محمد اظہار الحق
محمد اظہار الحق
Muhammad Izhar Ul Haq
کالم

’’یہ بھی وہی ہے‘‘

کالم
میں نے اسے ایک سیرگاہ میں دیکھا! وہ سیر کر رہا تھا۔ چند قدم پیچھے اس کا گارڈ چل رہا تھا!
سیرگاہ میں اور بھی لوگ تھے۔ وہ جہاں سے گزرتا‘ لوگ ناک سکیڑ لیتے۔ کیا وقت تھا جب خلقِ خدا اسے نجات دہندہ سمجھ بیٹھی تھی۔ کیا زمانہ تھا جب لوگ اسے مسیحا کے طور پر دیکھتے تھے۔ پھر اس کا اصلی چہرہ سامنے آیا تو ساری امیدیں‘ ساری عقیدتیں‘ ساری خوش گمانیاں ہوا میں یوں تحلیل ہوئیں جیسے دھوپ نکلنے پر گھاس کے پتوں سے شبنم غائب ہو تی ہے! اصلیت واضح ہوئی تو اُسی خلقِ خدا نے کہا ''یہ بھی وہی ہے‘‘!
تین عورتیں رات کے وقت گھر کے اُس کمرے میں بیٹھی تھیں جو گلی کے ساتھ تھا۔ دِیا جل رہا تھا۔ وہ کشیدہ کاری میں مصروف تھیں! اُس سمے بادشاہ بھی بھیس بدل کر‘ وہاں سے گزر رہا تھا۔ دروازے کی درزوں سے روشنی چھن چھن کر باہر آ رہی تھی۔ بادشاہ کو تجسس ہوا۔ وہ درز سے آنکھ لگا کر کھڑا ہو گیا۔ اب وہ دیکھ رہا تھا اور سُن بھی رہا تھا۔ ایک عورت نے دوسری عورتوں سے کہا ''گیا کہ گیا‘‘! دوسری عورت بولی ''اس میں وہ جو نہیں ہے‘‘۔ اب تیسری بولی ''وہ ہوتا تو جاتا ہی کیوں!‘‘۔ بادشاہ کو یہ باتیں عجیب لگیں اور خطرناک بھی! تاریخ کے ہر دور میں اہلِ اقتدار کو ہر طرف سے سازشوں کی بُو آتی ہے۔ کسی کی گفتگو ہو یا نقل و حرکت‘ انہیں یوں لگتا ہے کہ ان کے اقتدار کو خطرہ ہے۔ عدم تحفظ کا احساس حکمرانوں کو نفسیاتی مریض بنا دیتا ہے۔ وہ دھونس اور دھاندلی پر اتر آتے ہیں۔ جس سے (حقیقی یا خیالی) خطرہ محسوس ہو اسے قتل کرا دیتے ہیں یا زنداں میں محبوس کر دیتے ہیں! اس بادشاہ کو بھی یہ لگا کہ ہو نہ ہو اس پُراسرار گفتگو کا ایک ہی مطلب ہے کہ یہ عورتیں اس کی حکومت کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔ اس نے تینوں عورتوں کو دوسرے دن صبح صبح دربار میں بلا لیا اور پوچھا کہ یہ جو باتیں تم کر رہی تھیں ''گیا کہ گیا‘‘ اور ''اس میں وہ جو نہیں ہے‘‘ اور ''وہ ہوتا تو جاتا ہی کیوں‘‘ تو ان باتوں سے تمہاری کیا مراد ہے؟ تینوں عورتوں نے بادشاہ کو دیکھا‘ پھر ایک دوسرے کو دیکھا اور مسکرائیں۔ ایک نے کہا ''یہ بھی وہی ہے‘‘۔ دوسری نے کہا ''مگر اس کے وہ تو نہیں ہیں‘‘۔ تیسری نے کہا ''اس کے بغیر بھی ہوتے ہیں!‘‘۔ آپس کی اس گفتگو کے بعد وہ پھر بادشاہ کی طرف دیکھ کر مسکرائیں اور اس کے بعد اعتماد اور بے خوفی کے ساتھ کھڑی رہیں! تازہ ترین گفتگو سن کر بادشاہ کا شک یقین میں بدل گیا کہ یہ اس کی دشمن ہیں اور ضرور کوئی بڑا خطرہ پیش آنے والا ہے۔ اب اس نے عورتوں کو دھمکی دی کہ سب کچھ صاف صاف بتاؤ ورنہ تینوں کے سر قلم کر دیے جائیں گے! یہ سن کر تینوں عورتوں میں جو سب سے بڑی تھی‘ اس نے بادشاہ کو مخاطب کیا اور بتایا کہ جب انہوں نے کہا ''گیا کہ گیا‘‘ تو اس کا مطلب تھا کہ دِیا بس بجھا ہی بجھا! دوسری نے کہا ''اس میں وہ جو نہیں ہے‘‘ تو اس کا مطلب ہے کہ اس میں تیل جو نہیں ہے! آخر میں کہا گیا ''وہ ہوتا تو جاتا ہی کیوں‘‘ تو اس کا مطلب ہے کہ تیل اس میں ہوتا تو بجھتا ہی کیوں؟ بادشاہ حیران ہوا اور ساتھ ہی بے یقینی اور خوف کی دلدل میں مزید دھنس گیا۔ پھر بادشاہ نے پوچھا: یہاں دربار میں آکر تم نے مجھے دیکھا اور کہا ''یہ بھی وہی ہے‘‘ اور پھر اس کے بعد بھی پُراسرار فقرے بولے‘ ان کامطلب کیا تھا؟ عورتوں نے بتایا کہ جب ان میں سے ایک نے بادشاہ کی بات سن کر کہا کہ ''یہ بھی وہی ہے‘‘ تو اس کا مطلب تھا یہ بھی بَیل ہی ہے۔ دوسری عورت نے کہا ''اس کے وہ تو نہیں ہیں‘‘ تو اس کا مطلب تھا کہ اس کے سینگ نہیں ہیں تو بیل کس طرح ہو سکتا ہے۔ تیسری عورت نے کہا تھا ''اس کے بغیر بھی ہوتے ہیں‘‘۔ یعنی سینگوں کے بغیر بھی بیل ہوتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ جن سابق حکمرانوں یا سابق طاقتور منصب داروں سے خلقِ خدا نفرت کرتی ہے‘ ان میں اتنی عقل ہی نہیں ہوتی کہ نفرت کا احساس کر سکیں! یہ لوگ بے حس ہوتے ہیں اور برخود غلط بھی! جنرل نیازی آخر وقت تک خود کو ہیرو سمجھتا رہا۔ روایت ہے کہ جب یحییٰ خان نے لوگوں کے نعرے سنے تو پوچھنے لگا لوگ آخر اسے کیوں ناپسند کرتے ہیں؟ مارچ 2013ء میں پرویز مشرف کراچی کے ہوائی اڈے پر اترے تو ان کا خیال تھا کہ لاکھوں لوگ استقبال کریں گے مگر چند سو سے زیادہ نہ تھے۔ زمینی حقیقتوں سے لاعلمی اور اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنا ان ''سابقون‘‘ کو غلط فہمی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ چند مرحوم جرنیلوں کی اولاد کو بھی کوئی اندازہ نہیں کہ یہ مرحومین کیا کیا ظلم کر کے گئے ہیں‘ انہوں نے کس طرح دہشت گردی کے بیج بوئے جن کا کڑوا زہریلا پھل آج قوم گلے سے اتار رہی ہے۔ ایک کا دور کس طرح مشرقی پاکستان کی افسوسناک علیحدگی پر منتج ہوا۔ ایک اور نے کس طرح سیاسی جماعتوں کے خلاف سازشیں کیں اور فیصلے کیے کہ فلاں جماعت کو حکومت میں نہیں آنے دینا۔ جب بھی ان کی برسیاں آتی ہیں‘ ان کی اولاد اخباروں میں ان کے کارنامے گنواتی ہے اور ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ یہ نجات دہندہ تھے۔ مسیحا تھے۔ مصلح تھے۔ محسن تھے۔ خدا ان جرنیوں کی اولاد کو لمبی زندگیاں عطا کرے‘ اپنے اپنے والد کی محبت انہیں زمینی حقیقتوں کو قبول نہیں کرنے دیتی۔ ان سے زیادہ اخلاقی جرأت تو ایک سیاستدان کے فرزند‘خواجہ آصف نے دکھائی کہ سرِ عام قوم سے معافی کا طلبگار ہوا۔ آج کے حکمران بھی زمینی حقیقتوں سے دور ہیں اور یہ دوری لاکھوں نوری برسوں پر مشتمل ہے۔ دونوں حکمران خاندانوں کو علم ہے نہ احساس کہ ان کے پرستانی‘ طلسمی اور ناقابلِ یقین معیارِ زندگی سے عوام کس درجہ متنفر ہیں۔ انہیں یہ بھی کوئی نہیں بتاتا کہ ان کا طرزِ زندگی جتنا شاہانہ ہو گا‘ عوام اتنا ہی ان سے دور ہوں گے۔ عمران خان کی حد سے بڑھی ہوئی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ حکمران خاندانوں کی پُرتعیش‘ پُرآسائش اور جَیٹ سَیٹ طرزِ زندگی بھی ہے۔ عمران خان اپنے دورِ اقتدار میں ہیلی کاپٹر سے دفتر آتے جاتے رہے۔ یہ یقینا غلط تھا۔ مگر اس غلطی کا بارہ ارب کے جہاز کی خریداری سے کیا موازنہ ہے اور آئے دن سپیشل جہازوں سے سنگاپور‘ دبئی‘ لندن‘ جنیوا جانے سے کیا مقابلہ ہے! جب آپ اپنے بچوں کی شادیوں پر اتنی نمائش‘ اتنا اسراف اور اتنی تبذیر کریں گے تو غریب عوام کا دل تو جلے گا اور یہ امید شکنی‘ یہ درماندگی‘ یہ بے چارگی انہیں عمران خان کی طرف دھکیلے گی!
سیر کرنے والے سابق بطلِ جلیل کو بھی یحییٰ خان‘ جنرل نیازی اور پرویز مشرف کی طرح بالکل اندازہ نہیں ہو گا کہ لوگ باگ اسے دیکھ کر ناک سکوڑتے ہیں۔ انہیں بہت کچھ یاد آ جاتا ہے۔ ان کی آنکھوں کے سامنے بہت سے گزشتہ مناظر فلم کی طرح چلنے لگتے ہیں۔ اگر ان حضرات کو یہ معلوم ہو یا اس کا احساس ہو تو وہ شاید باہر ہی نہ نکلیں۔ مگر اپنا محاسبہ کرنا دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ہے۔ ہاں ایک بات یقینی ہے! مستقبل ہمیں بے شمار مرتبہ یہ کہنے کا موقع دے گا کہ ''یہ بھی وہی ہے‘‘! اور ہم جب بھی پکار اٹھیں گے کہ ''یہ تو وہی ہے‘‘ ہم ناامیدی کی دلدل میں پہلے سے زیادہ دھنسیں گے!