محمد اظہار الحق
محمد اظہار الحق
Muhammad Izhar Ul Haq
کالم

سواری نہ خیمہ نہ پانی یہاں

شاعری

سواری نہ خیمہ نہ پانی یہاں

جبھی کی ہے نقل مکانی یہاں


شکستہ سی قبر اس کے پہلو میں تھی

وہ بستی کہ تھی جو پرانی یہاں


اگر چرخ اترا زمیں پر کبھی

بدل دوں گا اس کے معانی یہاں


چمن جھاڑ جھنکار سے اٹ گئے

عجب تو نے کی باغبانی یہاں


ہیں اندھے ترے دور میں کوتوال

کریں تو تلے قصہ خوانی یہاں


ترے عہد میں غرق سارے ہوئے

دخانی تھے یا بادبانی یہاں


بہت دیر تک روئے گا بادشہ

سناؤں گا ایسی کہانی یہاں


یہ کوٹھی ہے صاحب! ترے عشق کی

ملازم ہیں ہم خاندانی یہاں