محمد اظہار الحق
محمد اظہار الحق
Muhammad Izhar Ul Haq
کالم

لائبہ

کالم
بلند پروازی کا شوق اچھا ہے۔ ہونا چاہیے! مگر مضبوط بال و پر کے ساتھ! پر کمزور ہوں تو نیچے گرنا یقینی ہے۔ ایسے میں عقل مندی یہ ہے کہ اُڑنے کے بجائے زمین پر چل لینا چاہیے! ہم تمام مغربی پاکستانی دوست جب ڈھاکہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو کر واپس آئے تو ہمارے ہاتھوں میں‘ اس وقت کے لحاظ سے بہترین ڈگریاں تھیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کی ریٹنگ‘ عالمی سطح پر قابلِ رشک تھی۔ ہم میں سے اکثر کو برطانیہ اور امریکہ کی کسی بھی ٹاپ کلاس یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ مل سکتا تھا۔ مگر ہم میں سے اکثر لوئر مڈل کلاس سے تھے اور کچھ اس سے بھی نیچے!! اگر ہم ضد کرتے کہ ہم نے مزید پڑھنے کے لیے ولایت جانا ہے تو ہمارے والدین کو اپنی زرعی زمینیں اور جائیدادیں بیچنا پڑتیں۔ قرض لینا پڑتا۔ ہماری ماؤں اور بہنوں کو زیور گروی رکھوانے پڑتے۔ تب ہم مل بیٹھے اور ہم نے طے کیا کہ جو قسمت آزمائی بھی کرنی ہے اور جتنی بھی کرنی ہ… بلند پروازی کا شوق اچھا ہے۔ ہونا چاہیے! مگر مضبوط بال و پر کے ساتھ! پر کمزور ہوں تو نیچے گرنا یقینی ہے۔ ایسے میں عقل مندی یہ ہے کہ اُڑنے کے بجائے زمین پر چل لینا چاہیے! ہم تمام مغربی پاکستانی دوست جب ڈھاکہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو کر واپس آئے تو ہمارے ہاتھوں میں‘ اس وقت کے لحاظ سے بہترین ڈگریاں تھیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کی ریٹنگ‘ عالمی سطح پر قابلِ رشک تھی۔ ہم میں سے اکثر کو برطانیہ اور امریکہ کی…
کالم
مکان ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ انہی مکانوں میں ایک خاتون اپنے کنبے کے ساتھ رہتی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ! سی ایس ایس کرنے کے بعد اچھے باعزت منصب پر فائز۔ کبھی کبھی رات کو اس کے گھر سے چیخوں کی آواز آتی تھی۔ جیسے کوئی کسی مصیبت میں گرفتار ہو۔ ساتھ اونچی آواز میں گالیوں کی آواز آتی۔ یہ چیخیں اس خاتون کی تھیں اور گالیاں اس کا شوہر نکالتا۔ اسے اعتراض تھا کہ فون کیوں آتے ہیں؟ کل دفتر دیر تک کیوں بیٹھی رہیں؟ فائلیں گھر کیوں لاتی ہو؟ پی اے گھر کیوں آتا ہے؟ ڈرائیور سے کیا بات کر رہی تھیں؟ آپ کا کیا خیال ہے ایسا کیوں ہو رہا تھا؟ اس لیے کہ شوہر نیم تعلیم یافتہ تھا۔ معمولی سا کاروبار کرتا تھا۔ اس کا اٹھنا بیٹھنا جن لوگوں کے ساتھ تھا ان میں کوئی دکاندار تھا۔ کوئی کار ڈیلر تھا۔ کوئی ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ دکاندار‘ یا کار ڈیلر‘ یا ٹیکسی ڈرائیور ہونا کوئی جرم نہیں مگر اسے یہ حق نہیں دیا جا سکتا… مکان ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ انہی مکانوں میں ایک خاتون اپنے کنبے کے ساتھ رہتی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ! سی ایس ایس کرنے کے بعد اچھے باعزت منصب پر فائز۔ کبھی کبھی رات کو اس کے گھر سے چیخوں کی آواز آتی تھی۔ جیسے کوئی کسی مصیبت میں گرفتار ہو۔ ساتھ اونچی آواز میں گالیوں کی آواز آتی۔ یہ چیخیں اس خاتون کی تھیں اور گالیاں اس کا شوہر نکالتا۔ اسے اعتراض تھا کہ فون کیوں آتے ہیں؟ کل دفتر دیر تک …

بسنت، لندن اور مری

کالم
بارات روانہ ہونی تھی۔ عجیب بات یہ تھی کہ تمام باراتی نوجوان تھے۔ نوجوانوں کی ضد تھی کہ وہ کافی ہیں اور لڑکی کو رخصت کرا کے لے آئیں گے۔ کسی نے پند دی کہ بیوقوفوں والی ضد نہ کرو۔ کسی عمر رسیدہ‘ باراں دیدہ‘ سرد و گرم چشیدہ‘ چِٹ داڑھیے کو ساتھ لے جاؤ۔ مانا کہ خون گرم ہے مگر گرم خون تجربے کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ بوڑھا آدمی مصیبت میں کام آئے گا۔ نوجوانوں نے بادل نخواستہ بات مان لی اور ایک بزرگ کو ساتھ لے لیا۔ لڑکی والوں کے ہاں پہنچے تو انہوں نے لڑکی کی رخصتی کیلئے شرط رکھ دی کہ باراتی دس بکرے کھائیں گے تو لڑکی ساتھ بھیجیں گے ورنہ نہیں! نوجوانوں کے ہوش اُڑ گئے۔ ساری خود اعتمادی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ باراتیوں کی جو تعداد تھی اس کیلئے دس بکرے کھانا ناممکن نظر آرہا تھا۔ تب ان میں سے ایک نے بزرگ باراتی سے پوچھا کہ چاچا جی! کوئی تدبیر سوچیے۔ بوڑھے چاچے نے سوچ کر کہا کہ ٹھیک ہے۔ شرط منظور کر لو م… بارات روانہ ہونی تھی۔ عجیب بات یہ تھی کہ تمام باراتی نوجوان تھے۔ نوجوانوں کی ضد تھی کہ وہ کافی ہیں اور لڑکی کو رخصت کرا کے لے آئیں گے۔ کسی نے پند دی کہ بیوقوفوں والی ضد نہ کرو۔ کسی عمر رسیدہ‘ باراں دیدہ‘ سرد و گرم چشیدہ‘ چِٹ داڑھیے کو ساتھ لے جاؤ۔ مانا کہ خون گرم ہے مگر گرم خون تجربے کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ بوڑھا آدمی مصیبت میں کام آئے گا۔ نوجوانوں نے بادل نخواستہ بات مان لی اور ایک بزرگ کو س…
کالم
چوتھا بڑا مسئلہ جو مصیبت بن کر ہمارے ساتھ چپکا ہوا ہے‘ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ ہم بکری کی حفاظت کیلئے شیر کو بھرتی کرتے ہیں۔ چھیچھڑوں پر بلی کو پہریدار بناتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کی کئی خوفناک مثالیں ہیں۔ بیوروکریسی کی اصلاحات کیلئے ہر حکومت میں کمیشن بنتے رہے ہیں۔ تقریباً ہر بار ڈاکٹر عشرت حسین جیسے شخص کو کمیشن کا چیئرمین بنایا جاتا ہے۔ وہ بیورو کریسی سے نکل گئے مگر بیوروکریسی ان کے اندر سے نہ نکلی۔ جیسے ایک نیم سیاسی‘ نیم مذہبی جماعت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بندہ اس میں سے نکل جاتا ہے مگر وہ بندے میں سے نہیں نکلتی۔ میرے جیسا شخص گاؤں سے نکلتا ہے مگر گاؤں اس میں سے نہیں نکلتا۔ ڈاکٹر عشرت حسین واقعی قابل شخص ہیں‘ مگر ہیں اصلاً بیورو کریٹ!! چینی کا مسئلہ دیکھ لیجیے۔ صرف شوگر مافیا کہنے سے مسئلہ نہیں حل ہو گا۔ ہر سال یہ کھیل کھیلا جاتا ہے۔ پہلے چینی برآمد ہوتی ہے‘ پھر درآمد کی جاتی ہے۔ چینی… چوتھا بڑا مسئلہ جو مصیبت بن کر ہمارے ساتھ چپکا ہوا ہے‘ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ ہم بکری کی حفاظت کیلئے شیر کو بھرتی کرتے ہیں۔ چھیچھڑوں پر بلی کو پہریدار بناتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کی کئی خوفناک مثالیں ہیں۔ بیوروکریسی کی اصلاحات کیلئے ہر حکومت میں کمیشن بنتے رہے ہیں۔ تقریباً ہر بار ڈاکٹر عشرت حسین جیسے شخص کو کمیشن کا چیئرمین بنایا جاتا ہے۔ وہ بیورو کریسی سے نکل گئے مگر بیوروکریسی ان کے اندر سے نہ نکلی۔ ج…
کالم
مسئلہ یہ نہیں کہ کس کی حکومت ہے اور کس کی حکومت ہو گی؟ مسئلہ یہ نہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے یا پیپلز پارٹی کی یا عمران خان کی! یا کسی اور کی! مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جن مصیبتوں میں پھنسا ہے اور جس دلدل میں گلے تک دھنس چکا ہے‘ اُن مصیبتوں سے نکالنا ان میں سے کسی کے بس کی بات نہیں! اس لیے کہ ان میں سے کسی کو اُن مصیبتوں کا ادراک ہی نہیں! ادراک کیسے ہو! ادراک اُن حکمرانوں کو ہوتا ہے جنہیں قوم کے غم میں راتوں کو نیند نہیں آتی! جو بے لوث ہوتے ہیں۔ بے غرض ہوتے ہیں۔ جو اقربا پرور نہیں ہوتے۔ جو دوست نوازی (Cronyism) سے بچتے ہیں۔ جو مہاتیر کی طرح ہوتے ہیں۔ جو سنگاپور کے لی کی طرح ہوتے ہیں‘ جن کی نگاہیں دور تک دیکھتی ہیں۔ جو پچاس‘ سو سال آگے دیکھتے ہیں۔ لیڈر شپ قربانی مانگتی ہے۔ ہمیں قربانی دینے والا لیڈر قائداعظم کے بعد کوئی نہیں ملا۔ کیا جذبہ تھا اور کیا اعصاب تھے! جان لیوا مرض کو چھپا کر رک… مسئلہ یہ نہیں کہ کس کی حکومت ہے اور کس کی حکومت ہو گی؟ مسئلہ یہ نہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے یا پیپلز پارٹی کی یا عمران خان کی! یا کسی اور کی! مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جن مصیبتوں میں پھنسا ہے اور جس دلدل میں گلے تک دھنس چکا ہے‘ اُن مصیبتوں سے نکالنا ان میں سے کسی کے بس کی بات نہیں! اس لیے کہ ان میں سے کسی کو اُن مصیبتوں کا ادراک ہی نہیں! ادراک کیسے ہو! ادراک اُن حکمرانوں کو ہوتا ہے جنہیں قوم کے …
کالم
عجیب بہادر شخص ہے۔ اسمبلی کی ''جتوائی‘‘ ہوئی سیٹ ٹھکرا دی۔ دھرنے دیے جا رہا ہے۔ جلوس نکالے جا رہا ہے۔ پٹرول کی قیمت سے لیوی کا جگا ٹیکس ہٹوانے کیلئے‘ بجلی کی قیمت میں ریلیف کیلئے۔ جنون نیا نہیں‘ پرانا ہے۔ کبھی کراچی الیکٹرک کے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوا۔ کبھی پانی کے نکاس اور واٹر سپلائی کیلئے لڑا۔ عجیب شخص ہے۔ اپنے ہم چشموں سے یکسر مختلف!! ٹوپی ٹیڑھی کر کے اوڑھی نہ اپنے علاقے میں خواتین ووٹروں کی حوصلہ شکنی کی۔ مغربی تعلیم کے خلاف اور مدرسہ کی تعلیم کے حق میں تقریر کی‘ نہ بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکہ کینیڈا بھیجا۔ اولاد کو دوسری سیاسی جماعتوں میں بھی پلانٹ نہ کیا۔ کسی سکہ رائج الوقت کو ہوا میں اچھالا نہ اس سے خریداری کی۔ نہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنائیں۔ ملک کا واحد سیاستدان ہے جو عوام کیلئے لڑ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ پٹرول لیوی اور آئی پی پیز کے خلاف کیسے بول سکتی ہیں جبکہ … عجیب بہادر شخص ہے۔ اسمبلی کی ''جتوائی‘‘ ہوئی سیٹ ٹھکرا دی۔ دھرنے دیے جا رہا ہے۔ جلوس نکالے جا رہا ہے۔ پٹرول کی قیمت سے لیوی کا جگا ٹیکس ہٹوانے کیلئے‘ بجلی کی قیمت میں ریلیف کیلئے۔ جنون نیا نہیں‘ پرانا ہے۔ کبھی کراچی الیکٹرک کے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوا۔ کبھی پانی کے نکاس اور واٹر سپلائی کیلئے لڑا۔ عجیب شخص ہے۔ اپنے ہم چشموں سے یکسر مختلف!! ٹوپی ٹیڑھی کر کے اوڑھی نہ اپنے علاقے میں خواتین ووٹ…
کالم
اُن دنوں میں وفاقی وزارتِ ثقافت میں تعینات تھا۔ ثقافتی طائفہ لے کر ہم لوگ امریکہ گئے۔ نیویارک ریاست کا دارالحکومت البنی (Albany) ہے۔ ایک خوبصورت‘ صاف ستھرا شہر! نیویارک شہر سے اڑھائی تین گھنٹے کی ڈرائیو پر! وہاں کے ایک معزز‘ صاحبِ حیثیت پاکستانی تارکِ وطن نے ہمیں کھانے پر مدعو کیا۔ شہر کی سیر بھی کرائی۔ دعوت سے فارغ ہوئے تو وہ مجھے ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے: آپ وزارتِ ثقافت میں ہیں‘ کچھ ایسا کیجیے کہ مجھے تمغۂ حسنِ کارکردگی یا کوئی اور اعزاز مل جائے۔ چند لمحے تو مجھے حیرت پر قابو پانے میں لگے۔ پھر انہیں بتایا کہ میں سرکاری مشینری کا ایک عام سا پرزہ ہوں‘ اس کیلئے آپ کوئی بڑی شخصیت پکڑیے۔ پھر میں نے پوچھا کہ اعزازات مختلف فنون‘ پیشوں اور خدمات کے حوالے سے دیے جاتے ہیں‘ آپ کس حوالے سے اعزاز لینا چاہتے ہیں؟ یاد نہیں انہوں نے کیا جواب دیا۔ یہ واقعہ مجھے ایک حالیہ خبر پڑھ کر یاد آیا۔ کون … اُن دنوں میں وفاقی وزارتِ ثقافت میں تعینات تھا۔ ثقافتی طائفہ لے کر ہم لوگ امریکہ گئے۔ نیویارک ریاست کا دارالحکومت البنی (Albany) ہے۔ ایک خوبصورت‘ صاف ستھرا شہر! نیویارک شہر سے اڑھائی تین گھنٹے کی ڈرائیو پر! وہاں کے ایک معزز‘ صاحبِ حیثیت پاکستانی تارکِ وطن نے ہمیں کھانے پر مدعو کیا۔ شہر کی سیر بھی کرائی۔ دعوت سے فارغ ہوئے تو وہ مجھے ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے: آپ وزارتِ ثقافت میں ہیں‘ کچھ ایسا ک…
کالم
بہت مشکل سے ملاقات کا وقت طے ہوا۔ اس لیے کہ اس حسینہ سے ملنا آسان نہ تھا۔ ایک تو حسن بے پناہ! رنگت جیسے مکھن میں سیندور ملا ہو! بال سنہری‘ نرم اور ریشمی‘ جن سے نکلتی ہوئی خوشبو قریب آنے والے کو بے سُدھ کر دے۔ چہرہ جاڑے کی دھوپ جیسا۔ دوسرے حسینہ کی مصروفیت! دنیا اس سے ملاقات کیلئے بے تاب اور قطار میں کھڑی ہوئی! کوئی برسوں سے اور کوئی مہینوں سے! جس محل میں وہ رہ رہی تھی اس کی وسعت اور طرزِ تعمیر کے کیا ہی کہنے!! کئی منزلہ عمارت! کئی کمرے‘ کئی حمام اور گاڑیوں کیلئے کئی اصطبل! غلام‘ حاجب‘ نقیب‘ چوبدار بے شمار! جس دن میری ملاقات طے تھی‘ میں صبح صبح حاضر ہو گیا۔ مگر مجھے بتایا گیا کہ حسینۂ عالم کی کچھ مصروفیات اچانک پیش آ گئیں اس لیے مجھے دس دن انتظار کرنا ہو گا۔ میں نے انتہائی بے بسی اور بے کسی سے عرض کیا کہ میں بہت دور سے آیا ہوں۔ اگر اپنے ملک واپس گیا اور پھر آیا تو اخراجات میری استطاعت… بہت مشکل سے ملاقات کا وقت طے ہوا۔ اس لیے کہ اس حسینہ سے ملنا آسان نہ تھا۔ ایک تو حسن بے پناہ! رنگت جیسے مکھن میں سیندور ملا ہو! بال سنہری‘ نرم اور ریشمی‘ جن سے نکلتی ہوئی خوشبو قریب آنے والے کو بے سُدھ کر دے۔ چہرہ جاڑے کی دھوپ جیسا۔ دوسرے حسینہ کی مصروفیت! دنیا اس سے ملاقات کیلئے بے تاب اور قطار میں کھڑی ہوئی! کوئی برسوں سے اور کوئی مہینوں سے! جس محل میں وہ رہ رہی تھی اس کی وسعت اور طرزِ تعمیر ک…
کالم
میں نے حمزہ کو وڈیو کال کی اور لائبریری جانے کا کہا۔ جب وہ لائبریری پہنچ گیا تو میں نے بتایا کہ جو الماری کھڑکی کے ساتھ ہے اس سے اگلی الماری میں اردو شاعری کی کتابیں پڑی ہیں۔ ان میں ایک کتاب ''گلِ نغمہ‘‘ رکھی ہے۔ اسے ڈھونڈو۔ چند لمحوں کے بعد اس نے بتایا کہ ''گلِ نغمہ‘‘ مل گئی ہے۔ تب اسے کہا کہ اس میں تمہاری اس مہینے کی پاکٹ منی پڑی ہے۔ تھوڑی دیر میں اس نے بتایا کہ کتاب میں پڑے اتنے ڈالر مل گئے ہیں۔ آسٹریلیا قیام کے دوران‘ اسرار اور معاذ‘ دونوں کے بچوں کو وقتاً فوقتاً پاکٹ منی دیتا رہتا ہوں۔ میری اس حرکت کو بچوں کے ماں باپ زیادہ پسند نہیں کرتے۔ اکثر والدین اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ نانا نانی‘ دادا دادی بچوں کو جب بھی کچھ کھلائیں پلائیں گے یا جیب خرچ دیں گے یا کسی باغ یا پارک میں لے جائیں گے یا انہیں کوئی ملبوس لے کر دیں گے تو بس بچوں کو خراب (spoil) کریں گے۔ یہ الزام… میں نے حمزہ کو وڈیو کال کی اور لائبریری جانے کا کہا۔ جب وہ لائبریری پہنچ گیا تو میں نے بتایا کہ جو الماری کھڑکی کے ساتھ ہے اس سے اگلی الماری میں اردو شاعری کی کتابیں پڑی ہیں۔ ان میں ایک کتاب ''گلِ نغمہ‘‘ رکھی ہے۔ اسے ڈھونڈو۔ چند لمحوں کے بعد اس نے بتایا کہ ''گلِ نغمہ‘‘ مل گئی ہے۔ تب اسے کہا کہ اس میں تمہاری اس مہینے کی پاکٹ منی پڑی ہے۔ تھوڑی دیر میں اس نے بتایا کہ کتاب میں پڑے اتن…
کالم
آج جب‘ مبینہ طور پر‘ اپنے بیٹے پر بات آن پڑی تو عمر بن عبد العزیز یاد آ گئے!! شاہ پرستوں اور روغنِ قاز مَلنے والوں کی اس پارٹی میں آپ کا دم غنیمت ہے۔ اسی لیے تو شکوہ بھی آپ سے ہے۔ ورنہ اکثر تو مرغانِ بادنما ہیں اور مرفوع القلم! جان کی امان ہو تو کچھ پوچھنے کی جسارت کی جائے۔ آپ کی جماعت کے مالکان کا طرزِ زندگی ایسا ہے کہ اسے شہنشاہانہ کہا جائے تو زیادتی ہو گی۔ سلاطینِ دہلی‘ مغل شہنشاہ اور انگریز وائسرائے تو اس متعیشانہ زندگی کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ 2016ء میں اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف علاج کیلئے سپیشل وی آئی پی جہاز میں لندن گئے۔ جہاز خالی واپس آیا۔ مہینے ڈیڑھ بعد سپیشل جہاز پھر لندن گیا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق جو اعدادو شمار پارلیمنٹ کیساتھ شیئر کیے گئے‘ انکی رُو سے کل اخراجات چھ کروڑ روپے کے تھے۔ معروف صحافی رؤف کلاسرا صاحب کا یہ بیان بھی دیکھیے: ''2016ء میں بھی اسحا… آج جب‘ مبینہ طور پر‘ اپنے بیٹے پر بات آن پڑی تو عمر بن عبد العزیز یاد آ گئے!! شاہ پرستوں اور روغنِ قاز مَلنے والوں کی اس پارٹی میں آپ کا دم غنیمت ہے۔ اسی لیے تو شکوہ بھی آپ سے ہے۔ ورنہ اکثر تو مرغانِ بادنما ہیں اور مرفوع القلم! جان کی امان ہو تو کچھ پوچھنے کی جسارت کی جائے۔ آپ کی جماعت کے مالکان کا طرزِ زندگی ایسا ہے کہ اسے شہنشاہانہ کہا جائے تو زیادتی ہو گی۔ سلاطینِ دہلی‘ مغل شہنشاہ اور انگ…
کالم
کل ایک کام سے میرا چار بستیوں میں جانا ہوا۔ چار قریے! چار گاؤں!! اول تو ان تک جاتے راستے کچے تھے‘ خاک اڑاتے!! اور سڑکیں تھیں بھی تو مدتوں کی بنی ہوئیں! جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئیں! کہیں گڑھے! کہیں پیوند! کہیں ٹیلے!! گلیاں کچی! کہیں کہیں اینٹیں نظر آئیں مگر یوں جیسے لگائی نہیں گئیں‘ پھینکی گئیں! اور یہ حال تب ہے جب یہ گاؤں وفاقی دارالحکومت سے صرف گھنٹے ڈیڑھ کی مسافت پر واقع ہیں! لیکن وفاق تو بڑی آسانی سے کہے گا کہ یہ صوبے کا مسئلہ ہے۔ صوبہ کہے گا کہ ہم ان بستیوں کو‘ ان اضلاع کو صرف اس وقت اپنے صوبے کا حصہ کہتے ہیں جب صوبے کو سب سے بڑا صوبہ ثابت کرنا ہو۔ جب سہولتیں دینے کی بات ہو تو صوبہ عملی طور پر‘ صرف اُن شہروں‘ اُن قصبوں اور اُن قریوں پر مشتمل ہوگا جو صوبائی دارالحکومت کے نواح میں یا زیادہ سے زیادہ صوبے کے وسطی حصے میں واقع ہوں گے۔ مقامی حکومتوں کے ازلی ابدی دشمن‘ یہ صوبائی دارالحکومت اُس … کل ایک کام سے میرا چار بستیوں میں جانا ہوا۔ چار قریے! چار گاؤں!! اول تو ان تک جاتے راستے کچے تھے‘ خاک اڑاتے!! اور سڑکیں تھیں بھی تو مدتوں کی بنی ہوئیں! جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئیں! کہیں گڑھے! کہیں پیوند! کہیں ٹیلے!! گلیاں کچی! کہیں کہیں اینٹیں نظر آئیں مگر یوں جیسے لگائی نہیں گئیں‘ پھینکی گئیں! اور یہ حال تب ہے جب یہ گاؤں وفاقی دارالحکومت سے صرف گھنٹے ڈیڑھ کی مسافت پر واقع ہیں! لیکن وفاق تو بڑی آسان…
کالم
نہیں معلوم یو پی کے وزیراعلیٰ ادتیا ناتھ کو بھارتی مسلمانوں کا دشمن نمبر ایک کہا جا سکتا ہے یا نہیں‘ ہو سکتا ہے مودی یا امیت شاہ یا کوئی اور درندہ ادتیا ناتھ سے بھی بڑا مسلمان دشمن ہو مگر یہ طے ہے کہ اگر ادتیا ناتھ کا بس چلے تو بھارت میں کوئی مسلمان زندہ بچے‘ نہ کوئی مسجد۔ یہ موذی‘ زہریلا سانپ مسلمانوں کو مسلسل ڈس رہا ہے۔ چار دن پہلے‘ چھ ستمبر کو‘ ایک اور مسجد شہید کر دی گئی۔ یہ ظلم سہارنپور میں ہوا۔ واقعہ کی تفصیلات پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ یہ انہدام ادتیا ناتھ کے خصوصی احکام پر ہوا۔ سہارنپور کی یہ مسجد 1911ء میں تعمیر ہوئی۔ کانگرس کے ممبر پارلیمنٹ عمران مسعود نے مسجد کی شہادت کے بعد ایک پریس کانفرنس میں خسرہ نمبر اور دیگر دستاویزات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مسجد ایک مسلمان زمیندار خاندان کی زمین میں بنائی گئی۔ اس خاندان کے سربراہ وحید خان اور یعقوب خان تھے۔ یہ زمین مسجد کیلئے وقف کی گ… نہیں معلوم یو پی کے وزیراعلیٰ ادتیا ناتھ کو بھارتی مسلمانوں کا دشمن نمبر ایک کہا جا سکتا ہے یا نہیں‘ ہو سکتا ہے مودی یا امیت شاہ یا کوئی اور درندہ ادتیا ناتھ سے بھی بڑا مسلمان دشمن ہو مگر یہ طے ہے کہ اگر ادتیا ناتھ کا بس چلے تو بھارت میں کوئی مسلمان زندہ بچے‘ نہ کوئی مسجد۔ یہ موذی‘ زہریلا سانپ مسلمانوں کو مسلسل ڈس رہا ہے۔ چار دن پہلے‘ چھ ستمبر کو‘ ایک اور مسجد شہید کر دی گئی۔ یہ ظلم سہارنپور میں …

دخل در معقولات

کالم
مناظرہ‘ جو مکالمے سے آغاز ہوا‘ دو بڑوں کے درمیان ہو رہا ہے۔ ایک طرف برادرِ عزیز وجاہت مسعود ہیں۔ منفرد اور سرور آور طرزِ نگارش کے مالک۔ لکھتے ہیں تو تاریخ اور اردو ہی نہیں‘ عالمی ادب بھی دست بستہ‘ سر جھکائے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ ابوالفضل کے بھائی فیضی نے اپنے بارے میں فخریہ کہا تھا: دست و پائی عروسِ معنی را؍ بمدادِ قلم خضاب کنم وجاہت مسعود بھی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کیونکہ عروسِ معنی کی حنا بندی کرتے ہیں تو ادب کے طالبعلم اَش اَش کر اٹھتے ہیں۔ ''سہروردی کی سیاست بیتی‘‘ کا ترجمہ ان کا تازہ کارنامہ ہے۔ پاکستان میں اصل تاریخ کو عمداً‘ اِخفا میں رکھا جا رہا ہے۔ شیخ مجیب الرحمان اور سہروردی جیسے سیاستدانوں کی آپ بیتیاں ریکارڈ کی تصحیح کیلئے ناگزیر ہیں۔ وجاہت مسعود جرأت مند صحافی ہیں۔ اس فقیر کا انٹرویو لیا تو سرکاری ٹی وی نے بنگلہ دیش کے قیام کے اصل اسباب انٹرویو سے کاٹ دیے۔ وجاہت مسع… مناظرہ‘ جو مکالمے سے آغاز ہوا‘ دو بڑوں کے درمیان ہو رہا ہے۔ ایک طرف برادرِ عزیز وجاہت مسعود ہیں۔ منفرد اور سرور آور طرزِ نگارش کے مالک۔ لکھتے ہیں تو تاریخ اور اردو ہی نہیں‘ عالمی ادب بھی دست بستہ‘ سر جھکائے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ ابوالفضل کے بھائی فیضی نے اپنے بارے میں فخریہ کہا تھا: دست و پائی عروسِ معنی را؍ بمدادِ قلم خضاب کنم وجاہت مسعود بھی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کیونکہ عروسِ معنی کی حنا بندی کر…
کالم
''آپ کو حیرت نہیں ہوئی۔ پمز میں کسی ڈاکٹر کی انگلی نہیں کٹی‘ کوئی نرس زخمی نہیں ہوئی‘ کسی فائر مین کو آگ نہیں لگی‘ اور چودہ بچے جاں بحق ہو گئے۔ کہاں تھے یہ لوگ؟ کیا سروس ڈِلیوری ہوئی؟ یہ تو فکس ہو گا۔ اسے فکس کیے بغیر اب اور گفتگو نہیں ہو گی‘‘۔ یہ دلگیر بیان وفاقی وزیر جناب مصدق ملک کا ہے۔ اب جناب پرویز رشید کی تجویز دیکھیے: ''سی ایم ایچ ہسپتال کی کبھی آپ نے شکایت نہیں سنی ہو گی‘ کیونکہ فوج کے سپاہی سے جنرل تک سی ایم ایچ سے اپنا علاج کرواتے ہیں۔ یہ قانون بنائیں کہ حکومت سے تنخواہ اور مراعات لینے والوں اور ان کے اہلِ خانہ کا علاج سرکاری ہسپتال میں ہو گا اور بچے سرکاری سکولز میں جائیں گے تو دنوں میں ہسپتال اور سکول عالمی معیار کے ہو جائیں گے‘‘۔ کیسی مخلصانہ اور دردمند تشویش لاحق ہے ان دونوں صاحبان کو۔ دل سے ان کیلئے واہ واہ بھی اٹھتی ہے اور دعا بھی! آگے چلنے سے پہلے ایک ل… ''آپ کو حیرت نہیں ہوئی۔ پمز میں کسی ڈاکٹر کی انگلی نہیں کٹی‘ کوئی نرس زخمی نہیں ہوئی‘ کسی فائر مین کو آگ نہیں لگی‘ اور چودہ بچے جاں بحق ہو گئے۔ کہاں تھے یہ لوگ؟ کیا سروس ڈِلیوری ہوئی؟ یہ تو فکس ہو گا۔ اسے فکس کیے بغیر اب اور گفتگو نہیں ہو گی‘‘۔ یہ دلگیر بیان وفاقی وزیر جناب مصدق ملک کا ہے۔ اب جناب پرویز رشید کی تجویز دیکھیے: ''سی ایم ایچ ہسپتال کی کبھی آپ نے شکایت نہیں سنی ہو گ…
کالم
طارق حیات ملک میرے گرائیں ہیں۔ ان کا گاؤں ڈُھرنال‘ میرے گاؤں جھنڈیال کے بالکل ساتھ واقع ہے۔ لیکن میری اور طارق حیات ملک صاحب کی مماثلت یہاں پر ختم ہو جاتی ہے۔ آگے دو مختلف دنیائیں ہیں۔ میں ملازمت پیشہ! قرطاس وقلم کا مزدور! ملک صاحب نے فوج کی افسری چھوڑی اور کاروبار کی طرف آ گئے۔ اس وقت ماشاء اللہ ان کا کاروبار پاکستان سے روس تک‘ روس سے وسط ایشیا تک اور وسط ایشیا سے چین تک پھیلا ہوا ہے۔ ملک کو زرمبادلہ کما کر دینے والوں میں ان کا نام نمایاں ہے۔ ساتھ ہی وہ خدمت خلق بھی کر رہے ہیں۔ ان کی سیاحتی کمپنی ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں کو مختلف ملکوں کی سیر کراتے ہیں (اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں)۔ اب کے وہ گروپ لے کر روس جا رہے تھے۔ بہت دنیا دیکھی ہے‘ روس نہیں دیکھا تھا۔ ایک تو روس دیکھنے کا شوق‘ اوپر سے دوستِ دیرینہ‘ سابق وفاقی سیکرٹری جناب احمد محمود زاہد صاحب … طارق حیات ملک میرے گرائیں ہیں۔ ان کا گاؤں ڈُھرنال‘ میرے گاؤں جھنڈیال کے بالکل ساتھ واقع ہے۔ لیکن میری اور طارق حیات ملک صاحب کی مماثلت یہاں پر ختم ہو جاتی ہے۔ آگے دو مختلف دنیائیں ہیں۔ میں ملازمت پیشہ! قرطاس وقلم کا مزدور! ملک صاحب نے فوج کی افسری چھوڑی اور کاروبار کی طرف آ گئے۔ اس وقت ماشاء اللہ ان کا کاروبار پاکستان سے روس تک‘ روس سے وسط ایشیا تک اور وسط ایشیا سے چین تک پھیلا ہوا ہے۔ ملک کو …

حلیم قریشی

کالم
یہ پندرہ اگست 2026ء کی دوپہر تھی۔ میں ماسکو میں تھا۔ اسلام آباد سے پروفیسر ڈاکٹر قیصرہ علوی صاحبہ کی کال تھی کہ حلیم قریشی صاحب کو تمغۂ امتیاز دیے جانے کا اعلان ہوا ہے اور یہ کہ اس سلسلے میں تقریب کا اہتمام کر رہی ہیں۔ فون بند ہوتے ہی میں نے قریشی صاحب سے کال ملائی۔ ماسکو میں اس وقت شام کے ٹھیک سات بج کر سولہ منٹ ہوئے تھے۔ میں نے انہیں مبارکباد پیش کی۔ وہ بہت تلخ تھے اور غمزدہ۔ یہ اعزاز ان کے شایانِ شان نہیں تھا۔ ان کا شکوہ یہ تھا کہ ان سے کہیں زیادہ جونیئر شاعروں بلکہ مبتدیوں کو اس سے بڑے مرتبے کے اعزازات دیے گئے۔ فون لاؤڈ سپیکر پر تھا۔ یہ ساری گفتگو میری اہلیہ نے بھی سنی۔ میں نے انہیں تسلی دی کہ اعزاز بہرطور اعزاز ہے اور یہ کہ ہم یہ خوشی منائیں گے بھی! 20 اگست کو واپس پہنچا اور فیس بک کھولی (روس میں سوشل میڈیا پر پابندی ہے)۔ منظر بدل چکا تھا۔ قریشی صاحب ایک دن پہلے وہاں جا چکے تھے جہ… یہ پندرہ اگست 2026ء کی دوپہر تھی۔ میں ماسکو میں تھا۔ اسلام آباد سے پروفیسر ڈاکٹر قیصرہ علوی صاحبہ کی کال تھی کہ حلیم قریشی صاحب کو تمغۂ امتیاز دیے جانے کا اعلان ہوا ہے اور یہ کہ اس سلسلے میں تقریب کا اہتمام کر رہی ہیں۔ فون بند ہوتے ہی میں نے قریشی صاحب سے کال ملائی۔ ماسکو میں اس وقت شام کے ٹھیک سات بج کر سولہ منٹ ہوئے تھے۔ میں نے انہیں مبارکباد پیش کی۔ وہ بہت تلخ تھے اور غمزدہ۔ یہ اعزاز ان کے ش…
کالم
خواجہ نظام الملک طوسی دو سلجوقی بادشاہوں (الپ ارسلان اور ملک شاہ) کے وزیراعظم رہے۔ ان کی وفات 1092ء میں ہوئی۔ سیاست نامہ ان کی مشہور کتاب ہے جو حکمرانوں کیلئے دستور العمل ہے۔ اس کتاب کے پہلے تیرہ باب یونیورسٹی آف بمبئی کے کورس میں شامل رہے۔ معروف پبلشر سلیم گاہندری نے لکھا ہے کہ ''برٹش گورنمنٹ کے زمانہ میں یہ کتاب سول سروس کے کورس میں داخل رہی ہے‘‘۔ صرف ابواب دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتاب حکمرانوں کیلئے رہنمائی کے بہترین ذریعوں میں سے ایک ہے۔ باب اول‘ گردشِ روزگار اور مدحِ ذات باری۔ باب دوم‘ حکمرانوں کا جذبۂ شکر۔ تیسرا باب‘ حکمرانوں کا عدل و انصاف۔ چوتھا‘ بیورو کریسی کا احتساب۔ پانچواں‘ اہلکاروں کے طرزِ کار کا جائزہ۔ چھٹا ‘ عدلیہ کی حدود اور اختیارات۔ ساتواں‘ انتظامیہ کے افسران۔ آٹھواں‘ شرعی امور میں غور وفکر۔ نواں‘ حکومت کے کارندوں کی کارکردگی۔ دسواں ‘ ایجنسیوں (مخبر… خواجہ نظام الملک طوسی دو سلجوقی بادشاہوں (الپ ارسلان اور ملک شاہ) کے وزیراعظم رہے۔ ان کی وفات 1092ء میں ہوئی۔ سیاست نامہ ان کی مشہور کتاب ہے جو حکمرانوں کیلئے دستور العمل ہے۔ اس کتاب کے پہلے تیرہ باب یونیورسٹی آف بمبئی کے کورس میں شامل رہے۔ معروف پبلشر سلیم گاہندری نے لکھا ہے کہ ''برٹش گورنمنٹ کے زمانہ میں یہ کتاب سول سروس کے کورس میں داخل رہی ہے‘‘۔ صرف ابواب دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا…