محمد اظہار الحق
محمد اظہار الحق
Muhammad Izhar Ul Haq
کالم

یہ ماہ اور سال

شاعری

 یہ ماہ اور سال جو مری عمر پر لگے ہیں

پلٹ کے دیکھوں تو اب بہت مختصر لگے ہیں


شجر بنایا عجیب اک شاعری سے میں نے

پھراس کی شاخیں کہ جن پہ لعل وگہرلگے ہیں


سگِ وفادار اور درویش اس کا مالک

ہمیں تو اس شہر میں یہی معتبر لگے ہیں


بھرم فقیری کا آخر اظہار کھُل گیا ہے

ترے مکاں میں سنا ہے دیوار و در لگے ہیں