محمد اظہار الحق
محمد اظہار الحق
Muhammad Izhar Ul Haq
کالم

پھولوں بھرا قالین ہو تَبریز سے آیا ہوا

شاعری
پھولوں بھرا قالین ہو تَبریز سے آیا ہوا
دیوانِ غالِب پاس ہو اور اَبر ہو چھایا ہوا

تُو ساتھ ہو زُلفِ تَراشِیدَه تری ہو رَقص میں
تیرے خمِ اَبرُو سے ہو مہتاب گہنایا ہوا

جَب بھی چَلیں دِل پَر مرے پَیروں کے ناخُن سُرخ ہوں
رُخسار میں حِدَّت ہو جُوں اَنگار دہکایا ہوا

پانی پَرِندے پھُول اَبر و آسماں گِریَہ کُناں
کیا تُو نے دیکھا ہے کَبھی مَعشُوق مُرجھایا ہوا

ہے اِک نَگَر ایسا جَہاں پانی کے اُوپَر تَخت ہیں
ہے باغ اِک ایسا کہ جو اُوپَر سے ہے آیا ہوا

پیڑوں سے لِپٹی بَرف تھی اُس پر شُعاعیں چاند کی
رِضوان دیکھا تھا وَہاں پھِرتا تھا شَرمایا ہوا