لائبہ
اکتوبر 20, 2026
بلند پروازی کا شوق اچھا ہے۔ ہونا چاہیے! مگر مضبوط بال و پر کے ساتھ! پر کمزور ہوں تو نیچے گرنا یقینی ہے۔ ایسے میں عقل مندی یہ ہے کہ اُڑنے کے بجائے زمین پر چل لینا چاہیے!
ہم تمام مغربی پاکستانی دوست جب ڈھاکہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو کر واپس آئے تو ہمارے ہاتھوں میں‘ اس وقت کے لحاظ سے بہترین ڈگریاں تھیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کی ریٹنگ‘ عالمی سطح پر قابلِ رشک تھی۔ ہم میں سے اکثر کو برطانیہ اور امریکہ کی کسی بھی ٹاپ کلاس یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ مل سکتا تھا۔ مگر ہم میں سے اکثر لوئر مڈل کلاس سے تھے اور کچھ اس سے بھی نیچے!! اگر ہم ضد کرتے کہ ہم نے مزید پڑھنے کے لیے ولایت جانا ہے تو ہمارے والدین کو اپنی زرعی زمینیں اور جائیدادیں بیچنا پڑتیں۔ قرض لینا پڑتا۔ ہماری ماؤں اور بہنوں کو زیور گروی رکھوانے پڑتے۔ تب ہم مل بیٹھے اور ہم نے طے کیا کہ جو قسمت آزمائی بھی کرنی ہے اور جتنی بھی کرنی ہے‘ اپنے ملک میں ہی کریں گے۔ چنانچہ کچھ ہم میں سے سول سروس کے لیے مقابلے کے امتحان میں بیٹھ گئے۔ کچھ نے بینکاری کے شعبے کو اپنا لیا۔کچھ نجی شعبے میں چلے گئے۔ کچھ نے اپنا بزنس شروع کر دیا۔ کچھ محکمۂ تعلیم سے وابستہ ہو گئے۔ قدرت بھی کیا کیا کرشمے دکھاتی ہے۔ ہم میں سے نوّے‘ پچانوے فیصد دوست اپنے اپنے شعبے میں ٹاپ پر پہنچے۔ دوسرے ملکوں میں بھی ذمہ داریاں نبھائیں۔ قابلِ رشک کیریئر بنے۔ ہم نے ملک کی ترقی میں بھی اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ یہ سب کچھ حاصل کرنے کے لیے ہم میں سے کسی نے بھی اپنے والدین کو آزمائش میں نہیں ڈالا۔ انہوں نے قرض لیا نہ زمینیں اور مکان بیچے! سب کچھ اسی وطن سے ملا! سب کچھ اسی مٹی سے حاصل کیا۔ ہم تو خیر کس کھیت کی مولی تھے‘ علامہ اقبال سے لے کر ڈاکڑ عبدالسلام اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان تک‘ سب نے جتنی تعلیم ملک کے اندر ممکن تھی‘ ملک کے اندر ہی حاصل کی۔ ایک خاص مقام حاصل کرنے کے بعد یہ حضرات مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک گئے۔ بھارتی سائنسدان جو بھارت کے ایٹمی اسلحہ کا بابا ہے‘ ڈاکٹر عبدالکلام نے بھی تمام اعلیٰ تعلیم بھارت ہی میں حاصل کی۔
بیس سالہ بچی‘ لائبہ اعجاز نے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں خودکشی کر لی۔ اس دردناک کیس کی تفصیلات ہم سب جانتے ہیں۔ اس نے بی ایس اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی سے امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ وہ بلند پروازی کی خواہش رکھتی تھی۔ Ambitious تھی۔ آرزومندی میں کوئی برائی نہیں! سوچ اونچی ہی رکھنی چاہیے۔ ہر انسان کو اپنی تمناؤں کی پرورش کا حق حاصل ہے۔ مگر اس طالبہ کے ساتھ یہ ہوا کہ بدقسمتی نے اس پر تین اطراف سے حملہ کیا! ایسا حملہ جو افسوس! صد افسوس! جان لیوا ثابت ہوا! اس کی پہلی بدقسمتی یہ تھی کہ اس کا والد پڑھا لکھا نہ تھا۔ وہ شیر فروش تھا۔ اس کے دماغ میں یہ بات بالکل نہ آئی کہ وہ کسی تعلیم یافتہ دوست یا رشتہ دار سے مشورہ کرے کہ لائبہ کو باہر بھیجنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے۔ دوسری بدقسمتی لائبہ کی اس ملک کا ناکارہ نظام تعلیم تھا۔ اس کی یونیورسٹی میں ایک ایسا شعبہ ہونا چاہیے تھا جو طلبہ و طالبات کی بیرونِ ملک جانے کے لیے رہنمائی کرتا اور بھرپور مدد کرتا! اس میں کیا شک ہے کہ اس ملک کا نظام تعلیم فرسودہ‘ یک رُخا اور جدید سہولتوں سے کوسوں دور ہے۔ حیرت ہے کہ اس کے کسی استاد نے اس لائق طالبہ کی رہنمائی نہ کی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ لائبہ نے کسی سے مشورہ کیا ہی نہ ہو! یہ سوال بھی ذہن میں اٹھتا ہے کہ مغربی ممالک کی یونیورسٹیوں کی ہر تفصیل ان کی ویب سائٹ پر موجود ہوتی ہے تو لائبہ نے ویب سائٹس کی ہدایات پر عمل کیوں نہ کیا؟ اور ایک اجنبی پر کیوں بھروسہ کر لیا؟ لائبہ کی تیسری بدقسمتی اس ملک کی پولیس اور نظامِ عدل کا کھوکھلا پن ہے۔ جس بدمعاش نے لائبہ کو دھوکا دیا اور اس کی المناک موت کا سبب بنا‘ وہ ہسٹری شیٹر تھا۔ اس کا ماضی بھی غلیظ اور گھناؤنا تھا۔ اس سے پہلے بھی اس نے لوگوں کے ساتھ فراڈ کیے تھے۔ پولیس کو یہ سب کچھ معلوم تھا۔ اس وحشی جانور کی گردن میں پٹّہ ڈالنا چاہیے تھا اور اسے سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے تھا مگر وہ بے خوف ہو کر دندناتا پھر رہا تھا یہاں تک کہ اس نے ناگ بن کر ایک قابل بچی کی زندگی کو ڈس لیا۔
کاش! بیس سالہ لائبہ کو کوئی سمجھاتا کہ اس کے والدین میں اتنی سکت نہیں کہ وہ اسے‘ اس وقت بیرون ملک بھیج سکیں! کوئی اس کی رہنمائی کرتا کہ مزید تعلیم اسی ملک میں حاصل کرے اور اس وقت کا انتظار کرے جب اسے سکالر شپ ملے گا۔ اس کالم نگار کی معلومات کے مطابق اٹامک انرجی کمیشن جیسے قومی ادارے ایسے لائق طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اپنے سایۂ عاطفت میں لے لینے کے بعد اعلیٰ تعلیم کا بہترین انتظام کرتے ہیں! قیاس یہی ہے کہ لائبہ کو کوئی ایسا شخص نہ میسر آیا جو درست رہنمائی کرتا! اس کے غیر تعلیم یافتہ والدین نے اسے باہر کی یونیورسٹی میں بھیجنے کے لیے وہی راستہ اختیار کیا جو اَن پڑھ والدین بیٹوں کو یورپ بھیجنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور عمر بھر کی کمائی دھوکے باز ایجنٹوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔
ایک بات یقینی ہے۔ لائبہ جیسی بچیوں کی زندگی محفوظ کرنے کے لیے متعلقہ حلقے کچھ بھی نہیں کریں گے۔ یونیورسٹیوں میں طلبہ و طالبات کی رہنمائی کے لیے نئے شعبے قائم نہیں ہوں گے۔ ایچ ای سی جیسے سفید ہاتھی اس معاملے میں ہرگز ممد ثابت نہیں ہوں گے۔ حکومت جو بھی ہو گی جس کی بھی ہو گی‘ اس ضمن میں کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔ حکومتوں کی اولین ترجیح اپنے اقتدار کا دوام ہے۔ کابینہ پر نظر دوڑائیے۔ سطحیت کا ایک سے بڑھ کر ایک نمونہ نظر آئے گا۔ ترکیہ کی کابینہ میں اس وقت سات وزرا پی ایچ ڈی ہیں۔ بھارت کی کابینہ میں بھی سات وزیر پی ایچ ڈی ہیں۔ سنگاپور کی کابینہ میں تین وزیر پی ایچ ڈی ہیں اور باقی میں سے زیادہ تر ہارورڈ‘ کیمبرج اور نیشنل یونیورسٹی جیسے اداروں سے ایم بی اے اور ایم پی اے ہیں۔ جنوبی کوریا کے وزیر خزانہ نے امریکہ سے اقتصادیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ سائنس کا وزیر امریکہ سے ایم بی اے اور کوریا سے پی ایچ ڈی ہے۔ وزیر خارجہ عالمی سیاسیات میں پی ایچ ڈی ہے۔ وزیر زراعت بھی‘ جو ایک خاتون ہے‘ پی ایچ ڈی ہے۔ باقی وزرا کی تعلیم چیک نہیں کی۔ پاکستان کی کابینہ میں صرف ڈاکٹر مصدق ملک پی ایچ ڈی ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی صحت کے انتظامی امور اور پالیسی میں کی ہے مگر وزارت انہیں موسمیاتی تبدیلی کی دی گئی ہے۔ اگر کوئی اور وزیر بھی پی ایچ ڈی ہے تو کم از کم اس کالم نگار کو نہیں معلوم! اور ہاں! جس مجرم نے لائبہ کے ساتھ گھناؤنا فراڈ کیا ہے اور اس کی موت کا ذمہ دار ہے‘ وہ اس وقت تو قانون کی تحویل میں ہے۔ مگر آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی کہ وہ موت کی سزا سے بچ جائے گا۔ کچھ عرصہ جیل میں رہے گا۔ پھر آزاد ہو جائے گا۔ کسی اور لائبہ کی تلاش میں!!
ہم تمام مغربی پاکستانی دوست جب ڈھاکہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو کر واپس آئے تو ہمارے ہاتھوں میں‘ اس وقت کے لحاظ سے بہترین ڈگریاں تھیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کی ریٹنگ‘ عالمی سطح پر قابلِ رشک تھی۔ ہم میں سے اکثر کو برطانیہ اور امریکہ کی کسی بھی ٹاپ کلاس یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ مل سکتا تھا۔ مگر ہم میں سے اکثر لوئر مڈل کلاس سے تھے اور کچھ اس سے بھی نیچے!! اگر ہم ضد کرتے کہ ہم نے مزید پڑھنے کے لیے ولایت جانا ہے تو ہمارے والدین کو اپنی زرعی زمینیں اور جائیدادیں بیچنا پڑتیں۔ قرض لینا پڑتا۔ ہماری ماؤں اور بہنوں کو زیور گروی رکھوانے پڑتے۔ تب ہم مل بیٹھے اور ہم نے طے کیا کہ جو قسمت آزمائی بھی کرنی ہے اور جتنی بھی کرنی ہے‘ اپنے ملک میں ہی کریں گے۔ چنانچہ کچھ ہم میں سے سول سروس کے لیے مقابلے کے امتحان میں بیٹھ گئے۔ کچھ نے بینکاری کے شعبے کو اپنا لیا۔کچھ نجی شعبے میں چلے گئے۔ کچھ نے اپنا بزنس شروع کر دیا۔ کچھ محکمۂ تعلیم سے وابستہ ہو گئے۔ قدرت بھی کیا کیا کرشمے دکھاتی ہے۔ ہم میں سے نوّے‘ پچانوے فیصد دوست اپنے اپنے شعبے میں ٹاپ پر پہنچے۔ دوسرے ملکوں میں بھی ذمہ داریاں نبھائیں۔ قابلِ رشک کیریئر بنے۔ ہم نے ملک کی ترقی میں بھی اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ یہ سب کچھ حاصل کرنے کے لیے ہم میں سے کسی نے بھی اپنے والدین کو آزمائش میں نہیں ڈالا۔ انہوں نے قرض لیا نہ زمینیں اور مکان بیچے! سب کچھ اسی وطن سے ملا! سب کچھ اسی مٹی سے حاصل کیا۔ ہم تو خیر کس کھیت کی مولی تھے‘ علامہ اقبال سے لے کر ڈاکڑ عبدالسلام اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان تک‘ سب نے جتنی تعلیم ملک کے اندر ممکن تھی‘ ملک کے اندر ہی حاصل کی۔ ایک خاص مقام حاصل کرنے کے بعد یہ حضرات مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک گئے۔ بھارتی سائنسدان جو بھارت کے ایٹمی اسلحہ کا بابا ہے‘ ڈاکٹر عبدالکلام نے بھی تمام اعلیٰ تعلیم بھارت ہی میں حاصل کی۔
بیس سالہ بچی‘ لائبہ اعجاز نے پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں خودکشی کر لی۔ اس دردناک کیس کی تفصیلات ہم سب جانتے ہیں۔ اس نے بی ایس اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی سے امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ وہ بلند پروازی کی خواہش رکھتی تھی۔ Ambitious تھی۔ آرزومندی میں کوئی برائی نہیں! سوچ اونچی ہی رکھنی چاہیے۔ ہر انسان کو اپنی تمناؤں کی پرورش کا حق حاصل ہے۔ مگر اس طالبہ کے ساتھ یہ ہوا کہ بدقسمتی نے اس پر تین اطراف سے حملہ کیا! ایسا حملہ جو افسوس! صد افسوس! جان لیوا ثابت ہوا! اس کی پہلی بدقسمتی یہ تھی کہ اس کا والد پڑھا لکھا نہ تھا۔ وہ شیر فروش تھا۔ اس کے دماغ میں یہ بات بالکل نہ آئی کہ وہ کسی تعلیم یافتہ دوست یا رشتہ دار سے مشورہ کرے کہ لائبہ کو باہر بھیجنے کے لیے اسے کیا کرنا چاہیے۔ دوسری بدقسمتی لائبہ کی اس ملک کا ناکارہ نظام تعلیم تھا۔ اس کی یونیورسٹی میں ایک ایسا شعبہ ہونا چاہیے تھا جو طلبہ و طالبات کی بیرونِ ملک جانے کے لیے رہنمائی کرتا اور بھرپور مدد کرتا! اس میں کیا شک ہے کہ اس ملک کا نظام تعلیم فرسودہ‘ یک رُخا اور جدید سہولتوں سے کوسوں دور ہے۔ حیرت ہے کہ اس کے کسی استاد نے اس لائق طالبہ کی رہنمائی نہ کی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ لائبہ نے کسی سے مشورہ کیا ہی نہ ہو! یہ سوال بھی ذہن میں اٹھتا ہے کہ مغربی ممالک کی یونیورسٹیوں کی ہر تفصیل ان کی ویب سائٹ پر موجود ہوتی ہے تو لائبہ نے ویب سائٹس کی ہدایات پر عمل کیوں نہ کیا؟ اور ایک اجنبی پر کیوں بھروسہ کر لیا؟ لائبہ کی تیسری بدقسمتی اس ملک کی پولیس اور نظامِ عدل کا کھوکھلا پن ہے۔ جس بدمعاش نے لائبہ کو دھوکا دیا اور اس کی المناک موت کا سبب بنا‘ وہ ہسٹری شیٹر تھا۔ اس کا ماضی بھی غلیظ اور گھناؤنا تھا۔ اس سے پہلے بھی اس نے لوگوں کے ساتھ فراڈ کیے تھے۔ پولیس کو یہ سب کچھ معلوم تھا۔ اس وحشی جانور کی گردن میں پٹّہ ڈالنا چاہیے تھا اور اسے سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے تھا مگر وہ بے خوف ہو کر دندناتا پھر رہا تھا یہاں تک کہ اس نے ناگ بن کر ایک قابل بچی کی زندگی کو ڈس لیا۔
کاش! بیس سالہ لائبہ کو کوئی سمجھاتا کہ اس کے والدین میں اتنی سکت نہیں کہ وہ اسے‘ اس وقت بیرون ملک بھیج سکیں! کوئی اس کی رہنمائی کرتا کہ مزید تعلیم اسی ملک میں حاصل کرے اور اس وقت کا انتظار کرے جب اسے سکالر شپ ملے گا۔ اس کالم نگار کی معلومات کے مطابق اٹامک انرجی کمیشن جیسے قومی ادارے ایسے لائق طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اپنے سایۂ عاطفت میں لے لینے کے بعد اعلیٰ تعلیم کا بہترین انتظام کرتے ہیں! قیاس یہی ہے کہ لائبہ کو کوئی ایسا شخص نہ میسر آیا جو درست رہنمائی کرتا! اس کے غیر تعلیم یافتہ والدین نے اسے باہر کی یونیورسٹی میں بھیجنے کے لیے وہی راستہ اختیار کیا جو اَن پڑھ والدین بیٹوں کو یورپ بھیجنے کے لیے استعمال کرتے ہیں اور عمر بھر کی کمائی دھوکے باز ایجنٹوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔
ایک بات یقینی ہے۔ لائبہ جیسی بچیوں کی زندگی محفوظ کرنے کے لیے متعلقہ حلقے کچھ بھی نہیں کریں گے۔ یونیورسٹیوں میں طلبہ و طالبات کی رہنمائی کے لیے نئے شعبے قائم نہیں ہوں گے۔ ایچ ای سی جیسے سفید ہاتھی اس معاملے میں ہرگز ممد ثابت نہیں ہوں گے۔ حکومت جو بھی ہو گی جس کی بھی ہو گی‘ اس ضمن میں کوئی قدم نہیں اٹھائے گی۔ حکومتوں کی اولین ترجیح اپنے اقتدار کا دوام ہے۔ کابینہ پر نظر دوڑائیے۔ سطحیت کا ایک سے بڑھ کر ایک نمونہ نظر آئے گا۔ ترکیہ کی کابینہ میں اس وقت سات وزرا پی ایچ ڈی ہیں۔ بھارت کی کابینہ میں بھی سات وزیر پی ایچ ڈی ہیں۔ سنگاپور کی کابینہ میں تین وزیر پی ایچ ڈی ہیں اور باقی میں سے زیادہ تر ہارورڈ‘ کیمبرج اور نیشنل یونیورسٹی جیسے اداروں سے ایم بی اے اور ایم پی اے ہیں۔ جنوبی کوریا کے وزیر خزانہ نے امریکہ سے اقتصادیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ سائنس کا وزیر امریکہ سے ایم بی اے اور کوریا سے پی ایچ ڈی ہے۔ وزیر خارجہ عالمی سیاسیات میں پی ایچ ڈی ہے۔ وزیر زراعت بھی‘ جو ایک خاتون ہے‘ پی ایچ ڈی ہے۔ باقی وزرا کی تعلیم چیک نہیں کی۔ پاکستان کی کابینہ میں صرف ڈاکٹر مصدق ملک پی ایچ ڈی ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی صحت کے انتظامی امور اور پالیسی میں کی ہے مگر وزارت انہیں موسمیاتی تبدیلی کی دی گئی ہے۔ اگر کوئی اور وزیر بھی پی ایچ ڈی ہے تو کم از کم اس کالم نگار کو نہیں معلوم! اور ہاں! جس مجرم نے لائبہ کے ساتھ گھناؤنا فراڈ کیا ہے اور اس کی موت کا ذمہ دار ہے‘ وہ اس وقت تو قانون کی تحویل میں ہے۔ مگر آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی کہ وہ موت کی سزا سے بچ جائے گا۔ کچھ عرصہ جیل میں رہے گا۔ پھر آزاد ہو جائے گا۔ کسی اور لائبہ کی تلاش میں!!