محمد اظہار الحق
محمد اظہار الحق
Muhammad Izhar Ul Haq
کالم

سر شام کیسا نظارہ تھا

شاعری

سر شام کیسا نظارہ تھا مرے باغ میں

ترے ساتھ ایک ستارہ تھا مرے باغ میں


مجھے کیا خبر تھی کہ اصل میں وہ فرشتہ تھا

جو مسافر اک تھکا ہارا تھا مرے باغ میں


پری زاد جس کو اُڑا رہے تھے فلک فلک

اُسے کیسے تو نے اُتارا تھا مرے باغ میں


مری آنکھ تو نے بنائی تھی مرے خواب میں

مراحسن تو نے سنوارا تھامرے باغ میں


ترا بے کنار بہشت جانے کہاں پہ تھا

مگر اس کا ایک کنارہ تھا مرے باغ میں