محمد اظہار الحق
محمد اظہار الحق
Muhammad Izhar Ul Haq
کالم

ثمر پتھر کے ہیں پیڑوں کا سایہ ہی نہیں ہے

شاعری

ثمر پتھر کے ہیں پیڑوں کا سایہ ہی نہیں ہے

تو کیا کوئی پرندہ چہچہایا ہی نہیں ہے


میں ایسا باغ ہوں جس پر کبھی پانی نہ برسا

میں ایسا کھیت ہوں جو لہلہایا ہی نہیں ہے


اُتاری ہم نے سرما کی سنہری دھوپ دل میں

مگر اس سیرگہ میں کوئی آیا ہی نہیں ہے


جبین و چشم اور ماہ و ستارہ سب کو دیکھا

دیا سچ پوچھیے تو کوئی بھایا ہی نہیں ہے


ابھی سے کیوں طنابیں بحر و بر کی کھنچ گئی ہیں

ابھی تو واقعہ میں نے سنایا ہی نہیں ہے


ہزاروں ہیں کبھی تعداد کم ہونے نہیں دی

کہ ہم نے دوستوں کو آزمایا ہی نہیں ہے