محمد اظہار الحق
محمد اظہار الحق
Muhammad Izhar Ul Haq
کالم

نعت

شاعری

 مدینے کی ہوا ہے اور رخساروں پہ پانی

کوئی ایسی لغت جس میں سنائوں یہ کہانی


تھمابھی ہے کبھی کیا سیل انسانوں کا اس میں

پریشاں ہے مدینے میں ابد کی بے کرانی


برہنہ پا کھڑی ہے رات پتھر کی سلوں پر

سروں پرصبح صادق نے عجب چادر ہے تانی


یہاں مٹّی میں کنک لعل اور یاقوت کے سب

درختوں پر یہاں سارے پرندے آسمانی


ہوا اس شہر کی جنت کے پھولوں نے بنائی

گدا اس شہر کے میں اور سعدی اور قآنی

(ضرورتِ شعری کے تحت قا آنی کو قآنی باندھا ہے)


مرے آقا کے چاکر اور کیکائوس کا تخت

مرے مولا کے خدمت گار اور تاجِ کیانی


مطہّر جسم پر دیکھو چٹائی کے نشاں ہیں

چٹائی کے نشاں اور دو جہاں کی حکمرانی


کہاں تھا وقت میں جب جالیوں کے سامنے تھا

مجھےاس نے سمجھ رکھاہے کس برتے پہ فانی


کہاں میں اورکہاں یہ فرش اورپلکوں کی جاروب

زہے قسمت کہ میں نے لوٹ لی یہ میہمانی


کہاں یہ گنبد خضرا کہاں بینائی میری

کہاں قلاّش مجھ سا اور کہاں یہ شہ جہانی


اسی دہلیز پر بیٹھا رہے میرا بڑھاپا

انہیں کوچوں میں گذرے میرے بچوں کی جوانی


رہے میرا وطن اس شہر کے صدقے سلامت

قیامت کے طلاطم میں یہ کشتی بادبانی


مرے دشمن مرا کشکول چھپ کر دیکھتے ہیں

غلامانِ محمد کی سخاوت ، مہربانی


مرے آبِ وضو سے بھیگتی ہے رات اظہار

مری آنکھوں سے کرتے ہیں ستارے دُرفشانی