محمد اظہار الحق
محمد اظہار الحق
Muhammad Izhar Ul Haq
کالم

کوئی زاری سنی نہیں جاتی کوئی جرم معاف نہیں ہوتا

شاعری

کوئی زاری سنی نہیں جاتی کوئی جرم معاف نہیں ہوتا

اس دھرتی پر اس چھت کے تلے کوئی تیرے خلاف نہیں ہوتا


کبھی دمکیں سونے کے ذرے کبھی جھلکے مرغابی کا لہو

کئی پیاسے کب سے کھڑے ہیں مگر پانی شفاف نہیں ہوتا


کوئی زلف اُڑے تو بکھر جانا کوئی لب دہکیں تو ٹھٹھر جانا

کیا تزکیہ کرتے ہو دل کا یہ آئنہ صاف نہیں ہوتا


کئی موسم مجھ پر گزر گئے احرام کے ان دو کپڑوں میں

کبھی پتھر چوم نہیں سکتا کبھی اذنِ طواف نہیں ہوتا


یہاں تاج اس کے سر پر ہو گا جو تڑکے شہر میں داخل ہو

یہاں سایہ ہما کا نہیں پڑتا یہاں کوہ قاف نہیں ہوتا