایا ساٹھ اس کی افسری کے ہیں
کیا ہے کارنامہ ایسا کیا تُو نے؟
بہت چرچے تری دو نمبری کے ہیں
ہمارے رابطے ہیں سارے ملکوں سے
کہ رشتے سب سے دریوزہ گری کے ہیں
فالتو اشیا سے ہو کس واسطے گھر زیرِ بار
بس گزر اوقات کا سامان ہونا چاہیے
ہم جدھر بھی جائیں ہونی چاہیے اردو زباں
ہم جہاں بھی جائیں پاکستان ہونا چاہیے
دیدنی ہے یہاں کا ہر موسم
کتنے خوش بخت ہیں ہزارے وال
عمر ساری گزار کر نامیؔ
چاہیے ہیں مزید بھی کچھ سال
شجر جب صحن میں پھلدار ہو گا
کہیں سے آئیں گے پتھر وغیرہ
ستم سہنے کے عادی ہو گئے لوگ
نہیں ہے کوئی شورو شر وغیرہ
وہ قیامت کو آئے گا یعنی
ایک دو دن ہیں اس کے آنے میں
اس گرانی میں کون پوچھے گا
کیا پکایا ہے آج کھانے میں
منسلک ہیں پار سے سب مقتدر
سب کو ملتی ہے ہدایت پار سے
کام لیں گے کیا یہ بد عنوان لوگ
حشر میں بھی درہم و دینار سے؟
آرام سے رہتے ہیں یہ لوگ پہاڑوں کے
جو ساتھ کبھی لے کر اخبار نہیں جاتے
اس ملک سے کرتے ہیں جو لوگ محبت وہ
بیمار پڑیں بھی تو اس پار نہیں جاتے
کون پھر دے مجھے میرے حقوق
میں ریاست میں کہیں ہوں ہی نہیں
اٹھاؤ منصب و دولت سے کچھ تو فائدہ آخر
دباؤ زیر دستوں کے علاقہ جات بسم اللہ
مرے بھائی !مرا حصہ بھی سب تجھ کو مبارک ہو
نہ ہو تقسیم بے دردی سے یہ آبائی گھر تاکہ
دس دن سے اوپر چل سکتی
اتنی بھی تنخواہ نہیں تھی
کہیں سے سانپ آ جاتے ہیں اس میں
ہماری آستیں کا مسئلہ ہے
عجیب بہادر شخص ہے۔ اسمبلی کی ''جتوائی‘‘ ہوئی سیٹ ٹھکرا دی۔ دھرنے دیے جا رہا ہے۔ جلوس نکالے جا رہا ہے۔ پٹرول کی قیمت سے لیوی کا جگا ٹیکس ہٹوانے کیلئے‘ بجلی کی قیمت میں ریلیف کیلئے۔ جنون نیا نہیں‘ پرانا ہے۔ کبھی کراچی الیکٹرک کے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوا۔ کبھی پانی کے نکاس اور واٹر سپلائی کیلئے لڑا۔ عجیب شخص ہے۔ اپنے ہم چشموں سے یکسر مختلف!! ٹوپی ٹیڑھی کر کے اوڑھی نہ اپنے علاقے میں خواتین ووٹروں کی حوصلہ شکنی کی۔ مغربی تعلیم کے خلاف اور مدرسہ کی تعلیم کے حق میں تقریر کی‘ نہ بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکہ کینیڈا بھیجا۔ اولاد کو دوسری سیاسی جماعتوں میں بھی پلانٹ نہ کیا۔ کسی سکہ رائج الوقت کو ہوا میں اچھالا نہ اس سے خریداری کی۔ نہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنائیں۔ ملک کا واحد سیاستدان ہے جو عوام کیلئے لڑ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ پٹرول لیوی اور آئی پی پیز کے خلاف کیسے بول سکتی ہیں جبکہ …
عجیب بہادر شخص ہے۔ اسمبلی کی ''جتوائی‘‘ ہوئی سیٹ ٹھکرا دی۔ دھرنے دیے جا رہا ہے۔ جلوس نکالے جا رہا ہے۔ پٹرول کی قیمت سے لیوی کا جگا ٹیکس ہٹوانے کیلئے‘ بجلی کی قیمت میں ریلیف کیلئے۔ جنون نیا نہیں‘ پرانا ہے۔ کبھی کراچی الیکٹرک کے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوا۔ کبھی پانی کے نکاس اور واٹر سپلائی کیلئے لڑا۔ عجیب شخص ہے۔ اپنے ہم چشموں سے یکسر مختلف!! ٹوپی ٹیڑھی کر کے اوڑھی نہ اپنے علاقے میں خواتین ووٹ…
اُن دنوں میں وفاقی وزارتِ ثقافت میں تعینات تھا۔ ثقافتی طائفہ لے کر ہم لوگ امریکہ گئے۔ نیویارک ریاست کا دارالحکومت البنی (Albany) ہے۔ ایک خوبصورت‘ صاف ستھرا شہر! نیویارک شہر سے اڑھائی تین گھنٹے کی ڈرائیو پر! وہاں کے ایک معزز‘ صاحبِ حیثیت پاکستانی تارکِ وطن نے ہمیں کھانے پر مدعو کیا۔ شہر کی سیر بھی کرائی۔ دعوت سے فارغ ہوئے تو وہ مجھے ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے: آپ وزارتِ ثقافت میں ہیں‘ کچھ ایسا کیجیے کہ مجھے تمغۂ حسنِ کارکردگی یا کوئی اور اعزاز مل جائے۔ چند لمحے تو مجھے حیرت پر قابو پانے میں لگے۔ پھر انہیں بتایا کہ میں سرکاری مشینری کا ایک عام سا پرزہ ہوں‘ اس کیلئے آپ کوئی بڑی شخصیت پکڑیے۔ پھر میں نے پوچھا کہ اعزازات مختلف فنون‘ پیشوں اور خدمات کے حوالے سے دیے جاتے ہیں‘ آپ کس حوالے سے اعزاز لینا چاہتے ہیں؟ یاد نہیں انہوں نے کیا جواب دیا۔
یہ واقعہ مجھے ایک حالیہ خبر پڑھ کر یاد آیا۔ کون سی خبر؟ یہ آگے چل کر بتاتا ہوں۔ اس سے پہلے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سب نہیں لیکن تارکینِ وطن کی اچھی خاصی تعداد وہ ہے جو پاکستان کو کچھ دینے کے بجائے پاکستان سے کچھ لینا چاہتے ہیں۔ کوئی یہاں آکر گورنر لگنا چاہتا ہے‘ کوئی وزیر بننا چاہتا ہے‘ کوئی کسی ادارے کا سربراہ یا کارپوریشن کا ایم ڈی تعینات ہونا چاہتا ہے۔ پاکستان کا کوئی حکمران باہر جائے تو اس سے سچی بات کرنے کے بجائے ان کا زور اس کی خدمت اور خوشامد پر ہوتا ہے۔ عمران خان اقتدار میں آئے تو بیرونِ ملک سے بہت سے افراد آکر ان کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔ کوئی وزیر لگ گیا‘ کوئی کسی اور طاقتور پوسٹ پر براجمان ہو گیا۔ خان پر کڑا وقت آیا تو یہ چُوری خور مجنوں سارے بیرونِ ملک بھاگ گئے اور اپنی اپنی استراحت گاہوں میں نیم دراز ہو گئے۔ (حکمران مردم شناس نہ ہو تو یہی ہوتا ہے)۔ پوری پوری زندگی باہر گزارنے کے بعد ان تارکین وطن کی سوچ کا معیار یہی ہوتا ہے کہ واپس جا کر گورنر یا وزیر لگ جائیں یا کوئی اعزاز مل جائے۔ ڈاکٹر اس سے مستثنیٰ ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم بہت سے ڈاکٹر پاکستان کے ہسپتالوں اور میڈیکل کالجوں کی دیکھ بھال کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔
ایک عجیب بات نوٹ کرنے والی یہ ہے کہ ہمارے تارکین وطن کئی دہائیوں سے ترقی یافتہ جمہوری ملکوں میں قیام پذیر ہیں۔ اپنے اپنے نئے وطن کی جمہوری قدروں سے استفادہ کر رہے ہیں۔ رات دن دیکھتے ہیں کہ امریکہ‘ یورپ اور آسٹریلیا میں حکمرانوں کیلئے کوئی ہٹو بچو نہیں ہوتا‘ روٹ نہیں لگتے‘ ٹریفک نہیں بند کی جاتی‘ حکمرانوں کی اولاد اور رشتہ داروں کیلئے کوئی پروٹوکول نہیں ہوتا۔ لیکن جب دورے پر آئے ہوئے پاکستانی حکمرانوں کو یہ تارکین وطن ملتے ہیں تو ہاتھ باندھے‘ ماتحتوں کی طرح‘ جی سر‘ جی سر کے سوا کچھ نہیں کہتے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ ''وزیراعظم شہباز شریف سے امریکہ میں مقیم پاکستانی نوجوانوں کے وفد نے ملاقات کی... وزیراعظم نے نوجوانوں کو مختلف شعبہ جات میں بہتری کیلئے تجاویز دینے اور پاکستان کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی دعوت دی‘‘۔ اب یہ معلوم نہیں کہ امریکہ میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں اور نیویارک میں مقیم ہزاروں پاکستانیوں میں سے اُن پاکستانیوں کو کون منتخب کرتا ہے جو وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کرتے ہیں! پاکستانی حکمرانوں کی روایت تو یہی ہے کہ ملاقات میں یا پریس کانفرنس میں سب ''اپنے بندے‘‘ ہوں۔ تصویر دیکھ کر لگتا ہے کہ سب مؤدب بیٹھے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ پاکستانی‘ نوجوان ہیں یا کاروباری حضرات‘ کیا نہیں جانتے کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ یہ وزیراعظم سے کیوں نہیں پوچھتے کہ اگر بنگلہ دیش کا وزیراعظم اور کئی اور زیادہ امیر ممالک کے سربراہان‘ عام کمرشل فلائٹ سے سفر کرتے ہیں تو آپ کیوں نہیں کرتے؟ اگر پرانا جہاز اب بھی استعمال ہو رہا ہے تو چیف منسٹر صاحبہ نے بارہ ارب کا نیا جہاز کیوں خریدا ہے؟ اور کیا جمہوری ملکوں میں سرکاری کارندے اور وزیر اس طرح بات کرتے ہیں کہ ہاں خریدا ہے! اور آئندہ بھی سفر کریں گے! اگر امریکہ میں مقیم یہ پاکستانی‘ پاکستانی عوام کے حق میں بات نہیں کر سکتے تو کیا یہ وزیراعظم کو اپنی شکلیں دکھانے اور وعظ سننے کیلئے جاتے ہیں؟ حکومت پاکستان ان کا کیا بگاڑ سکتی ہے؟ یا پھر یہ تارکین وطن صرف اپنی شو شا‘ پھوں پھاں اور ٹھوں ٹھاہ کیلئے پاکستانی حکمرانوں سے ملنے جاتے ہیں کہ تصویر کھنچوائیں گے اور واہ واہ ہو گی۔ کیوں نہیں پوچھتے کہ اربوں روپے ہر ماہ آئی پی پیز کو کیوں دیے جا رہے ہیں جبکہ وہ بجلی صفر پیدا کر رہے ہیں؟ کیوں نہیں پوچھتے کہ پٹرول پر لیوی کس خوشی میں لی جا رہی ہے؟ کیوں نہیں پوچھتے کہ ریٹائرڈ منصفوں کو لاکھوں روپے اور مفت بجلی‘ گیس اور پٹرول کیوں دیے جا رہے ہیں؟ اگر امریکہ میں رہ کر پاکستان کا غم ستا رہا ہے تو کھل کر بات کرو۔ گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں!
اور وزیراعظم امریکہ میں مقیم ان پاکستانیوں سے ''بھرپور کردار‘‘ ادا کرنے کا کہنے کے بجائے یہ کیوں نہیں کہتے کہ آکر اصل پاکستان کی حالت دیکھو! آؤ اور ہمارے قصبے اور ہمارے گاؤں دیکھو۔ آ کر لاہور‘ کراچی اور اسلام آباد کے بجائے مانسہرہ‘ مردان‘ فتح جنگ‘ ڈی جی خان‘ بہاولنگر‘ شکارپور اور لاڑکانہ جیسے شہر اور قصبے دیکھو۔ پاکستان آکر گداگروں کی تعداد دیکھو! آکر پوچھو کہ ہر ماہ کتنی گاڑیاں چوری ہوتی ہیں اورکتنے ڈاکے پڑتے ہیں اور پولیس پر ہر ماہ کتنے ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں؟
نیو یارک میں پاکستانی وفد نے‘ وزیراعظم کی قیادت میں بنگلہ دیش کے وزیراعظم جناب طارق رحمان اور ان کی ٹیم سے ملاقات کی۔ مجھے یقین ہے کہ قیمتی سوٹوں اور دیدہ زیب نکٹائیوں میں ملبوس پاکستانی وفد کے ارکان نے دل ہی دل میں وزیر اعظم طارق رحمان کا ٹھٹھا اڑایا ہو گا کہ اس احمق کو دیکھو‘ یہ عام کمرشل پرواز میں آیا ہے۔ اگر ہمارے وفد کا بس چلتا تو ضرور یہ نصیحت کرتا کہ میاں برخوردار!! یہ سادگی یہ کفایت شعاری چھوڑو۔ اقتدار میں ہو تو کچھ عیاشی کر لو۔ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست!
امریکہ کے اس دورے میں ہمارے وزیراعظم نے آئی ایم ایف کی سربراہ سے بھی ملاقات کی! اس ملاقات کا ذکر پڑھ کر ہمیں پنجابی زبان کے نامور ادیب جناب نجم حسین سید کی لکھی ہوئی ایک کہانی یاد آ رہی ہے۔ ایک غریب عورت تھانے میں زمین پر بیٹھی ہوئی تھی۔ تھانے والوں نے مار مار کر اس کا برا حال کر رکھا تھا۔ لباس تار تار ہو چکا تھا۔ چہر ے سے خون بہہ رہا تھا۔ بدن زخموں سے چور تھا۔ تھانے کے ساتھ گلی تھی۔ وہاں سے مولوی صاحب گزر رہے تھے۔ ان کی نظر غریب عورت پر پڑی تو فوراً جلال میں آ گئے ''بدبخت! سر کیوں ننگا ہے؟ دوپٹے سے سر ڈھانکو! جانتی نہیں ننگے سر رہنا کتنا بڑا گناہ ہے!‘‘۔ مجھے یقین ہے کہ آئی ایم ایف کی سربراہ اس بات پر خوش ہوئی ہو گی کہ پٹرول کے ہر لیٹر میں لیوی کا بوجھ شامل ہے۔ اس نے یہ ہدایت بھی دی ہوگی کہ بجلی‘ پانی اور گیس کے بلوں کو اور بھی بھاری کرو تاکہ عوام کی کمر دہری ہو جائے۔ نرخ بالا کُن کہ ارزانی ہنوز! اس نے یہ ہدایت بھی دی ہو گی کہ تنخواہوں اور پنشنوں میں سالانہ اضافہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن وہ یہ کبھی نہیں پوچھے گی کہ ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہیں اور مراعات کتنی ہیں؟ چارٹرڈ جہازوں پر سالانہ کتنے ارب روپے اٹھ جاتے ہیں؟ ایوانِ صدر اور وزیراعظم کے دفتر کا بجٹ اتنا زیادہ کیوں ہے؟ اور کئی اور سوالات!! ناصر کاظمی یاد آ گئے:
کتنی مردم شناس ہے دنیا
منحرف بے حیا ہمِیں سے ہوئی
اُن دنوں میں وفاقی وزارتِ ثقافت میں تعینات تھا۔ ثقافتی طائفہ لے کر ہم لوگ امریکہ گئے۔ نیویارک ریاست کا دارالحکومت البنی (Albany) ہے۔ ایک خوبصورت‘ صاف ستھرا شہر! نیویارک شہر سے اڑھائی تین گھنٹے کی ڈرائیو پر! وہاں کے ایک معزز‘ صاحبِ حیثیت پاکستانی تارکِ وطن نے ہمیں کھانے پر مدعو کیا۔ شہر کی سیر بھی کرائی۔ دعوت سے فارغ ہوئے تو وہ مجھے ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے: آپ وزارتِ ثقافت میں ہیں‘ کچھ ایسا کیجیے کہ مجھے تمغۂ حسنِ کارکردگی یا کوئی اور اعزاز مل جائے۔ چند لمحے تو مجھے حیرت پر قابو پانے میں لگے۔ پھر انہیں بتایا کہ میں سرکاری مشینری کا ایک عام سا پرزہ ہوں‘ اس کیلئے آپ کوئی بڑی شخصیت پکڑیے۔ پھر میں نے پوچھا کہ اعزازات مختلف فنون‘ پیشوں اور خدمات کے حوالے سے دیے جاتے ہیں‘ آپ کس حوالے سے اعزاز لینا چاہتے ہیں؟ یاد نہیں انہوں نے کیا جواب دیا۔ یہ واقعہ مجھے ایک حالیہ خبر پڑھ کر یاد آیا۔ کون …
اُن دنوں میں وفاقی وزارتِ ثقافت میں تعینات تھا۔ ثقافتی طائفہ لے کر ہم لوگ امریکہ گئے۔ نیویارک ریاست کا دارالحکومت البنی (Albany) ہے۔ ایک خوبصورت‘ صاف ستھرا شہر! نیویارک شہر سے اڑھائی تین گھنٹے کی ڈرائیو پر! وہاں کے ایک معزز‘ صاحبِ حیثیت پاکستانی تارکِ وطن نے ہمیں کھانے پر مدعو کیا۔ شہر کی سیر بھی کرائی۔ دعوت سے فارغ ہوئے تو وہ مجھے ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے: آپ وزارتِ ثقافت میں ہیں‘ کچھ ایسا ک…
بہت مشکل سے ملاقات کا وقت طے ہوا۔
اس لیے کہ اس حسینہ سے ملنا آسان نہ تھا۔ ایک تو حسن بے پناہ! رنگت جیسے مکھن میں سیندور ملا ہو! بال سنہری‘ نرم اور ریشمی‘ جن سے نکلتی ہوئی خوشبو قریب آنے والے کو بے سُدھ کر دے۔ چہرہ جاڑے کی دھوپ جیسا۔ دوسرے حسینہ کی مصروفیت! دنیا اس سے ملاقات کیلئے بے تاب اور قطار میں کھڑی ہوئی! کوئی برسوں سے اور کوئی مہینوں سے! جس محل میں وہ رہ رہی تھی اس کی وسعت اور طرزِ تعمیر کے کیا ہی کہنے!! کئی منزلہ عمارت! کئی کمرے‘ کئی حمام اور گاڑیوں کیلئے کئی اصطبل! غلام‘ حاجب‘ نقیب‘ چوبدار بے شمار! جس دن میری ملاقات طے تھی‘ میں صبح صبح حاضر ہو گیا۔ مگر مجھے بتایا گیا کہ حسینۂ عالم کی کچھ مصروفیات اچانک پیش آ گئیں اس لیے مجھے دس دن انتظار کرنا ہو گا۔ میں نے انتہائی بے بسی اور بے کسی سے عرض کیا کہ میں بہت دور سے آیا ہوں۔ اگر اپنے ملک واپس گیا اور پھر آیا تو اخراجات میری استطاعت سے باہر ہو جائیں گے۔ ملک میرا دور بھی بہت ہے۔ جنوبی ایشیا کا آخری کنارا! دلکش چہرے والی سیکرٹری مسکرائی۔ پھر اس نے بتایا کہ حسینۂ عالم کے احکام یہ ہیں کہ جو ایک بار ملا قات کیلئے آ جائے‘ اسے ملاقات تک یہیں ٹھہرایا جائے۔ یہ پروٹوکول کا لازمی حصہ ہے۔ کچھ دیر کے بعد ایک نوجوان خاتون اٹھلاتی‘ بل کھاتی آئی اور مجھے ساتھ آنے کیلئے اشارہ کیا۔ کئی راہداریاں اور کمرے عبور کرنے کے بعد‘ برقی سیڑھیوں کے ذریعے ہم محل کی چوتھی منزل پر پہنچے۔ اس منزل پر بھی ہم کافی دیر چلتے رہے۔ بالآخر ایک وسیع و عریض اپارٹمنٹ میں پہنچ کر اس نے بتایا کہ یہ ہے دس دن کیلئے میری قیام گاہ! اپارٹمنٹ کی وسعت دیکھ کر میں حیران ہوا۔ اس میں چار بیڈ روم تھے۔ کچن تھا اور بہت بڑا ڈرائنگ روم! ایک طرف جم تھا دوسری طرف سنیما جو صرف میرے لیے تھا۔ سنیما کے ملازم کے پاس ہزاروں فلمیں تھیں۔ نئی‘ پرانی‘ تاریخی‘ رومانی‘ سنسنی خیز اورجاسوسی بھی! چار حسینائیں میری دیکھ بھال کیلئے وقف تھیں۔ ایک کھانا پکانے کیلئے۔ دوسری صفائی کیلئے۔ تیسری میرے وارڈ روب کی انچارج تھی اور چوتھی ٹیلی فون آپریٹر۔ دنیا میں کہیں بھی فون کرنا ہو‘ یہ خاتون ملا کر دے گی۔ بتایا گیا کہ ایک مرسیڈیز مع ڈرائیور ہر وقت تیار ملے گی۔ یہ تمام سہولتیں‘ بلکہ تعیشات مفت تھیں۔ مجھے ایک پائی بھی نہیں ادا کرنی ہو گی۔ کھانے پینے کا سامان‘ گروسری اور اکل و شرب کے دیگر امور سب اس خاتون کے ذمے ہوں گے جو باورچی خانے کی انچارج ہے۔
ہاں یہ تو بتانا بھول ہی گیا کہ یہ حسینۂ عالم‘ جس سے ملاقات کیلئے میں دور دراز کا سفر طے کر کے آیا تھا اور جس کیلئے دس دن انتظار کرنا تھا‘ اس کا نام آئی ایم ایف تھا‘ یعنی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ!! میں جب اس کے محل میں داخل ہوا تھا تو غیظ و غضب سے بھرا ہوا تھا۔ مجھے اس سے پوچھنا تھا کہ میرے ملک کے عوام سے اسے آخر کیا دشمنی تھی۔ میرے سوالات ایسے تھے جن کا اس کے پاس‘ میرے خیال میں‘ کوئی جواب ہی نہیں ہونا تھا۔ میری نظر میں یہ حسینہ‘ یعنی آئی ایم ایف استعمار کی باندی تھی اور امیر ملکوں کی‘ خاص کر امریکہ کی‘ ایجنٹ تھی۔ اسے بے نقاب کرنا میری آمد کا مقصد تھا۔ لیکن میری قیام گاہ اور اس سے وابستہ سہولتیں میرے دل کو آہستہ آہستہ‘ غیر مرئی طریقے سے لبھا رہی تھیں! سب کچھ ایک خواب کی طرح لگ رہا تھا۔ یہ پرستانی زندگی تھی۔ مرسیڈیز مجھے خوبصورت مقامات پر لے جاتی۔ ناشتے میں بیسیوں آئٹم ہوتے۔ رات کا ڈنر کبھی کسی بڑے افسر کے گھر میں‘ کبھی کسی سات ستارہ ہوٹل میں‘ چار کنیزیں ہر وقت حکم کی منتظر رہتیں۔ وہ ہر روز ایسے ملبوسات پہن کر آتیں جو ملکوں کے حکمرانوں کی بیگمات بھی نہیں برداشت کر سکتی تھیں۔ ہر شام کہیں نہ کہیں مجھے کسی محفلِ رقص و سرود میں لے جایا جاتا۔ پلنگ ایسا جیسے پانی پر بچھا ریشمی گدا ہو۔ ہوتے ہوتے میرے دل میں حسینۂ عالم کیلئے نرم گوشہ پیدا ہونے لگا۔ ابھی چھ دن بھی نہ گزرے تھے کہ میرے خیالات میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔ مجھے حسینۂ عالم ایک نیک دل‘ فیاض اور انسان دوست خاتون نظر آنے لگی۔ انسان دوست نہ ہوتی تو اسے کیا ضرورت تھی کہ مجھ جیسے عام‘ دو ٹکے کے کالم نگار کو اتنا شاہانہ پروٹوکول دیتی جب کہ میں اس سے دو دو ہاتھ کرنے کیلئے آیا ہوں۔ دس دن ختم ہونے تک میں پوری طرح اس کا عقیدت مند اور سپاس گزار ہو چکا تھا۔ اب میں اسے اپنا محسن سمجھنے لگا تھا اور سوچ رہا تھا کہ جو کچھ میرے ایجنڈے پر ہے اور جو کچھ کہنے کیلئے میں آیا تھا‘ وہ کتنا غیر مناسب ہے۔
گیارہویں دن ملاقات ہوئی۔ حسینۂ عالم ایک پری لگ رہی تھی۔ میں نے اسے قریب سے دیکھا اور دم بخود رہ گیا۔ آسمانی حسن‘ نیکی اور فیاضی کا امتزاج!! اس کے ارد گرد اس کے مشیر کھڑے تھے۔ اس نے تاخیر سے ملنے کی معذرت کی اور پوچھا کہ میں کیا چاہتا ہوں۔ میں نے ریشہ خطمی ہوتے ہوئے عرض کیا کہ آپ کے جو احسانات ہیں میری قوم پر‘ بس ان کا شکریہ ادا کرنے حاضر ہوا ہوں! حسینہ مسکرائی اور کہا ''جناب کالم نگار! ایسی بات نہیں۔ میرے مشیروں نے آپ کے کالموں‘ سوشل میڈیا پر بکھرے ہوئے آپ کے خیالات اور تقریبات میں آپ کی گفتگوؤں کا بھرپور مطالعہ کیا ہے۔ مجھے معلوم ہے آپ کیا سوچ کر آئے تھے اور یہ دس دن مہمان نوازی اور خاطر داری کے بھی ایک خاص مقصد کیلئے تھے۔ آپ کا مجھ پر سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ میں تنخواہوں اور پنشن کے اضافے کی اجازت نہیں دیتی۔ پٹرول اور بجلی گیس کے نرخ بڑھوا کر عوام کی زندگی جہنم بنا رہی ہوں مگر اعیانِ حکومت کی عیاشیوں پر اعتراض نہیں کرتی۔ وہ قومی خزانے کو اپنے اور اپنے متعلقین پر بے دردی سے لٹاتے ہیں۔ جہاز خریدتے ہیں۔ چارٹرڈ جہازوں پر سفر کرتے ہیں۔ پورے پورے خاندان سرکاری خرچ پر پل رہے ہیں۔ ان کے غیرملکی دوروں پر اربوں خرچ ہو رہے ہیں۔ ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے روز افزوں بجٹ پر میں اعتراض نہیں کرتی۔ ارکانِ پارلیمنٹ کی فلک بوس تنخواہوں اور مراعات کی طرف نہیں دیکھتی۔ تو جناب کالم نگار! میں کوئی مصلح یا ریفارمر نہیں۔ میں استعمار کی کنیز ہوں۔ میں اگر آپ کے حکمرانوں کی عیاشیاں ختم کر دوں تو آپ کا ملک اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے گا۔ آپ کے حکمرانوں کی نیتیں صاف ہو جائیں گی۔ قرضے ان کی عیاشیوں پر نہیں‘ عوام کی فلاح و بہبود پر صرف ہوں گے۔ اگر پاکستان خوشحال ہو جائے تو پھر مغربی ممالک کی اقتصادی غلامی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہی تو میں اور میرے مالکان نہیں چاہتے۔ میرا منصوبہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک غربت کے سمندر میں ڈوب کر مریں نہ باہر نکل سکیں۔ بس منہ پانی سے باہر رہے تا کہ سانس لیتے رہیں۔ یوں وہ ہمیشہ کیلئے میرے غلام رہیں گے۔ ابھی تمہارے وزیراعظم سپیشل جہاز پر لندن گئے ہیں۔ جہاز خالی واپس گیا ہے۔ وہ کچھ دن لندن ٹھہریں گے۔ پھر امریکہ میں جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ واپسی پر پھر کچھ دن لندن ٹھہریں گے۔ لندن اور دبئی تمہارے حکمرانوں کے اصلی وطن ہیں۔ پاکستان تو ان کی جاگیر ہے۔ ابھی اربوں روپے کی بلٹ پروف گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں۔ کیا مجھے یہ سب معلوم نہیں؟ کیا میں اندھی ہوں؟ حکمرانوں اور ارکانِ پارلیمنٹ کا طرزِ زندگی عام آدمی جیسا ہو جائے تو پاکستان سنگا پور‘ نیوزی لینڈ آئر لینڈ اور سکینڈے نیویا جیسا ہو جائے۔ یہی تو معاشی استعمار نہیں چاہتا۔ اور ہاں! یہ مرسیڈیز جو آپ یہاں استعمال کر رہے تھے‘ آپ کے گھر پہنچ جائے گی۔ مجھے امید ہے آپ کی آئندہ تحریریں میرے حق میں ہوں گی!!‘‘۔
بہت مشکل سے ملاقات کا وقت طے ہوا۔ اس لیے کہ اس حسینہ سے ملنا آسان نہ تھا۔ ایک تو حسن بے پناہ! رنگت جیسے مکھن میں سیندور ملا ہو! بال سنہری‘ نرم اور ریشمی‘ جن سے نکلتی ہوئی خوشبو قریب آنے والے کو بے سُدھ کر دے۔ چہرہ جاڑے کی دھوپ جیسا۔ دوسرے حسینہ کی مصروفیت! دنیا اس سے ملاقات کیلئے بے تاب اور قطار میں کھڑی ہوئی! کوئی برسوں سے اور کوئی مہینوں سے! جس محل میں وہ رہ رہی تھی اس کی وسعت اور طرزِ تعمیر کے کیا ہی کہنے!! کئی منزلہ عمارت! کئی کمرے‘ کئی حمام اور گاڑیوں کیلئے کئی اصطبل! غلام‘ حاجب‘ نقیب‘ چوبدار بے شمار! جس دن میری ملاقات طے تھی‘ میں صبح صبح حاضر ہو گیا۔ مگر مجھے بتایا گیا کہ حسینۂ عالم کی کچھ مصروفیات اچانک پیش آ گئیں اس لیے مجھے دس دن انتظار کرنا ہو گا۔ میں نے انتہائی بے بسی اور بے کسی سے عرض کیا کہ میں بہت دور سے آیا ہوں۔ اگر اپنے ملک واپس گیا اور پھر آیا تو اخراجات میری استطاعت…
بہت مشکل سے ملاقات کا وقت طے ہوا۔ اس لیے کہ اس حسینہ سے ملنا آسان نہ تھا۔ ایک تو حسن بے پناہ! رنگت جیسے مکھن میں سیندور ملا ہو! بال سنہری‘ نرم اور ریشمی‘ جن سے نکلتی ہوئی خوشبو قریب آنے والے کو بے سُدھ کر دے۔ چہرہ جاڑے کی دھوپ جیسا۔ دوسرے حسینہ کی مصروفیت! دنیا اس سے ملاقات کیلئے بے تاب اور قطار میں کھڑی ہوئی! کوئی برسوں سے اور کوئی مہینوں سے! جس محل میں وہ رہ رہی تھی اس کی وسعت اور طرزِ تعمیر ک…
میں نے حمزہ کو وڈیو کال کی اور لائبریری جانے کا کہا۔ جب وہ لائبریری پہنچ گیا تو میں نے بتایا کہ جو الماری کھڑکی کے ساتھ ہے اس سے اگلی الماری میں اردو شاعری کی کتابیں پڑی ہیں۔ ان میں ایک کتاب ''گلِ نغمہ‘‘ رکھی ہے۔ اسے ڈھونڈو۔ چند لمحوں کے بعد اس نے بتایا کہ ''گلِ نغمہ‘‘ مل گئی ہے۔ تب اسے کہا کہ اس میں تمہاری اس مہینے کی پاکٹ منی پڑی ہے۔ تھوڑی دیر میں اس نے بتایا کہ کتاب میں پڑے اتنے ڈالر مل گئے ہیں۔
آسٹریلیا قیام کے دوران‘ اسرار اور معاذ‘ دونوں کے بچوں کو وقتاً فوقتاً پاکٹ منی دیتا رہتا ہوں۔ میری اس حرکت کو بچوں کے ماں باپ زیادہ پسند نہیں کرتے۔ اکثر والدین اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ نانا نانی‘ دادا دادی بچوں کو جب بھی کچھ کھلائیں پلائیں گے یا جیب خرچ دیں گے یا کسی باغ یا پارک میں لے جائیں گے یا انہیں کوئی ملبوس لے کر دیں گے تو بس بچوں کو خراب (spoil) کریں گے۔ یہ الزام صرف ہمارے ملک میں نہیں‘ پوری دنیا میں لگایا جاتا ہے۔ ایک دفعہ میں اور میری اہلیہ کینیڈا میں ایک ریستوران میں بیٹھے تھے۔ قریب ہی ایک سفید فام‘ عمر رسیدہ خاتون بارہ تیرہ سال کے بچے کے ساتھ بیٹھی تھی۔ بچہ کچھ کھا رہا تھا اور وہ اسے دیکھ دیکھ کر نہال ہوئے جا رہی تھی۔ ہم دونوں اندازہ لگانے لگے کہ بچہ اس خاتون کا پوتا ہے یا نواسہ۔ میں اس کے پاس چلا گیا۔ سلام کر کے پوچھا تو اس نے بتایا کہ نواسہ ہے۔ میں نے کہا کہ والدین الزام لگاتے ہیں کہ ہم بچوں کو خراب کرتے ہیں۔ اس نے مسکر اتے ہوئے جواب دیا ''بالکل! ہم خراب کرتے ہیں اور کریں گے۔ کیوں کہ ہم والدین نہیں بلکہ گرینڈ پیرنٹس ہیں اور گرینڈ پیرنٹس کا یہی کام ہے‘‘۔ یہ جو گزشتہ صدی کے معروف امریکی شاعر اوگڈین ناش (Ogden Nash) کا مشہور قول ہے کہ When grandparents enter the door, discipline flies out the window‘ یعنی جیسے ہی گرینڈ پیرنٹس دروازے سے داخل ہوتے ہیں‘ ڈسپلن کھڑکی کے راستے باہر کود جاتا ہے۔ تو یہ بھی شاعر نے بچوں کے والدین کو خوش کرنے کیلئے کہا ہو گا۔
کچھ دن پہلے ایک وڈیو کلپ دیکھا کہ باپ بیٹے کی پٹائی کر رہا ہے کیونکہ بیٹے نے امتحان میں نمبر کم لیے ہیں۔ وقت گزرتا ہے۔ پٹائی کرنے والا باپ دادا بن جاتا ہے۔ مار کھانے والا بیٹا باپ بن جاتا ہے۔ اس کا بیٹا بھی کم نمبر لے کر پاس ہوتا ہے اور وہ جب بیٹے کی پٹائی کرنے لگتا ہے تو دادا درمیان میں آجاتا ہے اور کہتا ہے کہ نمبر کم ہیں تو کیا ہوا‘ پاس تو ہو گیا ہے نا! باپ حیران ہو کر اپنے ماتھے پر چپت رسید کرتا ہے اور بڑبڑاتا ہے کہ کل جس بات پر اسے پیٹا گیا تھا‘ آج اسی بات پر پوتے کو کچھ نہیں کہنے دیتے!
آسٹریلیا قیام کے دوران‘ اسرار اور معاذ‘ دونوں کے بچوں کو وقتاً فوقتاً پاکٹ منی دیتا رہتا ہوں۔ پاکستان آنے کے بعد یہ سلسلہ معطل ہو جاتا ہے۔ پچھلے سال انہی دنوں آسٹریلیا میں تھا تو حمزہ پندرہ سال کا ہو گیا۔ سوچا کہ اب ماشاء اللہ بڑا ہو گیا ہے۔ اس کی ضروریات چھوٹے بچوں کی نسبت زیادہ ہوں گی‘ تو ایسا نظام بنایا کہ میرے پاکستان جانے کے بعد بھی اسے جیب خرچ ملتا رہے۔ چنانچہ واپس آنے سے پہلے میں اس کی بارہ ماہ کی پاکٹ منی مختلف جگہوں پر رکھ آیا۔ اپنے کسی کوٹ کی جیب میں‘ کسی دراز میں‘ زیادہ تر کسی کتاب میں! ہر ماہ کے پہلے ہفتے اسے فون پر بتاتا ہوں کہ فلاں الماری میں رکھی فلاں کتاب میں دیکھو۔ یا فلاں کوٹ یا فلاں قمیص کی جیب میں دیکھو۔ یہاں منطقی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جیب خرچ حمزہ کی اماں یا ابا کو کیوں نہیں دے آتا کہ وہ ہر مہینے اسے دے دیا کریں۔ ایسا نہ کرنے کی وجہ ہے اور بہت ٹھوس وجہ ہے۔ ایک تو میں پوتوں پوتیوں اور نواسوں نواسیوں کے ضمن میں ان کے والدین پر اعتبار بالکل نہیں کرتا۔ اس لیے نہیں ان کی دیانت پر شبہ ہے‘ بلکہ اس لیے کہ ایک تو وہ بھول جائیں گے اور دوسرے بچوں کی جو اہمیت گرینڈ پیرنٹس کیلئے ہوتی ہے وہ والدین کیلئے نہیں ہوتی۔ جیسا کہ میں نے اپنی تصنیف ''سمندر، جزیرے اور جدائیاں‘‘ میں لکھا ہے کہ نانا دادا‘ نانی دادی کا اتحاد پوتوں پوتیوں‘ نواسوں نواسیوں کے ساتھ فطری ہے۔ بچوں کے والدین بچوں کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتے اور کسی حد تک بچوں کے گرینڈ پیرنٹس کی باتوں پر بھی پوری توجہ نہیں دیتے۔ اس کے بر عکس بچے گرینڈ پیرنٹس کی باتوں پر بہت توجہ دیتے ہیں اور گرینڈ پیرنٹس بچوں کی باتوں پر۔ مثلاً ہم میں سے ہر شخص کا مشاہدہ ہے کہ بچہ باپ سے مٹھائی یا کھلونا مانگتا ہے تو باپ‘ جو کام سے تھکا ہوا آیا ہوتا ہے‘ کہتا ہے کہ کل لیتا آؤں گا۔ مگر دادا یا نانا آدھی رات کو بھی گھر سے نکل جاتا ہے‘ مطلوبہ شے لا کر بچے کو دیتا ہے اور پھر تھکاوٹ کا احساس کیے بغیر بچے کو خوش ہوتا دیکھتا ہے تو اسے ایک عجیب‘ آسمانی قسم کی راحت ملتی ہے۔ بچہ ماں سے کہتا ہے کہ اسے حلوہ یا آملیٹ یا پاستا بنا دے تو ماں جو دن بھر کی تھکی ہاری ہے‘ کہتی ہے کہ جو پکا ہوا ہے وہی کھا لو‘ حلوہ یا پاستا کل بنا دوں گی۔ مگر دادی یا نانی اسی وقت اٹھتی ہے اور بچے کی خواہش فوراً پورا کرتی ہے۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ماں باپ زندگی کی گاڑی میں جُتے ہوتے ہیں۔ نوکری‘ کاروبار‘ ہزار افکار و آلام! جبکہ گرینڈ پیرنٹس اکثر و بیشتر ریٹائرڈ ہوتے ہیں اور نسبتاً کم مصروفیات کے حامل!! بچوں کیلئے بھی گرینڈ پیرنٹس کی ہر بات نہایت اہم ہوتی ہے۔ باپ شام کو گھر آئے گا تو بچہ فوراً بتائے گا کہ آج دادا جان گر گئے تھے یا نانو کی دوا ختم ہو گئی ہے۔ دو سال پہلے میری آنکھوں کی جراحی ہوئی تو حمزہ جو تب چودہ برس کا تھا‘ اپنی وڈیو گیم چھوڑ کر دن کا زیادہ حصہ میرے کمرے میں‘ میرے پاس بیٹھ کر گزارتا تھا۔ میں کئی بار کہتا کہ جاؤ باہر کھیلو کودو۔ مگر وہ نہیں مانتا تھا۔ بیمار پڑوں تو نواسی زینب فوراً ایک سخت گیر نرس بن جاتی ہے۔ بخار ہو تو کہیں جانے نہیں دیتی۔ ڈرائیور سے گاڑی کی چابی لے کر اپنے پاس رکھ لیتی ہے۔ ایک بار طبیعت کی ناسازی کے باوجود مجھے شہر سے باہر جانا پڑا۔ پہلے تو اس نے روکنے کی کوشش کی مگر میں نہ رکا۔ ابھی میں گوجر خان کے قریب پہنچا تھا کہ زینب کا فون آیا ''نانا ابو! راستے میں سونے کی کوشش کیجیے ورنہ تھکاوٹ زیادہ ہو گی‘‘۔ میں خدا کی قدرت پر حیران ہوا کہ انسان کیلئے کیسے کیسے محافظ پیدا کیے ہیں۔ سولہ سترہ سال کی بچی اور بڑی بوڑھیوں کی طرح فکر مند!! قدرت انسان سے اس کے ماں باپ‘ نانا نانی‘ دادا دای واپس لیتی ہے تو بدلے میں پوتیاں پوتے‘ نواسیاں نواسے عطا کرتی ہے جو بڑوں کی طرح اس کا خیال رکھتے ہیں۔
لیکن سب نانے دادے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ تو بچوں کا شور برداشت ہی نہیں کرتے۔ ایک صاحب کو میں جانتا ہوں جو اپنے بچوں سے کبھی بغلگیر ہوئے نہ نواسے کو کبھی بوسہ دیا۔ شاید میں اس حوالے سے زیادہ حساس ہوں۔ کچھ برس پہلے تاشقند سے ایک سیمینار میں شرکت کی دعوت ملی۔ میں نے معذرت کر لی کیونکہ اس دن حمزہ کی آسٹریلیا کیلئے پرواز تھی اور میں اسے رخصت کرنا زیادہ ضروری سمجھتا تھا۔ اس وقت جب یہ کالم لکھ رہا ہوں‘ چار سالہ رستم اور اڑھائی سالہ آزادِہ نے میرے کمرے ہی میں قیامت کا شور برپا کر رکھا ہے ۔ میں بڑوں کا شور نہیں برداشت کرتا مگر بچوں کے شور میں میری قوتِ تحریر میں اضافہ ہو جاتا ہے‘ بشرطیکہ بچے اپنے ہوں!
میں نے حمزہ کو وڈیو کال کی اور لائبریری جانے کا کہا۔ جب وہ لائبریری پہنچ گیا تو میں نے بتایا کہ جو الماری کھڑکی کے ساتھ ہے اس سے اگلی الماری میں اردو شاعری کی کتابیں پڑی ہیں۔ ان میں ایک کتاب ''گلِ نغمہ‘‘ رکھی ہے۔ اسے ڈھونڈو۔ چند لمحوں کے بعد اس نے بتایا کہ ''گلِ نغمہ‘‘ مل گئی ہے۔ تب اسے کہا کہ اس میں تمہاری اس مہینے کی پاکٹ منی پڑی ہے۔ تھوڑی دیر میں اس نے بتایا کہ کتاب میں پڑے اتنے ڈالر مل گئے ہیں۔ آسٹریلیا قیام کے دوران‘ اسرار اور معاذ‘ دونوں کے بچوں کو وقتاً فوقتاً پاکٹ منی دیتا رہتا ہوں۔ میری اس حرکت کو بچوں کے ماں باپ زیادہ پسند نہیں کرتے۔ اکثر والدین اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ نانا نانی‘ دادا دادی بچوں کو جب بھی کچھ کھلائیں پلائیں گے یا جیب خرچ دیں گے یا کسی باغ یا پارک میں لے جائیں گے یا انہیں کوئی ملبوس لے کر دیں گے تو بس بچوں کو خراب (spoil) کریں گے۔ یہ الزام…
میں نے حمزہ کو وڈیو کال کی اور لائبریری جانے کا کہا۔ جب وہ لائبریری پہنچ گیا تو میں نے بتایا کہ جو الماری کھڑکی کے ساتھ ہے اس سے اگلی الماری میں اردو شاعری کی کتابیں پڑی ہیں۔ ان میں ایک کتاب ''گلِ نغمہ‘‘ رکھی ہے۔ اسے ڈھونڈو۔ چند لمحوں کے بعد اس نے بتایا کہ ''گلِ نغمہ‘‘ مل گئی ہے۔ تب اسے کہا کہ اس میں تمہاری اس مہینے کی پاکٹ منی پڑی ہے۔ تھوڑی دیر میں اس نے بتایا کہ کتاب میں پڑے اتن…