محمد اظہار الحق
محمد اظہار الحق
Muhammad Izhar Ul Haq
کالم

ناتواں دوش پر شال

شاعری

 اور اب میری مونچھیں

پرانے سویٹر کی ادھڑی سفید اون

پہلے کاغذ میں رکھی سیہ فلم

اور تھوک ڈبیا میں بند

تیری ماں کے گھنے بال

(جنہیں چومتے چومتے میں نے راتیں

تری سوچ میں

آئنوں جیسے برآمدوں کی منقّط سفیدی

پہ مل دیں

جہاں بین منڈلا رہے تھے

جہاں قہر کی صبح آتے ہی سارے سٹیتھو سکوپ

سانپ بن جائیں گے

اور بداطوار نرسوں کی آنکھوں کے سوراخ

کیڑے مکوڑوں کی آماجگاہ)

مرے ناتواں دوش پر شال

اور تو شمشاد قد آہنی جسم

سینے میں اجداد کا علم ، موجوں کا شور

دبا کر مرے کندھے اور ماں کے پَیر

ماتھے کا بوسہ کہ جنت کے پھولوں کا رس

کچھ رقم دے کے بوڑھے محافظ کو میں نے کہا تھا

کہ یہ گھاس تو صاف کر دو

کہیں قبر چھپ ہی نہ جائے