بلند پروازی کا شوق اچھا ہے۔ ہونا چاہیے! مگر مضبوط بال و پر کے ساتھ! پر کمزور ہوں تو نیچے گرنا یقینی ہے۔ ایسے میں عقل مندی یہ ہے کہ اُڑنے کے بجائے زمین پر چل لینا چاہیے! ہم تمام مغربی پاکستانی دوست جب ڈھاکہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو کر واپس آئے تو ہمارے ہاتھوں میں‘ اس وقت کے لحاظ سے بہترین ڈگریاں تھیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کی ریٹنگ‘ عالمی سطح پر قابلِ رشک تھی۔ ہم میں سے اکثر کو برطانیہ اور امریکہ کی کسی بھی ٹاپ کلاس یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ مل سکتا تھا۔ مگر ہم میں سے اکثر لوئر مڈل کلاس سے تھے اور کچھ اس سے بھی نیچے!! اگر ہم ضد کرتے کہ ہم نے مزید پڑھنے کے لیے ولایت جانا ہے تو ہمارے والدین کو اپنی زرعی زمینیں اور جائیدادیں بیچنا پڑتیں۔ قرض لینا پڑتا۔ ہماری ماؤں اور بہنوں کو زیور گروی رکھوانے پڑتے۔ تب ہم مل بیٹھے اور ہم نے طے کیا کہ جو قسمت آزمائی بھی کرنی ہے اور جتنی بھی کرنی ہ…
بلند پروازی کا شوق اچھا ہے۔ ہونا چاہیے! مگر مضبوط بال و پر کے ساتھ! پر کمزور ہوں تو نیچے گرنا یقینی ہے۔ ایسے میں عقل مندی یہ ہے کہ اُڑنے کے بجائے زمین پر چل لینا چاہیے! ہم تمام مغربی پاکستانی دوست جب ڈھاکہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہو کر واپس آئے تو ہمارے ہاتھوں میں‘ اس وقت کے لحاظ سے بہترین ڈگریاں تھیں۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کی ریٹنگ‘ عالمی سطح پر قابلِ رشک تھی۔ ہم میں سے اکثر کو برطانیہ اور امریکہ کی…
مخمل میں ٹاٹ کا پیوند
اکتوبر 15, 2026
کالم
کالم
مکان ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ انہی مکانوں میں ایک خاتون اپنے کنبے کے ساتھ رہتی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ! سی ایس ایس کرنے کے بعد اچھے باعزت منصب پر فائز۔ کبھی کبھی رات کو اس کے گھر سے چیخوں کی آواز آتی تھی۔ جیسے کوئی کسی مصیبت میں گرفتار ہو۔ ساتھ اونچی آواز میں گالیوں کی آواز آتی۔ یہ چیخیں اس خاتون کی تھیں اور گالیاں اس کا شوہر نکالتا۔ اسے اعتراض تھا کہ فون کیوں آتے ہیں؟ کل دفتر دیر تک کیوں بیٹھی رہیں؟ فائلیں گھر کیوں لاتی ہو؟ پی اے گھر کیوں آتا ہے؟ ڈرائیور سے کیا بات کر رہی تھیں؟ آپ کا کیا خیال ہے ایسا کیوں ہو رہا تھا؟ اس لیے کہ شوہر نیم تعلیم یافتہ تھا۔ معمولی سا کاروبار کرتا تھا۔ اس کا اٹھنا بیٹھنا جن لوگوں کے ساتھ تھا ان میں کوئی دکاندار تھا۔ کوئی کار ڈیلر تھا۔ کوئی ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ دکاندار‘ یا کار ڈیلر‘ یا ٹیکسی ڈرائیور ہونا کوئی جرم نہیں مگر اسے یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کو زدو کوب کرے۔ تاہم دلچسپ اور افسوسناک حقیقت یہ تھی کہ یہ حق اس مرد کو‘ غیر اعلانیہ طور پر‘ خاتون کے ماں باپ نے دیا تھا کیونکہ وہ اپنی ذات سے باہر بیٹی کی شادی نہیں کرنا چاہتے تھے اور ذات کے اندر یہی مرد میسر تھا۔
مدتوں پہلے کا یہ واقعہ دو ہفتے پہلے یاد آیا جب یہ خبر پڑھی کہ ایک بڑے شہر کی‘ ایڈمنسٹریٹر‘ خاتون افسر پر اس کے میاں نے شدید تشدد کیا‘ موبائل فون چھین لیا‘ اسے غیر قانونی حراست میں رکھا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ بالآخر خاتون کو قانون کی مدد لینا پڑی۔ ذہن میں پہلا سوال یہ اٹھا کہ اس کا میاں کرتا کیا ہے؟ تعجب ہے کہ میڈیا میں سے اکثریت نے یہ معلوم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ صرف ایک جگہ یہ نظر آیا کہ شوہر پراپرٹی ڈیلر ہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ یہ شادی والدین نے زبردستی ذات برادری کی بنیاد پر کی یا کسی اور بنیاد پر کی گئی۔ ذات برادری کے اندر شادی کرنے والوں کو جب یہ سمجھایا جاتا ہے کہ مرد کی تعلیم یا پیشہ بھی دیکھو تو جواب ملتا ہے کہ شادی اپنے ''کفو‘‘ کے اندر کرنے کا کہا گیا ہے اور کفو سے مراد ذات برادری ہے۔ نرم ترین لفظوں میں بھی اس جواب کو بدترین لاعلمی ہی کہا جا سکتا ہے۔ کہیں بھی نہیں لکھا گیا یا کہا گیا کہ کفو کا مطلب ذات برادری ہے۔ فقہا نے کفو میں عام طور پر چھ چیزیں شامل کی ہیں۔ اسلام‘ حریت (یعنی غلام نہ ہو)‘ نسب‘ مال و دولت‘ دینداری اور پیشہ!! شادی کے ضمن میں پیشے کی بہت اہمیت ہے۔ چچا یا ماموں کا بیٹا پراپرٹی ڈیلر ہے یا پوسٹ مین ہے تو اس کی شادی اس خاتون سے کرا دینا جو اسسٹنٹ کمشنر ہے یا جج ہے یا پروفیسر ہے‘ ظلم کے علاوہ کچھ نہیں! کفو کا لفظی معنی برابر یا ہمسر ہے۔ یعنی مرد کی عورت کے ساتھ مناسبت‘ ہم آہنگی‘ مطابقت‘ موزونیت اور سازگاری (Compatibility) ہو۔ اَن پڑھ لڑکے کی شادی ڈاکٹر لڑکی کے ساتھ یہ کہہ کر کر دی جاتی ہے کہ ''گھر کی لڑکی ہے‘ گھر ہی میں رہے گی‘‘۔ یہ جہالت ہے اور ظلم! میں ایک ایسی خاتون کو جانتا ہوں جو پی ایچ ڈی ہے اور میاں چِٹا اَن پڑھ! خاتون کا ناول شائع ہو کر آیا تو شوہر نے سارے نسخے نذرِ آتش کر دیے۔ اَن پڑھ یا نیم تعلیم یافتہ یا رتبے میں کمتر شوہر شدید احساسِ کمتری کا شکار ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ شک کرتا ہے۔ حسد کا شکار ہو جاتا ہے۔ تب اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ مرد ہے اور عورت سے برتر! اپنے آپ کو برتر ثابت کرنے کے لیے وہ بیوی کو مارتا پیٹتا ہے۔ اس سے فون چھینتا ہے۔ کبھی اسے میکے نہیں جانے دیتا۔ کبھی گھر میں نظر بند کر دیتا ہے۔ کبھی خاتون کے ماتحتوں کے سامنے خاتون کی بے عزتی کرتا ہے۔ افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسی بے جوڑ اور احمقانہ شادیوں کی کمی نہیں! میں کچھ سال ایک ایلیٹ کلب کی کمیٹی کا رکن رہا۔ اس کمیٹی کا کام یہ تھا کہ ان امیدواروں کا انٹرویو کرے جو کلب کی ممبرشپ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انٹرویو میں میاں بیوی دونوں کو پیش ہونا ہوتا تھا۔ یہ ایک عجیب و غریب تجربہ تھا۔ ایسے ایسے جوڑے دیکھے جن میں ایک اور دس کا نہیں‘ ایک اور پچاس کا فرق تھا۔ عورت ماہر امراضِ چشم ہے تو میاں پراپرٹی ڈیلر۔ بیوی فُل پروفیسر ہے تو میاں میٹرک پاس۔ بیوی پی ایچ ڈی ہے تو شوہر کی جوتوں کی معمولی سی دکان! ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کے میاں نے بیٹھتے ہی کہا کہ یہ جس زمین پر آپ کا کلب ہے یہ ساری زمین ہماری تھی۔ موصوف کی قمیص کے بٹن آگے سے کھلے تھے اور ہاتھ میں مہنگے سگریٹوں کی ڈبی تھی۔ وہ تو اچھا ہوا کہ انہوں نے بیٹھتے ہی سگریٹ سلگانے کے لیے ماچس نہ مانگی! یہ کیسے والدین ہیں جو اپنی بیٹیوں کو پہلے اعلیٰ تعلیم دلاتے ہیں اور پھر انہیں اُن مردوں کے ساتھ باندھ دیتے ہیں جن کے ساتھ ان کا پیشہ مناسبت رکھتا ہے نہ مزاج نہ ماحول!!
عام طور پر سروس سیکٹر اور بزنس سیکٹر کے درمیان بھی شادیاں بے جوڑ ثابت ہوتی ہیں۔ تنخواہ دار طبقے اور کاروباری طبقے کی نفسیات‘ رہن سہن اور ماحول میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ سو فیصد شادیاں ان دو طبقوں کے درمیان ناکام رہتی ہیں۔ کچھ کامیاب بھی رہتی ہیں۔ مگر زیادہ تر بے جوڑ رہتی ہیں۔ میں ایک بار اپنے ایک دوست کے پاس بیٹھا تھا جو انکم ٹیکس کمشنر تھا۔ شہر کا ایک انتہائی متمول بزنس مین اس کے سامنے پیش ہوا۔ میں اسے جانتا تھا۔ اس نے میلا‘ کم حیثیت لباس پہنا ہوا تھا۔ شاید جان بوجھ کر کہ اسے غریب سمجھا جائے۔ سرکاری ملازم یا کارپوریٹ سیکٹر میں کام کرنے والا شخص ایسا کبھی نہیں کرے گا۔ وہ ایسے موقع پر‘ یا کسی بھی موقع پر‘ باعزت اور متاثر کن لباس پہنے گا۔ پاکستان میں فرقہ بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ بین المسالک شادی ممنوع نہیں‘ ہو جاتی ہے اور بالکل ہو جاتی ہے۔ مگر روزانہ کے مسائل تلخی پیدا کرتے رہتے ہیں۔ ایک صاحب کی‘ جنہیں میں جانتا ہوں‘ بیٹی کی شادی بریلوی خاندان میں ہوئی‘ جبکہ لڑکی کا فرقہ مختلف تھا۔ لڑکے والوں کے پیر صاحب تشریف لائے۔ لڑکی نے ان کے سامنے جانے سے انکار کر دیا۔ اور بھی کئی مسائل پیش آئے جن کا اندازہ آپ آسانی سے لگا سکتے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ لڑکی واپس میکے آ گئی اور دوبارہ جانے سے انکار کر دیا۔ یاد رکھیے‘ کوئی کسی کے لیے اپنا عقیدہ بدلتا ہے نہ سیاسی رجحان! بچے الگ خوار ہوتے ہیں۔ شادی کرتے وقت یہ بھی سوچنا چاہیے کہ دس پندرہ سال بعد صورتِ حال کیا ہو گی۔ اہلِ کتاب کے ساتھ شادی جائز ہے۔ ایسی لا تعداد مثالیں موجود ہیں کہ مغربی ملک میں شادی تو پاکستانی یا کسی دوسرے ملک کے مسلمان نے سفید فام عورت سے کر لی۔ بچے بڑے ہوتے ہیں تو تب تک محبت کی چربی آنکھوں کے آگے سے ہٹ جاتی ہے۔ بچہ چرچ اور مسجد کے درمیان گھسیٹا جاتا ہے۔ باپ بچوں کو لے کر چپکے سے وطن واپس بھاگ آتا ہے۔ پیچھے پیچھے ماں بھی آ جاتی ہے۔ عدالتوں میں مقدمہ بازی ہوتی ہے۔ متعلقہ سفارت خانہ بھی درمیان میں کود پڑتا ہے۔ زیادہ تر فتح ماں کی ہوتی ہے۔
مدتوں پہلے کا یہ واقعہ دو ہفتے پہلے یاد آیا جب یہ خبر پڑھی کہ ایک بڑے شہر کی‘ ایڈمنسٹریٹر‘ خاتون افسر پر اس کے میاں نے شدید تشدد کیا‘ موبائل فون چھین لیا‘ اسے غیر قانونی حراست میں رکھا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ بالآخر خاتون کو قانون کی مدد لینا پڑی۔ ذہن میں پہلا سوال یہ اٹھا کہ اس کا میاں کرتا کیا ہے؟ تعجب ہے کہ میڈیا میں سے اکثریت نے یہ معلوم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ صرف ایک جگہ یہ نظر آیا کہ شوہر پراپرٹی ڈیلر ہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ یہ شادی والدین نے زبردستی ذات برادری کی بنیاد پر کی یا کسی اور بنیاد پر کی گئی۔ ذات برادری کے اندر شادی کرنے والوں کو جب یہ سمجھایا جاتا ہے کہ مرد کی تعلیم یا پیشہ بھی دیکھو تو جواب ملتا ہے کہ شادی اپنے ''کفو‘‘ کے اندر کرنے کا کہا گیا ہے اور کفو سے مراد ذات برادری ہے۔ نرم ترین لفظوں میں بھی اس جواب کو بدترین لاعلمی ہی کہا جا سکتا ہے۔ کہیں بھی نہیں لکھا گیا یا کہا گیا کہ کفو کا مطلب ذات برادری ہے۔ فقہا نے کفو میں عام طور پر چھ چیزیں شامل کی ہیں۔ اسلام‘ حریت (یعنی غلام نہ ہو)‘ نسب‘ مال و دولت‘ دینداری اور پیشہ!! شادی کے ضمن میں پیشے کی بہت اہمیت ہے۔ چچا یا ماموں کا بیٹا پراپرٹی ڈیلر ہے یا پوسٹ مین ہے تو اس کی شادی اس خاتون سے کرا دینا جو اسسٹنٹ کمشنر ہے یا جج ہے یا پروفیسر ہے‘ ظلم کے علاوہ کچھ نہیں! کفو کا لفظی معنی برابر یا ہمسر ہے۔ یعنی مرد کی عورت کے ساتھ مناسبت‘ ہم آہنگی‘ مطابقت‘ موزونیت اور سازگاری (Compatibility) ہو۔ اَن پڑھ لڑکے کی شادی ڈاکٹر لڑکی کے ساتھ یہ کہہ کر کر دی جاتی ہے کہ ''گھر کی لڑکی ہے‘ گھر ہی میں رہے گی‘‘۔ یہ جہالت ہے اور ظلم! میں ایک ایسی خاتون کو جانتا ہوں جو پی ایچ ڈی ہے اور میاں چِٹا اَن پڑھ! خاتون کا ناول شائع ہو کر آیا تو شوہر نے سارے نسخے نذرِ آتش کر دیے۔ اَن پڑھ یا نیم تعلیم یافتہ یا رتبے میں کمتر شوہر شدید احساسِ کمتری کا شکار ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ شک کرتا ہے۔ حسد کا شکار ہو جاتا ہے۔ تب اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ مرد ہے اور عورت سے برتر! اپنے آپ کو برتر ثابت کرنے کے لیے وہ بیوی کو مارتا پیٹتا ہے۔ اس سے فون چھینتا ہے۔ کبھی اسے میکے نہیں جانے دیتا۔ کبھی گھر میں نظر بند کر دیتا ہے۔ کبھی خاتون کے ماتحتوں کے سامنے خاتون کی بے عزتی کرتا ہے۔ افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسی بے جوڑ اور احمقانہ شادیوں کی کمی نہیں! میں کچھ سال ایک ایلیٹ کلب کی کمیٹی کا رکن رہا۔ اس کمیٹی کا کام یہ تھا کہ ان امیدواروں کا انٹرویو کرے جو کلب کی ممبرشپ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انٹرویو میں میاں بیوی دونوں کو پیش ہونا ہوتا تھا۔ یہ ایک عجیب و غریب تجربہ تھا۔ ایسے ایسے جوڑے دیکھے جن میں ایک اور دس کا نہیں‘ ایک اور پچاس کا فرق تھا۔ عورت ماہر امراضِ چشم ہے تو میاں پراپرٹی ڈیلر۔ بیوی فُل پروفیسر ہے تو میاں میٹرک پاس۔ بیوی پی ایچ ڈی ہے تو شوہر کی جوتوں کی معمولی سی دکان! ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کے میاں نے بیٹھتے ہی کہا کہ یہ جس زمین پر آپ کا کلب ہے یہ ساری زمین ہماری تھی۔ موصوف کی قمیص کے بٹن آگے سے کھلے تھے اور ہاتھ میں مہنگے سگریٹوں کی ڈبی تھی۔ وہ تو اچھا ہوا کہ انہوں نے بیٹھتے ہی سگریٹ سلگانے کے لیے ماچس نہ مانگی! یہ کیسے والدین ہیں جو اپنی بیٹیوں کو پہلے اعلیٰ تعلیم دلاتے ہیں اور پھر انہیں اُن مردوں کے ساتھ باندھ دیتے ہیں جن کے ساتھ ان کا پیشہ مناسبت رکھتا ہے نہ مزاج نہ ماحول!!
عام طور پر سروس سیکٹر اور بزنس سیکٹر کے درمیان بھی شادیاں بے جوڑ ثابت ہوتی ہیں۔ تنخواہ دار طبقے اور کاروباری طبقے کی نفسیات‘ رہن سہن اور ماحول میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ سو فیصد شادیاں ان دو طبقوں کے درمیان ناکام رہتی ہیں۔ کچھ کامیاب بھی رہتی ہیں۔ مگر زیادہ تر بے جوڑ رہتی ہیں۔ میں ایک بار اپنے ایک دوست کے پاس بیٹھا تھا جو انکم ٹیکس کمشنر تھا۔ شہر کا ایک انتہائی متمول بزنس مین اس کے سامنے پیش ہوا۔ میں اسے جانتا تھا۔ اس نے میلا‘ کم حیثیت لباس پہنا ہوا تھا۔ شاید جان بوجھ کر کہ اسے غریب سمجھا جائے۔ سرکاری ملازم یا کارپوریٹ سیکٹر میں کام کرنے والا شخص ایسا کبھی نہیں کرے گا۔ وہ ایسے موقع پر‘ یا کسی بھی موقع پر‘ باعزت اور متاثر کن لباس پہنے گا۔ پاکستان میں فرقہ بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ بین المسالک شادی ممنوع نہیں‘ ہو جاتی ہے اور بالکل ہو جاتی ہے۔ مگر روزانہ کے مسائل تلخی پیدا کرتے رہتے ہیں۔ ایک صاحب کی‘ جنہیں میں جانتا ہوں‘ بیٹی کی شادی بریلوی خاندان میں ہوئی‘ جبکہ لڑکی کا فرقہ مختلف تھا۔ لڑکے والوں کے پیر صاحب تشریف لائے۔ لڑکی نے ان کے سامنے جانے سے انکار کر دیا۔ اور بھی کئی مسائل پیش آئے جن کا اندازہ آپ آسانی سے لگا سکتے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ لڑکی واپس میکے آ گئی اور دوبارہ جانے سے انکار کر دیا۔ یاد رکھیے‘ کوئی کسی کے لیے اپنا عقیدہ بدلتا ہے نہ سیاسی رجحان! بچے الگ خوار ہوتے ہیں۔ شادی کرتے وقت یہ بھی سوچنا چاہیے کہ دس پندرہ سال بعد صورتِ حال کیا ہو گی۔ اہلِ کتاب کے ساتھ شادی جائز ہے۔ ایسی لا تعداد مثالیں موجود ہیں کہ مغربی ملک میں شادی تو پاکستانی یا کسی دوسرے ملک کے مسلمان نے سفید فام عورت سے کر لی۔ بچے بڑے ہوتے ہیں تو تب تک محبت کی چربی آنکھوں کے آگے سے ہٹ جاتی ہے۔ بچہ چرچ اور مسجد کے درمیان گھسیٹا جاتا ہے۔ باپ بچوں کو لے کر چپکے سے وطن واپس بھاگ آتا ہے۔ پیچھے پیچھے ماں بھی آ جاتی ہے۔ عدالتوں میں مقدمہ بازی ہوتی ہے۔ متعلقہ سفارت خانہ بھی درمیان میں کود پڑتا ہے۔ زیادہ تر فتح ماں کی ہوتی ہے۔
مکان ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ انہی مکانوں میں ایک خاتون اپنے کنبے کے ساتھ رہتی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ! سی ایس ایس کرنے کے بعد اچھے باعزت منصب پر فائز۔ کبھی کبھی رات کو اس کے گھر سے چیخوں کی آواز آتی تھی۔ جیسے کوئی کسی مصیبت میں گرفتار ہو۔ ساتھ اونچی آواز میں گالیوں کی آواز آتی۔ یہ چیخیں اس خاتون کی تھیں اور گالیاں اس کا شوہر نکالتا۔ اسے اعتراض تھا کہ فون کیوں آتے ہیں؟ کل دفتر دیر تک کیوں بیٹھی رہیں؟ فائلیں گھر کیوں لاتی ہو؟ پی اے گھر کیوں آتا ہے؟ ڈرائیور سے کیا بات کر رہی تھیں؟ آپ کا کیا خیال ہے ایسا کیوں ہو رہا تھا؟ اس لیے کہ شوہر نیم تعلیم یافتہ تھا۔ معمولی سا کاروبار کرتا تھا۔ اس کا اٹھنا بیٹھنا جن لوگوں کے ساتھ تھا ان میں کوئی دکاندار تھا۔ کوئی کار ڈیلر تھا۔ کوئی ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ دکاندار‘ یا کار ڈیلر‘ یا ٹیکسی ڈرائیور ہونا کوئی جرم نہیں مگر اسے یہ حق نہیں دیا جا سکتا…
مکان ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ انہی مکانوں میں ایک خاتون اپنے کنبے کے ساتھ رہتی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ! سی ایس ایس کرنے کے بعد اچھے باعزت منصب پر فائز۔ کبھی کبھی رات کو اس کے گھر سے چیخوں کی آواز آتی تھی۔ جیسے کوئی کسی مصیبت میں گرفتار ہو۔ ساتھ اونچی آواز میں گالیوں کی آواز آتی۔ یہ چیخیں اس خاتون کی تھیں اور گالیاں اس کا شوہر نکالتا۔ اسے اعتراض تھا کہ فون کیوں آتے ہیں؟ کل دفتر دیر تک …
بسنت، لندن اور مری
اکتوبر 13, 2026
کالم
کالم
بارات روانہ ہونی تھی۔ عجیب بات یہ تھی کہ تمام باراتی نوجوان تھے۔ نوجوانوں کی ضد تھی کہ وہ کافی ہیں اور لڑکی کو رخصت کرا کے لے آئیں گے۔ کسی نے پند دی کہ بیوقوفوں والی ضد نہ کرو۔ کسی عمر رسیدہ‘ باراں دیدہ‘ سرد و گرم چشیدہ‘ چِٹ داڑھیے کو ساتھ لے جاؤ۔ مانا کہ خون گرم ہے مگر گرم خون تجربے کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ بوڑھا آدمی مصیبت میں کام آئے گا۔ نوجوانوں نے بادل نخواستہ بات مان لی اور ایک بزرگ کو ساتھ لے لیا۔ لڑکی والوں کے ہاں پہنچے تو انہوں نے لڑکی کی رخصتی کیلئے شرط رکھ دی کہ باراتی دس بکرے کھائیں گے تو لڑکی ساتھ بھیجیں گے ورنہ نہیں! نوجوانوں کے ہوش اُڑ گئے۔ ساری خود اعتمادی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ باراتیوں کی جو تعداد تھی اس کیلئے دس بکرے کھانا ناممکن نظر آرہا تھا۔ تب ان میں سے ایک نے بزرگ باراتی سے پوچھا کہ چاچا جی! کوئی تدبیر سوچیے۔ بوڑھے چاچے نے سوچ کر کہا کہ ٹھیک ہے۔ شرط منظور کر لو مگر ایک شرط تم بھی رکھو کہ دس بھُنے ہوئے بکرے دسترخوان پر اکٹھے نہیں رکھے جائیں گے۔ ایک ایک بکرا لایا جائے گا۔ جب اسے کھا چکیں گے تب اگلا بکرا پیش کیا جائے گا۔ لڑکی والوں نے جوابی شرط مان لی۔ چاچے کی تدبیر کارگر نکلی۔ ایک ایک بکرا آتا گیا اور باراتی چٹ کرتے گئے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ایک روٹی کھانے والا شخص جب دوستوں رشتہ داروں کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہے اور روٹی ایک ایک کر کے پیش کی جاتی ہے تو بہت زیادہ کھائی جاتی ہیں۔ ایک روٹی کھانے والا دو تین کھا جاتا ہے۔
بے برکت ہے وہ گھر جس میں کوئی بزرگ نہ ہو۔ پی ایچ ڈی نوجوان کے مقابلے میں نیم تعلیم یافتہ بابا یا چاچا یا ماما بگڑے ہوئے معاملات کو بہتر طور پر سلجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بے برکت ہے وہ محلہ جس میں بوڑھے نہ ہوں۔ جھگڑے ختم کرانا ان کیلئے نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ بے برکت ہے وہ ملک جس کے پاس آزمودہ کار سیاستدان نہ ہوں۔ سیاست اور حکومت میں ایک عمر گزارنے والے سیاستدان گرداب میں پھنسی کشتی کو نکالنے کا ہنر جانتے ہیں۔ تجربوں کی بھٹی انہیں کندن بنا چکی ہوتی ہے۔ حکومتِ وقت جب کسی مشکل میں ہوتی ہے تو ان تجربہ کار بوڑھے سیاستدانوں سے مشورہ کرتی ہے‘ ان کی بات غور سے سنتی ہے اور با مراد ہوتی ہے۔ اس وقت ملائیشیا اور پاکستان دو ایسے خوش قسمت ملک ہیں جہاں تجربہ کار سیاستدان موجود ہیں۔ اوّل الذکر میں جناب مہاتیر محمد! اور پاکستان میں ہمارے محبوب قائد! جو کئی بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ عمر 76برس ہے اور تجربہ کم و بیش پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے۔ صوبے اور وفاق دونوں میں بلند ترین مناصب پر رہ چکے ہیں! ان کا مقام اس وقت ایک بزرگ قائد کا ہے۔ اہلِ پاکستان خوش بخت ہیں کہ وہ ہر کڑے وقت میں قوم کے کام آتے ہیں۔ تجربے اور تدبر کا یہی تو فائدہ ہے۔
اس وقت ملک کی کشتی بھنور میں ہچکولے کھا رہی ہے۔ بلوچستان میں حالات خطرناک حد تک خراب ہیں۔ عوام وہاں کے برا فروختہ ہیں‘ امن و امان عنقا ہو چکا۔ بھارت اور افغانستان دونوں اس صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ افغانستان سے مسلسل دراندازی دوسرا بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے شہری‘ فوجی اور پولیس کے جوان شہید ہو رہے ہیں۔ معاشی طور پر ہم آئی ایم ایف کے پنجے میں بری طرح جکڑے ہو ئے ہیں۔ ہمارا دیرینہ دوست سعودی عرب حوثیوں کی جارحیت کا شکار ہے۔ ایران امریکہ جنگ ختم نہیں ہوئی‘ چنگاری کسی وقت بھی دوبارہ آگ بھڑکا سکتی ہے۔ عوام میں اضطراب ہے‘ بے چینی ہے۔ مگر الحمدللہ! تین بار حکمرانی کا‘ بلکہ جہانبانی کا تجربہ رکھنے والے ہمارے محبوب قائد ہم میں موجود ہیں۔ آپ ان درپیش مسائل کے حل کیلئے راتوں کو جاگ رہے ہیں اور دن بھر سفارتکاروں‘ سیاستدانوں اور ماہرینِ معیشت کی آرا سنتے اور تجزیہ کرتے ہیں۔ سب سے بڑا قدم آپ نے اس ضمن میں یہ اٹھایا کہ بسنت کے انعقاد اور حتمی تاریخ کے اعلان کے حوالے سے ہونے والے اجلاس کی صدارت فرمائی۔ پتنگ‘ ڈور اور گڈی کے نمونے دیکھے۔ اس اہم اجلاس میں کائٹ فلائنگ کی مختلف ایسوسی ایشنوں کو بھی بلایا گیا مگر انہیں ملاقات کے بغیر واپس بھیج دیا گیا۔ یہ مشاورت 2027ء کی بسنت کے حوالے سے تھی۔ ملک کے وسیع تر مفاد میں قائد نے 2026ء کی بسنت بھی اندرون شہر منائی تھی۔ انہوں نے چھت پر بیٹھ کر اُڑتی پتنگوں کا نظارہ کیا ‘ ڈور اور گڈے کو پکڑا تھا۔ ڈور کی تعریف کی تھی۔ اس موقع پر مہمانوں کے سامنے ہریسہ‘ مٹن چنے‘ انڈوں کا حلوہ اور مٹن پلاؤ پیش کیے گئے تھے۔ ہماری اطلاع کے مطابق‘ مبینہ طور پر‘ تحریک پاکستان کے شیدائی اور قائداعظم سے محبت کرنے میں پیش پیش‘ سینیٹر پرویز رشید بھی اس اہم اور تاریخی موقع پر موجود تھے۔ مگر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ قائد کے پسندیدہ پتنگ ساز جناب اشرف پیدی اس اہم موقع پر موجود تھے یا نہیں۔ یاد رہے کہ قائد محترم ایسے کاریگروں کی ہمیشہ افزائی کرتے ہیں۔ ہمارے ایک سابق سفارتکار کی ایک تصنیف کے مطابق محترم قائد نے‘ جب وہ وزیراعظم تھے‘ اپنے پسندیدہ کبابچی کو ترکی سے بلا کر سرکاری مہمان کے طور پر رکھا تھا۔
ملک کی کشتی کو گرداب سے نکالنے کیلئے محترم قائد عالمی سطح پر بھی کوشش کر رہے ہیں۔ تھوڑا عرصہ پہلے وہ اسی سلسلے میں‘ ایک سپیشل طیارے میں سنگا پور تشریف لے گئے۔ قائد بخوبی جانتے ہیں کہ عالمی سیاست کا مرکز لندن ہے۔ یوں تو قائد سوئٹزر لینڈ بھی جاتے رہتے ہیں مگر ملک کے مسائل حل کرنے کیلئے سب سے زیادہ ان کا دورہ لندن کا ہوتا ہے۔ کچھ عقل کے اندھے الزام لگاتے ہیں کہ زندگی ان کیلئے پکنک سے زیادہ کچھ نہیں اور یہ کہ وہ حکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر‘ لندن کے دورے بہت زیادہ کرتے ہیں اور وہاں ان کا قیام طویل بھی ہو جاتا ہے۔ مگر یہ محض مخالفین کا پروپیگنڈا ہے۔ کے پی اور بلو چستان کے حالات کے تناظر میں‘ تین دن پہلے وہ ایک بار پھر لندن تشریف لے گئے ہیں۔
ہفتہ ڈیڑھ پہلے قائد نے مری میں ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں مری کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ کچھ کم نظر مخالفین نے اس پر گرہ لگائی کہ قائد محترم کو صرف لا ہور‘ رائیونڈ اور مری میں دلچسپی ہے اس لیے کہ ان کے قیمتی اور عالیشان محلات انہی شہروں میں واقع ہیں اور وہ رائیونڈ کے علاوہ صرف مری میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ اور یہ کہ ملک کے کسی اور حصے یا شہر کی ترقی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں۔ حالانکہ یہ سفید جھوٹ ہے۔ وہ ملک کے ہر حصے میں جاتے ہیں۔ مری کے ترقیاتی منصوبوں سے پہلے انہوں نے ملک‘ خصوصاً پنجاب کے تمام اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا اور اجلاسوں کی صدارت کی۔ ملک کیلئے وہ اپنے تجربے کی روشنی میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔ خدا ان کا سایہ ملک و قوم پر ہمیشہ رکھے۔
بے برکت ہے وہ گھر جس میں کوئی بزرگ نہ ہو۔ پی ایچ ڈی نوجوان کے مقابلے میں نیم تعلیم یافتہ بابا یا چاچا یا ماما بگڑے ہوئے معاملات کو بہتر طور پر سلجھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بے برکت ہے وہ محلہ جس میں بوڑھے نہ ہوں۔ جھگڑے ختم کرانا ان کیلئے نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ بے برکت ہے وہ ملک جس کے پاس آزمودہ کار سیاستدان نہ ہوں۔ سیاست اور حکومت میں ایک عمر گزارنے والے سیاستدان گرداب میں پھنسی کشتی کو نکالنے کا ہنر جانتے ہیں۔ تجربوں کی بھٹی انہیں کندن بنا چکی ہوتی ہے۔ حکومتِ وقت جب کسی مشکل میں ہوتی ہے تو ان تجربہ کار بوڑھے سیاستدانوں سے مشورہ کرتی ہے‘ ان کی بات غور سے سنتی ہے اور با مراد ہوتی ہے۔ اس وقت ملائیشیا اور پاکستان دو ایسے خوش قسمت ملک ہیں جہاں تجربہ کار سیاستدان موجود ہیں۔ اوّل الذکر میں جناب مہاتیر محمد! اور پاکستان میں ہمارے محبوب قائد! جو کئی بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ عمر 76برس ہے اور تجربہ کم و بیش پانچ دہائیوں پر مشتمل ہے۔ صوبے اور وفاق دونوں میں بلند ترین مناصب پر رہ چکے ہیں! ان کا مقام اس وقت ایک بزرگ قائد کا ہے۔ اہلِ پاکستان خوش بخت ہیں کہ وہ ہر کڑے وقت میں قوم کے کام آتے ہیں۔ تجربے اور تدبر کا یہی تو فائدہ ہے۔
اس وقت ملک کی کشتی بھنور میں ہچکولے کھا رہی ہے۔ بلوچستان میں حالات خطرناک حد تک خراب ہیں۔ عوام وہاں کے برا فروختہ ہیں‘ امن و امان عنقا ہو چکا۔ بھارت اور افغانستان دونوں اس صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ افغانستان سے مسلسل دراندازی دوسرا بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے شہری‘ فوجی اور پولیس کے جوان شہید ہو رہے ہیں۔ معاشی طور پر ہم آئی ایم ایف کے پنجے میں بری طرح جکڑے ہو ئے ہیں۔ ہمارا دیرینہ دوست سعودی عرب حوثیوں کی جارحیت کا شکار ہے۔ ایران امریکہ جنگ ختم نہیں ہوئی‘ چنگاری کسی وقت بھی دوبارہ آگ بھڑکا سکتی ہے۔ عوام میں اضطراب ہے‘ بے چینی ہے۔ مگر الحمدللہ! تین بار حکمرانی کا‘ بلکہ جہانبانی کا تجربہ رکھنے والے ہمارے محبوب قائد ہم میں موجود ہیں۔ آپ ان درپیش مسائل کے حل کیلئے راتوں کو جاگ رہے ہیں اور دن بھر سفارتکاروں‘ سیاستدانوں اور ماہرینِ معیشت کی آرا سنتے اور تجزیہ کرتے ہیں۔ سب سے بڑا قدم آپ نے اس ضمن میں یہ اٹھایا کہ بسنت کے انعقاد اور حتمی تاریخ کے اعلان کے حوالے سے ہونے والے اجلاس کی صدارت فرمائی۔ پتنگ‘ ڈور اور گڈی کے نمونے دیکھے۔ اس اہم اجلاس میں کائٹ فلائنگ کی مختلف ایسوسی ایشنوں کو بھی بلایا گیا مگر انہیں ملاقات کے بغیر واپس بھیج دیا گیا۔ یہ مشاورت 2027ء کی بسنت کے حوالے سے تھی۔ ملک کے وسیع تر مفاد میں قائد نے 2026ء کی بسنت بھی اندرون شہر منائی تھی۔ انہوں نے چھت پر بیٹھ کر اُڑتی پتنگوں کا نظارہ کیا ‘ ڈور اور گڈے کو پکڑا تھا۔ ڈور کی تعریف کی تھی۔ اس موقع پر مہمانوں کے سامنے ہریسہ‘ مٹن چنے‘ انڈوں کا حلوہ اور مٹن پلاؤ پیش کیے گئے تھے۔ ہماری اطلاع کے مطابق‘ مبینہ طور پر‘ تحریک پاکستان کے شیدائی اور قائداعظم سے محبت کرنے میں پیش پیش‘ سینیٹر پرویز رشید بھی اس اہم اور تاریخی موقع پر موجود تھے۔ مگر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ قائد کے پسندیدہ پتنگ ساز جناب اشرف پیدی اس اہم موقع پر موجود تھے یا نہیں۔ یاد رہے کہ قائد محترم ایسے کاریگروں کی ہمیشہ افزائی کرتے ہیں۔ ہمارے ایک سابق سفارتکار کی ایک تصنیف کے مطابق محترم قائد نے‘ جب وہ وزیراعظم تھے‘ اپنے پسندیدہ کبابچی کو ترکی سے بلا کر سرکاری مہمان کے طور پر رکھا تھا۔
ملک کی کشتی کو گرداب سے نکالنے کیلئے محترم قائد عالمی سطح پر بھی کوشش کر رہے ہیں۔ تھوڑا عرصہ پہلے وہ اسی سلسلے میں‘ ایک سپیشل طیارے میں سنگا پور تشریف لے گئے۔ قائد بخوبی جانتے ہیں کہ عالمی سیاست کا مرکز لندن ہے۔ یوں تو قائد سوئٹزر لینڈ بھی جاتے رہتے ہیں مگر ملک کے مسائل حل کرنے کیلئے سب سے زیادہ ان کا دورہ لندن کا ہوتا ہے۔ کچھ عقل کے اندھے الزام لگاتے ہیں کہ زندگی ان کیلئے پکنک سے زیادہ کچھ نہیں اور یہ کہ وہ حکومت میں ہوں یا حکومت سے باہر‘ لندن کے دورے بہت زیادہ کرتے ہیں اور وہاں ان کا قیام طویل بھی ہو جاتا ہے۔ مگر یہ محض مخالفین کا پروپیگنڈا ہے۔ کے پی اور بلو چستان کے حالات کے تناظر میں‘ تین دن پہلے وہ ایک بار پھر لندن تشریف لے گئے ہیں۔
ہفتہ ڈیڑھ پہلے قائد نے مری میں ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں مری کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ کچھ کم نظر مخالفین نے اس پر گرہ لگائی کہ قائد محترم کو صرف لا ہور‘ رائیونڈ اور مری میں دلچسپی ہے اس لیے کہ ان کے قیمتی اور عالیشان محلات انہی شہروں میں واقع ہیں اور وہ رائیونڈ کے علاوہ صرف مری میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ اور یہ کہ ملک کے کسی اور حصے یا شہر کی ترقی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں۔ حالانکہ یہ سفید جھوٹ ہے۔ وہ ملک کے ہر حصے میں جاتے ہیں۔ مری کے ترقیاتی منصوبوں سے پہلے انہوں نے ملک‘ خصوصاً پنجاب کے تمام اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا اور اجلاسوں کی صدارت کی۔ ملک کیلئے وہ اپنے تجربے کی روشنی میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔ خدا ان کا سایہ ملک و قوم پر ہمیشہ رکھے۔
بارات روانہ ہونی تھی۔ عجیب بات یہ تھی کہ تمام باراتی نوجوان تھے۔ نوجوانوں کی ضد تھی کہ وہ کافی ہیں اور لڑکی کو رخصت کرا کے لے آئیں گے۔ کسی نے پند دی کہ بیوقوفوں والی ضد نہ کرو۔ کسی عمر رسیدہ‘ باراں دیدہ‘ سرد و گرم چشیدہ‘ چِٹ داڑھیے کو ساتھ لے جاؤ۔ مانا کہ خون گرم ہے مگر گرم خون تجربے کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ بوڑھا آدمی مصیبت میں کام آئے گا۔ نوجوانوں نے بادل نخواستہ بات مان لی اور ایک بزرگ کو ساتھ لے لیا۔ لڑکی والوں کے ہاں پہنچے تو انہوں نے لڑکی کی رخصتی کیلئے شرط رکھ دی کہ باراتی دس بکرے کھائیں گے تو لڑکی ساتھ بھیجیں گے ورنہ نہیں! نوجوانوں کے ہوش اُڑ گئے۔ ساری خود اعتمادی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔ باراتیوں کی جو تعداد تھی اس کیلئے دس بکرے کھانا ناممکن نظر آرہا تھا۔ تب ان میں سے ایک نے بزرگ باراتی سے پوچھا کہ چاچا جی! کوئی تدبیر سوچیے۔ بوڑھے چاچے نے سوچ کر کہا کہ ٹھیک ہے۔ شرط منظور کر لو م…
بارات روانہ ہونی تھی۔ عجیب بات یہ تھی کہ تمام باراتی نوجوان تھے۔ نوجوانوں کی ضد تھی کہ وہ کافی ہیں اور لڑکی کو رخصت کرا کے لے آئیں گے۔ کسی نے پند دی کہ بیوقوفوں والی ضد نہ کرو۔ کسی عمر رسیدہ‘ باراں دیدہ‘ سرد و گرم چشیدہ‘ چِٹ داڑھیے کو ساتھ لے جاؤ۔ مانا کہ خون گرم ہے مگر گرم خون تجربے کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ بوڑھا آدمی مصیبت میں کام آئے گا۔ نوجوانوں نے بادل نخواستہ بات مان لی اور ایک بزرگ کو س…
مسائل کیوں نہیں حل ہو رہے؟ … (2)
اکتوبر 08, 2026
کالم
کالم
چوتھا بڑا مسئلہ جو مصیبت بن کر ہمارے ساتھ چپکا ہوا ہے‘ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ ہم بکری کی حفاظت کیلئے شیر کو بھرتی کرتے ہیں۔ چھیچھڑوں پر بلی کو پہریدار بناتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کی کئی خوفناک مثالیں ہیں۔ بیوروکریسی کی اصلاحات کیلئے ہر حکومت میں کمیشن بنتے رہے ہیں۔ تقریباً ہر بار ڈاکٹر عشرت حسین جیسے شخص کو کمیشن کا چیئرمین بنایا جاتا ہے۔ وہ بیورو کریسی سے نکل گئے مگر بیوروکریسی ان کے اندر سے نہ نکلی۔ جیسے ایک نیم سیاسی‘ نیم مذہبی جماعت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بندہ اس میں سے نکل جاتا ہے مگر وہ بندے میں سے نہیں نکلتی۔ میرے جیسا شخص گاؤں سے نکلتا ہے مگر گاؤں اس میں سے نہیں نکلتا۔ ڈاکٹر عشرت حسین واقعی قابل شخص ہیں‘ مگر ہیں اصلاً بیورو کریٹ!! چینی کا مسئلہ دیکھ لیجیے۔ صرف شوگر مافیا کہنے سے مسئلہ نہیں حل ہو گا۔ ہر سال یہ کھیل کھیلا جاتا ہے۔ پہلے چینی برآمد ہوتی ہے‘ پھر درآمد کی جاتی ہے۔ چینی مافیا کے ارکان کو اربوں کا فائدہ ہوتا ہے۔ عام صارف لہو لہان ہو جاتا ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ فیصلے کرنے میں وہ طاقتور لوگ شامل ہوتے ہیں جن کے چینی کے کارخانے ہیں! انصاف یا عوامی مفاد سے ان کا تعلق اتنا ہی ہے جتنا پوپ کا اسلام سے ہے! انہوں نے فیصلہ اپنے حق میں کرنا ہے اور کرتے رہیں گے۔ سب سے زیادہ ہولناک اور عبرتناک مثال بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں (آئی پی پیز) کی ہے۔ ذرا تھوڑی سی تکلیف کر کے دیکھیے یہ کمپنیاں کن کن افراد کی ہیں؟ یہ انہی اربابِ قضا و قدر کی ملکیت میں ہیں جو اس سلسلے میں پالیسیاں بناتے ہیں اور فیصلے صادر کرتے ہیں۔ کیا کوئی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار ے گا؟ کیا اپنے بچوں اور اپنے اعزہ و اقربا کے خلاف فیصلے کرے گا؟ آپ نے سینکڑوں بار پڑھا اور سنا ہو گا کہ پولیس کے ملازموں سے جرم سرزد ہو تو پولیس ہی کے افراد انکوائری پر مقرر کیے جاتے ہیں۔ مفادات کے ٹکراؤ کی بدترین مثال سالِ رواں کے جون میں سپریم جوڈیشل کونسل کا وہ فیصلہ ہے جو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک جج کے خلاف دائر کی گئی شکایت پر کیا گیا تھا۔ اخبارات میں شائع شدہ تفصیل کے مطابق معروف وکیل کرنل (ر) انعام الرحیم نے سپریم جوڈیشل کونسل کے حضور کیس دائر کیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فلاں جج کا سو لہ سالہ بیٹا ایک بڑی گاڑی (ایس یو وی) چلارہا تھا کہ دو لڑکیاں اس کی گاڑی کے نیچے آکر ہلاک ہو گئیں۔ مگر جج نے اپنی سرکاری پوزیشن کا غلط استعمال کر کے اور دباؤ ڈال کر بیٹے کو بچا لیا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے یہ درخواست خارج کر دی لیکن خارج کرنے کی وجوہات نہ بتائیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان ججوں پر ہی مشتمل ہوتے ہیں۔ بے حسی کی انتہا دیکھیے کہ شکایت وجہ بتائے بغیر خارج کرنے کی یہ خبر روزنامہ دنیا کے علاوہ کسی اردو اخبار نے شائع ہی نہیں کی۔ مفادات کا ٹکراؤ ہمیں ہر جگہ اس ملک کو پیچھے دھکیلتا نظر آتا ہے۔ بدقسمتی سے صنعتی پالیسی کی تشکیل میں صنعتکار بیٹھے ہوتے ہیں۔ زرعی پالیسی بنانے میں وہ وزیر شامل ہوتے ہیں جو خود وڈیرے ہیں۔ اگر یہی ہوتا رہا تو یہ ملک مافیاز اور گروہوں کے ہاتھوں میں یرغمال ہی رہے گا۔
پانچواں بڑا مسئلہ سزاؤں کا نہ ہونا ہے یا سزاؤں کا بہت کم ہونا ہے۔ آپ چاہیں تو اس مسئلے کو نظامِ عدل سے ملا لیں یا انتظامیہ سے‘ جس میں پولیس شامل ہے۔ طاقتوروں کیلئے سزاؤں کا وجود ہی نہیں۔ اگر آپ وڈیرے ہیں یا سیاستدان یا بلوچ سردار تو قتل ایک نہیں کئی کریں‘ آپ کا بال بھی کوئی نہیں بیکا کر سکتا۔ منصفوں کی اولاد کو کھلی چھٹی ہے کہ غریبوں کے بچوں کو قیمتی گاڑیوں کے نیچے کچل دیں۔ کراچی میں ایک بڑے برانڈ والوں کی بہو نے آدھی فیملی مار دی۔ کوئی سزا نہیں ملی۔ طاقتور حکمران کے نواسے کو چھوڑ دیا گیا۔ ظاہر جعفر صاحب زندہ و سلامت ہیں۔ ایک نہیں کئی ظاہر جعفر جرم کر کے کھلے دندناتے پھر رہے ہیں۔ بے شمار ایسی مثالیں ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ من حیث القوم ہماری ہلاکت کا فیصلہ آسمانوں میں ہو چکا ہے۔ ''تم سے پہلی قومیں اس لیے برباد ہوئیں جب ان کا کوئی بڑا جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی سا آدمی جرم کرتا تو اسے سزا دی جاتی‘‘۔ یہ جو نام نہاد دہشت گردی ہے‘ یہ جو بلوچستان کی صورتحال ہے‘ یہ جو مہنگائی کا عفریت منہ پھاڑے کھڑا ہے‘ یہ جو ہر مرد اور ہر عورت ملک سے بھاگنا چاہتے ہیں‘ یہ سب ہلاکت کے پیش خیمے ہیں۔ چیلنج ہے کہ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کسی کچہری سے زمین یا مکان کا انتقال رشوت دیے بغیر کرا کے دکھا دیں۔ ترقیاتی اداروں سے مکان کا نقشہ رشوت دیے بغیر پاس کرا کے دکھا دیجیے۔ حکمرانوں کی ناک کے عین نیچے جرائم ہو رہے ہیں۔ لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ کوئی سزا نہیں۔ جہاں سزائیں موجود ہیں وہاں سزائیں بہت کم ہیں۔ سزاؤں کا کم ہونا جرائم کا خاتمہ نہیں کر سکتا۔ لاکھوں لوگ ٹرالیوں‘ ٹریکٹروں اور ڈمپروں کے نیچے کچلے جا چکے ہیں۔ یہ کالم نگار اس قتلِ عام کے خلاف کئی کالم لکھ چکا۔ سوائے حافظ نعیم صاحب کے کسی سیاستدان نے اس بربریت کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ ان ڈرائیوروں کو کوئی سزا نہیں ملتی۔ ہمارے ملک میں دنیا کا بدترین ٹریفک سسٹم ہے۔ اس لیے کہ سزائیں کم ہیں۔ چالان ہوتا ہے تو چند سو کی رقم کا جرمانہ ہوتا ہے۔ ایک قریبی عزیزہ کا امریکہ میں چالان ہوا تو چار سو ڈالر کی سزا ملی۔ ہوش ٹھکانے آ گئے۔ بڑے بڑے مجرم بھاؤ تاؤ کر کے بچ جاتے ہیں۔ اربوں کی لوٹ مار ہے تو چند کروڑ واپس دے کر باقی زندگی آزاد پھرتے ہیں۔
کیا یہی پانچ مسائل ہیں جو ہمیں لاحق ہیں؟ نہیں! قارئین حق بجانب ہوں گے اگر کہیں کہ مسائل کے تو انبار لگے ہیں۔ مولانا ظفر علی خان یاد آ گئے:
حذر ہیں اور بھی واجب مگر کہاں تک میں
بتائے جاؤں گا تم کو فلاں فلاں سے بچو
مگر کہیں سے تو تطہیر کی ابتدا ہونی ہے۔ مندرجہ بالا پانچ مسائل ہی حل کر دیجیے تو بہت سے دیگر مسئلے خود ہی ان کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ ایک غلط کار شخص ایک بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اصلاح کی گزارش کی۔ حضرت نے صرف اتنا فرمایا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔ کہنے لگا جی بہتر! یہ کون سا مشکل کام ہے‘ مگر دو چار دن میں بے شمار عاداتِ بد چھوڑنا پڑیں۔ یہ رقم کہاں سے آئی ہے؟ رات کہاں تھے؟ ڈاکا مارا؟ جھوٹ بول نہیں سکتا تھا۔ جرائم سے بھی توبہ کر لی۔ تین چار مسئلوں کا خاتمہ بھی بڑی بات ہے۔ مگر طوطی کی آواز نقار خانے میں کس نے سننی ہے۔ میں نے لکھ دیا۔ آپ نے پڑھ لیا۔ مسائل کا حل جن کی جیب میں ہے وہ کہاں پڑھیں گے۔ کسی نے غلطی سے پڑھ بھی لیا تو زہر خند کے ساتھ لکھے کو دیوانے کی بڑ قرار دیں گے! اقتدار کی کرسی دنیا کی بہترین لکڑی سے بھی بنائیں تو بھی اسے گھمنڈ کی دیمک ضرور لگتی ہے! اس کرسی پر بیٹھنے والوں کی آنکھوں میں ناقابلِ علاج قسم کا موتیا اُتر آجاتا ہے جس کے کارن انہیں ہر طرف اپنی ہی تصویر نظر آتی ہے۔ پھولوں کے ہار سے لدی ہوئی تصویر! مگر تا بکے؟ کب تک؟ تم ایک جہاز سے اترتے ہو تو دوسرا منتظر ہوتا ہے۔ تمہارے دسترخوانوں پر ماکولات اور مشروبات کا شمار ہی ممکن نہیں جبکہ خلقِ خدا علاج کیلئے‘ روٹی کیلئے‘ انصاف کیلئے ترس رہی ہے۔ آہ!! ''مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے‘‘۔ (الشعرا)
پانچواں بڑا مسئلہ سزاؤں کا نہ ہونا ہے یا سزاؤں کا بہت کم ہونا ہے۔ آپ چاہیں تو اس مسئلے کو نظامِ عدل سے ملا لیں یا انتظامیہ سے‘ جس میں پولیس شامل ہے۔ طاقتوروں کیلئے سزاؤں کا وجود ہی نہیں۔ اگر آپ وڈیرے ہیں یا سیاستدان یا بلوچ سردار تو قتل ایک نہیں کئی کریں‘ آپ کا بال بھی کوئی نہیں بیکا کر سکتا۔ منصفوں کی اولاد کو کھلی چھٹی ہے کہ غریبوں کے بچوں کو قیمتی گاڑیوں کے نیچے کچل دیں۔ کراچی میں ایک بڑے برانڈ والوں کی بہو نے آدھی فیملی مار دی۔ کوئی سزا نہیں ملی۔ طاقتور حکمران کے نواسے کو چھوڑ دیا گیا۔ ظاہر جعفر صاحب زندہ و سلامت ہیں۔ ایک نہیں کئی ظاہر جعفر جرم کر کے کھلے دندناتے پھر رہے ہیں۔ بے شمار ایسی مثالیں ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ من حیث القوم ہماری ہلاکت کا فیصلہ آسمانوں میں ہو چکا ہے۔ ''تم سے پہلی قومیں اس لیے برباد ہوئیں جب ان کا کوئی بڑا جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی سا آدمی جرم کرتا تو اسے سزا دی جاتی‘‘۔ یہ جو نام نہاد دہشت گردی ہے‘ یہ جو بلوچستان کی صورتحال ہے‘ یہ جو مہنگائی کا عفریت منہ پھاڑے کھڑا ہے‘ یہ جو ہر مرد اور ہر عورت ملک سے بھاگنا چاہتے ہیں‘ یہ سب ہلاکت کے پیش خیمے ہیں۔ چیلنج ہے کہ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کسی کچہری سے زمین یا مکان کا انتقال رشوت دیے بغیر کرا کے دکھا دیں۔ ترقیاتی اداروں سے مکان کا نقشہ رشوت دیے بغیر پاس کرا کے دکھا دیجیے۔ حکمرانوں کی ناک کے عین نیچے جرائم ہو رہے ہیں۔ لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ کوئی سزا نہیں۔ جہاں سزائیں موجود ہیں وہاں سزائیں بہت کم ہیں۔ سزاؤں کا کم ہونا جرائم کا خاتمہ نہیں کر سکتا۔ لاکھوں لوگ ٹرالیوں‘ ٹریکٹروں اور ڈمپروں کے نیچے کچلے جا چکے ہیں۔ یہ کالم نگار اس قتلِ عام کے خلاف کئی کالم لکھ چکا۔ سوائے حافظ نعیم صاحب کے کسی سیاستدان نے اس بربریت کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔ ان ڈرائیوروں کو کوئی سزا نہیں ملتی۔ ہمارے ملک میں دنیا کا بدترین ٹریفک سسٹم ہے۔ اس لیے کہ سزائیں کم ہیں۔ چالان ہوتا ہے تو چند سو کی رقم کا جرمانہ ہوتا ہے۔ ایک قریبی عزیزہ کا امریکہ میں چالان ہوا تو چار سو ڈالر کی سزا ملی۔ ہوش ٹھکانے آ گئے۔ بڑے بڑے مجرم بھاؤ تاؤ کر کے بچ جاتے ہیں۔ اربوں کی لوٹ مار ہے تو چند کروڑ واپس دے کر باقی زندگی آزاد پھرتے ہیں۔
کیا یہی پانچ مسائل ہیں جو ہمیں لاحق ہیں؟ نہیں! قارئین حق بجانب ہوں گے اگر کہیں کہ مسائل کے تو انبار لگے ہیں۔ مولانا ظفر علی خان یاد آ گئے:
حذر ہیں اور بھی واجب مگر کہاں تک میں
بتائے جاؤں گا تم کو فلاں فلاں سے بچو
مگر کہیں سے تو تطہیر کی ابتدا ہونی ہے۔ مندرجہ بالا پانچ مسائل ہی حل کر دیجیے تو بہت سے دیگر مسئلے خود ہی ان کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ ایک غلط کار شخص ایک بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اصلاح کی گزارش کی۔ حضرت نے صرف اتنا فرمایا کہ جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔ کہنے لگا جی بہتر! یہ کون سا مشکل کام ہے‘ مگر دو چار دن میں بے شمار عاداتِ بد چھوڑنا پڑیں۔ یہ رقم کہاں سے آئی ہے؟ رات کہاں تھے؟ ڈاکا مارا؟ جھوٹ بول نہیں سکتا تھا۔ جرائم سے بھی توبہ کر لی۔ تین چار مسئلوں کا خاتمہ بھی بڑی بات ہے۔ مگر طوطی کی آواز نقار خانے میں کس نے سننی ہے۔ میں نے لکھ دیا۔ آپ نے پڑھ لیا۔ مسائل کا حل جن کی جیب میں ہے وہ کہاں پڑھیں گے۔ کسی نے غلطی سے پڑھ بھی لیا تو زہر خند کے ساتھ لکھے کو دیوانے کی بڑ قرار دیں گے! اقتدار کی کرسی دنیا کی بہترین لکڑی سے بھی بنائیں تو بھی اسے گھمنڈ کی دیمک ضرور لگتی ہے! اس کرسی پر بیٹھنے والوں کی آنکھوں میں ناقابلِ علاج قسم کا موتیا اُتر آجاتا ہے جس کے کارن انہیں ہر طرف اپنی ہی تصویر نظر آتی ہے۔ پھولوں کے ہار سے لدی ہوئی تصویر! مگر تا بکے؟ کب تک؟ تم ایک جہاز سے اترتے ہو تو دوسرا منتظر ہوتا ہے۔ تمہارے دسترخوانوں پر ماکولات اور مشروبات کا شمار ہی ممکن نہیں جبکہ خلقِ خدا علاج کیلئے‘ روٹی کیلئے‘ انصاف کیلئے ترس رہی ہے۔ آہ!! ''مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے‘‘۔ (الشعرا)
چوتھا بڑا مسئلہ جو مصیبت بن کر ہمارے ساتھ چپکا ہوا ہے‘ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ ہم بکری کی حفاظت کیلئے شیر کو بھرتی کرتے ہیں۔ چھیچھڑوں پر بلی کو پہریدار بناتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کی کئی خوفناک مثالیں ہیں۔ بیوروکریسی کی اصلاحات کیلئے ہر حکومت میں کمیشن بنتے رہے ہیں۔ تقریباً ہر بار ڈاکٹر عشرت حسین جیسے شخص کو کمیشن کا چیئرمین بنایا جاتا ہے۔ وہ بیورو کریسی سے نکل گئے مگر بیوروکریسی ان کے اندر سے نہ نکلی۔ جیسے ایک نیم سیاسی‘ نیم مذہبی جماعت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بندہ اس میں سے نکل جاتا ہے مگر وہ بندے میں سے نہیں نکلتی۔ میرے جیسا شخص گاؤں سے نکلتا ہے مگر گاؤں اس میں سے نہیں نکلتا۔ ڈاکٹر عشرت حسین واقعی قابل شخص ہیں‘ مگر ہیں اصلاً بیورو کریٹ!! چینی کا مسئلہ دیکھ لیجیے۔ صرف شوگر مافیا کہنے سے مسئلہ نہیں حل ہو گا۔ ہر سال یہ کھیل کھیلا جاتا ہے۔ پہلے چینی برآمد ہوتی ہے‘ پھر درآمد کی جاتی ہے۔ چینی…
چوتھا بڑا مسئلہ جو مصیبت بن کر ہمارے ساتھ چپکا ہوا ہے‘ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ ہم بکری کی حفاظت کیلئے شیر کو بھرتی کرتے ہیں۔ چھیچھڑوں پر بلی کو پہریدار بناتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کی کئی خوفناک مثالیں ہیں۔ بیوروکریسی کی اصلاحات کیلئے ہر حکومت میں کمیشن بنتے رہے ہیں۔ تقریباً ہر بار ڈاکٹر عشرت حسین جیسے شخص کو کمیشن کا چیئرمین بنایا جاتا ہے۔ وہ بیورو کریسی سے نکل گئے مگر بیوروکریسی ان کے اندر سے نہ نکلی۔ ج…
مسائل کیوں نہیں حل ہو رہے؟
اکتوبر 06, 2026
کالم
کالم
مسئلہ یہ نہیں کہ کس کی حکومت ہے اور کس کی حکومت ہو گی؟ مسئلہ یہ نہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے یا پیپلز پارٹی کی یا عمران خان کی! یا کسی اور کی! مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جن مصیبتوں میں پھنسا ہے اور جس دلدل میں گلے تک دھنس چکا ہے‘ اُن مصیبتوں سے نکالنا ان میں سے کسی کے بس کی بات نہیں! اس لیے کہ ان میں سے کسی کو اُن مصیبتوں کا ادراک ہی نہیں! ادراک کیسے ہو! ادراک اُن حکمرانوں کو ہوتا ہے جنہیں قوم کے غم میں راتوں کو نیند نہیں آتی! جو بے لوث ہوتے ہیں۔ بے غرض ہوتے ہیں۔ جو اقربا پرور نہیں ہوتے۔ جو دوست نوازی (Cronyism) سے بچتے ہیں۔ جو مہاتیر کی طرح ہوتے ہیں۔ جو سنگاپور کے لی کی طرح ہوتے ہیں‘ جن کی نگاہیں دور تک دیکھتی ہیں۔ جو پچاس‘ سو سال آگے دیکھتے ہیں۔ لیڈر شپ قربانی مانگتی ہے۔ ہمیں قربانی دینے والا لیڈر قائداعظم کے بعد کوئی نہیں ملا۔ کیا جذبہ تھا اور کیا اعصاب تھے! جان لیوا مرض کو چھپا کر رکھا اور پہاڑ جیسی ثابت قدمی سے ایک ملک بنایا۔ ایک قوم پیدا کی! تاریخ میں قائداعظم محمد علی جناح کا مقام بلند ہے۔ وہ پورے قد کے ساتھ کھڑے ہیں! رہے مخالفین! تو شورش کاشمیری نے کہا تھا:
شورش ترے خلاف زمانہ ہوا تو کیا
کچھ لوگ اس جہاں میں خدا کیخلاف ہیں
رومی سے یہ قول منسوب ہے کہ ہم نے مغز لے لیا اور:
استخواں پیشِ سگاں انداختیم۔ ہڈیاں کتوں کے آگے ڈال دیں!
قائداعظم کو خلّاق ازل نے جس کام کیلئے چنا تھا وہ کر گئے اور مخالفین کو اس کام پر لگا گئے کہ کڑھتے‘ سلگتے اور تڑپتے رہیں! کلام پاک میں ہے کہ '' موتوا بغیظکم‘‘ اپنے غصے میں آپ ہی جل مرو۔ پاکستان مسائل میں گرفتار ہے۔ مصیبتوں میں پھنسا ہوا ہے۔ باصلاحیت لیڈر شپ دور دور تک نہیں نظر آرہی ورنہ یہ مسائل ایسے نہیں جو حل نہ ہو سکیں! سب سے بڑا مسئلہ آبادی کا بم ہے جو ہمارے سر پر کھڑا ہے۔ کسی حکومت نے بھی اس ضمن میں فیصلہ کن کردار نہیں ادا کیا۔ مشرقی پاکستان الگ ہوا تو اس کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ تھی۔ آج بنگلہ دیش کی آبادی سترہ کروڑ ہے اور ہماری 25کروڑ سے زیادہ۔ بنگلہ دیش کی حکومتوں نے ایسی پالیسیاں بنائیں جنہوں نے آبادی کی شرحِ اضافہ میں کمی کی۔ ہمارے کچھ علاقوں میں آبادی میں اضافے کی شرح باقی ملک سے زیادہ ہے۔ پھر ہزار کوششوں کے باوجود افغانستان سے آنے والوں کو روکا نہیں جا سکتا۔ نادرا اور پاسپورٹ دفتروں میں کچھ کالی بھیڑوں کو حرام کا چارہ کھانے کی اتنی لت ہے کہ افغانوں کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ مل جاتے ہیں۔ میں کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد کی ایک مضافاتی آبادی میں رہتا تھا۔ پانی بور کرنے کی ضرورت پیش آئی تو معلوم ہوا کہ اس کام میں افغان بھائیوں کی اجارہ داری ہے۔ ایک افغان سے معاملہ طے ہوا۔ وہ ہرروز‘ بلا مبالغہ‘ ایک نیا لڑکا ساتھ لاتا جو اس کے کام میں معاونت کرتا۔ پانچویں چھٹے دن پوچھا کہ ہر روز ایک مختلف لڑکا کہاں سے لاتے ہو۔ اس نے بتایا کہ سب اس کے اپنے بیٹے ہیں۔ اس کے سولہ بچے تھے‘ اور اس نے پاکستان میں مستقل رہنے کا انتظام بھی کر رکھا تھا۔ اسی دن شام کو ایک دوست ملنے آیا۔ صبح والا واقعہ میرے ذہن پر سوار تھا۔ دوست کے ڈرائیور سے پوچھا تو اس کے بھی چودہ پندرہ بچے تھے۔ ایک وجہ آبادی میں اضافے کی قدامت پسند سوچ بھی ہے۔ ابھی تک یہ خیال موجود ہے کہ بچوں کی تعداد کم رکھنا مذہب کے لحاظ سے قابلِ اعتراض ہے۔ ہمارے شہر پھیل پھیل کر عفریت بن چکے ہیں۔ پانی بجلی گیس پوری نہیں پڑ رہی۔ ہاؤسنگ سوسائٹیاں زرخیز زمینوں کو نگلتی جا رہی ہیں۔ حکومتوں کے پاس اس سلسلے میں کوئی منصوبہ بندی ہے نہ پروگرام! ہر روز بڑھتی آبادی اس ملک کیلئے ایسی مصیبت ہے جو کئی اور مصیبتوں کو جنم دے رہی ہے۔
دوسرا سب سے بڑا مسئلہ افغان بارڈر ہے۔ بہت سے دوسرے مسئلوں کی طرح یہ مسئلہ بھی ہمارا اپنا پیدا کردہ ہے۔ ہم نے مشرقی پاکستان کو بھی اپنے کرتوتوں کی وجہ سے الگ کیا۔ دہشت گردی بھی ہماری اپنی پیداوار ہے۔ جو سانپ ہم نے دوسروں کیلئے پالے‘ آج وہ ہمیں ڈس رہے ہیں۔ یہ ہونا تھا۔ ساری دنیا کو معلوم تھا کہ یہ ہو گا۔ صرف ہم بھولے تھے یا انجان ۔ ہم ایران امریکہ میں صلح کرا رہے ہیں اور ہمارے اپنے نوجوان دن رات‘ صبح شام شہید ہو رہے ہیں۔ ہم ایک بند گلی میں ہیں۔ اس مسئلے کے مستقل حل کیلئے عسکری قیادت کے ساتھ سیاسی سیادت بھی درکار ہو گی۔ ہمیں اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ طالبان حکومت عالمی تنہائی کا شکار ہے۔ چین اور روس کے ساتھ ان کی باقاعدہ معاملہ بندی ہے۔ آنے والے کئی برسوں تک اندرونی مخالفت انہیں اقتدار سے محروم کرنے کے قابل نہیں۔ بھارت پوری قوت کے ساتھ ان کی پشت پر کھڑا ہے۔ یہ آج کی ''گریٹ گیم‘‘ ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے صرف ''دے مار تے ساڑھے چار‘‘ والی پالیسی نہیں چلے گی۔ بین الاقوامی طاقتوں کو درمیان میں ڈالنا ہو گا۔
ہمارا تیسرا سب سے بڑا مسئلہ ہمارا مائنڈ سیٹ ہے جو شاید بھارت کے بعد دنیا کا بدترین مائنڈ سیٹ ہے۔ اس عجیب و غریب مائنڈ سیٹ نے ہمیں آگے کا چھوڑا ہے نہ پیچھے کا۔ ہم پیروں فقیروں ملنگوں‘ مجاوروں‘ بابوں‘ اتائیوں‘ تعویذفروشوں کے پنجوں میں پوری طرح جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ پیر‘ جو فیوڈل بھی ہیں‘ ولایت جاتے ہیں تو رقص کرتے ہیں اور عرس پر دستار باندھ لیتے ہیں۔ ان کے لاکھوں مرید انہیں نذرانے بھی دیتے ہیں اور ووٹ بھی! اس کا سبب تعلیم کی کمی نہیں‘ مائنڈ سیٹ ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں بھی موجود ہے۔ جب حکمران پیٹھ پر چھڑیاں کھائیں گے‘ کبھی پہاڑوں سے دور رہیں گے تو کبھی سمندر سے‘ اور آکسفورڈ سے نام نہاد تعلیم حاصل کر کے بھی چوکھٹوں پر سجدہ ریز ہوں گے تو عوام کالانعام کی کیا حیثیت ہو گی۔ شاید ایسے حکمرانوں اور ایسی رعایا کے بارے ہی میں فرمایا گیا ہے: ''جن کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں‘‘۔ پیری مریدی کا فیوڈلزم کے ساتھ پکا پکا گٹھ جوڑ ہے۔ بندہ ہاری ہو اور مرید بھی تو اندازہ لگائیے کہ وہ کیا چیز ہو گی! کروڑوں لوگ اس ملک میں ووٹ ڈالتے وقت اپنا دماغ نہیں استعمال کرتے۔ ووٹ تو دور کی بات ہے‘ بچوں کے رشتے اور شادیوں کی تاریخیں اُن چادر پوشوں سے پوچھے بغیر نہیں طے کی جاتیں جو وڈیرے بھی ہیں۔ ان گدی نشینوں اور وڈیروں کی نشستیں اسمبلیوں میں نسل در نسل چلی آرہی ہیں! یہ لوگ اس ملک کو کبھی ترقی کی راہ پر نہیں چلنے دیں گے۔ ان کی سوچ میں خود غرضی اور تکبر ہے۔ یہ اس کے علاوہ کچھ سوچ ہی نہیں سکتے کہ ان کے بعد ان کا بیٹا کیسے ممبر بنے گا اور کیسے وزارت حاصل کرے گا۔ بلوچستان کا سرداری نظام بھی اسی مائنڈ سیٹ کا شاخسانہ ہے۔ قبیلے کے لوگوں کے خانگی امور بھی سردار ہی طے کرتا ہے۔ حیرت ہوتی ہے یہ سنتے اور پڑھتے ہوئے کہ فلاں سردار کی اتنی بڑی لائبریری ہے اور وہ اتنا بڑا عالم فاضل ہے۔ وہی سردار چور پکڑنے کیلئے لوگوں کو دہکتے انگاروں پر چلاتا ہے اور اگر کوئی میٹرک کر کے اجلے کپڑے پہن لیتا ہے تو اس کے جسم پر گُڑ کا شیرہ مل کر اسے چیونٹیوں بھری غار میں پھینک دیا جاتا ہے۔ (جاری)
شورش ترے خلاف زمانہ ہوا تو کیا
کچھ لوگ اس جہاں میں خدا کیخلاف ہیں
رومی سے یہ قول منسوب ہے کہ ہم نے مغز لے لیا اور:
استخواں پیشِ سگاں انداختیم۔ ہڈیاں کتوں کے آگے ڈال دیں!
قائداعظم کو خلّاق ازل نے جس کام کیلئے چنا تھا وہ کر گئے اور مخالفین کو اس کام پر لگا گئے کہ کڑھتے‘ سلگتے اور تڑپتے رہیں! کلام پاک میں ہے کہ '' موتوا بغیظکم‘‘ اپنے غصے میں آپ ہی جل مرو۔ پاکستان مسائل میں گرفتار ہے۔ مصیبتوں میں پھنسا ہوا ہے۔ باصلاحیت لیڈر شپ دور دور تک نہیں نظر آرہی ورنہ یہ مسائل ایسے نہیں جو حل نہ ہو سکیں! سب سے بڑا مسئلہ آبادی کا بم ہے جو ہمارے سر پر کھڑا ہے۔ کسی حکومت نے بھی اس ضمن میں فیصلہ کن کردار نہیں ادا کیا۔ مشرقی پاکستان الگ ہوا تو اس کی آبادی مغربی پاکستان سے زیادہ تھی۔ آج بنگلہ دیش کی آبادی سترہ کروڑ ہے اور ہماری 25کروڑ سے زیادہ۔ بنگلہ دیش کی حکومتوں نے ایسی پالیسیاں بنائیں جنہوں نے آبادی کی شرحِ اضافہ میں کمی کی۔ ہمارے کچھ علاقوں میں آبادی میں اضافے کی شرح باقی ملک سے زیادہ ہے۔ پھر ہزار کوششوں کے باوجود افغانستان سے آنے والوں کو روکا نہیں جا سکتا۔ نادرا اور پاسپورٹ دفتروں میں کچھ کالی بھیڑوں کو حرام کا چارہ کھانے کی اتنی لت ہے کہ افغانوں کو شناختی کارڈ اور پاسپورٹ مل جاتے ہیں۔ میں کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد کی ایک مضافاتی آبادی میں رہتا تھا۔ پانی بور کرنے کی ضرورت پیش آئی تو معلوم ہوا کہ اس کام میں افغان بھائیوں کی اجارہ داری ہے۔ ایک افغان سے معاملہ طے ہوا۔ وہ ہرروز‘ بلا مبالغہ‘ ایک نیا لڑکا ساتھ لاتا جو اس کے کام میں معاونت کرتا۔ پانچویں چھٹے دن پوچھا کہ ہر روز ایک مختلف لڑکا کہاں سے لاتے ہو۔ اس نے بتایا کہ سب اس کے اپنے بیٹے ہیں۔ اس کے سولہ بچے تھے‘ اور اس نے پاکستان میں مستقل رہنے کا انتظام بھی کر رکھا تھا۔ اسی دن شام کو ایک دوست ملنے آیا۔ صبح والا واقعہ میرے ذہن پر سوار تھا۔ دوست کے ڈرائیور سے پوچھا تو اس کے بھی چودہ پندرہ بچے تھے۔ ایک وجہ آبادی میں اضافے کی قدامت پسند سوچ بھی ہے۔ ابھی تک یہ خیال موجود ہے کہ بچوں کی تعداد کم رکھنا مذہب کے لحاظ سے قابلِ اعتراض ہے۔ ہمارے شہر پھیل پھیل کر عفریت بن چکے ہیں۔ پانی بجلی گیس پوری نہیں پڑ رہی۔ ہاؤسنگ سوسائٹیاں زرخیز زمینوں کو نگلتی جا رہی ہیں۔ حکومتوں کے پاس اس سلسلے میں کوئی منصوبہ بندی ہے نہ پروگرام! ہر روز بڑھتی آبادی اس ملک کیلئے ایسی مصیبت ہے جو کئی اور مصیبتوں کو جنم دے رہی ہے۔
دوسرا سب سے بڑا مسئلہ افغان بارڈر ہے۔ بہت سے دوسرے مسئلوں کی طرح یہ مسئلہ بھی ہمارا اپنا پیدا کردہ ہے۔ ہم نے مشرقی پاکستان کو بھی اپنے کرتوتوں کی وجہ سے الگ کیا۔ دہشت گردی بھی ہماری اپنی پیداوار ہے۔ جو سانپ ہم نے دوسروں کیلئے پالے‘ آج وہ ہمیں ڈس رہے ہیں۔ یہ ہونا تھا۔ ساری دنیا کو معلوم تھا کہ یہ ہو گا۔ صرف ہم بھولے تھے یا انجان ۔ ہم ایران امریکہ میں صلح کرا رہے ہیں اور ہمارے اپنے نوجوان دن رات‘ صبح شام شہید ہو رہے ہیں۔ ہم ایک بند گلی میں ہیں۔ اس مسئلے کے مستقل حل کیلئے عسکری قیادت کے ساتھ سیاسی سیادت بھی درکار ہو گی۔ ہمیں اس خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ طالبان حکومت عالمی تنہائی کا شکار ہے۔ چین اور روس کے ساتھ ان کی باقاعدہ معاملہ بندی ہے۔ آنے والے کئی برسوں تک اندرونی مخالفت انہیں اقتدار سے محروم کرنے کے قابل نہیں۔ بھارت پوری قوت کے ساتھ ان کی پشت پر کھڑا ہے۔ یہ آج کی ''گریٹ گیم‘‘ ہے۔ اس سے نمٹنے کے لیے صرف ''دے مار تے ساڑھے چار‘‘ والی پالیسی نہیں چلے گی۔ بین الاقوامی طاقتوں کو درمیان میں ڈالنا ہو گا۔
ہمارا تیسرا سب سے بڑا مسئلہ ہمارا مائنڈ سیٹ ہے جو شاید بھارت کے بعد دنیا کا بدترین مائنڈ سیٹ ہے۔ اس عجیب و غریب مائنڈ سیٹ نے ہمیں آگے کا چھوڑا ہے نہ پیچھے کا۔ ہم پیروں فقیروں ملنگوں‘ مجاوروں‘ بابوں‘ اتائیوں‘ تعویذفروشوں کے پنجوں میں پوری طرح جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ پیر‘ جو فیوڈل بھی ہیں‘ ولایت جاتے ہیں تو رقص کرتے ہیں اور عرس پر دستار باندھ لیتے ہیں۔ ان کے لاکھوں مرید انہیں نذرانے بھی دیتے ہیں اور ووٹ بھی! اس کا سبب تعلیم کی کمی نہیں‘ مائنڈ سیٹ ہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں بھی موجود ہے۔ جب حکمران پیٹھ پر چھڑیاں کھائیں گے‘ کبھی پہاڑوں سے دور رہیں گے تو کبھی سمندر سے‘ اور آکسفورڈ سے نام نہاد تعلیم حاصل کر کے بھی چوکھٹوں پر سجدہ ریز ہوں گے تو عوام کالانعام کی کیا حیثیت ہو گی۔ شاید ایسے حکمرانوں اور ایسی رعایا کے بارے ہی میں فرمایا گیا ہے: ''جن کے دل ایسے ہیں جن سے نہیں سمجھتے اور جن کی آنکھیں ایسی ہیں جن سے نہیں دیکھتے اور جن کے کان ایسے ہیں جن سے نہیں سنتے۔ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ یہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں‘‘۔ پیری مریدی کا فیوڈلزم کے ساتھ پکا پکا گٹھ جوڑ ہے۔ بندہ ہاری ہو اور مرید بھی تو اندازہ لگائیے کہ وہ کیا چیز ہو گی! کروڑوں لوگ اس ملک میں ووٹ ڈالتے وقت اپنا دماغ نہیں استعمال کرتے۔ ووٹ تو دور کی بات ہے‘ بچوں کے رشتے اور شادیوں کی تاریخیں اُن چادر پوشوں سے پوچھے بغیر نہیں طے کی جاتیں جو وڈیرے بھی ہیں۔ ان گدی نشینوں اور وڈیروں کی نشستیں اسمبلیوں میں نسل در نسل چلی آرہی ہیں! یہ لوگ اس ملک کو کبھی ترقی کی راہ پر نہیں چلنے دیں گے۔ ان کی سوچ میں خود غرضی اور تکبر ہے۔ یہ اس کے علاوہ کچھ سوچ ہی نہیں سکتے کہ ان کے بعد ان کا بیٹا کیسے ممبر بنے گا اور کیسے وزارت حاصل کرے گا۔ بلوچستان کا سرداری نظام بھی اسی مائنڈ سیٹ کا شاخسانہ ہے۔ قبیلے کے لوگوں کے خانگی امور بھی سردار ہی طے کرتا ہے۔ حیرت ہوتی ہے یہ سنتے اور پڑھتے ہوئے کہ فلاں سردار کی اتنی بڑی لائبریری ہے اور وہ اتنا بڑا عالم فاضل ہے۔ وہی سردار چور پکڑنے کیلئے لوگوں کو دہکتے انگاروں پر چلاتا ہے اور اگر کوئی میٹرک کر کے اجلے کپڑے پہن لیتا ہے تو اس کے جسم پر گُڑ کا شیرہ مل کر اسے چیونٹیوں بھری غار میں پھینک دیا جاتا ہے۔ (جاری)
مسئلہ یہ نہیں کہ کس کی حکومت ہے اور کس کی حکومت ہو گی؟ مسئلہ یہ نہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے یا پیپلز پارٹی کی یا عمران خان کی! یا کسی اور کی! مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جن مصیبتوں میں پھنسا ہے اور جس دلدل میں گلے تک دھنس چکا ہے‘ اُن مصیبتوں سے نکالنا ان میں سے کسی کے بس کی بات نہیں! اس لیے کہ ان میں سے کسی کو اُن مصیبتوں کا ادراک ہی نہیں! ادراک کیسے ہو! ادراک اُن حکمرانوں کو ہوتا ہے جنہیں قوم کے غم میں راتوں کو نیند نہیں آتی! جو بے لوث ہوتے ہیں۔ بے غرض ہوتے ہیں۔ جو اقربا پرور نہیں ہوتے۔ جو دوست نوازی (Cronyism) سے بچتے ہیں۔ جو مہاتیر کی طرح ہوتے ہیں۔ جو سنگاپور کے لی کی طرح ہوتے ہیں‘ جن کی نگاہیں دور تک دیکھتی ہیں۔ جو پچاس‘ سو سال آگے دیکھتے ہیں۔ لیڈر شپ قربانی مانگتی ہے۔ ہمیں قربانی دینے والا لیڈر قائداعظم کے بعد کوئی نہیں ملا۔ کیا جذبہ تھا اور کیا اعصاب تھے! جان لیوا مرض کو چھپا کر رک…
مسئلہ یہ نہیں کہ کس کی حکومت ہے اور کس کی حکومت ہو گی؟ مسئلہ یہ نہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے یا پیپلز پارٹی کی یا عمران خان کی! یا کسی اور کی! مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جن مصیبتوں میں پھنسا ہے اور جس دلدل میں گلے تک دھنس چکا ہے‘ اُن مصیبتوں سے نکالنا ان میں سے کسی کے بس کی بات نہیں! اس لیے کہ ان میں سے کسی کو اُن مصیبتوں کا ادراک ہی نہیں! ادراک کیسے ہو! ادراک اُن حکمرانوں کو ہوتا ہے جنہیں قوم کے …
ایک بہادر شخص اور رستم نامی
اکتوبر 01, 2026
کالم
کالم
عجیب بہادر شخص ہے۔
اسمبلی کی ''جتوائی‘‘ ہوئی سیٹ ٹھکرا دی۔ دھرنے دیے جا رہا ہے۔ جلوس نکالے جا رہا ہے۔ پٹرول کی قیمت سے لیوی کا جگا ٹیکس ہٹوانے کیلئے‘ بجلی کی قیمت میں ریلیف کیلئے۔ جنون نیا نہیں‘ پرانا ہے۔ کبھی کراچی الیکٹرک کے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوا۔ کبھی پانی کے نکاس اور واٹر سپلائی کیلئے لڑا۔ عجیب شخص ہے۔ اپنے ہم چشموں سے یکسر مختلف!! ٹوپی ٹیڑھی کر کے اوڑھی نہ اپنے علاقے میں خواتین ووٹروں کی حوصلہ شکنی کی۔ مغربی تعلیم کے خلاف اور مدرسہ کی تعلیم کے حق میں تقریر کی‘ نہ بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکہ کینیڈا بھیجا۔ اولاد کو دوسری سیاسی جماعتوں میں بھی پلانٹ نہ کیا۔ کسی سکہ رائج الوقت کو ہوا میں اچھالا نہ اس سے خریداری کی۔ نہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنائیں۔ ملک کا واحد سیاستدان ہے جو عوام کیلئے لڑ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ پٹرول لیوی اور آئی پی پیز کے خلاف کیسے بول سکتی ہیں جبکہ وہ حکمرانی میں حصہ دار ہیں۔ امرا کی حکومت (Oligarchy) کی اگلی صفوں میں کھڑی ہیں۔ جو خود مسئلے کاحصہ ہوں وہ کیسے مسئلہ حل کریں گے! اے بادِ صبا ایں ہمہ آوردۂ تست! (یہ باغ کا جو حال ہو رہا ہے وہ بادِ صبا نے خود ہی تو کیا ہے)۔ رہی تحریک انصاف تو وہ بیچاری اپنے زخم چاٹ رہی ہے۔ ان کا رہنما زنداں میں ہے‘ وہ اس کے بغیر کیا کر سکتے ہیں! یہ بھاری پتھر اس بہادر شخص ہی نے اٹھانا تھا‘ سو اٹھا لیا اور اٹھائے ہوئے ہے! اکیلا! اس کے ساتھ اس کے لوگ ہیں مگر کوئی ایسا نہیں جو اس کی طرح پیش قدمی کرے‘ للکارے اور طاقت کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کرے۔ ریاض مجید یاد آ رہے ہیں:
میرا دکھ یہ ہے میں اپنے ساتھیوں جیسا نہیں
میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں
اس ہارے ہوئے جمود زدہ لشکر میں وہ اَن فِٹ ہے! مکمل طور پر اَن فِٹ!! رومی نے کہا تھا: زیں ہمرہانِ سست عناصر دلم گرفت!! سست الوجود ہمراہی!! لیکن قدرت کے اور قسمت کے کھیل عجیب ہیں۔ ہیرا کنکروں میں اور چنگاری راکھ میں ہوتی ہے!
دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا
گنبدِ نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا
پس نوشت!! کیا مضافات میں بڑے شہروں کی نسبت بہتر شاعری ہو رہی ہے؟ یہ بحث پرانی ہے اور ایسی بحث ہے جس کا کوئی نتیجہ آج تک نکلا ہے نہ نکلے گا۔ شاعری کا شہر‘ قصبے یا گاؤں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ شاعری کا تعلق صرف شاعر سے ہے۔ ظفر اقبال صاحب کی زندگی کا بیشتر حصہ اوکاڑہ میں گزرا۔ پہلا شعری مجموعہ ''آبِ رواں‘‘ آیا تو دھماکا ہوا اور یہ دھماکا کسی بڑے شہر سے نہیں‘ اوکاڑہ جیسے قصبے سے ہوا۔ رستم نامی ایک ایسا شاعر ہے جو مضافات میں نہیں بلکہ مضافات کے بھی مضافات میں رہتا ہے؛ یعنی شنکیاری میں! عمر محکمۂ جنگلات میں بسر کی۔ یعنی مضافات سے بھی دور! مگر شعر کمال کے کہے۔ مختلف! یکسر مختلف! اردو ادب میں ہزارہ کا حصہ بہت بڑا ہے۔ رستم نامی ایسا شاعر ہے جس پر اردو شاعری کو بھی ناز ہے اور ہزارہ کو بھی۔ اس کی شاعری گل و بلبل کی ہے نہ زلف و رخسار کی۔ اس میں زندگی کی تلخیاں ہیں اور پیچیدگیاں مگر رستم نامی نے یہ شاعری رو کر نہیں‘ ہنس کر کی ہے۔ کبھی معصومیت سے سوال کرتا جاتا ہے۔ کبھی بھگو بھگو کر لگاتا ہے۔ یہ مختلف ذائقے کی شاعری ہے۔ ذرا چند اشعار چکھ کر دیکھیے:
رک بھی سکتا ہے کسی دن چند سانسوں کا نظام
یہ عمل ہر وقت جاری ہو‘ ضروری تو نہیں
بے ضمیری بھی تو آخر کار کوئی چیز ہے
لغزشوں پر شرمساری ہو ضروری تو نہیں
لیتے ہیں چند لوگ وطن اپنا لوٹ کر
اس پار کے مزے کبھی اس پار کے مزے
ادا ہو گا نہ جب تک چائے پانی
ہمارا کام بابو تک رہے گا
بقدرِ اختیار و ظرف اس کو لوٹتے ہیں سب
سلامت ہے مگر تاحال پاکستان تقریباً
فقط چالیس نمبر شاعری کے ہیں
بقایا ساٹھ اس کی افسری کے ہیں
کیا ہے کارنامہ ایسا کیا تُو نے؟
بہت چرچے تری دو نمبری کے ہیں
ہمارے رابطے ہیں سارے ملکوں سے
کہ رشتے سب سے دریوزہ گری کے ہیں
فالتو اشیا سے ہو کس واسطے گھر زیرِ بار
بس گزر اوقات کا سامان ہونا چاہیے
ہم جدھر بھی جائیں ہونی چاہیے اردو زباں
ہم جہاں بھی جائیں پاکستان ہونا چاہیے
دیدنی ہے یہاں کا ہر موسم
کتنے خوش بخت ہیں ہزارے وال
عمر ساری گزار کر نامیؔ
چاہیے ہیں مزید بھی کچھ سال
شجر جب صحن میں پھلدار ہو گا
کہیں سے آئیں گے پتھر وغیرہ
ستم سہنے کے عادی ہو گئے لوگ
نہیں ہے کوئی شورو شر وغیرہ
وہ قیامت کو آئے گا یعنی
ایک دو دن ہیں اس کے آنے میں
اس گرانی میں کون پوچھے گا
کیا پکایا ہے آج کھانے میں
منسلک ہیں پار سے سب مقتدر
سب کو ملتی ہے ہدایت پار سے
کام لیں گے کیا یہ بد عنوان لوگ
حشر میں بھی درہم و دینار سے؟
آرام سے رہتے ہیں یہ لوگ پہاڑوں کے
جو ساتھ کبھی لے کر اخبار نہیں جاتے
اس ملک سے کرتے ہیں جو لوگ محبت وہ
بیمار پڑیں بھی تو اس پار نہیں جاتے
کون پھر دے مجھے میرے حقوق
میں ریاست میں کہیں ہوں ہی نہیں
اٹھاؤ منصب و دولت سے کچھ تو فائدہ آخر
دباؤ زیر دستوں کے علاقہ جات بسم اللہ
مرے بھائی !مرا حصہ بھی سب تجھ کو مبارک ہو
نہ ہو تقسیم بے دردی سے یہ آبائی گھر تاکہ
دس دن سے اوپر چل سکتی
اتنی بھی تنخواہ نہیں تھی
کہیں سے سانپ آ جاتے ہیں اس میں
ہماری آستیں کا مسئلہ ہے
اسمبلی کی ''جتوائی‘‘ ہوئی سیٹ ٹھکرا دی۔ دھرنے دیے جا رہا ہے۔ جلوس نکالے جا رہا ہے۔ پٹرول کی قیمت سے لیوی کا جگا ٹیکس ہٹوانے کیلئے‘ بجلی کی قیمت میں ریلیف کیلئے۔ جنون نیا نہیں‘ پرانا ہے۔ کبھی کراچی الیکٹرک کے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوا۔ کبھی پانی کے نکاس اور واٹر سپلائی کیلئے لڑا۔ عجیب شخص ہے۔ اپنے ہم چشموں سے یکسر مختلف!! ٹوپی ٹیڑھی کر کے اوڑھی نہ اپنے علاقے میں خواتین ووٹروں کی حوصلہ شکنی کی۔ مغربی تعلیم کے خلاف اور مدرسہ کی تعلیم کے حق میں تقریر کی‘ نہ بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکہ کینیڈا بھیجا۔ اولاد کو دوسری سیاسی جماعتوں میں بھی پلانٹ نہ کیا۔ کسی سکہ رائج الوقت کو ہوا میں اچھالا نہ اس سے خریداری کی۔ نہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنائیں۔ ملک کا واحد سیاستدان ہے جو عوام کیلئے لڑ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ پٹرول لیوی اور آئی پی پیز کے خلاف کیسے بول سکتی ہیں جبکہ وہ حکمرانی میں حصہ دار ہیں۔ امرا کی حکومت (Oligarchy) کی اگلی صفوں میں کھڑی ہیں۔ جو خود مسئلے کاحصہ ہوں وہ کیسے مسئلہ حل کریں گے! اے بادِ صبا ایں ہمہ آوردۂ تست! (یہ باغ کا جو حال ہو رہا ہے وہ بادِ صبا نے خود ہی تو کیا ہے)۔ رہی تحریک انصاف تو وہ بیچاری اپنے زخم چاٹ رہی ہے۔ ان کا رہنما زنداں میں ہے‘ وہ اس کے بغیر کیا کر سکتے ہیں! یہ بھاری پتھر اس بہادر شخص ہی نے اٹھانا تھا‘ سو اٹھا لیا اور اٹھائے ہوئے ہے! اکیلا! اس کے ساتھ اس کے لوگ ہیں مگر کوئی ایسا نہیں جو اس کی طرح پیش قدمی کرے‘ للکارے اور طاقت کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کرے۔ ریاض مجید یاد آ رہے ہیں:
میرا دکھ یہ ہے میں اپنے ساتھیوں جیسا نہیں
میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں
اس ہارے ہوئے جمود زدہ لشکر میں وہ اَن فِٹ ہے! مکمل طور پر اَن فِٹ!! رومی نے کہا تھا: زیں ہمرہانِ سست عناصر دلم گرفت!! سست الوجود ہمراہی!! لیکن قدرت کے اور قسمت کے کھیل عجیب ہیں۔ ہیرا کنکروں میں اور چنگاری راکھ میں ہوتی ہے!
دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا
گنبدِ نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا
پس نوشت!! کیا مضافات میں بڑے شہروں کی نسبت بہتر شاعری ہو رہی ہے؟ یہ بحث پرانی ہے اور ایسی بحث ہے جس کا کوئی نتیجہ آج تک نکلا ہے نہ نکلے گا۔ شاعری کا شہر‘ قصبے یا گاؤں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ شاعری کا تعلق صرف شاعر سے ہے۔ ظفر اقبال صاحب کی زندگی کا بیشتر حصہ اوکاڑہ میں گزرا۔ پہلا شعری مجموعہ ''آبِ رواں‘‘ آیا تو دھماکا ہوا اور یہ دھماکا کسی بڑے شہر سے نہیں‘ اوکاڑہ جیسے قصبے سے ہوا۔ رستم نامی ایک ایسا شاعر ہے جو مضافات میں نہیں بلکہ مضافات کے بھی مضافات میں رہتا ہے؛ یعنی شنکیاری میں! عمر محکمۂ جنگلات میں بسر کی۔ یعنی مضافات سے بھی دور! مگر شعر کمال کے کہے۔ مختلف! یکسر مختلف! اردو ادب میں ہزارہ کا حصہ بہت بڑا ہے۔ رستم نامی ایسا شاعر ہے جس پر اردو شاعری کو بھی ناز ہے اور ہزارہ کو بھی۔ اس کی شاعری گل و بلبل کی ہے نہ زلف و رخسار کی۔ اس میں زندگی کی تلخیاں ہیں اور پیچیدگیاں مگر رستم نامی نے یہ شاعری رو کر نہیں‘ ہنس کر کی ہے۔ کبھی معصومیت سے سوال کرتا جاتا ہے۔ کبھی بھگو بھگو کر لگاتا ہے۔ یہ مختلف ذائقے کی شاعری ہے۔ ذرا چند اشعار چکھ کر دیکھیے:
رک بھی سکتا ہے کسی دن چند سانسوں کا نظام
یہ عمل ہر وقت جاری ہو‘ ضروری تو نہیں
بے ضمیری بھی تو آخر کار کوئی چیز ہے
لغزشوں پر شرمساری ہو ضروری تو نہیں
لیتے ہیں چند لوگ وطن اپنا لوٹ کر
اس پار کے مزے کبھی اس پار کے مزے
ادا ہو گا نہ جب تک چائے پانی
ہمارا کام بابو تک رہے گا
بقدرِ اختیار و ظرف اس کو لوٹتے ہیں سب
سلامت ہے مگر تاحال پاکستان تقریباً
فقط چالیس نمبر شاعری کے ہیں
بقایا ساٹھ اس کی افسری کے ہیں
کیا ہے کارنامہ ایسا کیا تُو نے؟
بہت چرچے تری دو نمبری کے ہیں
ہمارے رابطے ہیں سارے ملکوں سے
کہ رشتے سب سے دریوزہ گری کے ہیں
فالتو اشیا سے ہو کس واسطے گھر زیرِ بار
بس گزر اوقات کا سامان ہونا چاہیے
ہم جدھر بھی جائیں ہونی چاہیے اردو زباں
ہم جہاں بھی جائیں پاکستان ہونا چاہیے
دیدنی ہے یہاں کا ہر موسم
کتنے خوش بخت ہیں ہزارے وال
عمر ساری گزار کر نامیؔ
چاہیے ہیں مزید بھی کچھ سال
شجر جب صحن میں پھلدار ہو گا
کہیں سے آئیں گے پتھر وغیرہ
ستم سہنے کے عادی ہو گئے لوگ
نہیں ہے کوئی شورو شر وغیرہ
وہ قیامت کو آئے گا یعنی
ایک دو دن ہیں اس کے آنے میں
اس گرانی میں کون پوچھے گا
کیا پکایا ہے آج کھانے میں
منسلک ہیں پار سے سب مقتدر
سب کو ملتی ہے ہدایت پار سے
کام لیں گے کیا یہ بد عنوان لوگ
حشر میں بھی درہم و دینار سے؟
آرام سے رہتے ہیں یہ لوگ پہاڑوں کے
جو ساتھ کبھی لے کر اخبار نہیں جاتے
اس ملک سے کرتے ہیں جو لوگ محبت وہ
بیمار پڑیں بھی تو اس پار نہیں جاتے
کون پھر دے مجھے میرے حقوق
میں ریاست میں کہیں ہوں ہی نہیں
اٹھاؤ منصب و دولت سے کچھ تو فائدہ آخر
دباؤ زیر دستوں کے علاقہ جات بسم اللہ
مرے بھائی !مرا حصہ بھی سب تجھ کو مبارک ہو
نہ ہو تقسیم بے دردی سے یہ آبائی گھر تاکہ
دس دن سے اوپر چل سکتی
اتنی بھی تنخواہ نہیں تھی
کہیں سے سانپ آ جاتے ہیں اس میں
ہماری آستیں کا مسئلہ ہے
عجیب بہادر شخص ہے۔ اسمبلی کی ''جتوائی‘‘ ہوئی سیٹ ٹھکرا دی۔ دھرنے دیے جا رہا ہے۔ جلوس نکالے جا رہا ہے۔ پٹرول کی قیمت سے لیوی کا جگا ٹیکس ہٹوانے کیلئے‘ بجلی کی قیمت میں ریلیف کیلئے۔ جنون نیا نہیں‘ پرانا ہے۔ کبھی کراچی الیکٹرک کے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوا۔ کبھی پانی کے نکاس اور واٹر سپلائی کیلئے لڑا۔ عجیب شخص ہے۔ اپنے ہم چشموں سے یکسر مختلف!! ٹوپی ٹیڑھی کر کے اوڑھی نہ اپنے علاقے میں خواتین ووٹروں کی حوصلہ شکنی کی۔ مغربی تعلیم کے خلاف اور مدرسہ کی تعلیم کے حق میں تقریر کی‘ نہ بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکہ کینیڈا بھیجا۔ اولاد کو دوسری سیاسی جماعتوں میں بھی پلانٹ نہ کیا۔ کسی سکہ رائج الوقت کو ہوا میں اچھالا نہ اس سے خریداری کی۔ نہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنائیں۔ ملک کا واحد سیاستدان ہے جو عوام کیلئے لڑ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ پٹرول لیوی اور آئی پی پیز کے خلاف کیسے بول سکتی ہیں جبکہ …
عجیب بہادر شخص ہے۔ اسمبلی کی ''جتوائی‘‘ ہوئی سیٹ ٹھکرا دی۔ دھرنے دیے جا رہا ہے۔ جلوس نکالے جا رہا ہے۔ پٹرول کی قیمت سے لیوی کا جگا ٹیکس ہٹوانے کیلئے‘ بجلی کی قیمت میں ریلیف کیلئے۔ جنون نیا نہیں‘ پرانا ہے۔ کبھی کراچی الیکٹرک کے ظلم کے خلاف سینہ سپر ہوا۔ کبھی پانی کے نکاس اور واٹر سپلائی کیلئے لڑا۔ عجیب شخص ہے۔ اپنے ہم چشموں سے یکسر مختلف!! ٹوپی ٹیڑھی کر کے اوڑھی نہ اپنے علاقے میں خواتین ووٹ…
واہ! تارکینِ وطن! واہ!
ستمبر 29, 2026
کالم
کالم
اُن دنوں میں وفاقی وزارتِ ثقافت میں تعینات تھا۔ ثقافتی طائفہ لے کر ہم لوگ امریکہ گئے۔ نیویارک ریاست کا دارالحکومت البنی (Albany) ہے۔ ایک خوبصورت‘ صاف ستھرا شہر! نیویارک شہر سے اڑھائی تین گھنٹے کی ڈرائیو پر! وہاں کے ایک معزز‘ صاحبِ حیثیت پاکستانی تارکِ وطن نے ہمیں کھانے پر مدعو کیا۔ شہر کی سیر بھی کرائی۔ دعوت سے فارغ ہوئے تو وہ مجھے ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے: آپ وزارتِ ثقافت میں ہیں‘ کچھ ایسا کیجیے کہ مجھے تمغۂ حسنِ کارکردگی یا کوئی اور اعزاز مل جائے۔ چند لمحے تو مجھے حیرت پر قابو پانے میں لگے۔ پھر انہیں بتایا کہ میں سرکاری مشینری کا ایک عام سا پرزہ ہوں‘ اس کیلئے آپ کوئی بڑی شخصیت پکڑیے۔ پھر میں نے پوچھا کہ اعزازات مختلف فنون‘ پیشوں اور خدمات کے حوالے سے دیے جاتے ہیں‘ آپ کس حوالے سے اعزاز لینا چاہتے ہیں؟ یاد نہیں انہوں نے کیا جواب دیا۔
یہ واقعہ مجھے ایک حالیہ خبر پڑھ کر یاد آیا۔ کون سی خبر؟ یہ آگے چل کر بتاتا ہوں۔ اس سے پہلے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سب نہیں لیکن تارکینِ وطن کی اچھی خاصی تعداد وہ ہے جو پاکستان کو کچھ دینے کے بجائے پاکستان سے کچھ لینا چاہتے ہیں۔ کوئی یہاں آکر گورنر لگنا چاہتا ہے‘ کوئی وزیر بننا چاہتا ہے‘ کوئی کسی ادارے کا سربراہ یا کارپوریشن کا ایم ڈی تعینات ہونا چاہتا ہے۔ پاکستان کا کوئی حکمران باہر جائے تو اس سے سچی بات کرنے کے بجائے ان کا زور اس کی خدمت اور خوشامد پر ہوتا ہے۔ عمران خان اقتدار میں آئے تو بیرونِ ملک سے بہت سے افراد آکر ان کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔ کوئی وزیر لگ گیا‘ کوئی کسی اور طاقتور پوسٹ پر براجمان ہو گیا۔ خان پر کڑا وقت آیا تو یہ چُوری خور مجنوں سارے بیرونِ ملک بھاگ گئے اور اپنی اپنی استراحت گاہوں میں نیم دراز ہو گئے۔ (حکمران مردم شناس نہ ہو تو یہی ہوتا ہے)۔ پوری پوری زندگی باہر گزارنے کے بعد ان تارکین وطن کی سوچ کا معیار یہی ہوتا ہے کہ واپس جا کر گورنر یا وزیر لگ جائیں یا کوئی اعزاز مل جائے۔ ڈاکٹر اس سے مستثنیٰ ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم بہت سے ڈاکٹر پاکستان کے ہسپتالوں اور میڈیکل کالجوں کی دیکھ بھال کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔
ایک عجیب بات نوٹ کرنے والی یہ ہے کہ ہمارے تارکین وطن کئی دہائیوں سے ترقی یافتہ جمہوری ملکوں میں قیام پذیر ہیں۔ اپنے اپنے نئے وطن کی جمہوری قدروں سے استفادہ کر رہے ہیں۔ رات دن دیکھتے ہیں کہ امریکہ‘ یورپ اور آسٹریلیا میں حکمرانوں کیلئے کوئی ہٹو بچو نہیں ہوتا‘ روٹ نہیں لگتے‘ ٹریفک نہیں بند کی جاتی‘ حکمرانوں کی اولاد اور رشتہ داروں کیلئے کوئی پروٹوکول نہیں ہوتا۔ لیکن جب دورے پر آئے ہوئے پاکستانی حکمرانوں کو یہ تارکین وطن ملتے ہیں تو ہاتھ باندھے‘ ماتحتوں کی طرح‘ جی سر‘ جی سر کے سوا کچھ نہیں کہتے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ ''وزیراعظم شہباز شریف سے امریکہ میں مقیم پاکستانی نوجوانوں کے وفد نے ملاقات کی... وزیراعظم نے نوجوانوں کو مختلف شعبہ جات میں بہتری کیلئے تجاویز دینے اور پاکستان کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی دعوت دی‘‘۔ اب یہ معلوم نہیں کہ امریکہ میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں اور نیویارک میں مقیم ہزاروں پاکستانیوں میں سے اُن پاکستانیوں کو کون منتخب کرتا ہے جو وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کرتے ہیں! پاکستانی حکمرانوں کی روایت تو یہی ہے کہ ملاقات میں یا پریس کانفرنس میں سب ''اپنے بندے‘‘ ہوں۔ تصویر دیکھ کر لگتا ہے کہ سب مؤدب بیٹھے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ پاکستانی‘ نوجوان ہیں یا کاروباری حضرات‘ کیا نہیں جانتے کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ یہ وزیراعظم سے کیوں نہیں پوچھتے کہ اگر بنگلہ دیش کا وزیراعظم اور کئی اور زیادہ امیر ممالک کے سربراہان‘ عام کمرشل فلائٹ سے سفر کرتے ہیں تو آپ کیوں نہیں کرتے؟ اگر پرانا جہاز اب بھی استعمال ہو رہا ہے تو چیف منسٹر صاحبہ نے بارہ ارب کا نیا جہاز کیوں خریدا ہے؟ اور کیا جمہوری ملکوں میں سرکاری کارندے اور وزیر اس طرح بات کرتے ہیں کہ ہاں خریدا ہے! اور آئندہ بھی سفر کریں گے! اگر امریکہ میں مقیم یہ پاکستانی‘ پاکستانی عوام کے حق میں بات نہیں کر سکتے تو کیا یہ وزیراعظم کو اپنی شکلیں دکھانے اور وعظ سننے کیلئے جاتے ہیں؟ حکومت پاکستان ان کا کیا بگاڑ سکتی ہے؟ یا پھر یہ تارکین وطن صرف اپنی شو شا‘ پھوں پھاں اور ٹھوں ٹھاہ کیلئے پاکستانی حکمرانوں سے ملنے جاتے ہیں کہ تصویر کھنچوائیں گے اور واہ واہ ہو گی۔ کیوں نہیں پوچھتے کہ اربوں روپے ہر ماہ آئی پی پیز کو کیوں دیے جا رہے ہیں جبکہ وہ بجلی صفر پیدا کر رہے ہیں؟ کیوں نہیں پوچھتے کہ پٹرول پر لیوی کس خوشی میں لی جا رہی ہے؟ کیوں نہیں پوچھتے کہ ریٹائرڈ منصفوں کو لاکھوں روپے اور مفت بجلی‘ گیس اور پٹرول کیوں دیے جا رہے ہیں؟ اگر امریکہ میں رہ کر پاکستان کا غم ستا رہا ہے تو کھل کر بات کرو۔ گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں!
اور وزیراعظم امریکہ میں مقیم ان پاکستانیوں سے ''بھرپور کردار‘‘ ادا کرنے کا کہنے کے بجائے یہ کیوں نہیں کہتے کہ آکر اصل پاکستان کی حالت دیکھو! آؤ اور ہمارے قصبے اور ہمارے گاؤں دیکھو۔ آ کر لاہور‘ کراچی اور اسلام آباد کے بجائے مانسہرہ‘ مردان‘ فتح جنگ‘ ڈی جی خان‘ بہاولنگر‘ شکارپور اور لاڑکانہ جیسے شہر اور قصبے دیکھو۔ پاکستان آکر گداگروں کی تعداد دیکھو! آکر پوچھو کہ ہر ماہ کتنی گاڑیاں چوری ہوتی ہیں اورکتنے ڈاکے پڑتے ہیں اور پولیس پر ہر ماہ کتنے ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں؟
نیو یارک میں پاکستانی وفد نے‘ وزیراعظم کی قیادت میں بنگلہ دیش کے وزیراعظم جناب طارق رحمان اور ان کی ٹیم سے ملاقات کی۔ مجھے یقین ہے کہ قیمتی سوٹوں اور دیدہ زیب نکٹائیوں میں ملبوس پاکستانی وفد کے ارکان نے دل ہی دل میں وزیر اعظم طارق رحمان کا ٹھٹھا اڑایا ہو گا کہ اس احمق کو دیکھو‘ یہ عام کمرشل پرواز میں آیا ہے۔ اگر ہمارے وفد کا بس چلتا تو ضرور یہ نصیحت کرتا کہ میاں برخوردار!! یہ سادگی یہ کفایت شعاری چھوڑو۔ اقتدار میں ہو تو کچھ عیاشی کر لو۔ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست!
امریکہ کے اس دورے میں ہمارے وزیراعظم نے آئی ایم ایف کی سربراہ سے بھی ملاقات کی! اس ملاقات کا ذکر پڑھ کر ہمیں پنجابی زبان کے نامور ادیب جناب نجم حسین سید کی لکھی ہوئی ایک کہانی یاد آ رہی ہے۔ ایک غریب عورت تھانے میں زمین پر بیٹھی ہوئی تھی۔ تھانے والوں نے مار مار کر اس کا برا حال کر رکھا تھا۔ لباس تار تار ہو چکا تھا۔ چہر ے سے خون بہہ رہا تھا۔ بدن زخموں سے چور تھا۔ تھانے کے ساتھ گلی تھی۔ وہاں سے مولوی صاحب گزر رہے تھے۔ ان کی نظر غریب عورت پر پڑی تو فوراً جلال میں آ گئے ''بدبخت! سر کیوں ننگا ہے؟ دوپٹے سے سر ڈھانکو! جانتی نہیں ننگے سر رہنا کتنا بڑا گناہ ہے!‘‘۔ مجھے یقین ہے کہ آئی ایم ایف کی سربراہ اس بات پر خوش ہوئی ہو گی کہ پٹرول کے ہر لیٹر میں لیوی کا بوجھ شامل ہے۔ اس نے یہ ہدایت بھی دی ہوگی کہ بجلی‘ پانی اور گیس کے بلوں کو اور بھی بھاری کرو تاکہ عوام کی کمر دہری ہو جائے۔ نرخ بالا کُن کہ ارزانی ہنوز! اس نے یہ ہدایت بھی دی ہو گی کہ تنخواہوں اور پنشنوں میں سالانہ اضافہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن وہ یہ کبھی نہیں پوچھے گی کہ ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہیں اور مراعات کتنی ہیں؟ چارٹرڈ جہازوں پر سالانہ کتنے ارب روپے اٹھ جاتے ہیں؟ ایوانِ صدر اور وزیراعظم کے دفتر کا بجٹ اتنا زیادہ کیوں ہے؟ اور کئی اور سوالات!! ناصر کاظمی یاد آ گئے:
کتنی مردم شناس ہے دنیا
منحرف بے حیا ہمِیں سے ہوئی
یہ واقعہ مجھے ایک حالیہ خبر پڑھ کر یاد آیا۔ کون سی خبر؟ یہ آگے چل کر بتاتا ہوں۔ اس سے پہلے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سب نہیں لیکن تارکینِ وطن کی اچھی خاصی تعداد وہ ہے جو پاکستان کو کچھ دینے کے بجائے پاکستان سے کچھ لینا چاہتے ہیں۔ کوئی یہاں آکر گورنر لگنا چاہتا ہے‘ کوئی وزیر بننا چاہتا ہے‘ کوئی کسی ادارے کا سربراہ یا کارپوریشن کا ایم ڈی تعینات ہونا چاہتا ہے۔ پاکستان کا کوئی حکمران باہر جائے تو اس سے سچی بات کرنے کے بجائے ان کا زور اس کی خدمت اور خوشامد پر ہوتا ہے۔ عمران خان اقتدار میں آئے تو بیرونِ ملک سے بہت سے افراد آکر ان کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔ کوئی وزیر لگ گیا‘ کوئی کسی اور طاقتور پوسٹ پر براجمان ہو گیا۔ خان پر کڑا وقت آیا تو یہ چُوری خور مجنوں سارے بیرونِ ملک بھاگ گئے اور اپنی اپنی استراحت گاہوں میں نیم دراز ہو گئے۔ (حکمران مردم شناس نہ ہو تو یہی ہوتا ہے)۔ پوری پوری زندگی باہر گزارنے کے بعد ان تارکین وطن کی سوچ کا معیار یہی ہوتا ہے کہ واپس جا کر گورنر یا وزیر لگ جائیں یا کوئی اعزاز مل جائے۔ ڈاکٹر اس سے مستثنیٰ ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم بہت سے ڈاکٹر پاکستان کے ہسپتالوں اور میڈیکل کالجوں کی دیکھ بھال کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔
ایک عجیب بات نوٹ کرنے والی یہ ہے کہ ہمارے تارکین وطن کئی دہائیوں سے ترقی یافتہ جمہوری ملکوں میں قیام پذیر ہیں۔ اپنے اپنے نئے وطن کی جمہوری قدروں سے استفادہ کر رہے ہیں۔ رات دن دیکھتے ہیں کہ امریکہ‘ یورپ اور آسٹریلیا میں حکمرانوں کیلئے کوئی ہٹو بچو نہیں ہوتا‘ روٹ نہیں لگتے‘ ٹریفک نہیں بند کی جاتی‘ حکمرانوں کی اولاد اور رشتہ داروں کیلئے کوئی پروٹوکول نہیں ہوتا۔ لیکن جب دورے پر آئے ہوئے پاکستانی حکمرانوں کو یہ تارکین وطن ملتے ہیں تو ہاتھ باندھے‘ ماتحتوں کی طرح‘ جی سر‘ جی سر کے سوا کچھ نہیں کہتے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ ''وزیراعظم شہباز شریف سے امریکہ میں مقیم پاکستانی نوجوانوں کے وفد نے ملاقات کی... وزیراعظم نے نوجوانوں کو مختلف شعبہ جات میں بہتری کیلئے تجاویز دینے اور پاکستان کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی دعوت دی‘‘۔ اب یہ معلوم نہیں کہ امریکہ میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں اور نیویارک میں مقیم ہزاروں پاکستانیوں میں سے اُن پاکستانیوں کو کون منتخب کرتا ہے جو وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کرتے ہیں! پاکستانی حکمرانوں کی روایت تو یہی ہے کہ ملاقات میں یا پریس کانفرنس میں سب ''اپنے بندے‘‘ ہوں۔ تصویر دیکھ کر لگتا ہے کہ سب مؤدب بیٹھے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ پاکستانی‘ نوجوان ہیں یا کاروباری حضرات‘ کیا نہیں جانتے کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ یہ وزیراعظم سے کیوں نہیں پوچھتے کہ اگر بنگلہ دیش کا وزیراعظم اور کئی اور زیادہ امیر ممالک کے سربراہان‘ عام کمرشل فلائٹ سے سفر کرتے ہیں تو آپ کیوں نہیں کرتے؟ اگر پرانا جہاز اب بھی استعمال ہو رہا ہے تو چیف منسٹر صاحبہ نے بارہ ارب کا نیا جہاز کیوں خریدا ہے؟ اور کیا جمہوری ملکوں میں سرکاری کارندے اور وزیر اس طرح بات کرتے ہیں کہ ہاں خریدا ہے! اور آئندہ بھی سفر کریں گے! اگر امریکہ میں مقیم یہ پاکستانی‘ پاکستانی عوام کے حق میں بات نہیں کر سکتے تو کیا یہ وزیراعظم کو اپنی شکلیں دکھانے اور وعظ سننے کیلئے جاتے ہیں؟ حکومت پاکستان ان کا کیا بگاڑ سکتی ہے؟ یا پھر یہ تارکین وطن صرف اپنی شو شا‘ پھوں پھاں اور ٹھوں ٹھاہ کیلئے پاکستانی حکمرانوں سے ملنے جاتے ہیں کہ تصویر کھنچوائیں گے اور واہ واہ ہو گی۔ کیوں نہیں پوچھتے کہ اربوں روپے ہر ماہ آئی پی پیز کو کیوں دیے جا رہے ہیں جبکہ وہ بجلی صفر پیدا کر رہے ہیں؟ کیوں نہیں پوچھتے کہ پٹرول پر لیوی کس خوشی میں لی جا رہی ہے؟ کیوں نہیں پوچھتے کہ ریٹائرڈ منصفوں کو لاکھوں روپے اور مفت بجلی‘ گیس اور پٹرول کیوں دیے جا رہے ہیں؟ اگر امریکہ میں رہ کر پاکستان کا غم ستا رہا ہے تو کھل کر بات کرو۔ گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں!
اور وزیراعظم امریکہ میں مقیم ان پاکستانیوں سے ''بھرپور کردار‘‘ ادا کرنے کا کہنے کے بجائے یہ کیوں نہیں کہتے کہ آکر اصل پاکستان کی حالت دیکھو! آؤ اور ہمارے قصبے اور ہمارے گاؤں دیکھو۔ آ کر لاہور‘ کراچی اور اسلام آباد کے بجائے مانسہرہ‘ مردان‘ فتح جنگ‘ ڈی جی خان‘ بہاولنگر‘ شکارپور اور لاڑکانہ جیسے شہر اور قصبے دیکھو۔ پاکستان آکر گداگروں کی تعداد دیکھو! آکر پوچھو کہ ہر ماہ کتنی گاڑیاں چوری ہوتی ہیں اورکتنے ڈاکے پڑتے ہیں اور پولیس پر ہر ماہ کتنے ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں؟
نیو یارک میں پاکستانی وفد نے‘ وزیراعظم کی قیادت میں بنگلہ دیش کے وزیراعظم جناب طارق رحمان اور ان کی ٹیم سے ملاقات کی۔ مجھے یقین ہے کہ قیمتی سوٹوں اور دیدہ زیب نکٹائیوں میں ملبوس پاکستانی وفد کے ارکان نے دل ہی دل میں وزیر اعظم طارق رحمان کا ٹھٹھا اڑایا ہو گا کہ اس احمق کو دیکھو‘ یہ عام کمرشل پرواز میں آیا ہے۔ اگر ہمارے وفد کا بس چلتا تو ضرور یہ نصیحت کرتا کہ میاں برخوردار!! یہ سادگی یہ کفایت شعاری چھوڑو۔ اقتدار میں ہو تو کچھ عیاشی کر لو۔ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست!
امریکہ کے اس دورے میں ہمارے وزیراعظم نے آئی ایم ایف کی سربراہ سے بھی ملاقات کی! اس ملاقات کا ذکر پڑھ کر ہمیں پنجابی زبان کے نامور ادیب جناب نجم حسین سید کی لکھی ہوئی ایک کہانی یاد آ رہی ہے۔ ایک غریب عورت تھانے میں زمین پر بیٹھی ہوئی تھی۔ تھانے والوں نے مار مار کر اس کا برا حال کر رکھا تھا۔ لباس تار تار ہو چکا تھا۔ چہر ے سے خون بہہ رہا تھا۔ بدن زخموں سے چور تھا۔ تھانے کے ساتھ گلی تھی۔ وہاں سے مولوی صاحب گزر رہے تھے۔ ان کی نظر غریب عورت پر پڑی تو فوراً جلال میں آ گئے ''بدبخت! سر کیوں ننگا ہے؟ دوپٹے سے سر ڈھانکو! جانتی نہیں ننگے سر رہنا کتنا بڑا گناہ ہے!‘‘۔ مجھے یقین ہے کہ آئی ایم ایف کی سربراہ اس بات پر خوش ہوئی ہو گی کہ پٹرول کے ہر لیٹر میں لیوی کا بوجھ شامل ہے۔ اس نے یہ ہدایت بھی دی ہوگی کہ بجلی‘ پانی اور گیس کے بلوں کو اور بھی بھاری کرو تاکہ عوام کی کمر دہری ہو جائے۔ نرخ بالا کُن کہ ارزانی ہنوز! اس نے یہ ہدایت بھی دی ہو گی کہ تنخواہوں اور پنشنوں میں سالانہ اضافہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن وہ یہ کبھی نہیں پوچھے گی کہ ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہیں اور مراعات کتنی ہیں؟ چارٹرڈ جہازوں پر سالانہ کتنے ارب روپے اٹھ جاتے ہیں؟ ایوانِ صدر اور وزیراعظم کے دفتر کا بجٹ اتنا زیادہ کیوں ہے؟ اور کئی اور سوالات!! ناصر کاظمی یاد آ گئے:
کتنی مردم شناس ہے دنیا
منحرف بے حیا ہمِیں سے ہوئی
اُن دنوں میں وفاقی وزارتِ ثقافت میں تعینات تھا۔ ثقافتی طائفہ لے کر ہم لوگ امریکہ گئے۔ نیویارک ریاست کا دارالحکومت البنی (Albany) ہے۔ ایک خوبصورت‘ صاف ستھرا شہر! نیویارک شہر سے اڑھائی تین گھنٹے کی ڈرائیو پر! وہاں کے ایک معزز‘ صاحبِ حیثیت پاکستانی تارکِ وطن نے ہمیں کھانے پر مدعو کیا۔ شہر کی سیر بھی کرائی۔ دعوت سے فارغ ہوئے تو وہ مجھے ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے: آپ وزارتِ ثقافت میں ہیں‘ کچھ ایسا کیجیے کہ مجھے تمغۂ حسنِ کارکردگی یا کوئی اور اعزاز مل جائے۔ چند لمحے تو مجھے حیرت پر قابو پانے میں لگے۔ پھر انہیں بتایا کہ میں سرکاری مشینری کا ایک عام سا پرزہ ہوں‘ اس کیلئے آپ کوئی بڑی شخصیت پکڑیے۔ پھر میں نے پوچھا کہ اعزازات مختلف فنون‘ پیشوں اور خدمات کے حوالے سے دیے جاتے ہیں‘ آپ کس حوالے سے اعزاز لینا چاہتے ہیں؟ یاد نہیں انہوں نے کیا جواب دیا۔ یہ واقعہ مجھے ایک حالیہ خبر پڑھ کر یاد آیا۔ کون …
اُن دنوں میں وفاقی وزارتِ ثقافت میں تعینات تھا۔ ثقافتی طائفہ لے کر ہم لوگ امریکہ گئے۔ نیویارک ریاست کا دارالحکومت البنی (Albany) ہے۔ ایک خوبصورت‘ صاف ستھرا شہر! نیویارک شہر سے اڑھائی تین گھنٹے کی ڈرائیو پر! وہاں کے ایک معزز‘ صاحبِ حیثیت پاکستانی تارکِ وطن نے ہمیں کھانے پر مدعو کیا۔ شہر کی سیر بھی کرائی۔ دعوت سے فارغ ہوئے تو وہ مجھے ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے: آپ وزارتِ ثقافت میں ہیں‘ کچھ ایسا ک…
حسینۂ عالم سے ایک ملاقات
ستمبر 24, 2026
کالم
کالم
بہت مشکل سے ملاقات کا وقت طے ہوا۔
اس لیے کہ اس حسینہ سے ملنا آسان نہ تھا۔ ایک تو حسن بے پناہ! رنگت جیسے مکھن میں سیندور ملا ہو! بال سنہری‘ نرم اور ریشمی‘ جن سے نکلتی ہوئی خوشبو قریب آنے والے کو بے سُدھ کر دے۔ چہرہ جاڑے کی دھوپ جیسا۔ دوسرے حسینہ کی مصروفیت! دنیا اس سے ملاقات کیلئے بے تاب اور قطار میں کھڑی ہوئی! کوئی برسوں سے اور کوئی مہینوں سے! جس محل میں وہ رہ رہی تھی اس کی وسعت اور طرزِ تعمیر کے کیا ہی کہنے!! کئی منزلہ عمارت! کئی کمرے‘ کئی حمام اور گاڑیوں کیلئے کئی اصطبل! غلام‘ حاجب‘ نقیب‘ چوبدار بے شمار! جس دن میری ملاقات طے تھی‘ میں صبح صبح حاضر ہو گیا۔ مگر مجھے بتایا گیا کہ حسینۂ عالم کی کچھ مصروفیات اچانک پیش آ گئیں اس لیے مجھے دس دن انتظار کرنا ہو گا۔ میں نے انتہائی بے بسی اور بے کسی سے عرض کیا کہ میں بہت دور سے آیا ہوں۔ اگر اپنے ملک واپس گیا اور پھر آیا تو اخراجات میری استطاعت سے باہر ہو جائیں گے۔ ملک میرا دور بھی بہت ہے۔ جنوبی ایشیا کا آخری کنارا! دلکش چہرے والی سیکرٹری مسکرائی۔ پھر اس نے بتایا کہ حسینۂ عالم کے احکام یہ ہیں کہ جو ایک بار ملا قات کیلئے آ جائے‘ اسے ملاقات تک یہیں ٹھہرایا جائے۔ یہ پروٹوکول کا لازمی حصہ ہے۔ کچھ دیر کے بعد ایک نوجوان خاتون اٹھلاتی‘ بل کھاتی آئی اور مجھے ساتھ آنے کیلئے اشارہ کیا۔ کئی راہداریاں اور کمرے عبور کرنے کے بعد‘ برقی سیڑھیوں کے ذریعے ہم محل کی چوتھی منزل پر پہنچے۔ اس منزل پر بھی ہم کافی دیر چلتے رہے۔ بالآخر ایک وسیع و عریض اپارٹمنٹ میں پہنچ کر اس نے بتایا کہ یہ ہے دس دن کیلئے میری قیام گاہ! اپارٹمنٹ کی وسعت دیکھ کر میں حیران ہوا۔ اس میں چار بیڈ روم تھے۔ کچن تھا اور بہت بڑا ڈرائنگ روم! ایک طرف جم تھا دوسری طرف سنیما جو صرف میرے لیے تھا۔ سنیما کے ملازم کے پاس ہزاروں فلمیں تھیں۔ نئی‘ پرانی‘ تاریخی‘ رومانی‘ سنسنی خیز اورجاسوسی بھی! چار حسینائیں میری دیکھ بھال کیلئے وقف تھیں۔ ایک کھانا پکانے کیلئے۔ دوسری صفائی کیلئے۔ تیسری میرے وارڈ روب کی انچارج تھی اور چوتھی ٹیلی فون آپریٹر۔ دنیا میں کہیں بھی فون کرنا ہو‘ یہ خاتون ملا کر دے گی۔ بتایا گیا کہ ایک مرسیڈیز مع ڈرائیور ہر وقت تیار ملے گی۔ یہ تمام سہولتیں‘ بلکہ تعیشات مفت تھیں۔ مجھے ایک پائی بھی نہیں ادا کرنی ہو گی۔ کھانے پینے کا سامان‘ گروسری اور اکل و شرب کے دیگر امور سب اس خاتون کے ذمے ہوں گے جو باورچی خانے کی انچارج ہے۔
ہاں یہ تو بتانا بھول ہی گیا کہ یہ حسینۂ عالم‘ جس سے ملاقات کیلئے میں دور دراز کا سفر طے کر کے آیا تھا اور جس کیلئے دس دن انتظار کرنا تھا‘ اس کا نام آئی ایم ایف تھا‘ یعنی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ!! میں جب اس کے محل میں داخل ہوا تھا تو غیظ و غضب سے بھرا ہوا تھا۔ مجھے اس سے پوچھنا تھا کہ میرے ملک کے عوام سے اسے آخر کیا دشمنی تھی۔ میرے سوالات ایسے تھے جن کا اس کے پاس‘ میرے خیال میں‘ کوئی جواب ہی نہیں ہونا تھا۔ میری نظر میں یہ حسینہ‘ یعنی آئی ایم ایف استعمار کی باندی تھی اور امیر ملکوں کی‘ خاص کر امریکہ کی‘ ایجنٹ تھی۔ اسے بے نقاب کرنا میری آمد کا مقصد تھا۔ لیکن میری قیام گاہ اور اس سے وابستہ سہولتیں میرے دل کو آہستہ آہستہ‘ غیر مرئی طریقے سے لبھا رہی تھیں! سب کچھ ایک خواب کی طرح لگ رہا تھا۔ یہ پرستانی زندگی تھی۔ مرسیڈیز مجھے خوبصورت مقامات پر لے جاتی۔ ناشتے میں بیسیوں آئٹم ہوتے۔ رات کا ڈنر کبھی کسی بڑے افسر کے گھر میں‘ کبھی کسی سات ستارہ ہوٹل میں‘ چار کنیزیں ہر وقت حکم کی منتظر رہتیں۔ وہ ہر روز ایسے ملبوسات پہن کر آتیں جو ملکوں کے حکمرانوں کی بیگمات بھی نہیں برداشت کر سکتی تھیں۔ ہر شام کہیں نہ کہیں مجھے کسی محفلِ رقص و سرود میں لے جایا جاتا۔ پلنگ ایسا جیسے پانی پر بچھا ریشمی گدا ہو۔ ہوتے ہوتے میرے دل میں حسینۂ عالم کیلئے نرم گوشہ پیدا ہونے لگا۔ ابھی چھ دن بھی نہ گزرے تھے کہ میرے خیالات میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔ مجھے حسینۂ عالم ایک نیک دل‘ فیاض اور انسان دوست خاتون نظر آنے لگی۔ انسان دوست نہ ہوتی تو اسے کیا ضرورت تھی کہ مجھ جیسے عام‘ دو ٹکے کے کالم نگار کو اتنا شاہانہ پروٹوکول دیتی جب کہ میں اس سے دو دو ہاتھ کرنے کیلئے آیا ہوں۔ دس دن ختم ہونے تک میں پوری طرح اس کا عقیدت مند اور سپاس گزار ہو چکا تھا۔ اب میں اسے اپنا محسن سمجھنے لگا تھا اور سوچ رہا تھا کہ جو کچھ میرے ایجنڈے پر ہے اور جو کچھ کہنے کیلئے میں آیا تھا‘ وہ کتنا غیر مناسب ہے۔
گیارہویں دن ملاقات ہوئی۔ حسینۂ عالم ایک پری لگ رہی تھی۔ میں نے اسے قریب سے دیکھا اور دم بخود رہ گیا۔ آسمانی حسن‘ نیکی اور فیاضی کا امتزاج!! اس کے ارد گرد اس کے مشیر کھڑے تھے۔ اس نے تاخیر سے ملنے کی معذرت کی اور پوچھا کہ میں کیا چاہتا ہوں۔ میں نے ریشہ خطمی ہوتے ہوئے عرض کیا کہ آپ کے جو احسانات ہیں میری قوم پر‘ بس ان کا شکریہ ادا کرنے حاضر ہوا ہوں! حسینہ مسکرائی اور کہا ''جناب کالم نگار! ایسی بات نہیں۔ میرے مشیروں نے آپ کے کالموں‘ سوشل میڈیا پر بکھرے ہوئے آپ کے خیالات اور تقریبات میں آپ کی گفتگوؤں کا بھرپور مطالعہ کیا ہے۔ مجھے معلوم ہے آپ کیا سوچ کر آئے تھے اور یہ دس دن مہمان نوازی اور خاطر داری کے بھی ایک خاص مقصد کیلئے تھے۔ آپ کا مجھ پر سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ میں تنخواہوں اور پنشن کے اضافے کی اجازت نہیں دیتی۔ پٹرول اور بجلی گیس کے نرخ بڑھوا کر عوام کی زندگی جہنم بنا رہی ہوں مگر اعیانِ حکومت کی عیاشیوں پر اعتراض نہیں کرتی۔ وہ قومی خزانے کو اپنے اور اپنے متعلقین پر بے دردی سے لٹاتے ہیں۔ جہاز خریدتے ہیں۔ چارٹرڈ جہازوں پر سفر کرتے ہیں۔ پورے پورے خاندان سرکاری خرچ پر پل رہے ہیں۔ ان کے غیرملکی دوروں پر اربوں خرچ ہو رہے ہیں۔ ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے روز افزوں بجٹ پر میں اعتراض نہیں کرتی۔ ارکانِ پارلیمنٹ کی فلک بوس تنخواہوں اور مراعات کی طرف نہیں دیکھتی۔ تو جناب کالم نگار! میں کوئی مصلح یا ریفارمر نہیں۔ میں استعمار کی کنیز ہوں۔ میں اگر آپ کے حکمرانوں کی عیاشیاں ختم کر دوں تو آپ کا ملک اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے گا۔ آپ کے حکمرانوں کی نیتیں صاف ہو جائیں گی۔ قرضے ان کی عیاشیوں پر نہیں‘ عوام کی فلاح و بہبود پر صرف ہوں گے۔ اگر پاکستان خوشحال ہو جائے تو پھر مغربی ممالک کی اقتصادی غلامی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہی تو میں اور میرے مالکان نہیں چاہتے۔ میرا منصوبہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک غربت کے سمندر میں ڈوب کر مریں نہ باہر نکل سکیں۔ بس منہ پانی سے باہر رہے تا کہ سانس لیتے رہیں۔ یوں وہ ہمیشہ کیلئے میرے غلام رہیں گے۔ ابھی تمہارے وزیراعظم سپیشل جہاز پر لندن گئے ہیں۔ جہاز خالی واپس گیا ہے۔ وہ کچھ دن لندن ٹھہریں گے۔ پھر امریکہ میں جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ واپسی پر پھر کچھ دن لندن ٹھہریں گے۔ لندن اور دبئی تمہارے حکمرانوں کے اصلی وطن ہیں۔ پاکستان تو ان کی جاگیر ہے۔ ابھی اربوں روپے کی بلٹ پروف گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں۔ کیا مجھے یہ سب معلوم نہیں؟ کیا میں اندھی ہوں؟ حکمرانوں اور ارکانِ پارلیمنٹ کا طرزِ زندگی عام آدمی جیسا ہو جائے تو پاکستان سنگا پور‘ نیوزی لینڈ آئر لینڈ اور سکینڈے نیویا جیسا ہو جائے۔ یہی تو معاشی استعمار نہیں چاہتا۔ اور ہاں! یہ مرسیڈیز جو آپ یہاں استعمال کر رہے تھے‘ آپ کے گھر پہنچ جائے گی۔ مجھے امید ہے آپ کی آئندہ تحریریں میرے حق میں ہوں گی!!‘‘۔
اس لیے کہ اس حسینہ سے ملنا آسان نہ تھا۔ ایک تو حسن بے پناہ! رنگت جیسے مکھن میں سیندور ملا ہو! بال سنہری‘ نرم اور ریشمی‘ جن سے نکلتی ہوئی خوشبو قریب آنے والے کو بے سُدھ کر دے۔ چہرہ جاڑے کی دھوپ جیسا۔ دوسرے حسینہ کی مصروفیت! دنیا اس سے ملاقات کیلئے بے تاب اور قطار میں کھڑی ہوئی! کوئی برسوں سے اور کوئی مہینوں سے! جس محل میں وہ رہ رہی تھی اس کی وسعت اور طرزِ تعمیر کے کیا ہی کہنے!! کئی منزلہ عمارت! کئی کمرے‘ کئی حمام اور گاڑیوں کیلئے کئی اصطبل! غلام‘ حاجب‘ نقیب‘ چوبدار بے شمار! جس دن میری ملاقات طے تھی‘ میں صبح صبح حاضر ہو گیا۔ مگر مجھے بتایا گیا کہ حسینۂ عالم کی کچھ مصروفیات اچانک پیش آ گئیں اس لیے مجھے دس دن انتظار کرنا ہو گا۔ میں نے انتہائی بے بسی اور بے کسی سے عرض کیا کہ میں بہت دور سے آیا ہوں۔ اگر اپنے ملک واپس گیا اور پھر آیا تو اخراجات میری استطاعت سے باہر ہو جائیں گے۔ ملک میرا دور بھی بہت ہے۔ جنوبی ایشیا کا آخری کنارا! دلکش چہرے والی سیکرٹری مسکرائی۔ پھر اس نے بتایا کہ حسینۂ عالم کے احکام یہ ہیں کہ جو ایک بار ملا قات کیلئے آ جائے‘ اسے ملاقات تک یہیں ٹھہرایا جائے۔ یہ پروٹوکول کا لازمی حصہ ہے۔ کچھ دیر کے بعد ایک نوجوان خاتون اٹھلاتی‘ بل کھاتی آئی اور مجھے ساتھ آنے کیلئے اشارہ کیا۔ کئی راہداریاں اور کمرے عبور کرنے کے بعد‘ برقی سیڑھیوں کے ذریعے ہم محل کی چوتھی منزل پر پہنچے۔ اس منزل پر بھی ہم کافی دیر چلتے رہے۔ بالآخر ایک وسیع و عریض اپارٹمنٹ میں پہنچ کر اس نے بتایا کہ یہ ہے دس دن کیلئے میری قیام گاہ! اپارٹمنٹ کی وسعت دیکھ کر میں حیران ہوا۔ اس میں چار بیڈ روم تھے۔ کچن تھا اور بہت بڑا ڈرائنگ روم! ایک طرف جم تھا دوسری طرف سنیما جو صرف میرے لیے تھا۔ سنیما کے ملازم کے پاس ہزاروں فلمیں تھیں۔ نئی‘ پرانی‘ تاریخی‘ رومانی‘ سنسنی خیز اورجاسوسی بھی! چار حسینائیں میری دیکھ بھال کیلئے وقف تھیں۔ ایک کھانا پکانے کیلئے۔ دوسری صفائی کیلئے۔ تیسری میرے وارڈ روب کی انچارج تھی اور چوتھی ٹیلی فون آپریٹر۔ دنیا میں کہیں بھی فون کرنا ہو‘ یہ خاتون ملا کر دے گی۔ بتایا گیا کہ ایک مرسیڈیز مع ڈرائیور ہر وقت تیار ملے گی۔ یہ تمام سہولتیں‘ بلکہ تعیشات مفت تھیں۔ مجھے ایک پائی بھی نہیں ادا کرنی ہو گی۔ کھانے پینے کا سامان‘ گروسری اور اکل و شرب کے دیگر امور سب اس خاتون کے ذمے ہوں گے جو باورچی خانے کی انچارج ہے۔
ہاں یہ تو بتانا بھول ہی گیا کہ یہ حسینۂ عالم‘ جس سے ملاقات کیلئے میں دور دراز کا سفر طے کر کے آیا تھا اور جس کیلئے دس دن انتظار کرنا تھا‘ اس کا نام آئی ایم ایف تھا‘ یعنی انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ!! میں جب اس کے محل میں داخل ہوا تھا تو غیظ و غضب سے بھرا ہوا تھا۔ مجھے اس سے پوچھنا تھا کہ میرے ملک کے عوام سے اسے آخر کیا دشمنی تھی۔ میرے سوالات ایسے تھے جن کا اس کے پاس‘ میرے خیال میں‘ کوئی جواب ہی نہیں ہونا تھا۔ میری نظر میں یہ حسینہ‘ یعنی آئی ایم ایف استعمار کی باندی تھی اور امیر ملکوں کی‘ خاص کر امریکہ کی‘ ایجنٹ تھی۔ اسے بے نقاب کرنا میری آمد کا مقصد تھا۔ لیکن میری قیام گاہ اور اس سے وابستہ سہولتیں میرے دل کو آہستہ آہستہ‘ غیر مرئی طریقے سے لبھا رہی تھیں! سب کچھ ایک خواب کی طرح لگ رہا تھا۔ یہ پرستانی زندگی تھی۔ مرسیڈیز مجھے خوبصورت مقامات پر لے جاتی۔ ناشتے میں بیسیوں آئٹم ہوتے۔ رات کا ڈنر کبھی کسی بڑے افسر کے گھر میں‘ کبھی کسی سات ستارہ ہوٹل میں‘ چار کنیزیں ہر وقت حکم کی منتظر رہتیں۔ وہ ہر روز ایسے ملبوسات پہن کر آتیں جو ملکوں کے حکمرانوں کی بیگمات بھی نہیں برداشت کر سکتی تھیں۔ ہر شام کہیں نہ کہیں مجھے کسی محفلِ رقص و سرود میں لے جایا جاتا۔ پلنگ ایسا جیسے پانی پر بچھا ریشمی گدا ہو۔ ہوتے ہوتے میرے دل میں حسینۂ عالم کیلئے نرم گوشہ پیدا ہونے لگا۔ ابھی چھ دن بھی نہ گزرے تھے کہ میرے خیالات میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔ مجھے حسینۂ عالم ایک نیک دل‘ فیاض اور انسان دوست خاتون نظر آنے لگی۔ انسان دوست نہ ہوتی تو اسے کیا ضرورت تھی کہ مجھ جیسے عام‘ دو ٹکے کے کالم نگار کو اتنا شاہانہ پروٹوکول دیتی جب کہ میں اس سے دو دو ہاتھ کرنے کیلئے آیا ہوں۔ دس دن ختم ہونے تک میں پوری طرح اس کا عقیدت مند اور سپاس گزار ہو چکا تھا۔ اب میں اسے اپنا محسن سمجھنے لگا تھا اور سوچ رہا تھا کہ جو کچھ میرے ایجنڈے پر ہے اور جو کچھ کہنے کیلئے میں آیا تھا‘ وہ کتنا غیر مناسب ہے۔
گیارہویں دن ملاقات ہوئی۔ حسینۂ عالم ایک پری لگ رہی تھی۔ میں نے اسے قریب سے دیکھا اور دم بخود رہ گیا۔ آسمانی حسن‘ نیکی اور فیاضی کا امتزاج!! اس کے ارد گرد اس کے مشیر کھڑے تھے۔ اس نے تاخیر سے ملنے کی معذرت کی اور پوچھا کہ میں کیا چاہتا ہوں۔ میں نے ریشہ خطمی ہوتے ہوئے عرض کیا کہ آپ کے جو احسانات ہیں میری قوم پر‘ بس ان کا شکریہ ادا کرنے حاضر ہوا ہوں! حسینہ مسکرائی اور کہا ''جناب کالم نگار! ایسی بات نہیں۔ میرے مشیروں نے آپ کے کالموں‘ سوشل میڈیا پر بکھرے ہوئے آپ کے خیالات اور تقریبات میں آپ کی گفتگوؤں کا بھرپور مطالعہ کیا ہے۔ مجھے معلوم ہے آپ کیا سوچ کر آئے تھے اور یہ دس دن مہمان نوازی اور خاطر داری کے بھی ایک خاص مقصد کیلئے تھے۔ آپ کا مجھ پر سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ میں تنخواہوں اور پنشن کے اضافے کی اجازت نہیں دیتی۔ پٹرول اور بجلی گیس کے نرخ بڑھوا کر عوام کی زندگی جہنم بنا رہی ہوں مگر اعیانِ حکومت کی عیاشیوں پر اعتراض نہیں کرتی۔ وہ قومی خزانے کو اپنے اور اپنے متعلقین پر بے دردی سے لٹاتے ہیں۔ جہاز خریدتے ہیں۔ چارٹرڈ جہازوں پر سفر کرتے ہیں۔ پورے پورے خاندان سرکاری خرچ پر پل رہے ہیں۔ ان کے غیرملکی دوروں پر اربوں خرچ ہو رہے ہیں۔ ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہاؤس کے روز افزوں بجٹ پر میں اعتراض نہیں کرتی۔ ارکانِ پارلیمنٹ کی فلک بوس تنخواہوں اور مراعات کی طرف نہیں دیکھتی۔ تو جناب کالم نگار! میں کوئی مصلح یا ریفارمر نہیں۔ میں استعمار کی کنیز ہوں۔ میں اگر آپ کے حکمرانوں کی عیاشیاں ختم کر دوں تو آپ کا ملک اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے گا۔ آپ کے حکمرانوں کی نیتیں صاف ہو جائیں گی۔ قرضے ان کی عیاشیوں پر نہیں‘ عوام کی فلاح و بہبود پر صرف ہوں گے۔ اگر پاکستان خوشحال ہو جائے تو پھر مغربی ممالک کی اقتصادی غلامی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ یہی تو میں اور میرے مالکان نہیں چاہتے۔ میرا منصوبہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک غربت کے سمندر میں ڈوب کر مریں نہ باہر نکل سکیں۔ بس منہ پانی سے باہر رہے تا کہ سانس لیتے رہیں۔ یوں وہ ہمیشہ کیلئے میرے غلام رہیں گے۔ ابھی تمہارے وزیراعظم سپیشل جہاز پر لندن گئے ہیں۔ جہاز خالی واپس گیا ہے۔ وہ کچھ دن لندن ٹھہریں گے۔ پھر امریکہ میں جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ واپسی پر پھر کچھ دن لندن ٹھہریں گے۔ لندن اور دبئی تمہارے حکمرانوں کے اصلی وطن ہیں۔ پاکستان تو ان کی جاگیر ہے۔ ابھی اربوں روپے کی بلٹ پروف گاڑیاں خریدی جا رہی ہیں۔ کیا مجھے یہ سب معلوم نہیں؟ کیا میں اندھی ہوں؟ حکمرانوں اور ارکانِ پارلیمنٹ کا طرزِ زندگی عام آدمی جیسا ہو جائے تو پاکستان سنگا پور‘ نیوزی لینڈ آئر لینڈ اور سکینڈے نیویا جیسا ہو جائے۔ یہی تو معاشی استعمار نہیں چاہتا۔ اور ہاں! یہ مرسیڈیز جو آپ یہاں استعمال کر رہے تھے‘ آپ کے گھر پہنچ جائے گی۔ مجھے امید ہے آپ کی آئندہ تحریریں میرے حق میں ہوں گی!!‘‘۔
بہت مشکل سے ملاقات کا وقت طے ہوا۔ اس لیے کہ اس حسینہ سے ملنا آسان نہ تھا۔ ایک تو حسن بے پناہ! رنگت جیسے مکھن میں سیندور ملا ہو! بال سنہری‘ نرم اور ریشمی‘ جن سے نکلتی ہوئی خوشبو قریب آنے والے کو بے سُدھ کر دے۔ چہرہ جاڑے کی دھوپ جیسا۔ دوسرے حسینہ کی مصروفیت! دنیا اس سے ملاقات کیلئے بے تاب اور قطار میں کھڑی ہوئی! کوئی برسوں سے اور کوئی مہینوں سے! جس محل میں وہ رہ رہی تھی اس کی وسعت اور طرزِ تعمیر کے کیا ہی کہنے!! کئی منزلہ عمارت! کئی کمرے‘ کئی حمام اور گاڑیوں کیلئے کئی اصطبل! غلام‘ حاجب‘ نقیب‘ چوبدار بے شمار! جس دن میری ملاقات طے تھی‘ میں صبح صبح حاضر ہو گیا۔ مگر مجھے بتایا گیا کہ حسینۂ عالم کی کچھ مصروفیات اچانک پیش آ گئیں اس لیے مجھے دس دن انتظار کرنا ہو گا۔ میں نے انتہائی بے بسی اور بے کسی سے عرض کیا کہ میں بہت دور سے آیا ہوں۔ اگر اپنے ملک واپس گیا اور پھر آیا تو اخراجات میری استطاعت…
بہت مشکل سے ملاقات کا وقت طے ہوا۔ اس لیے کہ اس حسینہ سے ملنا آسان نہ تھا۔ ایک تو حسن بے پناہ! رنگت جیسے مکھن میں سیندور ملا ہو! بال سنہری‘ نرم اور ریشمی‘ جن سے نکلتی ہوئی خوشبو قریب آنے والے کو بے سُدھ کر دے۔ چہرہ جاڑے کی دھوپ جیسا۔ دوسرے حسینہ کی مصروفیت! دنیا اس سے ملاقات کیلئے بے تاب اور قطار میں کھڑی ہوئی! کوئی برسوں سے اور کوئی مہینوں سے! جس محل میں وہ رہ رہی تھی اس کی وسعت اور طرزِ تعمیر ک…
پاکٹ منی فلاں جگہ پڑی ہے
ستمبر 22, 2026
کالم
کالم
میں نے حمزہ کو وڈیو کال کی اور لائبریری جانے کا کہا۔ جب وہ لائبریری پہنچ گیا تو میں نے بتایا کہ جو الماری کھڑکی کے ساتھ ہے اس سے اگلی الماری میں اردو شاعری کی کتابیں پڑی ہیں۔ ان میں ایک کتاب ''گلِ نغمہ‘‘ رکھی ہے۔ اسے ڈھونڈو۔ چند لمحوں کے بعد اس نے بتایا کہ ''گلِ نغمہ‘‘ مل گئی ہے۔ تب اسے کہا کہ اس میں تمہاری اس مہینے کی پاکٹ منی پڑی ہے۔ تھوڑی دیر میں اس نے بتایا کہ کتاب میں پڑے اتنے ڈالر مل گئے ہیں۔
آسٹریلیا قیام کے دوران‘ اسرار اور معاذ‘ دونوں کے بچوں کو وقتاً فوقتاً پاکٹ منی دیتا رہتا ہوں۔ میری اس حرکت کو بچوں کے ماں باپ زیادہ پسند نہیں کرتے۔ اکثر والدین اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ نانا نانی‘ دادا دادی بچوں کو جب بھی کچھ کھلائیں پلائیں گے یا جیب خرچ دیں گے یا کسی باغ یا پارک میں لے جائیں گے یا انہیں کوئی ملبوس لے کر دیں گے تو بس بچوں کو خراب (spoil) کریں گے۔ یہ الزام صرف ہمارے ملک میں نہیں‘ پوری دنیا میں لگایا جاتا ہے۔ ایک دفعہ میں اور میری اہلیہ کینیڈا میں ایک ریستوران میں بیٹھے تھے۔ قریب ہی ایک سفید فام‘ عمر رسیدہ خاتون بارہ تیرہ سال کے بچے کے ساتھ بیٹھی تھی۔ بچہ کچھ کھا رہا تھا اور وہ اسے دیکھ دیکھ کر نہال ہوئے جا رہی تھی۔ ہم دونوں اندازہ لگانے لگے کہ بچہ اس خاتون کا پوتا ہے یا نواسہ۔ میں اس کے پاس چلا گیا۔ سلام کر کے پوچھا تو اس نے بتایا کہ نواسہ ہے۔ میں نے کہا کہ والدین الزام لگاتے ہیں کہ ہم بچوں کو خراب کرتے ہیں۔ اس نے مسکر اتے ہوئے جواب دیا ''بالکل! ہم خراب کرتے ہیں اور کریں گے۔ کیوں کہ ہم والدین نہیں بلکہ گرینڈ پیرنٹس ہیں اور گرینڈ پیرنٹس کا یہی کام ہے‘‘۔ یہ جو گزشتہ صدی کے معروف امریکی شاعر اوگڈین ناش (Ogden Nash) کا مشہور قول ہے کہ When grandparents enter the door, discipline flies out the window‘ یعنی جیسے ہی گرینڈ پیرنٹس دروازے سے داخل ہوتے ہیں‘ ڈسپلن کھڑکی کے راستے باہر کود جاتا ہے۔ تو یہ بھی شاعر نے بچوں کے والدین کو خوش کرنے کیلئے کہا ہو گا۔
کچھ دن پہلے ایک وڈیو کلپ دیکھا کہ باپ بیٹے کی پٹائی کر رہا ہے کیونکہ بیٹے نے امتحان میں نمبر کم لیے ہیں۔ وقت گزرتا ہے۔ پٹائی کرنے والا باپ دادا بن جاتا ہے۔ مار کھانے والا بیٹا باپ بن جاتا ہے۔ اس کا بیٹا بھی کم نمبر لے کر پاس ہوتا ہے اور وہ جب بیٹے کی پٹائی کرنے لگتا ہے تو دادا درمیان میں آجاتا ہے اور کہتا ہے کہ نمبر کم ہیں تو کیا ہوا‘ پاس تو ہو گیا ہے نا! باپ حیران ہو کر اپنے ماتھے پر چپت رسید کرتا ہے اور بڑبڑاتا ہے کہ کل جس بات پر اسے پیٹا گیا تھا‘ آج اسی بات پر پوتے کو کچھ نہیں کہنے دیتے!
آسٹریلیا قیام کے دوران‘ اسرار اور معاذ‘ دونوں کے بچوں کو وقتاً فوقتاً پاکٹ منی دیتا رہتا ہوں۔ پاکستان آنے کے بعد یہ سلسلہ معطل ہو جاتا ہے۔ پچھلے سال انہی دنوں آسٹریلیا میں تھا تو حمزہ پندرہ سال کا ہو گیا۔ سوچا کہ اب ماشاء اللہ بڑا ہو گیا ہے۔ اس کی ضروریات چھوٹے بچوں کی نسبت زیادہ ہوں گی‘ تو ایسا نظام بنایا کہ میرے پاکستان جانے کے بعد بھی اسے جیب خرچ ملتا رہے۔ چنانچہ واپس آنے سے پہلے میں اس کی بارہ ماہ کی پاکٹ منی مختلف جگہوں پر رکھ آیا۔ اپنے کسی کوٹ کی جیب میں‘ کسی دراز میں‘ زیادہ تر کسی کتاب میں! ہر ماہ کے پہلے ہفتے اسے فون پر بتاتا ہوں کہ فلاں الماری میں رکھی فلاں کتاب میں دیکھو۔ یا فلاں کوٹ یا فلاں قمیص کی جیب میں دیکھو۔ یہاں منطقی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جیب خرچ حمزہ کی اماں یا ابا کو کیوں نہیں دے آتا کہ وہ ہر مہینے اسے دے دیا کریں۔ ایسا نہ کرنے کی وجہ ہے اور بہت ٹھوس وجہ ہے۔ ایک تو میں پوتوں پوتیوں اور نواسوں نواسیوں کے ضمن میں ان کے والدین پر اعتبار بالکل نہیں کرتا۔ اس لیے نہیں ان کی دیانت پر شبہ ہے‘ بلکہ اس لیے کہ ایک تو وہ بھول جائیں گے اور دوسرے بچوں کی جو اہمیت گرینڈ پیرنٹس کیلئے ہوتی ہے وہ والدین کیلئے نہیں ہوتی۔ جیسا کہ میں نے اپنی تصنیف ''سمندر، جزیرے اور جدائیاں‘‘ میں لکھا ہے کہ نانا دادا‘ نانی دادی کا اتحاد پوتوں پوتیوں‘ نواسوں نواسیوں کے ساتھ فطری ہے۔ بچوں کے والدین بچوں کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتے اور کسی حد تک بچوں کے گرینڈ پیرنٹس کی باتوں پر بھی پوری توجہ نہیں دیتے۔ اس کے بر عکس بچے گرینڈ پیرنٹس کی باتوں پر بہت توجہ دیتے ہیں اور گرینڈ پیرنٹس بچوں کی باتوں پر۔ مثلاً ہم میں سے ہر شخص کا مشاہدہ ہے کہ بچہ باپ سے مٹھائی یا کھلونا مانگتا ہے تو باپ‘ جو کام سے تھکا ہوا آیا ہوتا ہے‘ کہتا ہے کہ کل لیتا آؤں گا۔ مگر دادا یا نانا آدھی رات کو بھی گھر سے نکل جاتا ہے‘ مطلوبہ شے لا کر بچے کو دیتا ہے اور پھر تھکاوٹ کا احساس کیے بغیر بچے کو خوش ہوتا دیکھتا ہے تو اسے ایک عجیب‘ آسمانی قسم کی راحت ملتی ہے۔ بچہ ماں سے کہتا ہے کہ اسے حلوہ یا آملیٹ یا پاستا بنا دے تو ماں جو دن بھر کی تھکی ہاری ہے‘ کہتی ہے کہ جو پکا ہوا ہے وہی کھا لو‘ حلوہ یا پاستا کل بنا دوں گی۔ مگر دادی یا نانی اسی وقت اٹھتی ہے اور بچے کی خواہش فوراً پورا کرتی ہے۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ماں باپ زندگی کی گاڑی میں جُتے ہوتے ہیں۔ نوکری‘ کاروبار‘ ہزار افکار و آلام! جبکہ گرینڈ پیرنٹس اکثر و بیشتر ریٹائرڈ ہوتے ہیں اور نسبتاً کم مصروفیات کے حامل!! بچوں کیلئے بھی گرینڈ پیرنٹس کی ہر بات نہایت اہم ہوتی ہے۔ باپ شام کو گھر آئے گا تو بچہ فوراً بتائے گا کہ آج دادا جان گر گئے تھے یا نانو کی دوا ختم ہو گئی ہے۔ دو سال پہلے میری آنکھوں کی جراحی ہوئی تو حمزہ جو تب چودہ برس کا تھا‘ اپنی وڈیو گیم چھوڑ کر دن کا زیادہ حصہ میرے کمرے میں‘ میرے پاس بیٹھ کر گزارتا تھا۔ میں کئی بار کہتا کہ جاؤ باہر کھیلو کودو۔ مگر وہ نہیں مانتا تھا۔ بیمار پڑوں تو نواسی زینب فوراً ایک سخت گیر نرس بن جاتی ہے۔ بخار ہو تو کہیں جانے نہیں دیتی۔ ڈرائیور سے گاڑی کی چابی لے کر اپنے پاس رکھ لیتی ہے۔ ایک بار طبیعت کی ناسازی کے باوجود مجھے شہر سے باہر جانا پڑا۔ پہلے تو اس نے روکنے کی کوشش کی مگر میں نہ رکا۔ ابھی میں گوجر خان کے قریب پہنچا تھا کہ زینب کا فون آیا ''نانا ابو! راستے میں سونے کی کوشش کیجیے ورنہ تھکاوٹ زیادہ ہو گی‘‘۔ میں خدا کی قدرت پر حیران ہوا کہ انسان کیلئے کیسے کیسے محافظ پیدا کیے ہیں۔ سولہ سترہ سال کی بچی اور بڑی بوڑھیوں کی طرح فکر مند!! قدرت انسان سے اس کے ماں باپ‘ نانا نانی‘ دادا دای واپس لیتی ہے تو بدلے میں پوتیاں پوتے‘ نواسیاں نواسے عطا کرتی ہے جو بڑوں کی طرح اس کا خیال رکھتے ہیں۔
لیکن سب نانے دادے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ تو بچوں کا شور برداشت ہی نہیں کرتے۔ ایک صاحب کو میں جانتا ہوں جو اپنے بچوں سے کبھی بغلگیر ہوئے نہ نواسے کو کبھی بوسہ دیا۔ شاید میں اس حوالے سے زیادہ حساس ہوں۔ کچھ برس پہلے تاشقند سے ایک سیمینار میں شرکت کی دعوت ملی۔ میں نے معذرت کر لی کیونکہ اس دن حمزہ کی آسٹریلیا کیلئے پرواز تھی اور میں اسے رخصت کرنا زیادہ ضروری سمجھتا تھا۔ اس وقت جب یہ کالم لکھ رہا ہوں‘ چار سالہ رستم اور اڑھائی سالہ آزادِہ نے میرے کمرے ہی میں قیامت کا شور برپا کر رکھا ہے ۔ میں بڑوں کا شور نہیں برداشت کرتا مگر بچوں کے شور میں میری قوتِ تحریر میں اضافہ ہو جاتا ہے‘ بشرطیکہ بچے اپنے ہوں!
آسٹریلیا قیام کے دوران‘ اسرار اور معاذ‘ دونوں کے بچوں کو وقتاً فوقتاً پاکٹ منی دیتا رہتا ہوں۔ میری اس حرکت کو بچوں کے ماں باپ زیادہ پسند نہیں کرتے۔ اکثر والدین اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ نانا نانی‘ دادا دادی بچوں کو جب بھی کچھ کھلائیں پلائیں گے یا جیب خرچ دیں گے یا کسی باغ یا پارک میں لے جائیں گے یا انہیں کوئی ملبوس لے کر دیں گے تو بس بچوں کو خراب (spoil) کریں گے۔ یہ الزام صرف ہمارے ملک میں نہیں‘ پوری دنیا میں لگایا جاتا ہے۔ ایک دفعہ میں اور میری اہلیہ کینیڈا میں ایک ریستوران میں بیٹھے تھے۔ قریب ہی ایک سفید فام‘ عمر رسیدہ خاتون بارہ تیرہ سال کے بچے کے ساتھ بیٹھی تھی۔ بچہ کچھ کھا رہا تھا اور وہ اسے دیکھ دیکھ کر نہال ہوئے جا رہی تھی۔ ہم دونوں اندازہ لگانے لگے کہ بچہ اس خاتون کا پوتا ہے یا نواسہ۔ میں اس کے پاس چلا گیا۔ سلام کر کے پوچھا تو اس نے بتایا کہ نواسہ ہے۔ میں نے کہا کہ والدین الزام لگاتے ہیں کہ ہم بچوں کو خراب کرتے ہیں۔ اس نے مسکر اتے ہوئے جواب دیا ''بالکل! ہم خراب کرتے ہیں اور کریں گے۔ کیوں کہ ہم والدین نہیں بلکہ گرینڈ پیرنٹس ہیں اور گرینڈ پیرنٹس کا یہی کام ہے‘‘۔ یہ جو گزشتہ صدی کے معروف امریکی شاعر اوگڈین ناش (Ogden Nash) کا مشہور قول ہے کہ When grandparents enter the door, discipline flies out the window‘ یعنی جیسے ہی گرینڈ پیرنٹس دروازے سے داخل ہوتے ہیں‘ ڈسپلن کھڑکی کے راستے باہر کود جاتا ہے۔ تو یہ بھی شاعر نے بچوں کے والدین کو خوش کرنے کیلئے کہا ہو گا۔
کچھ دن پہلے ایک وڈیو کلپ دیکھا کہ باپ بیٹے کی پٹائی کر رہا ہے کیونکہ بیٹے نے امتحان میں نمبر کم لیے ہیں۔ وقت گزرتا ہے۔ پٹائی کرنے والا باپ دادا بن جاتا ہے۔ مار کھانے والا بیٹا باپ بن جاتا ہے۔ اس کا بیٹا بھی کم نمبر لے کر پاس ہوتا ہے اور وہ جب بیٹے کی پٹائی کرنے لگتا ہے تو دادا درمیان میں آجاتا ہے اور کہتا ہے کہ نمبر کم ہیں تو کیا ہوا‘ پاس تو ہو گیا ہے نا! باپ حیران ہو کر اپنے ماتھے پر چپت رسید کرتا ہے اور بڑبڑاتا ہے کہ کل جس بات پر اسے پیٹا گیا تھا‘ آج اسی بات پر پوتے کو کچھ نہیں کہنے دیتے!
آسٹریلیا قیام کے دوران‘ اسرار اور معاذ‘ دونوں کے بچوں کو وقتاً فوقتاً پاکٹ منی دیتا رہتا ہوں۔ پاکستان آنے کے بعد یہ سلسلہ معطل ہو جاتا ہے۔ پچھلے سال انہی دنوں آسٹریلیا میں تھا تو حمزہ پندرہ سال کا ہو گیا۔ سوچا کہ اب ماشاء اللہ بڑا ہو گیا ہے۔ اس کی ضروریات چھوٹے بچوں کی نسبت زیادہ ہوں گی‘ تو ایسا نظام بنایا کہ میرے پاکستان جانے کے بعد بھی اسے جیب خرچ ملتا رہے۔ چنانچہ واپس آنے سے پہلے میں اس کی بارہ ماہ کی پاکٹ منی مختلف جگہوں پر رکھ آیا۔ اپنے کسی کوٹ کی جیب میں‘ کسی دراز میں‘ زیادہ تر کسی کتاب میں! ہر ماہ کے پہلے ہفتے اسے فون پر بتاتا ہوں کہ فلاں الماری میں رکھی فلاں کتاب میں دیکھو۔ یا فلاں کوٹ یا فلاں قمیص کی جیب میں دیکھو۔ یہاں منطقی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جیب خرچ حمزہ کی اماں یا ابا کو کیوں نہیں دے آتا کہ وہ ہر مہینے اسے دے دیا کریں۔ ایسا نہ کرنے کی وجہ ہے اور بہت ٹھوس وجہ ہے۔ ایک تو میں پوتوں پوتیوں اور نواسوں نواسیوں کے ضمن میں ان کے والدین پر اعتبار بالکل نہیں کرتا۔ اس لیے نہیں ان کی دیانت پر شبہ ہے‘ بلکہ اس لیے کہ ایک تو وہ بھول جائیں گے اور دوسرے بچوں کی جو اہمیت گرینڈ پیرنٹس کیلئے ہوتی ہے وہ والدین کیلئے نہیں ہوتی۔ جیسا کہ میں نے اپنی تصنیف ''سمندر، جزیرے اور جدائیاں‘‘ میں لکھا ہے کہ نانا دادا‘ نانی دادی کا اتحاد پوتوں پوتیوں‘ نواسوں نواسیوں کے ساتھ فطری ہے۔ بچوں کے والدین بچوں کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتے اور کسی حد تک بچوں کے گرینڈ پیرنٹس کی باتوں پر بھی پوری توجہ نہیں دیتے۔ اس کے بر عکس بچے گرینڈ پیرنٹس کی باتوں پر بہت توجہ دیتے ہیں اور گرینڈ پیرنٹس بچوں کی باتوں پر۔ مثلاً ہم میں سے ہر شخص کا مشاہدہ ہے کہ بچہ باپ سے مٹھائی یا کھلونا مانگتا ہے تو باپ‘ جو کام سے تھکا ہوا آیا ہوتا ہے‘ کہتا ہے کہ کل لیتا آؤں گا۔ مگر دادا یا نانا آدھی رات کو بھی گھر سے نکل جاتا ہے‘ مطلوبہ شے لا کر بچے کو دیتا ہے اور پھر تھکاوٹ کا احساس کیے بغیر بچے کو خوش ہوتا دیکھتا ہے تو اسے ایک عجیب‘ آسمانی قسم کی راحت ملتی ہے۔ بچہ ماں سے کہتا ہے کہ اسے حلوہ یا آملیٹ یا پاستا بنا دے تو ماں جو دن بھر کی تھکی ہاری ہے‘ کہتی ہے کہ جو پکا ہوا ہے وہی کھا لو‘ حلوہ یا پاستا کل بنا دوں گی۔ مگر دادی یا نانی اسی وقت اٹھتی ہے اور بچے کی خواہش فوراً پورا کرتی ہے۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ماں باپ زندگی کی گاڑی میں جُتے ہوتے ہیں۔ نوکری‘ کاروبار‘ ہزار افکار و آلام! جبکہ گرینڈ پیرنٹس اکثر و بیشتر ریٹائرڈ ہوتے ہیں اور نسبتاً کم مصروفیات کے حامل!! بچوں کیلئے بھی گرینڈ پیرنٹس کی ہر بات نہایت اہم ہوتی ہے۔ باپ شام کو گھر آئے گا تو بچہ فوراً بتائے گا کہ آج دادا جان گر گئے تھے یا نانو کی دوا ختم ہو گئی ہے۔ دو سال پہلے میری آنکھوں کی جراحی ہوئی تو حمزہ جو تب چودہ برس کا تھا‘ اپنی وڈیو گیم چھوڑ کر دن کا زیادہ حصہ میرے کمرے میں‘ میرے پاس بیٹھ کر گزارتا تھا۔ میں کئی بار کہتا کہ جاؤ باہر کھیلو کودو۔ مگر وہ نہیں مانتا تھا۔ بیمار پڑوں تو نواسی زینب فوراً ایک سخت گیر نرس بن جاتی ہے۔ بخار ہو تو کہیں جانے نہیں دیتی۔ ڈرائیور سے گاڑی کی چابی لے کر اپنے پاس رکھ لیتی ہے۔ ایک بار طبیعت کی ناسازی کے باوجود مجھے شہر سے باہر جانا پڑا۔ پہلے تو اس نے روکنے کی کوشش کی مگر میں نہ رکا۔ ابھی میں گوجر خان کے قریب پہنچا تھا کہ زینب کا فون آیا ''نانا ابو! راستے میں سونے کی کوشش کیجیے ورنہ تھکاوٹ زیادہ ہو گی‘‘۔ میں خدا کی قدرت پر حیران ہوا کہ انسان کیلئے کیسے کیسے محافظ پیدا کیے ہیں۔ سولہ سترہ سال کی بچی اور بڑی بوڑھیوں کی طرح فکر مند!! قدرت انسان سے اس کے ماں باپ‘ نانا نانی‘ دادا دای واپس لیتی ہے تو بدلے میں پوتیاں پوتے‘ نواسیاں نواسے عطا کرتی ہے جو بڑوں کی طرح اس کا خیال رکھتے ہیں۔
لیکن سب نانے دادے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ تو بچوں کا شور برداشت ہی نہیں کرتے۔ ایک صاحب کو میں جانتا ہوں جو اپنے بچوں سے کبھی بغلگیر ہوئے نہ نواسے کو کبھی بوسہ دیا۔ شاید میں اس حوالے سے زیادہ حساس ہوں۔ کچھ برس پہلے تاشقند سے ایک سیمینار میں شرکت کی دعوت ملی۔ میں نے معذرت کر لی کیونکہ اس دن حمزہ کی آسٹریلیا کیلئے پرواز تھی اور میں اسے رخصت کرنا زیادہ ضروری سمجھتا تھا۔ اس وقت جب یہ کالم لکھ رہا ہوں‘ چار سالہ رستم اور اڑھائی سالہ آزادِہ نے میرے کمرے ہی میں قیامت کا شور برپا کر رکھا ہے ۔ میں بڑوں کا شور نہیں برداشت کرتا مگر بچوں کے شور میں میری قوتِ تحریر میں اضافہ ہو جاتا ہے‘ بشرطیکہ بچے اپنے ہوں!
میں نے حمزہ کو وڈیو کال کی اور لائبریری جانے کا کہا۔ جب وہ لائبریری پہنچ گیا تو میں نے بتایا کہ جو الماری کھڑکی کے ساتھ ہے اس سے اگلی الماری میں اردو شاعری کی کتابیں پڑی ہیں۔ ان میں ایک کتاب ''گلِ نغمہ‘‘ رکھی ہے۔ اسے ڈھونڈو۔ چند لمحوں کے بعد اس نے بتایا کہ ''گلِ نغمہ‘‘ مل گئی ہے۔ تب اسے کہا کہ اس میں تمہاری اس مہینے کی پاکٹ منی پڑی ہے۔ تھوڑی دیر میں اس نے بتایا کہ کتاب میں پڑے اتنے ڈالر مل گئے ہیں۔ آسٹریلیا قیام کے دوران‘ اسرار اور معاذ‘ دونوں کے بچوں کو وقتاً فوقتاً پاکٹ منی دیتا رہتا ہوں۔ میری اس حرکت کو بچوں کے ماں باپ زیادہ پسند نہیں کرتے۔ اکثر والدین اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ نانا نانی‘ دادا دادی بچوں کو جب بھی کچھ کھلائیں پلائیں گے یا جیب خرچ دیں گے یا کسی باغ یا پارک میں لے جائیں گے یا انہیں کوئی ملبوس لے کر دیں گے تو بس بچوں کو خراب (spoil) کریں گے۔ یہ الزام…
میں نے حمزہ کو وڈیو کال کی اور لائبریری جانے کا کہا۔ جب وہ لائبریری پہنچ گیا تو میں نے بتایا کہ جو الماری کھڑکی کے ساتھ ہے اس سے اگلی الماری میں اردو شاعری کی کتابیں پڑی ہیں۔ ان میں ایک کتاب ''گلِ نغمہ‘‘ رکھی ہے۔ اسے ڈھونڈو۔ چند لمحوں کے بعد اس نے بتایا کہ ''گلِ نغمہ‘‘ مل گئی ہے۔ تب اسے کہا کہ اس میں تمہاری اس مہینے کی پاکٹ منی پڑی ہے۔ تھوڑی دیر میں اس نے بتایا کہ کتاب میں پڑے اتن…
عمر بن عبد العزیز‘ بھارتی بنگال اور ڈاکٹر بشریٰ بانو
ستمبر 17, 2026
کالم
کالم
آج جب‘ مبینہ طور پر‘ اپنے بیٹے پر بات آن پڑی تو عمر بن عبد العزیز یاد آ گئے!!
شاہ پرستوں اور روغنِ قاز مَلنے والوں کی اس پارٹی میں آپ کا دم غنیمت ہے۔ اسی لیے تو شکوہ بھی آپ سے ہے۔ ورنہ اکثر تو مرغانِ بادنما ہیں اور مرفوع القلم! جان کی امان ہو تو کچھ پوچھنے کی جسارت کی جائے۔ آپ کی جماعت کے مالکان کا طرزِ زندگی ایسا ہے کہ اسے شہنشاہانہ کہا جائے تو زیادتی ہو گی۔ سلاطینِ دہلی‘ مغل شہنشاہ اور انگریز وائسرائے تو اس متعیشانہ زندگی کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ 2016ء میں اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف علاج کیلئے سپیشل وی آئی پی جہاز میں لندن گئے۔ جہاز خالی واپس آیا۔ مہینے ڈیڑھ بعد سپیشل جہاز پھر لندن گیا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق جو اعدادو شمار پارلیمنٹ کیساتھ شیئر کیے گئے‘ انکی رُو سے کل اخراجات چھ کروڑ روپے کے تھے۔ معروف صحافی رؤف کلاسرا صاحب کا یہ بیان بھی دیکھیے: ''2016ء میں بھی اسحاق ڈار نے 34بلٹ پروف گاڑیاں کروڑوں روپے سے‘ یہ کہہ کر منگوائیں کہ سارک کانفرنس ہونی ہے۔ سب کو علم تھا کہ نہیں ہو گی۔ لیکن اسے موقع جان کر زیادہ گاڑیاں منگوائی گئیں۔ کانفرنس نہ ہوئی تو بیس گاڑیاں وزیراعظم نواز شریف نے اپنی سکیورٹی کے نام پر رکھ لیں۔ کچھ خاندان کے لوگوں کو دے دی گئیں‘ جو بعد میں نیب نے وزیراعظم عمران خان کے دور میں 2019ء میں رائیونڈ سے ریکور کرائی تھیں۔ نواز شریف صاحب سے ان گاڑیوں پر نیب کی ٹیم نے کوٹ لکھپت جیل میں جا کر انکوائری بھی کی تھی‘‘۔ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ پارٹی کے ''قائد‘‘ کا طرزِ زیست کیا ہے۔ حکومت میں تھے تو لندن کے دورے بے شمار! نہ جانے کتنی ہی عیدیں لندن میں منائیں۔ آج بھی انکا سٹائل حیران کن ہے۔ کبھی جنیوا‘ کبھی سوئٹزرلینڈ‘ کبھی لندن‘ کبھی سنگاپور!! سپیشل جہاز ان کیلئے یوں ہیں جیسے ہمارے جیسے لوگ رکشا یا چنگچی استعمال کرتے ہیں! نہایت مؤدبانہ سوال ہے کہ جب آپ کے قائد یہ سب کچھ کر رہے تھے اُس وقت آپ کو حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا طرزِ حکومت یاد نہ آیا؟ عوام کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ اس حال میں بھی صاحبزادی نے لگژری جہاز خرید لیا۔ کیا آپ نے اس حوالے سے کچھ پوچھا؟ کچھ کہا؟ اندھیر نگری کی انتہا یہ ہوئی کہ دو بار شکست کھانے والے شخص کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیا۔ کیا عمر بن عبدالعزیزؒ بھی یہی کچھ کرتے؟ عمر بن عبدالعزیزؒ آج وزیر ہوتے تو کیا ان کی قریبی عزیزہ کو بھی قبل از وقت ریٹائرمنٹ دلوا کر تین سال کی ٹاپ کلاس ملازمت پیش کی جاتی؟
سوالات اور بھی ہیں۔ مثالیں بھی بہت ہیں! مگر کیا کیا لکھا جائے! یہ ہمارا قومی کردار بن چکا ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے اندھی مچتی رہے تو ہم خاموش رہتے ہیں‘ ہم بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہتے ہیں‘ گلے سڑے نظام سے بہرہ ور ہوتے رہتے ہیں‘ صف اول کے Beneficiary رہتے ہیں‘ تب ہمیں نظام کی کراہیت نہیں نظر آتی۔ مگر جب ہمارا کوئی کام نہ کیا جائے‘ جب ہمارے مفاد پر ضرب لگے‘ جب ہمارے بیٹے یا بھتیجے‘ بھانجے کو وی آئی پی درجہ نہ ملے‘ تو ہمیں خلفائے راشدین سے لے کر عمر بن عبدالعزیزؒ تک سب ماڈل یاد آ جاتے ہیں۔ اس سے پہلے سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا رہتا ہے مگر ہم معمولی سا اختلاف بھی نہیں کرتے۔ کیا کیا ناانصافیاں نہیں ہوئیں آپکے اور آپکی پارٹی کے متعدد ادوارِ حکومت میں! صوبے میں بھی! وفاق میں بھی! کس کس طرح قومی خزانے کو غلط بخشیوں پر لٹایا جاتا رہا! پسندیدہ کبابچی کو وی آئی پی‘ سرکاری مہمان بنایا جاتا رہا۔ آپ خاموش رہے۔ بات وہی ہے جو نعیم صدیقی نے برسوں پہلے کہی تھی:
یہ لا الٰہ خوانیاں جائے نماز پر
سولی پہ چڑھ کے نغمہ یہ گاتے تو جانتے
مگر آپ سے شکوہ بے جا ہے۔ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا‘ اور کر رہے ہیں۔ یہی ہمارا قومی تشخص بن چکا ہے۔ قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد ہمارے قومی خزانے کو نقب ہی لگتی رہی۔ ہمارے حکمرانوں میں کوئی اور محمد علی جناح‘ کوئی اور لیاقت علی خان‘ کوئی اور عبدالرب نشتر‘ کوئی اور مولوی تمیز الدین‘ کوئی اور مولوی فرید احمد‘ کوئی اور جوگندر ناتھ منڈل‘ کوئی اور نور الامین پیدا نہ ہوا! افسوس! صد افسوس! حیف! صد حیف! ہیہات! ہمیں تاریخ کی گردش نے اور ہمارے مقدر کی سیاہی نے ان لوگوں کے سپرد کر دیا جو اپنا ایک خوشہ بچانے کیلئے پوری سرکاری چراگاہ کو نذرِ آتش کر ڈالیں! جن کا تکیہ کلام تھا ''اے اپنا بندہ اے‘‘ ان اپنے بندوں کو سفارتیں دی گئیں۔ جو اے ڈی سی لگا اس کی نسلیں سنور گئیں۔ کاش گزشتہ تین چار دہائیوں کے ریکارڈ کی کوئی تحقیق کرے۔ بیرونِ ملک تعیناتیاں شاید ایک فیصد بھی میرٹ پر نہیں ہوئیں۔ جنہوں نے مردِ مومن مردِ حق کی وفات پر اعلانات کیے تھے کہ ''ہم ان کا مشن جاری رکھیں گے‘‘ انہوں نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ میرٹ کا قتل جاری رہا۔
پس نوشت: انڈین پولیس سروس کی مسلم افسر کا تبادلہ بطور سزا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس نے ایک وڈیو انٹرویو میں السلام علیکم‘ ان شاء اللہ اور جزاک اللہ کے الفاظ استعمال کیے تھے۔ ڈاکٹر بشریٰ بانو ایک انتہائی ذہین اور لائق خاتون ہیں۔ وہ یو پی کے ضلع کنوج کے ایک گاؤں کی ہیں۔ بارہ سال کی عمر میں میٹرک کر لیا۔ لکھنؤ سے ایم بی اے کیا۔ علیگڑھ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ شادی کے بعد میاں بیوی دونوں سعودی عرب کے لیے منتخب ہو گئے جہاں وہ یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے۔ پھر ڈاکٹر بشریٰ نے فیصلہ کیا کہ وہ بھارت واپس جا کر مقابلے کا امتحان دیں گی اور سول سروس میں شمولیت اختیار کریں گی۔ جس طرح پاکستان میں ''فیڈرل پبلک سروس کمیشن‘‘ کا ادارہ مقابلے کا امتحان لیتا ہے‘ اسی طرح بھارت میں ایسے ہی ادارے کو فیڈرل کے بجائے ''یونین پبلک سروس کمیشن‘‘ کہتے ہیں۔ پاکستان کے مقابلے میں وہاں مقابلے کا امتحان دینے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ بھارت کی آبادی بہت زیادہ ہے۔ گزشتہ سال ساڑھے نو لاکھ امیدواروں نے درخواستیں دیں۔ ان میں سے تقریباً پونے چھ لاکھ نے امتحان دیا۔ ان میں سے چودہ ہزار نے تحریری امتحان پاس کیا اور فائنل رزلٹ میں 2700 امیدوار پاس ہوئے۔ ان میں سے 958 کو سول سروس کی اعلیٰ ملازمتیں ملیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انڈین سول سروس میں مقابلہ کتنا سخت ہے۔ پھر ایک متعصب معاشرے میں جسے آر ایس ایس اور بی جے پی کے علمبرداروں نے مسلمانوں کے لیے جہنم بنا رکھا ہے‘ ایک مسلم لڑکی کا انڈین پولیس سروس میں آ جانا کوئی معمولی بات نہیں۔ تین دن پہلے ڈاکٹر بشریٰ کا بطور سزا تبادلہ کر کے انہیں کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ کیونکہ ایک انٹرویو میں انہوں نے جزاک اللہ‘ السلام علیکم اور ان شاء اللہ کے الفاظ استعمال کیے۔ ہندوتوا کے انتہا پسندوں نے مغربی بنگال کے سیکرٹری داخلہ کے پاس جا کر شکایت کی کہ مسلم پولیس افسر نے بندے ماترم اور جے ہند کے الفاظ استعمال نہیں کیے‘ یوں وہ غیر جانبدار نہیں رہیں۔ اس سے ہم پاکستانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کو کس صورت حال کا سامنا ہے۔ کانگرس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بی جے پی حکوت پر تنقید کرتے ہوئے اس متعصبانہ سلوک کی مذمت کی ہے۔ دو ہفتے پہلے مہوا موئترا نے ایک اور معاملہ بھی اٹھایا تھا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ مغربی بنگال آتا ہے تو مسلم سول سرونٹس کو تقریبات میں مدعو نہیں کیا جاتا۔ اس کے برعکس یو پی کے پولیس افسر انوج چودھری نے ایک (ہندو) مذہبی تقریب میں وردی پہنے شرکت کی جبکہ ہندو مذہبی ہتھیار‘ گرز بھی اٹھا رکھا تھا‘ اسے جلد ہی ترقی دے دی گئی۔
شاہ پرستوں اور روغنِ قاز مَلنے والوں کی اس پارٹی میں آپ کا دم غنیمت ہے۔ اسی لیے تو شکوہ بھی آپ سے ہے۔ ورنہ اکثر تو مرغانِ بادنما ہیں اور مرفوع القلم! جان کی امان ہو تو کچھ پوچھنے کی جسارت کی جائے۔ آپ کی جماعت کے مالکان کا طرزِ زندگی ایسا ہے کہ اسے شہنشاہانہ کہا جائے تو زیادتی ہو گی۔ سلاطینِ دہلی‘ مغل شہنشاہ اور انگریز وائسرائے تو اس متعیشانہ زندگی کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ 2016ء میں اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف علاج کیلئے سپیشل وی آئی پی جہاز میں لندن گئے۔ جہاز خالی واپس آیا۔ مہینے ڈیڑھ بعد سپیشل جہاز پھر لندن گیا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق جو اعدادو شمار پارلیمنٹ کیساتھ شیئر کیے گئے‘ انکی رُو سے کل اخراجات چھ کروڑ روپے کے تھے۔ معروف صحافی رؤف کلاسرا صاحب کا یہ بیان بھی دیکھیے: ''2016ء میں بھی اسحاق ڈار نے 34بلٹ پروف گاڑیاں کروڑوں روپے سے‘ یہ کہہ کر منگوائیں کہ سارک کانفرنس ہونی ہے۔ سب کو علم تھا کہ نہیں ہو گی۔ لیکن اسے موقع جان کر زیادہ گاڑیاں منگوائی گئیں۔ کانفرنس نہ ہوئی تو بیس گاڑیاں وزیراعظم نواز شریف نے اپنی سکیورٹی کے نام پر رکھ لیں۔ کچھ خاندان کے لوگوں کو دے دی گئیں‘ جو بعد میں نیب نے وزیراعظم عمران خان کے دور میں 2019ء میں رائیونڈ سے ریکور کرائی تھیں۔ نواز شریف صاحب سے ان گاڑیوں پر نیب کی ٹیم نے کوٹ لکھپت جیل میں جا کر انکوائری بھی کی تھی‘‘۔ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ پارٹی کے ''قائد‘‘ کا طرزِ زیست کیا ہے۔ حکومت میں تھے تو لندن کے دورے بے شمار! نہ جانے کتنی ہی عیدیں لندن میں منائیں۔ آج بھی انکا سٹائل حیران کن ہے۔ کبھی جنیوا‘ کبھی سوئٹزرلینڈ‘ کبھی لندن‘ کبھی سنگاپور!! سپیشل جہاز ان کیلئے یوں ہیں جیسے ہمارے جیسے لوگ رکشا یا چنگچی استعمال کرتے ہیں! نہایت مؤدبانہ سوال ہے کہ جب آپ کے قائد یہ سب کچھ کر رہے تھے اُس وقت آپ کو حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا طرزِ حکومت یاد نہ آیا؟ عوام کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ اس حال میں بھی صاحبزادی نے لگژری جہاز خرید لیا۔ کیا آپ نے اس حوالے سے کچھ پوچھا؟ کچھ کہا؟ اندھیر نگری کی انتہا یہ ہوئی کہ دو بار شکست کھانے والے شخص کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیا۔ کیا عمر بن عبدالعزیزؒ بھی یہی کچھ کرتے؟ عمر بن عبدالعزیزؒ آج وزیر ہوتے تو کیا ان کی قریبی عزیزہ کو بھی قبل از وقت ریٹائرمنٹ دلوا کر تین سال کی ٹاپ کلاس ملازمت پیش کی جاتی؟
سوالات اور بھی ہیں۔ مثالیں بھی بہت ہیں! مگر کیا کیا لکھا جائے! یہ ہمارا قومی کردار بن چکا ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے اندھی مچتی رہے تو ہم خاموش رہتے ہیں‘ ہم بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہتے ہیں‘ گلے سڑے نظام سے بہرہ ور ہوتے رہتے ہیں‘ صف اول کے Beneficiary رہتے ہیں‘ تب ہمیں نظام کی کراہیت نہیں نظر آتی۔ مگر جب ہمارا کوئی کام نہ کیا جائے‘ جب ہمارے مفاد پر ضرب لگے‘ جب ہمارے بیٹے یا بھتیجے‘ بھانجے کو وی آئی پی درجہ نہ ملے‘ تو ہمیں خلفائے راشدین سے لے کر عمر بن عبدالعزیزؒ تک سب ماڈل یاد آ جاتے ہیں۔ اس سے پہلے سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا رہتا ہے مگر ہم معمولی سا اختلاف بھی نہیں کرتے۔ کیا کیا ناانصافیاں نہیں ہوئیں آپکے اور آپکی پارٹی کے متعدد ادوارِ حکومت میں! صوبے میں بھی! وفاق میں بھی! کس کس طرح قومی خزانے کو غلط بخشیوں پر لٹایا جاتا رہا! پسندیدہ کبابچی کو وی آئی پی‘ سرکاری مہمان بنایا جاتا رہا۔ آپ خاموش رہے۔ بات وہی ہے جو نعیم صدیقی نے برسوں پہلے کہی تھی:
یہ لا الٰہ خوانیاں جائے نماز پر
سولی پہ چڑھ کے نغمہ یہ گاتے تو جانتے
مگر آپ سے شکوہ بے جا ہے۔ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا‘ اور کر رہے ہیں۔ یہی ہمارا قومی تشخص بن چکا ہے۔ قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد ہمارے قومی خزانے کو نقب ہی لگتی رہی۔ ہمارے حکمرانوں میں کوئی اور محمد علی جناح‘ کوئی اور لیاقت علی خان‘ کوئی اور عبدالرب نشتر‘ کوئی اور مولوی تمیز الدین‘ کوئی اور مولوی فرید احمد‘ کوئی اور جوگندر ناتھ منڈل‘ کوئی اور نور الامین پیدا نہ ہوا! افسوس! صد افسوس! حیف! صد حیف! ہیہات! ہمیں تاریخ کی گردش نے اور ہمارے مقدر کی سیاہی نے ان لوگوں کے سپرد کر دیا جو اپنا ایک خوشہ بچانے کیلئے پوری سرکاری چراگاہ کو نذرِ آتش کر ڈالیں! جن کا تکیہ کلام تھا ''اے اپنا بندہ اے‘‘ ان اپنے بندوں کو سفارتیں دی گئیں۔ جو اے ڈی سی لگا اس کی نسلیں سنور گئیں۔ کاش گزشتہ تین چار دہائیوں کے ریکارڈ کی کوئی تحقیق کرے۔ بیرونِ ملک تعیناتیاں شاید ایک فیصد بھی میرٹ پر نہیں ہوئیں۔ جنہوں نے مردِ مومن مردِ حق کی وفات پر اعلانات کیے تھے کہ ''ہم ان کا مشن جاری رکھیں گے‘‘ انہوں نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ میرٹ کا قتل جاری رہا۔
پس نوشت: انڈین پولیس سروس کی مسلم افسر کا تبادلہ بطور سزا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس نے ایک وڈیو انٹرویو میں السلام علیکم‘ ان شاء اللہ اور جزاک اللہ کے الفاظ استعمال کیے تھے۔ ڈاکٹر بشریٰ بانو ایک انتہائی ذہین اور لائق خاتون ہیں۔ وہ یو پی کے ضلع کنوج کے ایک گاؤں کی ہیں۔ بارہ سال کی عمر میں میٹرک کر لیا۔ لکھنؤ سے ایم بی اے کیا۔ علیگڑھ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ شادی کے بعد میاں بیوی دونوں سعودی عرب کے لیے منتخب ہو گئے جہاں وہ یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے۔ پھر ڈاکٹر بشریٰ نے فیصلہ کیا کہ وہ بھارت واپس جا کر مقابلے کا امتحان دیں گی اور سول سروس میں شمولیت اختیار کریں گی۔ جس طرح پاکستان میں ''فیڈرل پبلک سروس کمیشن‘‘ کا ادارہ مقابلے کا امتحان لیتا ہے‘ اسی طرح بھارت میں ایسے ہی ادارے کو فیڈرل کے بجائے ''یونین پبلک سروس کمیشن‘‘ کہتے ہیں۔ پاکستان کے مقابلے میں وہاں مقابلے کا امتحان دینے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ بھارت کی آبادی بہت زیادہ ہے۔ گزشتہ سال ساڑھے نو لاکھ امیدواروں نے درخواستیں دیں۔ ان میں سے تقریباً پونے چھ لاکھ نے امتحان دیا۔ ان میں سے چودہ ہزار نے تحریری امتحان پاس کیا اور فائنل رزلٹ میں 2700 امیدوار پاس ہوئے۔ ان میں سے 958 کو سول سروس کی اعلیٰ ملازمتیں ملیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انڈین سول سروس میں مقابلہ کتنا سخت ہے۔ پھر ایک متعصب معاشرے میں جسے آر ایس ایس اور بی جے پی کے علمبرداروں نے مسلمانوں کے لیے جہنم بنا رکھا ہے‘ ایک مسلم لڑکی کا انڈین پولیس سروس میں آ جانا کوئی معمولی بات نہیں۔ تین دن پہلے ڈاکٹر بشریٰ کا بطور سزا تبادلہ کر کے انہیں کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ کیونکہ ایک انٹرویو میں انہوں نے جزاک اللہ‘ السلام علیکم اور ان شاء اللہ کے الفاظ استعمال کیے۔ ہندوتوا کے انتہا پسندوں نے مغربی بنگال کے سیکرٹری داخلہ کے پاس جا کر شکایت کی کہ مسلم پولیس افسر نے بندے ماترم اور جے ہند کے الفاظ استعمال نہیں کیے‘ یوں وہ غیر جانبدار نہیں رہیں۔ اس سے ہم پاکستانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کو کس صورت حال کا سامنا ہے۔ کانگرس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بی جے پی حکوت پر تنقید کرتے ہوئے اس متعصبانہ سلوک کی مذمت کی ہے۔ دو ہفتے پہلے مہوا موئترا نے ایک اور معاملہ بھی اٹھایا تھا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ مغربی بنگال آتا ہے تو مسلم سول سرونٹس کو تقریبات میں مدعو نہیں کیا جاتا۔ اس کے برعکس یو پی کے پولیس افسر انوج چودھری نے ایک (ہندو) مذہبی تقریب میں وردی پہنے شرکت کی جبکہ ہندو مذہبی ہتھیار‘ گرز بھی اٹھا رکھا تھا‘ اسے جلد ہی ترقی دے دی گئی۔
آج جب‘ مبینہ طور پر‘ اپنے بیٹے پر بات آن پڑی تو عمر بن عبد العزیز یاد آ گئے!! شاہ پرستوں اور روغنِ قاز مَلنے والوں کی اس پارٹی میں آپ کا دم غنیمت ہے۔ اسی لیے تو شکوہ بھی آپ سے ہے۔ ورنہ اکثر تو مرغانِ بادنما ہیں اور مرفوع القلم! جان کی امان ہو تو کچھ پوچھنے کی جسارت کی جائے۔ آپ کی جماعت کے مالکان کا طرزِ زندگی ایسا ہے کہ اسے شہنشاہانہ کہا جائے تو زیادتی ہو گی۔ سلاطینِ دہلی‘ مغل شہنشاہ اور انگریز وائسرائے تو اس متعیشانہ زندگی کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ 2016ء میں اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف علاج کیلئے سپیشل وی آئی پی جہاز میں لندن گئے۔ جہاز خالی واپس آیا۔ مہینے ڈیڑھ بعد سپیشل جہاز پھر لندن گیا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق جو اعدادو شمار پارلیمنٹ کیساتھ شیئر کیے گئے‘ انکی رُو سے کل اخراجات چھ کروڑ روپے کے تھے۔ معروف صحافی رؤف کلاسرا صاحب کا یہ بیان بھی دیکھیے: ''2016ء میں بھی اسحا…
آج جب‘ مبینہ طور پر‘ اپنے بیٹے پر بات آن پڑی تو عمر بن عبد العزیز یاد آ گئے!! شاہ پرستوں اور روغنِ قاز مَلنے والوں کی اس پارٹی میں آپ کا دم غنیمت ہے۔ اسی لیے تو شکوہ بھی آپ سے ہے۔ ورنہ اکثر تو مرغانِ بادنما ہیں اور مرفوع القلم! جان کی امان ہو تو کچھ پوچھنے کی جسارت کی جائے۔ آپ کی جماعت کے مالکان کا طرزِ زندگی ایسا ہے کہ اسے شہنشاہانہ کہا جائے تو زیادتی ہو گی۔ سلاطینِ دہلی‘ مغل شہنشاہ اور انگ…
حکمرانوں کے اُڑتے قالین اور دھول اڑاتی بستیاں
ستمبر 15, 2026
کالم
کالم
کل ایک کام سے میرا چار بستیوں میں جانا ہوا۔ چار قریے! چار گاؤں!!
اول تو ان تک جاتے راستے کچے تھے‘ خاک اڑاتے!! اور سڑکیں تھیں بھی تو مدتوں کی بنی ہوئیں! جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئیں! کہیں گڑھے! کہیں پیوند! کہیں ٹیلے!! گلیاں کچی! کہیں کہیں اینٹیں نظر آئیں مگر یوں جیسے لگائی نہیں گئیں‘ پھینکی گئیں! اور یہ حال تب ہے جب یہ گاؤں وفاقی دارالحکومت سے صرف گھنٹے ڈیڑھ کی مسافت پر واقع ہیں! لیکن وفاق تو بڑی آسانی سے کہے گا کہ یہ صوبے کا مسئلہ ہے۔ صوبہ کہے گا کہ ہم ان بستیوں کو‘ ان اضلاع کو صرف اس وقت اپنے صوبے کا حصہ کہتے ہیں جب صوبے کو سب سے بڑا صوبہ ثابت کرنا ہو۔ جب سہولتیں دینے کی بات ہو تو صوبہ عملی طور پر‘ صرف اُن شہروں‘ اُن قصبوں اور اُن قریوں پر مشتمل ہوگا جو صوبائی دارالحکومت کے نواح میں یا زیادہ سے زیادہ صوبے کے وسطی حصے میں واقع ہوں گے۔ مقامی حکومتوں کے ازلی ابدی دشمن‘ یہ صوبائی دارالحکومت اُس وقت تک اختیارات اور فنڈز کو تقسیم نہیں کریں گے جب تک دور افتادہ اضلاع کا پیمانۂ صبر لبریز نہ ہو جائے!!
ایک وڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ناروے کا وزیر عام کمرشل فلائٹ سے سفر کر رہا ہے اور ایئرپورٹ پر سامان سے بھری ٹرالی خود دھکیل رہا ہے۔ ویسے جن ملکوں میں اصل جمہوریت رائج ہے وہاں ایسے مناظر معمول کے ہوتے ہیں۔ یہ اور بات کہ ہم پاکستانیوں کیلئے یہ ایک انوکھا واقعہ ہے۔ ناروے کا حکمران اگر عام کمرشل پرواز سے سفر کرتا ہے اور اپنا سامان خود سنبھالتا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟؟ اس کا مطلب ہے کہ ناروے میں دور افتادہ دیہی آبادیاں بھی ترقی یافتہ ہیں۔ ہر جگہ انٹرنیٹ موجود ہے۔ بجلی کا نظام مستحکم ہے۔ ہر جگہ پانی ٹونٹیوں سے سپلائی ہوتا ہے۔ کوڑا کرکٹ اور انسانی فضلہ ٹھکانے لگانے کا جدید ترین سسٹم کارفرما ہے۔ تعلیم اور صحت کی سہولتیں ہر جگہ میسر ہیں! اس بات سے نتیجہ کیا نکلا؟ نتیجہ یہ نکلا کہ حکمرانوں کے طرزِ زندگی کا بستیوں‘ قصبوں اور شہروں کی حالت سے فیصلہ کن تعلق ہے۔ یہ تعلق ایک فارمولے پر مبنی ہے! فارمولا کیا ہے؟ فارمولا یہ ہے کہ جہاں حکمران کمرشل پروازوں سے سفر کرتے ہیں‘ اپنا سامان خود اٹھاتے ہیں‘ قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں‘ محلات میں نہیں عام گھروں میں رہتے ہیں‘ وہاں عوام کو جدید ترین سہولتیں ملتی ہیں اور ہر شہری وی آئی پی ہوتا ہے۔ جہاں حکمران وی آئی پی ہوں‘ جہاں وہ خصوصی طیاروں سے سفر کریں اور ایک ایک سفر پر کروڑوں روپے صرف کریں وہاں عوام بدحالی کا شکار ہوں گے۔ گاؤں‘ قصبے اور شہر جدید سہولتوں سے محروم ہوں گے‘ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہوں گی‘ کہیں پانی نہیں ہوگا‘ کہیں بجلی غائب ہو گی‘ تعلیم اور صحت کو ترجیح نہیں دی جائے گی۔ اس فارمولے کو ذہن میں رکھنا اشد ضروری ہے۔
معروف سیاسی رہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ چیف منسٹر صاحبہ کا تازہ ترین دورہ سوا چھ کروڑ روپے کا پڑا ہے۔ صوبائی وزیر صاحبہ نے کہا ہے کہ ذاتی خرچ تھا۔ تو کیا جہاز بھی ذاتی خرچ سے خریدا گیا؟ ذاتی خرچ تھا تو رسیدیں کہاں ہیں؟ ایک معروف اینکر کے مطابق طیارے کی لندن میں صرف پارکنگ فیس 35 لاکھ روپے اور فیول کا خرچہ 78 لاکھ روپے بنتا ہے۔ صدر صاحب بھی چارٹرڈ طیارے پر لندن تشریف لے گئے۔ ایوانِ صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے سفر کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔ اگر اپنی جیب سے بھی ادا کیے تو انہیں سوچنا چاہیے کہ مفلوک الحال پاکستانی عوام کیا سوچیں گے؟ کیا حیران نہیں ہوں گے؟ کیا انہیں غصہ نہیں آئے گا؟ بڑے میاں صاحب اپنے صاحبزادوں کے ہمراہ خصوصی طیارے میں سنگاپور گئے۔ مریم نواز خصوصی طیارے پر لندن گئیں۔ صدر صاحب اور ان کا صاحبزادہ بھی خصوصی طیارے پر لندن گئے۔ کیا بھارت‘ ایران‘ ملائیشیا اور سری لنکا کے حکمران بھی یہی کچھ کرتے ہیں؟ سنگاپور انتہائی امیر ملک ہے‘ کیا اس کے صدر اور وزیراعظم بھی خصوصی طیاروں میں سفر کرتے ہیں؟ معروف تاریخ دان ابراہم ایرالی لکھتا ہے کہ شاہجہان کے عہد میں جب مغل سلطنت عروج پر تھی تو کُل قومی پیداوار کا ایک چوتھائی حصہ‘ بلکہ اس سے بھی زیادہ‘ صرف 656 افراد پر مشتمل اشرافیہ کے قبضے میں تھا۔ یاد رکھیے! مغل بادشاہ ہمارے آج کے حکمرانوں کے طرزِ زندگی کا سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ ذرا سوچیے! لاکھوں گاؤں سڑکوں‘ ہسپتالوں‘ سکولوں کالجوں سے محروم ہیں۔ پٹرول اتنا مہنگا ہے کہ چھتوں پر کھڑے ہو کر اذانیں دینے کا مرحلہ ہے۔ کروڑوں بچے سکولوں سے باہر ہیں‘ اور حکمران کروڑوں روپے خرچ کر کے خصوصی طیاروں کی عیاشی کر رہے ہیں۔ بے حسی کی انتہا ہے۔ کابینہ مُہر بہ لب ہے۔ اسمبلیاں خاموش ہیں۔ وزرائے خزانہ اعتراض کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ وفاقی اور صوبائی خزانے ذاتی تجوریوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ گونگے بہرے‘ قلاش‘ بے کس عوام کو کبھی خوشخبری سنائی جاتی ہے کہ صاحبزادہ وزیراعظم ہو گا‘ کبھی دختر نیک اختر کے حکمرانِ اعلیٰ بننے کی نوید سنائی جاتی ہے۔ ایک شہزادہ وزیراعظم کے دفتر میں مسند سنبھالے ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کے اعزہ واقارب بھی سرکاری پروٹوکول میں حصہ دار ہیں۔ نیا طیارہ خریدا گیا تو پرانا طیارہ مبینہ طور پر قریبی وزرا اور خاص خاص بیورو کریٹ کے استعمال میں ہے۔ یعنی وہ قابلِ استعمال حالت میں ہے! ظلم کہیے یا مذاق کہ اس سب کچھ کے باوجود جمہوریت کا دعویٰ ہے۔ سمجھ بوجھ کے قربان! اتنا بھی نہیں سوچ سکتے کہ یہ شہنشاہانہ طریقے دیکھ کر عوام کڑھیں گے‘ اُن کے غیظ وغضب میں‘ نفرت میں‘ مایوسی اور جھلّاہٹ میں اضافہ ہو گا۔ عقلمند لوگ یتیم کی موجودگی میں اپنے بچے کو پیار نہیں کرتے کہ اسے احساسِ محرومی نہ ہو اور آپ ایسے لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں کے سامنے‘ جو پنڈی سے لاہور اور شکارپور سے کراچی نہیں جا سکتے‘ خصوصی جہازوں میں سفر کرتے ہیں۔ اگر واقعی اپنے خرچ پر گئے ہیں تب بھی غلط بات ہے۔ یہ دولت کی نمائش ہے۔ غریب عوام کے دل جلتے ہیں۔ مثالیں خلفائے راشدین اور اہل بیت عظام کی اور عمل ایک سو اسی درجے الٹ!!
نظام انصاف کی یہ حالت ہے کہ ادھر مجرم سے بھیانک جرم سرزد ہوا‘ ادھر اسے ضمانت مل گئی۔ جاگیرداروں کو کھلی چھٹی ہے جسے چاہیں قتل کر دیں۔ حفیظ جالندھری نے ہمارے معاشرے کے لیے ہی کہا تھا:
شیروں کو آزادی ہے آزادی کے پابند رہیں
جس کو چاہیں چیریں پھاڑیں کھائیں‘ پئیں آنند رہیں
انساں بھی کچھ شیر ہیں باقی بھیڑوں کی آبادی ہے
بھیڑیں سب پابند ہیں لیکن شیروں کو آزادی ہے
بھیڑیں‘ لا تعداد ہیں لیکن سب کو جان کے لالے ہیں
ان کو یہ تعلیم ملی ہے بھیڑیے طاقت والے ہیں
ماس بھی کھائیں‘ کھال بھی نوچیں ہر دم لاگو جانوں کے
بھیڑیں کاٹیں دورِ غلامی بل پر گلّہ بانوں کے
جو جانتا ہے وہ جانتا ہے۔ جو نہیں جانتا‘ وہ جان لے کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ ہر کلائمکس کا اینٹی کلائمکس ہے۔ ہر طلوع کی قسمت میں غروب ہے۔ ہر عہد کا خاتمہ لازم ہے۔ ہر سلطنت نے دھواں بن کر ایک دن اُڑ جانا ہے۔ پاکستان میں کئی دہائیوں سے ''اولی گارکی‘‘ کا راج ہے۔ اس نے ختم ہونا ہی ہونا ہے۔ لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔ زار سے لے کر چاؤ شسکو تک‘ حسنی مبارک سے لے کر بشار الاسد تک‘ خلیفہ مستعصم سے لے کر شاہ ایران تک‘ کون ہے جو سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا نہیں کھاتا تھا اور نشانِ عبرت نہ بنا؟
اول تو ان تک جاتے راستے کچے تھے‘ خاک اڑاتے!! اور سڑکیں تھیں بھی تو مدتوں کی بنی ہوئیں! جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئیں! کہیں گڑھے! کہیں پیوند! کہیں ٹیلے!! گلیاں کچی! کہیں کہیں اینٹیں نظر آئیں مگر یوں جیسے لگائی نہیں گئیں‘ پھینکی گئیں! اور یہ حال تب ہے جب یہ گاؤں وفاقی دارالحکومت سے صرف گھنٹے ڈیڑھ کی مسافت پر واقع ہیں! لیکن وفاق تو بڑی آسانی سے کہے گا کہ یہ صوبے کا مسئلہ ہے۔ صوبہ کہے گا کہ ہم ان بستیوں کو‘ ان اضلاع کو صرف اس وقت اپنے صوبے کا حصہ کہتے ہیں جب صوبے کو سب سے بڑا صوبہ ثابت کرنا ہو۔ جب سہولتیں دینے کی بات ہو تو صوبہ عملی طور پر‘ صرف اُن شہروں‘ اُن قصبوں اور اُن قریوں پر مشتمل ہوگا جو صوبائی دارالحکومت کے نواح میں یا زیادہ سے زیادہ صوبے کے وسطی حصے میں واقع ہوں گے۔ مقامی حکومتوں کے ازلی ابدی دشمن‘ یہ صوبائی دارالحکومت اُس وقت تک اختیارات اور فنڈز کو تقسیم نہیں کریں گے جب تک دور افتادہ اضلاع کا پیمانۂ صبر لبریز نہ ہو جائے!!
ایک وڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ناروے کا وزیر عام کمرشل فلائٹ سے سفر کر رہا ہے اور ایئرپورٹ پر سامان سے بھری ٹرالی خود دھکیل رہا ہے۔ ویسے جن ملکوں میں اصل جمہوریت رائج ہے وہاں ایسے مناظر معمول کے ہوتے ہیں۔ یہ اور بات کہ ہم پاکستانیوں کیلئے یہ ایک انوکھا واقعہ ہے۔ ناروے کا حکمران اگر عام کمرشل پرواز سے سفر کرتا ہے اور اپنا سامان خود سنبھالتا ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟؟ اس کا مطلب ہے کہ ناروے میں دور افتادہ دیہی آبادیاں بھی ترقی یافتہ ہیں۔ ہر جگہ انٹرنیٹ موجود ہے۔ بجلی کا نظام مستحکم ہے۔ ہر جگہ پانی ٹونٹیوں سے سپلائی ہوتا ہے۔ کوڑا کرکٹ اور انسانی فضلہ ٹھکانے لگانے کا جدید ترین سسٹم کارفرما ہے۔ تعلیم اور صحت کی سہولتیں ہر جگہ میسر ہیں! اس بات سے نتیجہ کیا نکلا؟ نتیجہ یہ نکلا کہ حکمرانوں کے طرزِ زندگی کا بستیوں‘ قصبوں اور شہروں کی حالت سے فیصلہ کن تعلق ہے۔ یہ تعلق ایک فارمولے پر مبنی ہے! فارمولا کیا ہے؟ فارمولا یہ ہے کہ جہاں حکمران کمرشل پروازوں سے سفر کرتے ہیں‘ اپنا سامان خود اٹھاتے ہیں‘ قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں‘ محلات میں نہیں عام گھروں میں رہتے ہیں‘ وہاں عوام کو جدید ترین سہولتیں ملتی ہیں اور ہر شہری وی آئی پی ہوتا ہے۔ جہاں حکمران وی آئی پی ہوں‘ جہاں وہ خصوصی طیاروں سے سفر کریں اور ایک ایک سفر پر کروڑوں روپے صرف کریں وہاں عوام بدحالی کا شکار ہوں گے۔ گاؤں‘ قصبے اور شہر جدید سہولتوں سے محروم ہوں گے‘ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہوں گی‘ کہیں پانی نہیں ہوگا‘ کہیں بجلی غائب ہو گی‘ تعلیم اور صحت کو ترجیح نہیں دی جائے گی۔ اس فارمولے کو ذہن میں رکھنا اشد ضروری ہے۔
معروف سیاسی رہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ چیف منسٹر صاحبہ کا تازہ ترین دورہ سوا چھ کروڑ روپے کا پڑا ہے۔ صوبائی وزیر صاحبہ نے کہا ہے کہ ذاتی خرچ تھا۔ تو کیا جہاز بھی ذاتی خرچ سے خریدا گیا؟ ذاتی خرچ تھا تو رسیدیں کہاں ہیں؟ ایک معروف اینکر کے مطابق طیارے کی لندن میں صرف پارکنگ فیس 35 لاکھ روپے اور فیول کا خرچہ 78 لاکھ روپے بنتا ہے۔ صدر صاحب بھی چارٹرڈ طیارے پر لندن تشریف لے گئے۔ ایوانِ صدر کا کہنا ہے کہ انہوں نے سفر کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے۔ اگر اپنی جیب سے بھی ادا کیے تو انہیں سوچنا چاہیے کہ مفلوک الحال پاکستانی عوام کیا سوچیں گے؟ کیا حیران نہیں ہوں گے؟ کیا انہیں غصہ نہیں آئے گا؟ بڑے میاں صاحب اپنے صاحبزادوں کے ہمراہ خصوصی طیارے میں سنگاپور گئے۔ مریم نواز خصوصی طیارے پر لندن گئیں۔ صدر صاحب اور ان کا صاحبزادہ بھی خصوصی طیارے پر لندن گئے۔ کیا بھارت‘ ایران‘ ملائیشیا اور سری لنکا کے حکمران بھی یہی کچھ کرتے ہیں؟ سنگاپور انتہائی امیر ملک ہے‘ کیا اس کے صدر اور وزیراعظم بھی خصوصی طیاروں میں سفر کرتے ہیں؟ معروف تاریخ دان ابراہم ایرالی لکھتا ہے کہ شاہجہان کے عہد میں جب مغل سلطنت عروج پر تھی تو کُل قومی پیداوار کا ایک چوتھائی حصہ‘ بلکہ اس سے بھی زیادہ‘ صرف 656 افراد پر مشتمل اشرافیہ کے قبضے میں تھا۔ یاد رکھیے! مغل بادشاہ ہمارے آج کے حکمرانوں کے طرزِ زندگی کا سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ ذرا سوچیے! لاکھوں گاؤں سڑکوں‘ ہسپتالوں‘ سکولوں کالجوں سے محروم ہیں۔ پٹرول اتنا مہنگا ہے کہ چھتوں پر کھڑے ہو کر اذانیں دینے کا مرحلہ ہے۔ کروڑوں بچے سکولوں سے باہر ہیں‘ اور حکمران کروڑوں روپے خرچ کر کے خصوصی طیاروں کی عیاشی کر رہے ہیں۔ بے حسی کی انتہا ہے۔ کابینہ مُہر بہ لب ہے۔ اسمبلیاں خاموش ہیں۔ وزرائے خزانہ اعتراض کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ وفاقی اور صوبائی خزانے ذاتی تجوریوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ گونگے بہرے‘ قلاش‘ بے کس عوام کو کبھی خوشخبری سنائی جاتی ہے کہ صاحبزادہ وزیراعظم ہو گا‘ کبھی دختر نیک اختر کے حکمرانِ اعلیٰ بننے کی نوید سنائی جاتی ہے۔ ایک شہزادہ وزیراعظم کے دفتر میں مسند سنبھالے ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کے اعزہ واقارب بھی سرکاری پروٹوکول میں حصہ دار ہیں۔ نیا طیارہ خریدا گیا تو پرانا طیارہ مبینہ طور پر قریبی وزرا اور خاص خاص بیورو کریٹ کے استعمال میں ہے۔ یعنی وہ قابلِ استعمال حالت میں ہے! ظلم کہیے یا مذاق کہ اس سب کچھ کے باوجود جمہوریت کا دعویٰ ہے۔ سمجھ بوجھ کے قربان! اتنا بھی نہیں سوچ سکتے کہ یہ شہنشاہانہ طریقے دیکھ کر عوام کڑھیں گے‘ اُن کے غیظ وغضب میں‘ نفرت میں‘ مایوسی اور جھلّاہٹ میں اضافہ ہو گا۔ عقلمند لوگ یتیم کی موجودگی میں اپنے بچے کو پیار نہیں کرتے کہ اسے احساسِ محرومی نہ ہو اور آپ ایسے لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں کے سامنے‘ جو پنڈی سے لاہور اور شکارپور سے کراچی نہیں جا سکتے‘ خصوصی جہازوں میں سفر کرتے ہیں۔ اگر واقعی اپنے خرچ پر گئے ہیں تب بھی غلط بات ہے۔ یہ دولت کی نمائش ہے۔ غریب عوام کے دل جلتے ہیں۔ مثالیں خلفائے راشدین اور اہل بیت عظام کی اور عمل ایک سو اسی درجے الٹ!!
نظام انصاف کی یہ حالت ہے کہ ادھر مجرم سے بھیانک جرم سرزد ہوا‘ ادھر اسے ضمانت مل گئی۔ جاگیرداروں کو کھلی چھٹی ہے جسے چاہیں قتل کر دیں۔ حفیظ جالندھری نے ہمارے معاشرے کے لیے ہی کہا تھا:
شیروں کو آزادی ہے آزادی کے پابند رہیں
جس کو چاہیں چیریں پھاڑیں کھائیں‘ پئیں آنند رہیں
انساں بھی کچھ شیر ہیں باقی بھیڑوں کی آبادی ہے
بھیڑیں سب پابند ہیں لیکن شیروں کو آزادی ہے
بھیڑیں‘ لا تعداد ہیں لیکن سب کو جان کے لالے ہیں
ان کو یہ تعلیم ملی ہے بھیڑیے طاقت والے ہیں
ماس بھی کھائیں‘ کھال بھی نوچیں ہر دم لاگو جانوں کے
بھیڑیں کاٹیں دورِ غلامی بل پر گلّہ بانوں کے
جو جانتا ہے وہ جانتا ہے۔ جو نہیں جانتا‘ وہ جان لے کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ ہر کلائمکس کا اینٹی کلائمکس ہے۔ ہر طلوع کی قسمت میں غروب ہے۔ ہر عہد کا خاتمہ لازم ہے۔ ہر سلطنت نے دھواں بن کر ایک دن اُڑ جانا ہے۔ پاکستان میں کئی دہائیوں سے ''اولی گارکی‘‘ کا راج ہے۔ اس نے ختم ہونا ہی ہونا ہے۔ لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔ زار سے لے کر چاؤ شسکو تک‘ حسنی مبارک سے لے کر بشار الاسد تک‘ خلیفہ مستعصم سے لے کر شاہ ایران تک‘ کون ہے جو سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا نہیں کھاتا تھا اور نشانِ عبرت نہ بنا؟
کل ایک کام سے میرا چار بستیوں میں جانا ہوا۔ چار قریے! چار گاؤں!! اول تو ان تک جاتے راستے کچے تھے‘ خاک اڑاتے!! اور سڑکیں تھیں بھی تو مدتوں کی بنی ہوئیں! جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئیں! کہیں گڑھے! کہیں پیوند! کہیں ٹیلے!! گلیاں کچی! کہیں کہیں اینٹیں نظر آئیں مگر یوں جیسے لگائی نہیں گئیں‘ پھینکی گئیں! اور یہ حال تب ہے جب یہ گاؤں وفاقی دارالحکومت سے صرف گھنٹے ڈیڑھ کی مسافت پر واقع ہیں! لیکن وفاق تو بڑی آسانی سے کہے گا کہ یہ صوبے کا مسئلہ ہے۔ صوبہ کہے گا کہ ہم ان بستیوں کو‘ ان اضلاع کو صرف اس وقت اپنے صوبے کا حصہ کہتے ہیں جب صوبے کو سب سے بڑا صوبہ ثابت کرنا ہو۔ جب سہولتیں دینے کی بات ہو تو صوبہ عملی طور پر‘ صرف اُن شہروں‘ اُن قصبوں اور اُن قریوں پر مشتمل ہوگا جو صوبائی دارالحکومت کے نواح میں یا زیادہ سے زیادہ صوبے کے وسطی حصے میں واقع ہوں گے۔ مقامی حکومتوں کے ازلی ابدی دشمن‘ یہ صوبائی دارالحکومت اُس …
کل ایک کام سے میرا چار بستیوں میں جانا ہوا۔ چار قریے! چار گاؤں!! اول تو ان تک جاتے راستے کچے تھے‘ خاک اڑاتے!! اور سڑکیں تھیں بھی تو مدتوں کی بنی ہوئیں! جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئیں! کہیں گڑھے! کہیں پیوند! کہیں ٹیلے!! گلیاں کچی! کہیں کہیں اینٹیں نظر آئیں مگر یوں جیسے لگائی نہیں گئیں‘ پھینکی گئیں! اور یہ حال تب ہے جب یہ گاؤں وفاقی دارالحکومت سے صرف گھنٹے ڈیڑھ کی مسافت پر واقع ہیں! لیکن وفاق تو بڑی آسان…
موذی سانپ کی پھنکاریں
ستمبر 10, 2026
کالم
کالم
نہیں معلوم یو پی کے وزیراعلیٰ ادتیا ناتھ کو بھارتی مسلمانوں کا دشمن نمبر ایک کہا جا سکتا ہے یا نہیں‘ ہو سکتا ہے مودی یا امیت شاہ یا کوئی اور درندہ ادتیا ناتھ سے بھی بڑا مسلمان دشمن ہو مگر یہ طے ہے کہ اگر ادتیا ناتھ کا بس چلے تو بھارت میں کوئی مسلمان زندہ بچے‘ نہ کوئی مسجد۔ یہ موذی‘ زہریلا سانپ مسلمانوں کو مسلسل ڈس رہا ہے۔ چار دن پہلے‘ چھ ستمبر کو‘ ایک اور مسجد شہید کر دی گئی۔ یہ ظلم سہارنپور میں ہوا۔ واقعہ کی تفصیلات پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ یہ انہدام ادتیا ناتھ کے خصوصی احکام پر ہوا۔
سہارنپور کی یہ مسجد 1911ء میں تعمیر ہوئی۔ کانگرس کے ممبر پارلیمنٹ عمران مسعود نے مسجد کی شہادت کے بعد ایک پریس کانفرنس میں خسرہ نمبر اور دیگر دستاویزات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مسجد ایک مسلمان زمیندار خاندان کی زمین میں بنائی گئی۔ اس خاندان کے سربراہ وحید خان اور یعقوب خان تھے۔ یہ زمین مسجد کیلئے وقف کی گئی تھی اور اس ضمن میں تمام قانونی کارروائی مکمل کی گئی تھی۔ جب مسجد بنی‘ اس وقت کسی سرکاری دفتر کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا۔ بہت عرصہ بعد اسی مسلم خاندان نے مسجد کے ساتھ والی زمین سرکار کو دی جہاں سرکاری دفتر بنا۔ غالباً یہ دفتر پھیلتا گیا اور ہوتے ہوتے مسجد دفتر کے احاطے کے اندر آ گئی۔ آر ایس ایس کے ایک کارکن نے عدالت میں درخواست دی کہ مسجد سرکاری زمین پر قائم ہے۔ یہ سفید جھوٹ تھا‘ مگر ضلعی مجسٹریٹ نے اس کے حق میں فیصلہ دیا۔ (اس حقیقت کو نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ بھارت میں اس وقت انتظامیہ‘ عدلیہ اور پولیس بی جے پی بلکہ آر ایس ایس کی ورکر بنی ہوئی ہیں) مسجد انتظامیہ اس فیصلے کے خلاف 22دن کے اندر اندر اپیل کر سکتی تھی مگر اس سے پہلے کہ ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جاتی ادتیا ناتھ کے خصوصی حکم پر فی الفور‘ راتوں راتوں مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ اس دوران ممبر پارلیمنٹ اقرا حسن نے مسجد کی طرف جانے کی کوشش کی تو انہیں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ معروف مسلمان صحافی اور ویلاگر ہدیٰ زری والا جیسے ہی سہارنپور پہنچیں‘ انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ آج بھی مسجد اور سرکاری دفتر والی زمین وحید خان اور یعقوب خان کے نام پر اور عمارت وقف کے نام پر ہے۔
جمعیت علمائے ہند اور جماعت اسلامی ہند نے بیک آواز اس انہدام کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس اقدام سے انصاف اور قانون کو شدید دھچکا لگا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے (ہندو) سربراہ اکھلیش یادیو نے بھی ادتیا ناتھ پر الزام لگایا ہے کہ مسجد کو منہدم اس لیے کیا گیا ہے کہ لوگوں کی توجہ اُس غبن سے ہٹائی جائے جو رام مندر کے عطیات میں کیا گیا ہے۔ اکھلیش یادیو کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ پنڈت ادتیا ناتھ مندر کیلئے دیے گئے عطیات میں غبن کر کے جرم کا مرتکب ہوا ہے۔ اکھلیش یادیو نے یہ بھی کہا کہ ایک سچا ہندو تمام دوسرے مذاہب کا احترام کرتا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے بھی مسجد کی شہادت کی شدید مذمت کی ہے۔ سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ زمین کا خسرہ نمبر 539وحید خان اور یعقوب خان کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ مسجد تقسیمِ ہند سے بہت پہلے (1911ء میں) بنی تھی اور وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے۔ عدالت کا فیصلہ یکطرفہ ہے کیونکہ وقف بورڈ کو مقدمے کا فریق ہی نہیں بنایا گیا۔ سنجے سنگھ نے ادتیا ناتھ کی حکومت پر یہ الزام بھی لگایا کہ یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ یو پی میں نفرت پھیلائی جائے اور مذہب کا استحصال کرتے ہوئے آنے والے ریاستی انتخابات میں فائدہ اٹھایا جائے۔ سنجے سنگھ نے اس قانون کا حوالہ دیا جس کی رو سے کسی ایسی عبادت گاہ کو نہیں چھیڑا جا سکتا جو 1947ء سے پہلے کی بنی ہوئی ہے۔ یہاں سنجے سنگھ نے سوال کیا کہ پھر 1911ء کی تعمیر شدہ مسجد کو آپ کیسے گرا سکتے ہیں؟ ملبے سے ایسی اینٹیں بھی ملی ہیں جن پر 1909ء کا ہندسہ نقش تھا۔ ممکن ہے کہ مسجد 1911ء سے بھی پہلے کی ہو۔ ملبے کی تہہ سے ایک کنواں بھی بر آمد ہوا جو ابتدائی مطالعے کے بعد ایک صدی سے زیادہ پرانا ہے۔
وزارتِ خارجہ پاکستان کے ترجمان نے مسجد کے انہدام کی مذمت کی ہے۔ اس نے اسے بھارت میں ہر روز بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کا مظہر قرار دیا اور عالمی توجہ اس طرف مبذول کی۔ لیکن صرف مذمت کافی نہیں۔ مسلم ملکوں میں تعینات پاکستانی سفیروں کو حکم دیا جائے کہ ان ملکوں کو بی جے پی کی اسلام دشمنی سے کُلّی طور پر آگاہ کریں تاکہ مسلمان ممالک‘ خاص طور پر شرقِ اوسط کی ریاستیں مودی کو جپھیاں ڈالنے سے پہلے مودی حکومت کے کارنامے بھی دیکھ لیں۔ مانا کہ معاشی اور سیاسی عوامل زیادہ طاقتور ہیں مگر ایک شے شرم بھی ہوتی ہے اور حیا بھی! ان امیر اور طاقتور بادشاہوں کو کل خدا کی عدالت میں ان جپھیوں کا حساب بھی دینا ہو گا۔ ان ملکوں کی صرف ایک للکار ہی بھارت کیلئے کافی ہو گی! ہزاروں لاکھوں بھارتی ان ریاستوں میں ملازمتوں پر لگے ہیں۔ بھارت ان ریاستوں کی تنبیہ کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ مگر یہ صرف اس وقت ممکن ہو گا جب پاکستانی سفارتخانے میزبان ملکوں کو جگانے کی کوششیں مسلسل کرتے رہیں۔ رہیں عالمی قوتیں تو ان کی اپنی ترجیحات ہیں اور تمام نام نہاد ماڈرن ازم کے باوجود یہ طاقتیں اسلام کی مخالف ہیں۔ اگر مسیحیوں کا مسئلہ ہو تو جنوبی سوڈان بھی الگ کیا جا سکتا ہے اور مشرقی تیمور بھی مگر مسلمانوں کیلئے کون کچھ کرے؟ خود مسلم ممالک ہی بے حس ہوں تو دوسروں کو کیا پڑی ہے!
جب بھی یہ کالم نگار بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار پر قلم اٹھاتا ہے کچھ دوست یاد دلاتے ہیں کہ بھائی یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ دوسری طرف جب پاکستان میں غیر مسلم ہجوم گردی کا شکار ہو جائیں تو مغربی ملکوں سے پاکستان کو متعفن پیغامات (Stinkers) آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس وقت کوئی نہیں کہتا کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ بھارتی مسلمان ہمارے وجود کا حصہ ہیں۔ ان کا دفاع ایک قرض ہے جو پاکستان کو ادا کرنا ہی کرنا ہے۔ بھارتی مسلمان بھارت کے جتنے بھی وفادار ہوں انہیں پاکستان کا طعنہ ضرور دیا جاتا ہے۔ وہ بھارت کیلئے قربانیاں دیں پھر بھی انہیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ اگر پاکستان ان کیلئے آواز نہ اٹھائے تو یہ ویسی ہی صورتحال ہو گی جس پر فراق گورکھپوری نے کہا تھا:
تو پھر کیا عشق دنیا میں کہیں کا بھی نہ رہ جائے
زمانے سے لڑائی مول لے‘ تم سے برا بھی ہو
بدقسمتی یہ ہے کہ یوپی مسلمانوں کا اور مسلم تہذیب کا گڑھ ہے۔ لکھنؤ‘ آگرہ‘ کانپور‘ بریلی‘ علی گڑھ‘ سہارن پور‘ مراد آباد‘ الہ آباد‘ غازی پور‘ میرٹھ‘ گورکھپور‘ مظفر نگر‘ بدایوں‘ شاہ جہان پور‘ فرخ آباد‘ بلند شہر‘ امروہہ‘ فتح پور‘ جونپور‘ بارہ بنکی‘ اعظم گڑھ‘ بجنور‘ فیروز آباد اور کئی دوسرے قصبے اور شہر‘ جن سے مسلمانوں کا ماضی‘ تہذیب اور ثقافت وابستہ ہے‘ یوپی ہی میں ہیں۔ اور یوپی کا حکمران ادتیا ناتھ ہے جو انتہا درجے کا متعصب پنڈت ہے۔ ادتیا ناتھ بلکہ بی جے پی کی حکومت ہر جگہ سے مسلم آثار مٹانا چاہتی ہے۔ بھارتی مسلمان ایک بہت بڑی مصیبت میں گرفتار ہیں۔ مدرسے ختم کیے جا رہے ہیں‘ مسجدیں منہدم کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کا اخلاقی‘ سفارتی اور تہذیبی فرض ہے کہ ان کیلئے دنیا میں آواز اٹھائے۔ آج کی دنیا میڈیا کی دنیا ہے۔ یورپ میں اگر غزہ کیلئے جلوس نکل سکتے ہیں تو بھارتی مسلمانوں کیلئے کیوں نہیں؟ کشمیر کیلئے کیوں نہیں؟
سہارنپور کی یہ مسجد 1911ء میں تعمیر ہوئی۔ کانگرس کے ممبر پارلیمنٹ عمران مسعود نے مسجد کی شہادت کے بعد ایک پریس کانفرنس میں خسرہ نمبر اور دیگر دستاویزات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مسجد ایک مسلمان زمیندار خاندان کی زمین میں بنائی گئی۔ اس خاندان کے سربراہ وحید خان اور یعقوب خان تھے۔ یہ زمین مسجد کیلئے وقف کی گئی تھی اور اس ضمن میں تمام قانونی کارروائی مکمل کی گئی تھی۔ جب مسجد بنی‘ اس وقت کسی سرکاری دفتر کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا۔ بہت عرصہ بعد اسی مسلم خاندان نے مسجد کے ساتھ والی زمین سرکار کو دی جہاں سرکاری دفتر بنا۔ غالباً یہ دفتر پھیلتا گیا اور ہوتے ہوتے مسجد دفتر کے احاطے کے اندر آ گئی۔ آر ایس ایس کے ایک کارکن نے عدالت میں درخواست دی کہ مسجد سرکاری زمین پر قائم ہے۔ یہ سفید جھوٹ تھا‘ مگر ضلعی مجسٹریٹ نے اس کے حق میں فیصلہ دیا۔ (اس حقیقت کو نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ بھارت میں اس وقت انتظامیہ‘ عدلیہ اور پولیس بی جے پی بلکہ آر ایس ایس کی ورکر بنی ہوئی ہیں) مسجد انتظامیہ اس فیصلے کے خلاف 22دن کے اندر اندر اپیل کر سکتی تھی مگر اس سے پہلے کہ ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جاتی ادتیا ناتھ کے خصوصی حکم پر فی الفور‘ راتوں راتوں مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ اس دوران ممبر پارلیمنٹ اقرا حسن نے مسجد کی طرف جانے کی کوشش کی تو انہیں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ معروف مسلمان صحافی اور ویلاگر ہدیٰ زری والا جیسے ہی سہارنپور پہنچیں‘ انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ عجیب بات یہ ہے کہ آج بھی مسجد اور سرکاری دفتر والی زمین وحید خان اور یعقوب خان کے نام پر اور عمارت وقف کے نام پر ہے۔
جمعیت علمائے ہند اور جماعت اسلامی ہند نے بیک آواز اس انہدام کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس اقدام سے انصاف اور قانون کو شدید دھچکا لگا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے (ہندو) سربراہ اکھلیش یادیو نے بھی ادتیا ناتھ پر الزام لگایا ہے کہ مسجد کو منہدم اس لیے کیا گیا ہے کہ لوگوں کی توجہ اُس غبن سے ہٹائی جائے جو رام مندر کے عطیات میں کیا گیا ہے۔ اکھلیش یادیو کے اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ پنڈت ادتیا ناتھ مندر کیلئے دیے گئے عطیات میں غبن کر کے جرم کا مرتکب ہوا ہے۔ اکھلیش یادیو نے یہ بھی کہا کہ ایک سچا ہندو تمام دوسرے مذاہب کا احترام کرتا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے بھی مسجد کی شہادت کی شدید مذمت کی ہے۔ سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ زمین کا خسرہ نمبر 539وحید خان اور یعقوب خان کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ مسجد تقسیمِ ہند سے بہت پہلے (1911ء میں) بنی تھی اور وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے۔ عدالت کا فیصلہ یکطرفہ ہے کیونکہ وقف بورڈ کو مقدمے کا فریق ہی نہیں بنایا گیا۔ سنجے سنگھ نے ادتیا ناتھ کی حکومت پر یہ الزام بھی لگایا کہ یہ سب کچھ اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ یو پی میں نفرت پھیلائی جائے اور مذہب کا استحصال کرتے ہوئے آنے والے ریاستی انتخابات میں فائدہ اٹھایا جائے۔ سنجے سنگھ نے اس قانون کا حوالہ دیا جس کی رو سے کسی ایسی عبادت گاہ کو نہیں چھیڑا جا سکتا جو 1947ء سے پہلے کی بنی ہوئی ہے۔ یہاں سنجے سنگھ نے سوال کیا کہ پھر 1911ء کی تعمیر شدہ مسجد کو آپ کیسے گرا سکتے ہیں؟ ملبے سے ایسی اینٹیں بھی ملی ہیں جن پر 1909ء کا ہندسہ نقش تھا۔ ممکن ہے کہ مسجد 1911ء سے بھی پہلے کی ہو۔ ملبے کی تہہ سے ایک کنواں بھی بر آمد ہوا جو ابتدائی مطالعے کے بعد ایک صدی سے زیادہ پرانا ہے۔
وزارتِ خارجہ پاکستان کے ترجمان نے مسجد کے انہدام کی مذمت کی ہے۔ اس نے اسے بھارت میں ہر روز بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کا مظہر قرار دیا اور عالمی توجہ اس طرف مبذول کی۔ لیکن صرف مذمت کافی نہیں۔ مسلم ملکوں میں تعینات پاکستانی سفیروں کو حکم دیا جائے کہ ان ملکوں کو بی جے پی کی اسلام دشمنی سے کُلّی طور پر آگاہ کریں تاکہ مسلمان ممالک‘ خاص طور پر شرقِ اوسط کی ریاستیں مودی کو جپھیاں ڈالنے سے پہلے مودی حکومت کے کارنامے بھی دیکھ لیں۔ مانا کہ معاشی اور سیاسی عوامل زیادہ طاقتور ہیں مگر ایک شے شرم بھی ہوتی ہے اور حیا بھی! ان امیر اور طاقتور بادشاہوں کو کل خدا کی عدالت میں ان جپھیوں کا حساب بھی دینا ہو گا۔ ان ملکوں کی صرف ایک للکار ہی بھارت کیلئے کافی ہو گی! ہزاروں لاکھوں بھارتی ان ریاستوں میں ملازمتوں پر لگے ہیں۔ بھارت ان ریاستوں کی تنبیہ کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ مگر یہ صرف اس وقت ممکن ہو گا جب پاکستانی سفارتخانے میزبان ملکوں کو جگانے کی کوششیں مسلسل کرتے رہیں۔ رہیں عالمی قوتیں تو ان کی اپنی ترجیحات ہیں اور تمام نام نہاد ماڈرن ازم کے باوجود یہ طاقتیں اسلام کی مخالف ہیں۔ اگر مسیحیوں کا مسئلہ ہو تو جنوبی سوڈان بھی الگ کیا جا سکتا ہے اور مشرقی تیمور بھی مگر مسلمانوں کیلئے کون کچھ کرے؟ خود مسلم ممالک ہی بے حس ہوں تو دوسروں کو کیا پڑی ہے!
جب بھی یہ کالم نگار بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار پر قلم اٹھاتا ہے کچھ دوست یاد دلاتے ہیں کہ بھائی یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ دوسری طرف جب پاکستان میں غیر مسلم ہجوم گردی کا شکار ہو جائیں تو مغربی ملکوں سے پاکستان کو متعفن پیغامات (Stinkers) آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس وقت کوئی نہیں کہتا کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ بھارتی مسلمان ہمارے وجود کا حصہ ہیں۔ ان کا دفاع ایک قرض ہے جو پاکستان کو ادا کرنا ہی کرنا ہے۔ بھارتی مسلمان بھارت کے جتنے بھی وفادار ہوں انہیں پاکستان کا طعنہ ضرور دیا جاتا ہے۔ وہ بھارت کیلئے قربانیاں دیں پھر بھی انہیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے۔ اگر پاکستان ان کیلئے آواز نہ اٹھائے تو یہ ویسی ہی صورتحال ہو گی جس پر فراق گورکھپوری نے کہا تھا:
تو پھر کیا عشق دنیا میں کہیں کا بھی نہ رہ جائے
زمانے سے لڑائی مول لے‘ تم سے برا بھی ہو
بدقسمتی یہ ہے کہ یوپی مسلمانوں کا اور مسلم تہذیب کا گڑھ ہے۔ لکھنؤ‘ آگرہ‘ کانپور‘ بریلی‘ علی گڑھ‘ سہارن پور‘ مراد آباد‘ الہ آباد‘ غازی پور‘ میرٹھ‘ گورکھپور‘ مظفر نگر‘ بدایوں‘ شاہ جہان پور‘ فرخ آباد‘ بلند شہر‘ امروہہ‘ فتح پور‘ جونپور‘ بارہ بنکی‘ اعظم گڑھ‘ بجنور‘ فیروز آباد اور کئی دوسرے قصبے اور شہر‘ جن سے مسلمانوں کا ماضی‘ تہذیب اور ثقافت وابستہ ہے‘ یوپی ہی میں ہیں۔ اور یوپی کا حکمران ادتیا ناتھ ہے جو انتہا درجے کا متعصب پنڈت ہے۔ ادتیا ناتھ بلکہ بی جے پی کی حکومت ہر جگہ سے مسلم آثار مٹانا چاہتی ہے۔ بھارتی مسلمان ایک بہت بڑی مصیبت میں گرفتار ہیں۔ مدرسے ختم کیے جا رہے ہیں‘ مسجدیں منہدم کی جا رہی ہیں۔ پاکستان کا اخلاقی‘ سفارتی اور تہذیبی فرض ہے کہ ان کیلئے دنیا میں آواز اٹھائے۔ آج کی دنیا میڈیا کی دنیا ہے۔ یورپ میں اگر غزہ کیلئے جلوس نکل سکتے ہیں تو بھارتی مسلمانوں کیلئے کیوں نہیں؟ کشمیر کیلئے کیوں نہیں؟
نہیں معلوم یو پی کے وزیراعلیٰ ادتیا ناتھ کو بھارتی مسلمانوں کا دشمن نمبر ایک کہا جا سکتا ہے یا نہیں‘ ہو سکتا ہے مودی یا امیت شاہ یا کوئی اور درندہ ادتیا ناتھ سے بھی بڑا مسلمان دشمن ہو مگر یہ طے ہے کہ اگر ادتیا ناتھ کا بس چلے تو بھارت میں کوئی مسلمان زندہ بچے‘ نہ کوئی مسجد۔ یہ موذی‘ زہریلا سانپ مسلمانوں کو مسلسل ڈس رہا ہے۔ چار دن پہلے‘ چھ ستمبر کو‘ ایک اور مسجد شہید کر دی گئی۔ یہ ظلم سہارنپور میں ہوا۔ واقعہ کی تفصیلات پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ یہ انہدام ادتیا ناتھ کے خصوصی احکام پر ہوا۔ سہارنپور کی یہ مسجد 1911ء میں تعمیر ہوئی۔ کانگرس کے ممبر پارلیمنٹ عمران مسعود نے مسجد کی شہادت کے بعد ایک پریس کانفرنس میں خسرہ نمبر اور دیگر دستاویزات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ مسجد ایک مسلمان زمیندار خاندان کی زمین میں بنائی گئی۔ اس خاندان کے سربراہ وحید خان اور یعقوب خان تھے۔ یہ زمین مسجد کیلئے وقف کی گ…
نہیں معلوم یو پی کے وزیراعلیٰ ادتیا ناتھ کو بھارتی مسلمانوں کا دشمن نمبر ایک کہا جا سکتا ہے یا نہیں‘ ہو سکتا ہے مودی یا امیت شاہ یا کوئی اور درندہ ادتیا ناتھ سے بھی بڑا مسلمان دشمن ہو مگر یہ طے ہے کہ اگر ادتیا ناتھ کا بس چلے تو بھارت میں کوئی مسلمان زندہ بچے‘ نہ کوئی مسجد۔ یہ موذی‘ زہریلا سانپ مسلمانوں کو مسلسل ڈس رہا ہے۔ چار دن پہلے‘ چھ ستمبر کو‘ ایک اور مسجد شہید کر دی گئی۔ یہ ظلم سہارنپور میں …
دخل در معقولات
ستمبر 08, 2026
کالم
کالم
مناظرہ‘ جو مکالمے سے آغاز ہوا‘ دو بڑوں کے درمیان ہو رہا ہے۔
ایک طرف برادرِ عزیز وجاہت مسعود ہیں۔ منفرد اور سرور آور طرزِ نگارش کے مالک۔ لکھتے ہیں تو تاریخ اور اردو ہی نہیں‘ عالمی ادب بھی دست بستہ‘ سر جھکائے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ ابوالفضل کے بھائی فیضی نے اپنے بارے میں فخریہ کہا تھا:
دست و پائی عروسِ معنی را؍ بمدادِ قلم خضاب کنم
وجاہت مسعود بھی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کیونکہ عروسِ معنی کی حنا بندی کرتے ہیں تو ادب کے طالبعلم اَش اَش کر اٹھتے ہیں۔ ''سہروردی کی سیاست بیتی‘‘ کا ترجمہ ان کا تازہ کارنامہ ہے۔ پاکستان میں اصل تاریخ کو عمداً‘ اِخفا میں رکھا جا رہا ہے۔ شیخ مجیب الرحمان اور سہروردی جیسے سیاستدانوں کی آپ بیتیاں ریکارڈ کی تصحیح کیلئے ناگزیر ہیں۔ وجاہت مسعود جرأت مند صحافی ہیں۔ اس فقیر کا انٹرویو لیا تو سرکاری ٹی وی نے بنگلہ دیش کے قیام کے اصل اسباب انٹرویو سے کاٹ دیے۔ وجاہت مسعود صاحب نے اپنے کالم میں سب کچھ بیان کر ڈالا۔ دوسری طرف راشد محمود لنگڑیال ہیں کہ جن کے جوہر اب کھل رہے ہیں۔ سرکاری غلام گردشوں میں موڑ کاٹ کاٹ کر سامنے والا منظر دھندلا دکھائی دیتاہے۔ حضورِ شاہ‘ کمرِ زرّیں باندھ کر کھڑے رہنے سے صلاحیتیں مایوس ہو کر رخصت ہو جاتی ہیں۔ مگر راشد لنگڑیال ایک نعرۂ مستانہ لگا کر سامنے آئے ہیں کہ بقول رومی:
ہلہ ہُش دار! کہ در شہر دو سہ طرّار اند
کہ بہ تدبیر‘ کُلہ از سرِ مہ بر دارند
ہوشیار! کہ شہر میں دو تین زیرک ایسے بھی ہیں جو تدبیر سے چاند کے سر سے بھی ٹوپی اتار لیں۔
وجاہت مسعود صاحب نے یہ خبر بھی دی ہے کہ لنگڑیال صاحب شاعر بھی ہیں! سبحان اللہ! شاعری اور محصولات کا حساب کتاب! اس فقیر کا شعر ہے:
مری شاعری اور میرا معاش
تو گویا یہ چشمہ چٹانوں میں تھا
لغت پر راشد لنگڑیال کو غیر معمولی دسترس ہے۔ تحریر مشّاقی اور پختہ کاری پر شاہد ہے۔
ہمارے قصبے میں چار بھائی تھے۔ ایک ہیڈ ماسٹر‘ دوسرا بینکار‘ تیسرا کرنل‘ چوتھا بدقسمتی سے چِٹا اَن پڑھ! گدھے پر ریت ڈھوتا تھا۔ نام فتح محمد تھا۔ سب اسے ''پھتّا ریت والا‘‘ کہتے تھے۔ سماجی سطح پر بھائیوں کے ساتھ موازنہ ہوتا تو نظر ہی نہ آتا مگر جب چار بھائیوں اور ایک باپ کے چار بیٹوں کو گنا جاتا تو اسے باقاعدہ شمار کیا جاتا۔ اس سے محاورہ بنا کہ ''پھتّا وچ بھراواں گَتّا‘‘۔ گَتّا گننے کا فعل مجہول ہے‘ یعنی Counted۔ مطلب یہ کہ جب بھائیوں کو گنا جاتا ہے تو پھتا ریت والا بھی ان میں شامل ہوتا ہے۔ اس مناظرے میں اس فقیر کے دخل در معقولات کی بس اتنی ہی اہمیت ہے جتنی برادر شماری میں پھتے کی تھی۔ اس کیلئے بھی پیشگی معذرت!
دونوں زعما کا مناظرہ ایک عجیب دوراہے پر آگیا ہے۔ سخن گسترانہ بات قیام پاکستان پر آ پڑی ہے۔ وجاہت مسعود صاحب نے لکھا ہے کہ ''راشد بھائی کا مقدمہ یہ ہے کہ تقسیم درست تھی‘‘۔ اچھی بات یہ ہے کہ وجاہت صاحب نے اس حقیقت کی تغلیط نہیں کی! وقت ثابت کر چکا ہے کہ تقسیم درست تھی۔ تاہم وجاہت صاحب نے بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار کا موازنہ اُن چند واقعات سے کیا ہے جو پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ پیش آئے۔ یہ موازنہ غیر حقیقی ہے (یہ فقیر ''اقلیت‘‘ کی اصطلاح کو درست نہیں گردانتا مگر کیا کیا جائے سکہ رائج الوقت یہی ہے)۔ بنیادی دلیل اس سلسلے میں یہ ہے کہ پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ جو واقعات ہوئے وہ کسی حکومتی پالیسی کا نتیجہ نہ تھے‘ حکومت اور عوام سب اس نوع کے افسوسناک واقعات کی مذمت کرتے رہے ہیں۔ ایسے واقعات کی پشت پر ہندو دشمنی یا مسیحی دشمنی نہیں ہوتی۔ یہ تو ہجوم گردی کا شاخسانہ ہوتا ہے۔ اور حکومتوں کی نالائقی!! کہ آج تک لاؤڈ سپیکر کا غلط‘ اشتعال انگیز استعمال نہیں روک سکیں۔ لاؤڈ سپیکر اگر ہجوم اکٹھا کرنے اور مشتعل کرنے کیلئے استعمال ہو تو اس کا ذمہ دار مسجد کے مولوی صاحب کو یا مؤذن کو یا مسجد کمیٹی کے سربراہ کو ٹھہرانا چاہیے اور سزا دینی چاہیے۔ حکومت کو اس ضمن میں واضح قانون بنانا ہو گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی مسلمان بھی اس ہجوم گردی کا شکار ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں غیر مسلموں کے خلاف کوئی آر ایس ایس ہے نہ بی جے پی! یہاں کوئی امیت شاہ ہے نہ کوئی ادتیا ناتھ!! جناب وجاہت مسعود سے بہتر کون جانتا ہے کہ یو پی‘ جو مسلم آبادی اور مسلم تمدن کا گڑھ ہے‘ ایک پروہت کے ظالمانہ تعصب میں جکڑا ہوا ہے۔ اس نے مسلمانوں کی زندگی جہنم بنا رکھی ہے۔ وہ اُس اجتماع کی صدار ت کر رہا تھا جس میں ایک ہندو نے ہندو نوجوانوں کو ترغیب دی تھی کہ مری ہوئی مسلمان خواتین کی آبرو ریزی کرو۔ ادتیا ناتھ نے اس ترغیب پر کوئی اعتراض نہ کیا۔ یہ نوجوان ''ہندو یووا واہنی‘‘ نامی تنظیم کا رکن تھا۔ یہ تنظیم خود ادتیا ناتھ نے بنائی ہے۔ پاکستان کے کسی وفاقی یا صوبائی حکمران نے کبھی ہندوئوں کے مارے جانے کو کتے کے مارے جانے سے تشبیہ نہیں دی۔ مودی نے گجرات کے مسلم کُش فسادات کے بعد ایسی ہی بات کی جو پوری دنیا میں مشہور ہوئی۔ ایک سوچی سمجھی سکیم کی رو سے آسام میں مسلمانوں کی شہریت ختم کی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ کئی مسلمانوں کی‘ جو تیس تیس برس بھارتی آرمی میں رہے‘ شہریت کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ 2024ء میں وزیراعظم مودی نے مسلمانوں کو ''گھس بیٹھیا‘‘ (مداخلت کار) کہا اور ہندوؤں سے کہا کہ ''مسلمان تمہاری خوراک‘ تمہاری بیٹیاں اور تمہاری سرزمین چرا رہے ہیں‘‘۔ یو پی کے بی جے پی لیڈر لکشمی کانت باجپائی نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں ننانوے فیصد آبرو ریزی مسلمان کرتے ہیں جو کہ سفید جھوٹ ہے۔ 2021ء میں بی جے پی کے خواتین ونگ نے فیس بک پر لکھا کہ ''مسلمانوں کا ایک ہی علاج ہے‘ ہندو بھائیوں کو چاہیے کہ دس دس آدمیوں پر مشتمل گروپ بنائیں‘ گلیوں میں مسلمانوں کی ماؤں اور بہنوں کی اجتماعی آبرو ریزی کریں اور پھر انہیں بیچ بازار پھانسی دیں تاکہ لوگ دیکھیں‘‘۔ 2021ء میں ہندو انتہا پسندوں نے دو ایپس متعارف کرائیں‘ جن کے نام ہیں ''بُلّی بائی‘‘ اور ''سلّی ڈیلز‘‘۔ ان ایپس پر مسلم خواتین کے فوٹو اور تفصیلات مشتہر کیے گئے تاکہ ان کی نیلامی کی جائے۔ 180 خواتین کو اس جعلی نیلام گھر میں فروخت کیا گیا۔ یہ وہ صحافی‘ آرٹسٹ اور ایکٹوسٹ خواتین تھیں جو مودی کی پالیسیوں کی مخالف تھیں۔
یہ مشتے نمونہ از خروارے ہے۔ بی جے پی کے حکومت میں آنے کے بعد نفرت انگیز تقاریر اور بیانات میں پانچ سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے اثرات بھی اسی حساب سے ہیں۔ گائے کے نام پر بے شمار مسلمانوں کو کچل ڈالا گیا ہے۔ مسلمان ہر شعبۂ زندگی میں حاشیے کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ ملازمتوں میں ان کا حصہ آبادی کے تناسب سے کم ہے‘ از حد کم!! مسلم لڑکیوں کو ملازمت کے حصول کیلئے ہندو نام اپنانے پڑتے ہیں۔ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جب ایک حکومت کی پالیسی ہی یہ ہو گی کہ مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کر دیاجائے اور اس پالیسی کے نفاذ کیلئے تمام حکومتی ذرائع اور سرکاری وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا تو مسلمان کتنی بڑی مصیبت میں گرفتار ہوں گے!! الحمدللہ پاکستان میں آج تک کسی حکومت نے ہندو‘ سکھ اور مسیحی برادریوں کے خلاف معاندانہ پالیسی نہیں بنائی۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ہے‘ ہجوم گردی اور اشتعال انگیزی کے سبب‘ جہاں غیر مسلموں کو نقصان پہنچا ہے وہاں مسلمان بھی اس کا شکار ہوئے ہیں۔ ہم پاکستانی سوچ بھی نہیں سکتے کہ کسی غیر مسلم پاکستانی کو نقصان پہنچایا جائے!! وہ ہمارے اجتماعی وجود کا حصہ ہے۔
ایک طرف برادرِ عزیز وجاہت مسعود ہیں۔ منفرد اور سرور آور طرزِ نگارش کے مالک۔ لکھتے ہیں تو تاریخ اور اردو ہی نہیں‘ عالمی ادب بھی دست بستہ‘ سر جھکائے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ ابوالفضل کے بھائی فیضی نے اپنے بارے میں فخریہ کہا تھا:
دست و پائی عروسِ معنی را؍ بمدادِ قلم خضاب کنم
وجاہت مسعود بھی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کیونکہ عروسِ معنی کی حنا بندی کرتے ہیں تو ادب کے طالبعلم اَش اَش کر اٹھتے ہیں۔ ''سہروردی کی سیاست بیتی‘‘ کا ترجمہ ان کا تازہ کارنامہ ہے۔ پاکستان میں اصل تاریخ کو عمداً‘ اِخفا میں رکھا جا رہا ہے۔ شیخ مجیب الرحمان اور سہروردی جیسے سیاستدانوں کی آپ بیتیاں ریکارڈ کی تصحیح کیلئے ناگزیر ہیں۔ وجاہت مسعود جرأت مند صحافی ہیں۔ اس فقیر کا انٹرویو لیا تو سرکاری ٹی وی نے بنگلہ دیش کے قیام کے اصل اسباب انٹرویو سے کاٹ دیے۔ وجاہت مسعود صاحب نے اپنے کالم میں سب کچھ بیان کر ڈالا۔ دوسری طرف راشد محمود لنگڑیال ہیں کہ جن کے جوہر اب کھل رہے ہیں۔ سرکاری غلام گردشوں میں موڑ کاٹ کاٹ کر سامنے والا منظر دھندلا دکھائی دیتاہے۔ حضورِ شاہ‘ کمرِ زرّیں باندھ کر کھڑے رہنے سے صلاحیتیں مایوس ہو کر رخصت ہو جاتی ہیں۔ مگر راشد لنگڑیال ایک نعرۂ مستانہ لگا کر سامنے آئے ہیں کہ بقول رومی:
ہلہ ہُش دار! کہ در شہر دو سہ طرّار اند
کہ بہ تدبیر‘ کُلہ از سرِ مہ بر دارند
ہوشیار! کہ شہر میں دو تین زیرک ایسے بھی ہیں جو تدبیر سے چاند کے سر سے بھی ٹوپی اتار لیں۔
وجاہت مسعود صاحب نے یہ خبر بھی دی ہے کہ لنگڑیال صاحب شاعر بھی ہیں! سبحان اللہ! شاعری اور محصولات کا حساب کتاب! اس فقیر کا شعر ہے:
مری شاعری اور میرا معاش
تو گویا یہ چشمہ چٹانوں میں تھا
لغت پر راشد لنگڑیال کو غیر معمولی دسترس ہے۔ تحریر مشّاقی اور پختہ کاری پر شاہد ہے۔
ہمارے قصبے میں چار بھائی تھے۔ ایک ہیڈ ماسٹر‘ دوسرا بینکار‘ تیسرا کرنل‘ چوتھا بدقسمتی سے چِٹا اَن پڑھ! گدھے پر ریت ڈھوتا تھا۔ نام فتح محمد تھا۔ سب اسے ''پھتّا ریت والا‘‘ کہتے تھے۔ سماجی سطح پر بھائیوں کے ساتھ موازنہ ہوتا تو نظر ہی نہ آتا مگر جب چار بھائیوں اور ایک باپ کے چار بیٹوں کو گنا جاتا تو اسے باقاعدہ شمار کیا جاتا۔ اس سے محاورہ بنا کہ ''پھتّا وچ بھراواں گَتّا‘‘۔ گَتّا گننے کا فعل مجہول ہے‘ یعنی Counted۔ مطلب یہ کہ جب بھائیوں کو گنا جاتا ہے تو پھتا ریت والا بھی ان میں شامل ہوتا ہے۔ اس مناظرے میں اس فقیر کے دخل در معقولات کی بس اتنی ہی اہمیت ہے جتنی برادر شماری میں پھتے کی تھی۔ اس کیلئے بھی پیشگی معذرت!
دونوں زعما کا مناظرہ ایک عجیب دوراہے پر آگیا ہے۔ سخن گسترانہ بات قیام پاکستان پر آ پڑی ہے۔ وجاہت مسعود صاحب نے لکھا ہے کہ ''راشد بھائی کا مقدمہ یہ ہے کہ تقسیم درست تھی‘‘۔ اچھی بات یہ ہے کہ وجاہت صاحب نے اس حقیقت کی تغلیط نہیں کی! وقت ثابت کر چکا ہے کہ تقسیم درست تھی۔ تاہم وجاہت صاحب نے بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار کا موازنہ اُن چند واقعات سے کیا ہے جو پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ پیش آئے۔ یہ موازنہ غیر حقیقی ہے (یہ فقیر ''اقلیت‘‘ کی اصطلاح کو درست نہیں گردانتا مگر کیا کیا جائے سکہ رائج الوقت یہی ہے)۔ بنیادی دلیل اس سلسلے میں یہ ہے کہ پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ جو واقعات ہوئے وہ کسی حکومتی پالیسی کا نتیجہ نہ تھے‘ حکومت اور عوام سب اس نوع کے افسوسناک واقعات کی مذمت کرتے رہے ہیں۔ ایسے واقعات کی پشت پر ہندو دشمنی یا مسیحی دشمنی نہیں ہوتی۔ یہ تو ہجوم گردی کا شاخسانہ ہوتا ہے۔ اور حکومتوں کی نالائقی!! کہ آج تک لاؤڈ سپیکر کا غلط‘ اشتعال انگیز استعمال نہیں روک سکیں۔ لاؤڈ سپیکر اگر ہجوم اکٹھا کرنے اور مشتعل کرنے کیلئے استعمال ہو تو اس کا ذمہ دار مسجد کے مولوی صاحب کو یا مؤذن کو یا مسجد کمیٹی کے سربراہ کو ٹھہرانا چاہیے اور سزا دینی چاہیے۔ حکومت کو اس ضمن میں واضح قانون بنانا ہو گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی مسلمان بھی اس ہجوم گردی کا شکار ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں غیر مسلموں کے خلاف کوئی آر ایس ایس ہے نہ بی جے پی! یہاں کوئی امیت شاہ ہے نہ کوئی ادتیا ناتھ!! جناب وجاہت مسعود سے بہتر کون جانتا ہے کہ یو پی‘ جو مسلم آبادی اور مسلم تمدن کا گڑھ ہے‘ ایک پروہت کے ظالمانہ تعصب میں جکڑا ہوا ہے۔ اس نے مسلمانوں کی زندگی جہنم بنا رکھی ہے۔ وہ اُس اجتماع کی صدار ت کر رہا تھا جس میں ایک ہندو نے ہندو نوجوانوں کو ترغیب دی تھی کہ مری ہوئی مسلمان خواتین کی آبرو ریزی کرو۔ ادتیا ناتھ نے اس ترغیب پر کوئی اعتراض نہ کیا۔ یہ نوجوان ''ہندو یووا واہنی‘‘ نامی تنظیم کا رکن تھا۔ یہ تنظیم خود ادتیا ناتھ نے بنائی ہے۔ پاکستان کے کسی وفاقی یا صوبائی حکمران نے کبھی ہندوئوں کے مارے جانے کو کتے کے مارے جانے سے تشبیہ نہیں دی۔ مودی نے گجرات کے مسلم کُش فسادات کے بعد ایسی ہی بات کی جو پوری دنیا میں مشہور ہوئی۔ ایک سوچی سمجھی سکیم کی رو سے آسام میں مسلمانوں کی شہریت ختم کی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ کئی مسلمانوں کی‘ جو تیس تیس برس بھارتی آرمی میں رہے‘ شہریت کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ 2024ء میں وزیراعظم مودی نے مسلمانوں کو ''گھس بیٹھیا‘‘ (مداخلت کار) کہا اور ہندوؤں سے کہا کہ ''مسلمان تمہاری خوراک‘ تمہاری بیٹیاں اور تمہاری سرزمین چرا رہے ہیں‘‘۔ یو پی کے بی جے پی لیڈر لکشمی کانت باجپائی نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں ننانوے فیصد آبرو ریزی مسلمان کرتے ہیں جو کہ سفید جھوٹ ہے۔ 2021ء میں بی جے پی کے خواتین ونگ نے فیس بک پر لکھا کہ ''مسلمانوں کا ایک ہی علاج ہے‘ ہندو بھائیوں کو چاہیے کہ دس دس آدمیوں پر مشتمل گروپ بنائیں‘ گلیوں میں مسلمانوں کی ماؤں اور بہنوں کی اجتماعی آبرو ریزی کریں اور پھر انہیں بیچ بازار پھانسی دیں تاکہ لوگ دیکھیں‘‘۔ 2021ء میں ہندو انتہا پسندوں نے دو ایپس متعارف کرائیں‘ جن کے نام ہیں ''بُلّی بائی‘‘ اور ''سلّی ڈیلز‘‘۔ ان ایپس پر مسلم خواتین کے فوٹو اور تفصیلات مشتہر کیے گئے تاکہ ان کی نیلامی کی جائے۔ 180 خواتین کو اس جعلی نیلام گھر میں فروخت کیا گیا۔ یہ وہ صحافی‘ آرٹسٹ اور ایکٹوسٹ خواتین تھیں جو مودی کی پالیسیوں کی مخالف تھیں۔
یہ مشتے نمونہ از خروارے ہے۔ بی جے پی کے حکومت میں آنے کے بعد نفرت انگیز تقاریر اور بیانات میں پانچ سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے اثرات بھی اسی حساب سے ہیں۔ گائے کے نام پر بے شمار مسلمانوں کو کچل ڈالا گیا ہے۔ مسلمان ہر شعبۂ زندگی میں حاشیے کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ ملازمتوں میں ان کا حصہ آبادی کے تناسب سے کم ہے‘ از حد کم!! مسلم لڑکیوں کو ملازمت کے حصول کیلئے ہندو نام اپنانے پڑتے ہیں۔ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جب ایک حکومت کی پالیسی ہی یہ ہو گی کہ مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کر دیاجائے اور اس پالیسی کے نفاذ کیلئے تمام حکومتی ذرائع اور سرکاری وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا تو مسلمان کتنی بڑی مصیبت میں گرفتار ہوں گے!! الحمدللہ پاکستان میں آج تک کسی حکومت نے ہندو‘ سکھ اور مسیحی برادریوں کے خلاف معاندانہ پالیسی نہیں بنائی۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ہے‘ ہجوم گردی اور اشتعال انگیزی کے سبب‘ جہاں غیر مسلموں کو نقصان پہنچا ہے وہاں مسلمان بھی اس کا شکار ہوئے ہیں۔ ہم پاکستانی سوچ بھی نہیں سکتے کہ کسی غیر مسلم پاکستانی کو نقصان پہنچایا جائے!! وہ ہمارے اجتماعی وجود کا حصہ ہے۔
مناظرہ‘ جو مکالمے سے آغاز ہوا‘ دو بڑوں کے درمیان ہو رہا ہے۔ ایک طرف برادرِ عزیز وجاہت مسعود ہیں۔ منفرد اور سرور آور طرزِ نگارش کے مالک۔ لکھتے ہیں تو تاریخ اور اردو ہی نہیں‘ عالمی ادب بھی دست بستہ‘ سر جھکائے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ ابوالفضل کے بھائی فیضی نے اپنے بارے میں فخریہ کہا تھا: دست و پائی عروسِ معنی را؍ بمدادِ قلم خضاب کنم وجاہت مسعود بھی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کیونکہ عروسِ معنی کی حنا بندی کرتے ہیں تو ادب کے طالبعلم اَش اَش کر اٹھتے ہیں۔ ''سہروردی کی سیاست بیتی‘‘ کا ترجمہ ان کا تازہ کارنامہ ہے۔ پاکستان میں اصل تاریخ کو عمداً‘ اِخفا میں رکھا جا رہا ہے۔ شیخ مجیب الرحمان اور سہروردی جیسے سیاستدانوں کی آپ بیتیاں ریکارڈ کی تصحیح کیلئے ناگزیر ہیں۔ وجاہت مسعود جرأت مند صحافی ہیں۔ اس فقیر کا انٹرویو لیا تو سرکاری ٹی وی نے بنگلہ دیش کے قیام کے اصل اسباب انٹرویو سے کاٹ دیے۔ وجاہت مسع…
مناظرہ‘ جو مکالمے سے آغاز ہوا‘ دو بڑوں کے درمیان ہو رہا ہے۔ ایک طرف برادرِ عزیز وجاہت مسعود ہیں۔ منفرد اور سرور آور طرزِ نگارش کے مالک۔ لکھتے ہیں تو تاریخ اور اردو ہی نہیں‘ عالمی ادب بھی دست بستہ‘ سر جھکائے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ ابوالفضل کے بھائی فیضی نے اپنے بارے میں فخریہ کہا تھا: دست و پائی عروسِ معنی را؍ بمدادِ قلم خضاب کنم وجاہت مسعود بھی یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کیونکہ عروسِ معنی کی حنا بندی کر…
پمز! ایسا ہی رہے گا!
ستمبر 03, 2026
کالم
کالم
''آپ کو حیرت نہیں ہوئی۔ پمز میں کسی ڈاکٹر کی انگلی نہیں کٹی‘ کوئی نرس زخمی نہیں ہوئی‘ کسی فائر مین کو آگ نہیں لگی‘ اور چودہ بچے جاں بحق ہو گئے۔ کہاں تھے یہ لوگ؟ کیا سروس ڈِلیوری ہوئی؟ یہ تو فکس ہو گا۔ اسے فکس کیے بغیر اب اور گفتگو نہیں ہو گی‘‘۔ یہ دلگیر بیان وفاقی وزیر جناب مصدق ملک کا ہے۔ اب جناب پرویز رشید کی تجویز دیکھیے: ''سی ایم ایچ ہسپتال کی کبھی آپ نے شکایت نہیں سنی ہو گی‘ کیونکہ فوج کے سپاہی سے جنرل تک سی ایم ایچ سے اپنا علاج کرواتے ہیں۔ یہ قانون بنائیں کہ حکومت سے تنخواہ اور مراعات لینے والوں اور ان کے اہلِ خانہ کا علاج سرکاری ہسپتال میں ہو گا اور بچے سرکاری سکولز میں جائیں گے تو دنوں میں ہسپتال اور سکول عالمی معیار کے ہو جائیں گے‘‘۔
کیسی مخلصانہ اور دردمند تشویش لاحق ہے ان دونوں صاحبان کو۔ دل سے ان کیلئے واہ واہ بھی اٹھتی ہے اور دعا بھی! آگے چلنے سے پہلے ایک لطیفہ‘ بلکہ ظریفانہ حکایت سن لیجیے جو مولانا احتشام الحق تھانوی مرحوم سنایا کرتے تھے۔ مغلوں کے عہدِ زوال کا واقعہ ہے۔ ایک شہزادہ پیدائش کے بعد حرم سرا ( زنان خانہ) ہی میں رہا۔ مردوں میں اُٹھا بیٹھا نہ حرم سرا سے کبھی باہر نکلا۔ یہاں تک کہ جوان ہو گیا۔ سوئے اتفاق سے حرم سرا میں کہیں سے ایک سانپ آ گیا۔ بیگمات‘ کنیزوں اور خواجہ سراؤں میں سراسیمگی پھیل گئی۔ خواتین چلائیں کہ ''کسی مرد کو بلاؤ‘‘۔ ساتھ ہی شہزادے نے بھی چلانا شروع کر دیا کہ کسی مرد کو بلاؤ! اب یہ جو دونوں زعما ہیں‘ جناب مصدق ملک اور جناب پرویز رشید‘ اقتدار کی اگلی صفوں میں ہیں۔ ایک صاحب وفاقی وزیر ہیں‘ اور عام وزیر نہیں طاقتور وزیر ہیں۔ دوسرے صاحب شریف خاندان کے انتہائی پرانے اور قریبی وفادار ہیں اور ایوانِ بالا کے رکن بھی! تعجب ہے کہ پالیسی سازوں میں شمار ہوتے ہوئے بھی یہ بے بس عوام کی طرح پکار رہے ہیں کہ ''کسی مرد کو بلاؤ!‘‘۔ جناب پرویز رشید یہ تجویز اپنے قائد جناب نواز شریف کو کیوں نہیں پیش کرتے؟ بڑے میاں صاحب کا ایک اشارہ ہو گا اور جناب پرویز رشید صاحب کی تجویز قانون کی شکل اختیار کر لے گی۔ بڑے میاں صاحب تو ساحری بھی کرنا جانتے ہیں۔ صادقین مصور تھے۔ شاعری کی طرف آئے تو شاعری کو ساحری قرار دیا۔
اک بار میں ساحری بھی کرکے دیکھوں
کیا فرق ہے شاعری بھی کرکے دیکھوں
تصویروں میں اشعار کہے ہیں میں نے
شعروں میں مصوری بھی کرکے دیکھوں
مگر بڑے میاں صاحب سیاست میں ساحری کرنا جانتے ہیں۔ یہ ساحری ہی تو ہے کہ انتخابات میں دو بار شکست کھانے والے صاحب کو وزیراعظم بنا دیا۔ جو تجویز جناب پرویز رشید عوام کو دے رہے ہیں‘ وہ ازراہِ کرم بڑے میاں صاحب کی خدمت میں پیش کیجیے۔ ذرا سا اشارۂ ابرو ہو گا تو تمام وزرا اور بیورو کریسی سرکاری ہسپتالوں کا رخ کر لے گی! بات جناب پرویز رشید نے جو کی ہے‘ بہت صحیح کی ہے؛ علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی! اور جو کچھ جناب مصدق ملک فرما رہے ہیں (کہ یہ تو فکس ہو گا‘ اسے فکس کیے بغیر اب اور گفتگو نہیں ہوگی) تو یہ کسے کہہ رہے ہیں؟؟ آپ ایک طاقتور کابینہ کے طاقتور رکن ہیں‘ آپ لوگوں نے ہی تو فکس کرنا ہے۔ یہ بات آپ کابینہ میں کہیے۔ وزیراعظم سے کہیے۔ عوام سے کہنے کا تو کوئی فائدہ نہیں!
میں جب بھی بیرونِ ملک گیا ہوں‘ اور تارکینِ وطن کی وہ باتیں سنی ہیں جن میں پاکستان کے بارے میں نا امیدی اور مایوسی ہوتی ہے تو ہمیشہ ان کی خدمت میں یہی عرض کرتا رہا ہوں کہ ایسی بات نہیں‘ ہمارا ملک اتنا بھی برا نہیں! مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں۔ ملک کے اندر بھی یہی بات کی۔ پڑھے لکھے لوگوں کو باہر جانے سے روکنے کی کوشش کی۔ ملک کے اندر رہ کر ملک کی خدمت کرنے کی ترغیب دی۔ اس پر بہت سے لوگوں نے اختلاف بھی کیا۔ کچھ نے مذاق بھی اڑایا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ پمز میں چودہ بچوں کی دردناک موت کے بعد میرا یقین متزلزل ہو گیا ہے۔ اب انسان کس منہ سے دوسرے سے کہے کہ یہ ملک اتنا خراب نہیں۔ یہیں رہو! ہاں! تمہاری اور تمہاری اولاد کی حفاظت کی کوئی ذمہ داری نہیں۔
بچی کو بے آبرو کر کے مار دیا گیا۔ پھر کنویں میں پھینک کر اوپر لکڑیوں کا انبار ڈال دیا گیا‘ مگر قاتل کو اس لیے پولیس کے ریمانڈ میں نہیں دیا گیا کہ اس کی عمر کم ہے۔ اسے جوڈیشل ریمانڈ میں بھیجا گیا۔ صاف نظر آرہا ہے کہ اسے سزا بھی اسی حساب سے دی جائے گی۔ سوشل میڈیا جنسی حوالے سے عفریت بن چکا ہے۔ کوئی پابندی نہیں۔ پندرہ سال سے کم عمر کے لڑکے جنسی بھوک میں درندے بن رہے ہیں۔ قتل و غارت کر رہے ہیں۔ کوئی سد باب نہیں۔ مسلکی اعتبار سے سوشل میڈیا پر آگ بھڑک رہی ہے۔ یہ ہولناک آگ بجھانے کی کسی کو کوئی فکر نہیں۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ چودہ بچوں کی ہلاکت! اور سزا کیا دی گئی؟ ذمہ داروں کو معطل کر دیا گیا۔ یعنی اس عرصے کی تنخواہ پوری ملے گی۔ برطرف نہیں کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ کچھ عرصے کے بعد بحال بھی تو کرنا ہے۔ پہلے دو سفید ہاتھی تھے۔ پی آئی اے اور سٹیل مل۔ دہائیوں سے سرطان زدہ! خدا خدا کر کے پی آئی اے بکی۔ (یہ کہانی کہ کیسے بکی اور ریاست کے ہاتھ کیا آیا؟ لمبی ہے) پمز کو بھی پی آئی اے سمجھیں یا سٹیل مل! اربوں روپے اس ادارے کو دیے جا رہے ہیں مگر یہ کھنڈر کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ بدعنوانی اور سفارش کا گڑھ! مریضوں کیلئے قتل گاہ! ایک معمر ڈاکٹر نے‘ جو سالہا سال اس میں رہا‘ بتایا ہے کہ ہاؤس جاب کے امیدوار ڈاکٹروں سے دو دو لاکھ روپے کا نذرانہ لیا جاتا ہے۔ یہاں پہلے کون سا سرکاری ادارہ درست ہوا ہے؟ پمز کی اصلاح کی امید کس برتے پر رکھی جائے؟ یہ جیسا ہے‘ ویسا ہی رہے گا۔ کوئی جھٹکا اسے راہِ راست پر نہیں لا سکتا۔ تقسیم کے وقت ریلوے اچھی بھلی ملی تھی۔ جی ٹی ایس (گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس) کیا شاندار ادارہ تھا۔ سب ٹوٹ پھوٹ گئے۔ نااہلی اور کرپشن کا شکار ہو گئے۔ خواجہ سعد رفیق نے مرتی ہوئی ریلوے کے سانس بحال کیے مگر خواجہ صاحب زبانِ حال سے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ: میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں! پمز کو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے تو عوام کچلے جائیں گے۔ دارالحکومت میں دوسرا سرکاری ہسپتال پولی کلینک ہے۔ ذرا مستقبل بینی اور دور اندیشی کا حال دیکھیے کہ آج تک سنگل سٹوری ہے۔ ایک بدنما‘ بد شکل ڈھانچہ! ایک بہت بڑی جھونپڑی!! جب بنا رہے تھے تو کسی نے نہ سوچا کہ عمارت تین یا چار منزلہ ہونی چاہیے۔
سفارشی کلچر اس ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ ہر نااہل کے سر پر ایک نہ ایک چھتری ہے جو اسے سزا سے بچا لیتی ہے۔ یہ فلاں کا بندہ ہے۔ اسے نہ چھیڑا جائے۔ یہ فلاں کا بندہ ہے‘ اس کا تبادلہ نہیں کرنا۔ فلاں کو سزا نہیں دینی۔ دیں گے تو ایک فون آئے گا اور آپ کیا‘ آپ کا باس بھی جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا! رہی سہی کسر ''حکم امتناعی‘‘ (سٹے آرڈر) نکال دیتا ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے۔ کسی کا تبادلہ بھی کرتے تھے تو سٹے آرڈر لے آتا تھا اور اکڑ اکڑ کر پھرتا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ سٹے آرڈر جاری کرتے وقت فریقِ ثانی سے پوچھا ہی نہیں جاتا کہ تبادلہ کیوں کیا ہے یا سزا کیوں دی ہے۔ ملازمت کیلئے انٹرویو لیتے ہیں تو جیبیں چِٹوں سے بھری ہوتی ہیں۔
منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
کیسی مخلصانہ اور دردمند تشویش لاحق ہے ان دونوں صاحبان کو۔ دل سے ان کیلئے واہ واہ بھی اٹھتی ہے اور دعا بھی! آگے چلنے سے پہلے ایک لطیفہ‘ بلکہ ظریفانہ حکایت سن لیجیے جو مولانا احتشام الحق تھانوی مرحوم سنایا کرتے تھے۔ مغلوں کے عہدِ زوال کا واقعہ ہے۔ ایک شہزادہ پیدائش کے بعد حرم سرا ( زنان خانہ) ہی میں رہا۔ مردوں میں اُٹھا بیٹھا نہ حرم سرا سے کبھی باہر نکلا۔ یہاں تک کہ جوان ہو گیا۔ سوئے اتفاق سے حرم سرا میں کہیں سے ایک سانپ آ گیا۔ بیگمات‘ کنیزوں اور خواجہ سراؤں میں سراسیمگی پھیل گئی۔ خواتین چلائیں کہ ''کسی مرد کو بلاؤ‘‘۔ ساتھ ہی شہزادے نے بھی چلانا شروع کر دیا کہ کسی مرد کو بلاؤ! اب یہ جو دونوں زعما ہیں‘ جناب مصدق ملک اور جناب پرویز رشید‘ اقتدار کی اگلی صفوں میں ہیں۔ ایک صاحب وفاقی وزیر ہیں‘ اور عام وزیر نہیں طاقتور وزیر ہیں۔ دوسرے صاحب شریف خاندان کے انتہائی پرانے اور قریبی وفادار ہیں اور ایوانِ بالا کے رکن بھی! تعجب ہے کہ پالیسی سازوں میں شمار ہوتے ہوئے بھی یہ بے بس عوام کی طرح پکار رہے ہیں کہ ''کسی مرد کو بلاؤ!‘‘۔ جناب پرویز رشید یہ تجویز اپنے قائد جناب نواز شریف کو کیوں نہیں پیش کرتے؟ بڑے میاں صاحب کا ایک اشارہ ہو گا اور جناب پرویز رشید صاحب کی تجویز قانون کی شکل اختیار کر لے گی۔ بڑے میاں صاحب تو ساحری بھی کرنا جانتے ہیں۔ صادقین مصور تھے۔ شاعری کی طرف آئے تو شاعری کو ساحری قرار دیا۔
اک بار میں ساحری بھی کرکے دیکھوں
کیا فرق ہے شاعری بھی کرکے دیکھوں
تصویروں میں اشعار کہے ہیں میں نے
شعروں میں مصوری بھی کرکے دیکھوں
مگر بڑے میاں صاحب سیاست میں ساحری کرنا جانتے ہیں۔ یہ ساحری ہی تو ہے کہ انتخابات میں دو بار شکست کھانے والے صاحب کو وزیراعظم بنا دیا۔ جو تجویز جناب پرویز رشید عوام کو دے رہے ہیں‘ وہ ازراہِ کرم بڑے میاں صاحب کی خدمت میں پیش کیجیے۔ ذرا سا اشارۂ ابرو ہو گا تو تمام وزرا اور بیورو کریسی سرکاری ہسپتالوں کا رخ کر لے گی! بات جناب پرویز رشید نے جو کی ہے‘ بہت صحیح کی ہے؛ علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی! اور جو کچھ جناب مصدق ملک فرما رہے ہیں (کہ یہ تو فکس ہو گا‘ اسے فکس کیے بغیر اب اور گفتگو نہیں ہوگی) تو یہ کسے کہہ رہے ہیں؟؟ آپ ایک طاقتور کابینہ کے طاقتور رکن ہیں‘ آپ لوگوں نے ہی تو فکس کرنا ہے۔ یہ بات آپ کابینہ میں کہیے۔ وزیراعظم سے کہیے۔ عوام سے کہنے کا تو کوئی فائدہ نہیں!
میں جب بھی بیرونِ ملک گیا ہوں‘ اور تارکینِ وطن کی وہ باتیں سنی ہیں جن میں پاکستان کے بارے میں نا امیدی اور مایوسی ہوتی ہے تو ہمیشہ ان کی خدمت میں یہی عرض کرتا رہا ہوں کہ ایسی بات نہیں‘ ہمارا ملک اتنا بھی برا نہیں! مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں۔ ملک کے اندر بھی یہی بات کی۔ پڑھے لکھے لوگوں کو باہر جانے سے روکنے کی کوشش کی۔ ملک کے اندر رہ کر ملک کی خدمت کرنے کی ترغیب دی۔ اس پر بہت سے لوگوں نے اختلاف بھی کیا۔ کچھ نے مذاق بھی اڑایا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ پمز میں چودہ بچوں کی دردناک موت کے بعد میرا یقین متزلزل ہو گیا ہے۔ اب انسان کس منہ سے دوسرے سے کہے کہ یہ ملک اتنا خراب نہیں۔ یہیں رہو! ہاں! تمہاری اور تمہاری اولاد کی حفاظت کی کوئی ذمہ داری نہیں۔
بچی کو بے آبرو کر کے مار دیا گیا۔ پھر کنویں میں پھینک کر اوپر لکڑیوں کا انبار ڈال دیا گیا‘ مگر قاتل کو اس لیے پولیس کے ریمانڈ میں نہیں دیا گیا کہ اس کی عمر کم ہے۔ اسے جوڈیشل ریمانڈ میں بھیجا گیا۔ صاف نظر آرہا ہے کہ اسے سزا بھی اسی حساب سے دی جائے گی۔ سوشل میڈیا جنسی حوالے سے عفریت بن چکا ہے۔ کوئی پابندی نہیں۔ پندرہ سال سے کم عمر کے لڑکے جنسی بھوک میں درندے بن رہے ہیں۔ قتل و غارت کر رہے ہیں۔ کوئی سد باب نہیں۔ مسلکی اعتبار سے سوشل میڈیا پر آگ بھڑک رہی ہے۔ یہ ہولناک آگ بجھانے کی کسی کو کوئی فکر نہیں۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ چودہ بچوں کی ہلاکت! اور سزا کیا دی گئی؟ ذمہ داروں کو معطل کر دیا گیا۔ یعنی اس عرصے کی تنخواہ پوری ملے گی۔ برطرف نہیں کیا گیا۔ ظاہر ہے کہ کچھ عرصے کے بعد بحال بھی تو کرنا ہے۔ پہلے دو سفید ہاتھی تھے۔ پی آئی اے اور سٹیل مل۔ دہائیوں سے سرطان زدہ! خدا خدا کر کے پی آئی اے بکی۔ (یہ کہانی کہ کیسے بکی اور ریاست کے ہاتھ کیا آیا؟ لمبی ہے) پمز کو بھی پی آئی اے سمجھیں یا سٹیل مل! اربوں روپے اس ادارے کو دیے جا رہے ہیں مگر یہ کھنڈر کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ بدعنوانی اور سفارش کا گڑھ! مریضوں کیلئے قتل گاہ! ایک معمر ڈاکٹر نے‘ جو سالہا سال اس میں رہا‘ بتایا ہے کہ ہاؤس جاب کے امیدوار ڈاکٹروں سے دو دو لاکھ روپے کا نذرانہ لیا جاتا ہے۔ یہاں پہلے کون سا سرکاری ادارہ درست ہوا ہے؟ پمز کی اصلاح کی امید کس برتے پر رکھی جائے؟ یہ جیسا ہے‘ ویسا ہی رہے گا۔ کوئی جھٹکا اسے راہِ راست پر نہیں لا سکتا۔ تقسیم کے وقت ریلوے اچھی بھلی ملی تھی۔ جی ٹی ایس (گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس) کیا شاندار ادارہ تھا۔ سب ٹوٹ پھوٹ گئے۔ نااہلی اور کرپشن کا شکار ہو گئے۔ خواجہ سعد رفیق نے مرتی ہوئی ریلوے کے سانس بحال کیے مگر خواجہ صاحب زبانِ حال سے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ: میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں! پمز کو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے تو عوام کچلے جائیں گے۔ دارالحکومت میں دوسرا سرکاری ہسپتال پولی کلینک ہے۔ ذرا مستقبل بینی اور دور اندیشی کا حال دیکھیے کہ آج تک سنگل سٹوری ہے۔ ایک بدنما‘ بد شکل ڈھانچہ! ایک بہت بڑی جھونپڑی!! جب بنا رہے تھے تو کسی نے نہ سوچا کہ عمارت تین یا چار منزلہ ہونی چاہیے۔
سفارشی کلچر اس ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ ہر نااہل کے سر پر ایک نہ ایک چھتری ہے جو اسے سزا سے بچا لیتی ہے۔ یہ فلاں کا بندہ ہے۔ اسے نہ چھیڑا جائے۔ یہ فلاں کا بندہ ہے‘ اس کا تبادلہ نہیں کرنا۔ فلاں کو سزا نہیں دینی۔ دیں گے تو ایک فون آئے گا اور آپ کیا‘ آپ کا باس بھی جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا! رہی سہی کسر ''حکم امتناعی‘‘ (سٹے آرڈر) نکال دیتا ہے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے۔ کسی کا تبادلہ بھی کرتے تھے تو سٹے آرڈر لے آتا تھا اور اکڑ اکڑ کر پھرتا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ سٹے آرڈر جاری کرتے وقت فریقِ ثانی سے پوچھا ہی نہیں جاتا کہ تبادلہ کیوں کیا ہے یا سزا کیوں دی ہے۔ ملازمت کیلئے انٹرویو لیتے ہیں تو جیبیں چِٹوں سے بھری ہوتی ہیں۔
منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
''آپ کو حیرت نہیں ہوئی۔ پمز میں کسی ڈاکٹر کی انگلی نہیں کٹی‘ کوئی نرس زخمی نہیں ہوئی‘ کسی فائر مین کو آگ نہیں لگی‘ اور چودہ بچے جاں بحق ہو گئے۔ کہاں تھے یہ لوگ؟ کیا سروس ڈِلیوری ہوئی؟ یہ تو فکس ہو گا۔ اسے فکس کیے بغیر اب اور گفتگو نہیں ہو گی‘‘۔ یہ دلگیر بیان وفاقی وزیر جناب مصدق ملک کا ہے۔ اب جناب پرویز رشید کی تجویز دیکھیے: ''سی ایم ایچ ہسپتال کی کبھی آپ نے شکایت نہیں سنی ہو گی‘ کیونکہ فوج کے سپاہی سے جنرل تک سی ایم ایچ سے اپنا علاج کرواتے ہیں۔ یہ قانون بنائیں کہ حکومت سے تنخواہ اور مراعات لینے والوں اور ان کے اہلِ خانہ کا علاج سرکاری ہسپتال میں ہو گا اور بچے سرکاری سکولز میں جائیں گے تو دنوں میں ہسپتال اور سکول عالمی معیار کے ہو جائیں گے‘‘۔ کیسی مخلصانہ اور دردمند تشویش لاحق ہے ان دونوں صاحبان کو۔ دل سے ان کیلئے واہ واہ بھی اٹھتی ہے اور دعا بھی! آگے چلنے سے پہلے ایک ل…
''آپ کو حیرت نہیں ہوئی۔ پمز میں کسی ڈاکٹر کی انگلی نہیں کٹی‘ کوئی نرس زخمی نہیں ہوئی‘ کسی فائر مین کو آگ نہیں لگی‘ اور چودہ بچے جاں بحق ہو گئے۔ کہاں تھے یہ لوگ؟ کیا سروس ڈِلیوری ہوئی؟ یہ تو فکس ہو گا۔ اسے فکس کیے بغیر اب اور گفتگو نہیں ہو گی‘‘۔ یہ دلگیر بیان وفاقی وزیر جناب مصدق ملک کا ہے۔ اب جناب پرویز رشید کی تجویز دیکھیے: ''سی ایم ایچ ہسپتال کی کبھی آپ نے شکایت نہیں سنی ہو گ…
کیا روس اب بھی آہنی پردے کے پیچھے ہے؟
ستمبر 01, 2026
کالم
کالم
طارق حیات ملک میرے گرائیں ہیں۔ ان کا گاؤں ڈُھرنال‘ میرے گاؤں جھنڈیال کے بالکل ساتھ واقع ہے۔ لیکن میری اور طارق حیات ملک صاحب کی مماثلت یہاں پر ختم ہو جاتی ہے۔ آگے دو مختلف دنیائیں ہیں۔ میں ملازمت پیشہ! قرطاس وقلم کا مزدور! ملک صاحب نے فوج کی افسری چھوڑی اور کاروبار کی طرف آ گئے۔
اس وقت ماشاء اللہ ان کا کاروبار پاکستان سے روس تک‘ روس سے وسط ایشیا تک اور وسط ایشیا سے چین تک پھیلا ہوا ہے۔ ملک کو زرمبادلہ کما کر دینے والوں میں ان کا نام نمایاں ہے۔ ساتھ ہی وہ خدمت خلق بھی کر رہے ہیں۔ ان کی سیاحتی کمپنی ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں کو مختلف ملکوں کی سیر کراتے ہیں (اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں)۔ اب کے وہ گروپ لے کر روس جا رہے تھے۔ بہت دنیا دیکھی ہے‘ روس نہیں دیکھا تھا۔ ایک تو روس دیکھنے کا شوق‘ اوپر سے دوستِ دیرینہ‘ سابق وفاقی سیکرٹری جناب احمد محمود زاہد صاحب کی ترغیب اور ''تبلیغ‘‘ کہ ایک بار اس گروپ کو بھی آزما دیکھو۔ چنانچہ میں بھی اس قافلے کے ساتھ ہو لیا۔ حالانکہ حالت اپنی‘ اپنے ہی اس شعر کی تصویر تھی:
میں دیکھتا ہوں شتر سواروں کے قافلے کو
پھر آسماں کو‘ پھر اپنا اسباب دیکھتا ہوں
زادِ راہ قلیل تھا‘ منزل دور تھی‘ ہمت سہمی ہوئی تھی۔ مگر ایک تو قافلہ سالار اچھا تھا۔ طارق حیات ملک کو اٹک کا اعوان ہونے کے باوجود حیرت انگیز حد تک بُردبار اور تحمل مزاج پایا۔ ماتھے پر شکن تک نہ دیکھی۔ دوسرے ہمسفر حوصلہ افزائی کرنے والے تھے۔ یوں اس فقیر نے روس دیکھ لیا۔ روس عام دھارے (Mainstream) میں نہیں ہے۔ ملازمت کے دوران یورپ امریکہ کئی بار جانا ہوا مگر روس کا معاملہ مختلف ہے۔ سوویت یونین کے زمانے میں کہا جاتا تھا کہ یہ آہنی پردے کے پیچھے ہے۔ سچ پوچھیں تو سوویت یونین کے انہدام کے بعد بھی آہنی نہ سہی‘ پردہ بدستور تنا ہوا ہے۔ آئیے! آپ کو روس کے حوالے سے کچھ دلچسپ باتیں بتائیں۔
ہمارے قافلہ سالار نے روس پہنچنے سے قبل ہی خبردار کر دیا تھا کہ روسی ہنسنے کو پسند نہیں کرتے۔ مگر وہاں جا کر معلوم ہوا کہ پابندی صرف ہنسنے تک نہیں ہے۔ معاملہ گمبھیر ہے‘ اتنا کہ آپ کو یقین مشکل سے آئے گا! ماسکو سے سینٹ پیٹرزبرگ جانے کے لیے ہم ٹرین پر بیٹھے۔ ماسکو کے بعد سینٹ پیٹرزبرگ دوسرا بڑا شہر ہے۔ پہلے روس کا دارالحکومت یہی شہر تھا۔ ہم پاکستانی بس اور کار کے مقابلے میں ریل کے سفر کو تفریح اور پکنک سمجھتے ہیں مگر ہمیں یہ سفر جیل کی طرح لگا۔ ہمیں بتایا گیا کہ روسی سفر کے دوران بات چیت نہیں کرتے اور کوئی دوسرا کرے تو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ چنانچہ ٹرین میں مکمل خاموشی بلکہ سناٹا تھا۔ ہم پاکستانیوں کیلئے یہ پابندی سوہانِ روح تھی۔ ہم نے آپس میں باتیں شروع کیں۔ ہم احتیاط بھی کر رہے تھے اور آہستہ آہستہ بول رہے تھے مگر ایک روسی حسینہ نمودار ہوئی اور اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر گویا ہوئی کہ خاموش رہیے‘ باتیں نہ کیجیے۔ میں روسی مسافروں کو غور سے دیکھتا رہا۔ صرف ایک شخص بیوی سے سرگوشی میں کبھی کبھی بات کر لیتا۔ سرگوشی بھی ایسی کہ سرگوشی کی ماں تھی!! ورنہ سب خاموش تھے۔ اور ہم پاکستانی اس ناقابلِ یقین پابندی کی وجہ سے پھٹنے والے تھے۔ اب یہ تحقیق طلب ہے کہ کیا یہ خاموشی پچھتر سالہ کمیونسٹ جبر کا نتیجہ ہے یا روسی ثقافت کا قدیم حصہ ہے۔ ہاں! چار گھنٹے کی اس جبری خاموشی میں مجھے مسلسل یاد آتا رہا کہ نوّے کی دہائی میں مَیں ٹرین پر تاشقند سے بخارا جا رہا تھا۔ چھوٹے سے ڈبے میں ایک ازبک فیملی ہمسفر تھی۔ بارہ گھنٹے کے اس سفر میں یہ فیملی نہ صرف خود مسلسل کھاتی پیتی رہی‘ مجھے بھی زبردستی کھلاتی پلاتی رہی۔ نان‘ پھر پلاؤ‘ پھر بھنا ہوا مرغ‘ اس کے بعد خشک میوے‘ پھر تازہ پھل‘ پھر سوپ‘ اور ساتھ چائے مسلسل۔ ٹرین میں جگہ جگہ سماوار پڑے تھے جن سے چائے کے لیے گرم پانی لیا جا رہا تھا۔ایک سال بعد میں پھر ازبکستان میں تھا۔ اب کے بیگم ساتھ تھیں۔ ہم بخارا سے ریل میں سوار ہوئے۔ ڈبے میں صرف ایک روسی جوڑا ہمسفر تھا۔ بارہ گھنٹے کے اس سفر میں اس روسی جوڑے نے نہ صرف یہ کہ آپس میں کوئی بات نہ کی بلکہ ہم سے بھی کوئی بات نہ کی اور اس میں ذرہ بھر مبالغہ نہیں۔ انہوں نے چائے پی نہ کچھ کھایا۔ اور ہاں! روس میں ریل کے اس سفر میں پٹری کے دونوں طرف کھیت یا بستیاں کم ہی نظر آئیں۔ دونوں طرف درخت یوں لگے تھے جیسے باڑ ہو۔ معلوم نہیں یہ باڑ کسی پالیسی کا نتیجہ تھی یا محض خوبصورتی کی وجہ سے کھڑی کی گئی تھی۔
پورے ماسکو اور پورے سینٹ پیٹرزبرگ میں ہمیں کوئی مکان‘ کوئی کوٹھی نہ دکھائی دی۔ سب لوگ اپارٹمنٹوں میں رہتے ہیں۔ شہر میں ہر طرف چھ منزلہ بلاک ہیں۔ کھڑکیاں سب ایک ہی ڈیزائن کی ہیں۔ امرا کے اپنے اپنے ڈاچے ہیں۔ ڈاچا روسی میں دیہی قیام گاہ کو کہتے ہیں۔ ہم نے اپنی ترجمان سے پوچھا کہ صدر پوتن کہاں رہتے ہیں؟ کہنے لگی: شہر سے باہر اپنے ڈاچے میں۔ افسوس صدر صاحب سے ملاقات نہ ہو سکی۔ وہ تو مصروف ہوں گے ہی‘ ہم بھی کم مصروف نہ تھے۔ایک ایک ثانیے کا پروگرام طے شدہ تھا۔ ہاں ایک جگہ ان کا مجسمہ نظر آیا۔ سب نے ذوق وشوق سے اس کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویریں اتروائیں! گندم اگر بہم نہ رسد‘ بھس غنیمت است!
روس میں اس مختصر قیام کے دوران‘ ایک بہت بڑا سوال ذہن میں بلبلے کی طرح اٹھتا رہا۔ کیا سوویت یونین کے زمانے والا ''آہنی پردہ‘‘ (Iron Curtain) لپیٹ دیا گیا ہے؟ یا اب بھی موجود ہے؟ میری رائے میں یہ پردہ اب بھی موجود ہے۔ اگر لوہے کا نہیں تو دبیز کپڑے کا ضرور ہے۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ ویزے کا حصول مشکل ہے۔ کافی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ آسٹریلیا میں رہنے والے پاکستانی بھی یہی بتاتے ہیں کہ ویزے کے مراحل حوصلہ شکن ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ فیس بک‘ یوٹیوب‘ وٹس ایپ سب پر پابندی ہے اور کڑی پابندی ہے۔ کریڈٹ کارڈ بھی ان کے اپنے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں روس نے وہ تمام دروازے بند کر رکھے ہیں جن سے مغرب‘ یا یوں کہیے کہ امریکہ اطلاعات‘ معلومات اور اعداد وشمار حاصل کر سکتا ہے۔ ہم سب جا نتے ہیں کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے ہم میں سے ایک ایک کے بارے میں امریکہ کے پاس مکمل معلومات موجود ہیں۔ روس نے امریکہ کو اس لحاظ سے مناسب فاصلے پر رکھا ہوا ہے۔ اور بھی عوامل ہیں جن کا ذکر تفصیل مانگتا ہے۔
لیجیے! کالم کا چھوٹا سا پیٹ بھر چکا۔ داستان طویل ہے۔ اگر آپ اس سفر کی تفصیل جاننا چاہتے ہیں کہ ہم نے ان دو عظیم الشان شہروں میں کیا کیا دیکھا‘ اور ہمارے ہمسفر کیسے تھے‘ ہنسانے والے کتنے اور بور کرنے والے کتنے تھے اور قیام گاہیں جہاں ہم رہے‘ کیسی تھیں اور کھانے جو ہم نے کھائے کس طرح کے تھے اور وہاں کی مشورِ عالم زیر زمین ریلوے کیسی تھی اور یومِ آزادی کہاں اور کیسے منایا اور پاکستانی سفیر سے کیا باتیں ہوئیں اور روس میں سیاست پر بات کرنے کی کتنی آزادی ہے تو اُس کتاب کا انتظار کیجیے جو اس سفر کے حوالے سے لکھنے کا ارادہ ہے۔ جو حضرات چاہتے ہیں کہ یہ کتاب لکھی جائے تو مصنف کا حافظہ بہتر کرنے کے لیے اور لکھنے کا سٹیمنا زیادہ کرنے کے لیے بادام‘ اخروٹ اور چہار مغز کی مناسب مقدار ارسال کرتے رہیں۔ ساتھ دعا بھی کرتے رہیں کہ ایسا نہ ہو یہ سب کچھ وصول کرنے اور کھانے کے بعد کتاب لکھی ہی نہ جائے۔
اس وقت ماشاء اللہ ان کا کاروبار پاکستان سے روس تک‘ روس سے وسط ایشیا تک اور وسط ایشیا سے چین تک پھیلا ہوا ہے۔ ملک کو زرمبادلہ کما کر دینے والوں میں ان کا نام نمایاں ہے۔ ساتھ ہی وہ خدمت خلق بھی کر رہے ہیں۔ ان کی سیاحتی کمپنی ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں کو مختلف ملکوں کی سیر کراتے ہیں (اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں)۔ اب کے وہ گروپ لے کر روس جا رہے تھے۔ بہت دنیا دیکھی ہے‘ روس نہیں دیکھا تھا۔ ایک تو روس دیکھنے کا شوق‘ اوپر سے دوستِ دیرینہ‘ سابق وفاقی سیکرٹری جناب احمد محمود زاہد صاحب کی ترغیب اور ''تبلیغ‘‘ کہ ایک بار اس گروپ کو بھی آزما دیکھو۔ چنانچہ میں بھی اس قافلے کے ساتھ ہو لیا۔ حالانکہ حالت اپنی‘ اپنے ہی اس شعر کی تصویر تھی:
میں دیکھتا ہوں شتر سواروں کے قافلے کو
پھر آسماں کو‘ پھر اپنا اسباب دیکھتا ہوں
زادِ راہ قلیل تھا‘ منزل دور تھی‘ ہمت سہمی ہوئی تھی۔ مگر ایک تو قافلہ سالار اچھا تھا۔ طارق حیات ملک کو اٹک کا اعوان ہونے کے باوجود حیرت انگیز حد تک بُردبار اور تحمل مزاج پایا۔ ماتھے پر شکن تک نہ دیکھی۔ دوسرے ہمسفر حوصلہ افزائی کرنے والے تھے۔ یوں اس فقیر نے روس دیکھ لیا۔ روس عام دھارے (Mainstream) میں نہیں ہے۔ ملازمت کے دوران یورپ امریکہ کئی بار جانا ہوا مگر روس کا معاملہ مختلف ہے۔ سوویت یونین کے زمانے میں کہا جاتا تھا کہ یہ آہنی پردے کے پیچھے ہے۔ سچ پوچھیں تو سوویت یونین کے انہدام کے بعد بھی آہنی نہ سہی‘ پردہ بدستور تنا ہوا ہے۔ آئیے! آپ کو روس کے حوالے سے کچھ دلچسپ باتیں بتائیں۔
ہمارے قافلہ سالار نے روس پہنچنے سے قبل ہی خبردار کر دیا تھا کہ روسی ہنسنے کو پسند نہیں کرتے۔ مگر وہاں جا کر معلوم ہوا کہ پابندی صرف ہنسنے تک نہیں ہے۔ معاملہ گمبھیر ہے‘ اتنا کہ آپ کو یقین مشکل سے آئے گا! ماسکو سے سینٹ پیٹرزبرگ جانے کے لیے ہم ٹرین پر بیٹھے۔ ماسکو کے بعد سینٹ پیٹرزبرگ دوسرا بڑا شہر ہے۔ پہلے روس کا دارالحکومت یہی شہر تھا۔ ہم پاکستانی بس اور کار کے مقابلے میں ریل کے سفر کو تفریح اور پکنک سمجھتے ہیں مگر ہمیں یہ سفر جیل کی طرح لگا۔ ہمیں بتایا گیا کہ روسی سفر کے دوران بات چیت نہیں کرتے اور کوئی دوسرا کرے تو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ چنانچہ ٹرین میں مکمل خاموشی بلکہ سناٹا تھا۔ ہم پاکستانیوں کیلئے یہ پابندی سوہانِ روح تھی۔ ہم نے آپس میں باتیں شروع کیں۔ ہم احتیاط بھی کر رہے تھے اور آہستہ آہستہ بول رہے تھے مگر ایک روسی حسینہ نمودار ہوئی اور اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر گویا ہوئی کہ خاموش رہیے‘ باتیں نہ کیجیے۔ میں روسی مسافروں کو غور سے دیکھتا رہا۔ صرف ایک شخص بیوی سے سرگوشی میں کبھی کبھی بات کر لیتا۔ سرگوشی بھی ایسی کہ سرگوشی کی ماں تھی!! ورنہ سب خاموش تھے۔ اور ہم پاکستانی اس ناقابلِ یقین پابندی کی وجہ سے پھٹنے والے تھے۔ اب یہ تحقیق طلب ہے کہ کیا یہ خاموشی پچھتر سالہ کمیونسٹ جبر کا نتیجہ ہے یا روسی ثقافت کا قدیم حصہ ہے۔ ہاں! چار گھنٹے کی اس جبری خاموشی میں مجھے مسلسل یاد آتا رہا کہ نوّے کی دہائی میں مَیں ٹرین پر تاشقند سے بخارا جا رہا تھا۔ چھوٹے سے ڈبے میں ایک ازبک فیملی ہمسفر تھی۔ بارہ گھنٹے کے اس سفر میں یہ فیملی نہ صرف خود مسلسل کھاتی پیتی رہی‘ مجھے بھی زبردستی کھلاتی پلاتی رہی۔ نان‘ پھر پلاؤ‘ پھر بھنا ہوا مرغ‘ اس کے بعد خشک میوے‘ پھر تازہ پھل‘ پھر سوپ‘ اور ساتھ چائے مسلسل۔ ٹرین میں جگہ جگہ سماوار پڑے تھے جن سے چائے کے لیے گرم پانی لیا جا رہا تھا۔ایک سال بعد میں پھر ازبکستان میں تھا۔ اب کے بیگم ساتھ تھیں۔ ہم بخارا سے ریل میں سوار ہوئے۔ ڈبے میں صرف ایک روسی جوڑا ہمسفر تھا۔ بارہ گھنٹے کے اس سفر میں اس روسی جوڑے نے نہ صرف یہ کہ آپس میں کوئی بات نہ کی بلکہ ہم سے بھی کوئی بات نہ کی اور اس میں ذرہ بھر مبالغہ نہیں۔ انہوں نے چائے پی نہ کچھ کھایا۔ اور ہاں! روس میں ریل کے اس سفر میں پٹری کے دونوں طرف کھیت یا بستیاں کم ہی نظر آئیں۔ دونوں طرف درخت یوں لگے تھے جیسے باڑ ہو۔ معلوم نہیں یہ باڑ کسی پالیسی کا نتیجہ تھی یا محض خوبصورتی کی وجہ سے کھڑی کی گئی تھی۔
پورے ماسکو اور پورے سینٹ پیٹرزبرگ میں ہمیں کوئی مکان‘ کوئی کوٹھی نہ دکھائی دی۔ سب لوگ اپارٹمنٹوں میں رہتے ہیں۔ شہر میں ہر طرف چھ منزلہ بلاک ہیں۔ کھڑکیاں سب ایک ہی ڈیزائن کی ہیں۔ امرا کے اپنے اپنے ڈاچے ہیں۔ ڈاچا روسی میں دیہی قیام گاہ کو کہتے ہیں۔ ہم نے اپنی ترجمان سے پوچھا کہ صدر پوتن کہاں رہتے ہیں؟ کہنے لگی: شہر سے باہر اپنے ڈاچے میں۔ افسوس صدر صاحب سے ملاقات نہ ہو سکی۔ وہ تو مصروف ہوں گے ہی‘ ہم بھی کم مصروف نہ تھے۔ایک ایک ثانیے کا پروگرام طے شدہ تھا۔ ہاں ایک جگہ ان کا مجسمہ نظر آیا۔ سب نے ذوق وشوق سے اس کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویریں اتروائیں! گندم اگر بہم نہ رسد‘ بھس غنیمت است!
روس میں اس مختصر قیام کے دوران‘ ایک بہت بڑا سوال ذہن میں بلبلے کی طرح اٹھتا رہا۔ کیا سوویت یونین کے زمانے والا ''آہنی پردہ‘‘ (Iron Curtain) لپیٹ دیا گیا ہے؟ یا اب بھی موجود ہے؟ میری رائے میں یہ پردہ اب بھی موجود ہے۔ اگر لوہے کا نہیں تو دبیز کپڑے کا ضرور ہے۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ ویزے کا حصول مشکل ہے۔ کافی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ آسٹریلیا میں رہنے والے پاکستانی بھی یہی بتاتے ہیں کہ ویزے کے مراحل حوصلہ شکن ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ فیس بک‘ یوٹیوب‘ وٹس ایپ سب پر پابندی ہے اور کڑی پابندی ہے۔ کریڈٹ کارڈ بھی ان کے اپنے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں روس نے وہ تمام دروازے بند کر رکھے ہیں جن سے مغرب‘ یا یوں کہیے کہ امریکہ اطلاعات‘ معلومات اور اعداد وشمار حاصل کر سکتا ہے۔ ہم سب جا نتے ہیں کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے ہم میں سے ایک ایک کے بارے میں امریکہ کے پاس مکمل معلومات موجود ہیں۔ روس نے امریکہ کو اس لحاظ سے مناسب فاصلے پر رکھا ہوا ہے۔ اور بھی عوامل ہیں جن کا ذکر تفصیل مانگتا ہے۔
لیجیے! کالم کا چھوٹا سا پیٹ بھر چکا۔ داستان طویل ہے۔ اگر آپ اس سفر کی تفصیل جاننا چاہتے ہیں کہ ہم نے ان دو عظیم الشان شہروں میں کیا کیا دیکھا‘ اور ہمارے ہمسفر کیسے تھے‘ ہنسانے والے کتنے اور بور کرنے والے کتنے تھے اور قیام گاہیں جہاں ہم رہے‘ کیسی تھیں اور کھانے جو ہم نے کھائے کس طرح کے تھے اور وہاں کی مشورِ عالم زیر زمین ریلوے کیسی تھی اور یومِ آزادی کہاں اور کیسے منایا اور پاکستانی سفیر سے کیا باتیں ہوئیں اور روس میں سیاست پر بات کرنے کی کتنی آزادی ہے تو اُس کتاب کا انتظار کیجیے جو اس سفر کے حوالے سے لکھنے کا ارادہ ہے۔ جو حضرات چاہتے ہیں کہ یہ کتاب لکھی جائے تو مصنف کا حافظہ بہتر کرنے کے لیے اور لکھنے کا سٹیمنا زیادہ کرنے کے لیے بادام‘ اخروٹ اور چہار مغز کی مناسب مقدار ارسال کرتے رہیں۔ ساتھ دعا بھی کرتے رہیں کہ ایسا نہ ہو یہ سب کچھ وصول کرنے اور کھانے کے بعد کتاب لکھی ہی نہ جائے۔
طارق حیات ملک میرے گرائیں ہیں۔ ان کا گاؤں ڈُھرنال‘ میرے گاؤں جھنڈیال کے بالکل ساتھ واقع ہے۔ لیکن میری اور طارق حیات ملک صاحب کی مماثلت یہاں پر ختم ہو جاتی ہے۔ آگے دو مختلف دنیائیں ہیں۔ میں ملازمت پیشہ! قرطاس وقلم کا مزدور! ملک صاحب نے فوج کی افسری چھوڑی اور کاروبار کی طرف آ گئے۔ اس وقت ماشاء اللہ ان کا کاروبار پاکستان سے روس تک‘ روس سے وسط ایشیا تک اور وسط ایشیا سے چین تک پھیلا ہوا ہے۔ ملک کو زرمبادلہ کما کر دینے والوں میں ان کا نام نمایاں ہے۔ ساتھ ہی وہ خدمت خلق بھی کر رہے ہیں۔ ان کی سیاحتی کمپنی ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانیوں کو مختلف ملکوں کی سیر کراتے ہیں (اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں)۔ اب کے وہ گروپ لے کر روس جا رہے تھے۔ بہت دنیا دیکھی ہے‘ روس نہیں دیکھا تھا۔ ایک تو روس دیکھنے کا شوق‘ اوپر سے دوستِ دیرینہ‘ سابق وفاقی سیکرٹری جناب احمد محمود زاہد صاحب …
طارق حیات ملک میرے گرائیں ہیں۔ ان کا گاؤں ڈُھرنال‘ میرے گاؤں جھنڈیال کے بالکل ساتھ واقع ہے۔ لیکن میری اور طارق حیات ملک صاحب کی مماثلت یہاں پر ختم ہو جاتی ہے۔ آگے دو مختلف دنیائیں ہیں۔ میں ملازمت پیشہ! قرطاس وقلم کا مزدور! ملک صاحب نے فوج کی افسری چھوڑی اور کاروبار کی طرف آ گئے۔ اس وقت ماشاء اللہ ان کا کاروبار پاکستان سے روس تک‘ روس سے وسط ایشیا تک اور وسط ایشیا سے چین تک پھیلا ہوا ہے۔ ملک کو …
حلیم قریشی
اگست 25, 2026
کالم
کالم
یہ پندرہ اگست 2026ء کی دوپہر تھی۔ میں ماسکو میں تھا۔ اسلام آباد سے پروفیسر ڈاکٹر قیصرہ علوی صاحبہ کی کال تھی کہ حلیم قریشی صاحب کو تمغۂ امتیاز دیے جانے کا اعلان ہوا ہے اور یہ کہ اس سلسلے میں تقریب کا اہتمام کر رہی ہیں۔ فون بند ہوتے ہی میں نے قریشی صاحب سے کال ملائی۔ ماسکو میں اس وقت شام کے ٹھیک سات بج کر سولہ منٹ ہوئے تھے۔ میں نے انہیں مبارکباد پیش کی۔ وہ بہت تلخ تھے اور غمزدہ۔ یہ اعزاز ان کے شایانِ شان نہیں تھا۔ ان کا شکوہ یہ تھا کہ ان سے کہیں زیادہ جونیئر شاعروں بلکہ مبتدیوں کو اس سے بڑے مرتبے کے اعزازات دیے گئے۔ فون لاؤڈ سپیکر پر تھا۔ یہ ساری گفتگو میری اہلیہ نے بھی سنی۔ میں نے انہیں تسلی دی کہ اعزاز بہرطور اعزاز ہے اور یہ کہ ہم یہ خوشی منائیں گے بھی! 20 اگست کو واپس پہنچا اور فیس بک کھولی (روس میں سوشل میڈیا پر پابندی ہے)۔ منظر بدل چکا تھا۔ قریشی صاحب ایک دن پہلے وہاں جا چکے تھے جہاں سے آج تک کوئی نہیں واپس آیا۔
ہم دونوں کی شاعری احمد ندیم قاسمی صاحب کے ''فنون‘‘ میں چھپتی تھی۔ ہم ایک دوسرے کو اس حوا لے سے جانتے تھے مگر ملاقات نہ تھی۔ یہ 1980ء سے پہلے کی بات ہے۔ اُن دنوں اسلام آباد کے سِوک سنٹر (میلوڈی مارکیٹ) میں پاکستان کونسل مرحوم کا ہال تھا اور آنجہانی لائبریری بھی! اندر کوئی تقریب ہو رہی تھی۔ میں سیڑھیوں پر کھڑا کسی دوست کا انتظار کر رہا تھا۔ ایک اور صاحب بھی سیڑھیوں پر کھڑے کسی کے منتظر تھے۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے نام پوچھے اور یوں ملاقات غائبانہ سے روبرو بھی ہو گئی۔ وہ دن تھا اور ان کی وفات کا قیامت خیز دن! ان پچاس‘ پچپن برسوں میں ان کی دوستی میرے لیے قیمتی اثاثہ تھی۔ وہ ہر مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ میری عدم موجودگی میں کوئی ایسی ویسی بات ہوتی تو دفاع کرتے۔ ہمارے گھریلو تعلقات مستحکم تھے۔ کوثر بھابی ہمارے پورے کنبے سے محبت کرتی تھیں! ان کے بچے وقاص‘ واجد اور عینی ہمارے بچوں کے ساتھ بڑے ہوئے۔ عینی اب کینیڈا میں ہے اور میری بیٹی‘ ماہ وَش امریکہ میں۔ دونوں کا آپس میں رابطہ ہے۔ تین سال پہلے کوثر بھابی قریشی صاحب کو چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے چلی گئیں۔ میں دو دن قریشی صاحب کے ساتھ ہی رہا۔ تدفین کے ایک دو دن بعد‘ ان کے فارم پر تعزیت کی خاندانی تقریب تھی۔ اس میں صرف میں تھا جو ان کی برادری سے باہر کا تھا۔ فارم قریشی صاحب کو بہت عزیز تھا۔ یہ ان کی آبائی زمین پر ہے۔ محل وقوع زبردست ہے۔ ٹیکسلا عجائب گھر سے ذرا آگے۔ ساتھ نہر بہہ رہی ہے۔ کئی بار ان کے ساتھ جانا ہوا۔ جب بھی مالٹوں کا موسم ہو تا‘ بلاتے یا ساتھ لے جاتے۔ آخری بار بھابھی بھی تھیں اور میری اہلیہ بھی۔ کھانا ان کے گھر سے آیا تھا۔ ہم نے درختوں سے مالٹے توڑ توڑ کر کھائے۔ امید ہے اب وقاص فارم کو نظر انداز نہیں کریں گے اور اس کا خیال رکھیں گے۔
قریشی صاحب انجینئر تھے۔ زیادہ عرصہ واہ سیمنٹ فیکٹری میں گزارا۔ چار سال کراچی رہے‘ چار ہی سال ڈنڈوت میں۔ اپنے شعبے کے ماہر تھے۔ لیاقت‘ ذہانت اور دیانت کا بہترین امتزاج تھے‘ اس لیے ان کی ڈیمانڈ بھی بہت تھی۔ اپنے شوق اور ذوق سے انہوں نے انگریزی ادب میں بھی ایم اے کر لیا تھا۔ عرصۂ ملازمت میں میری تعیناتی واہ میں تین بار ہوئی۔ پہلی بار ڈائریکٹر کمرشل آڈٹ کے طور پر 1980ء میں گیا۔ قریشی صاحب وہیں تعینات تھے۔ اب ہماری قربتوں اور صحبتوں کو چار چاند لگ گئے۔ مجھے سولہ ریٹھا روڈ پر گھر ملا ہوا تھا۔ قریب ہی معروف شاعر حسن ناصر مرحوم کا گھر تھا۔ یہ رتجگوں کا زمانہ تھا۔ ہمارے گھروں میں باری باری رتجگے ہوتے۔ ضیافتیں ہوتیں۔ شاعری سنی اور سنائی جاتی۔ میرا پہلا شعری مجموعہ ''دیوارِ آب‘‘ 1982ء میں شائع ہوا۔ اس کی پہلی تقریب حلیم قریشی صاحب ہی نے واہ میں کرائی۔ پروفیسر جمیل ملک صاحب کا صدارتی خطبہ متاثر کُن تھا۔ پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے۔ ہم بکھر گئے۔ حسن ناصر کچھ عرصہ بعددنیا ہی چھوڑ گئے۔ میں واپس اسلام آباد آ گیا۔ حلیم قریشی صاحب نے اپنا شعری مجموعہ بے حد تاخیر سے چھپوایا۔ مسودہ مجھے دیا کہ دیکھوں۔ میں نے اعتراض کیا کہ وہ بہتر شاعر ہیں اور سینئر بھی تو میں کس حساب سے دیکھوں۔ مگر انہوں نے اصرار کیا اور میں نے اپنی ماڑی موٹی سمجھ بوجھ کے حساب سے مشورے بھی دیے۔ انہوں نے مجموعے کا عنوان ''تاخیر‘‘ ہی رکھا۔ دوسرے مجموعے کا عنوان ''جاں سِتاں‘‘ ہے جو 2013ء میں شائع ہوا۔ جاں ستاں کے بعد‘ گزشتہ تیرہ برسوں میں انہوں نے بہت کچھ کہا جو غیر مطبوعہ ہے۔ اب عزیزم واجد قریشی بھی ملک سے باہر ہیں اور عزیزہ عینی بھی! اس غیر مطبوعہ کلام کو چھپوانے کی ذمہ داری عزیزم وقاص پر ہی پڑے گی۔ خدا اسے حوصلہ اور ہمت دے!
شاعر تو وہ درجہ اوّل کے تھے ہی‘ دوستی میں بھی زرِ خالص تھے۔ یہ اسّی یا اکیاسی کی بات ہے۔ ہم واہ سے اسلام آباد کیلئے آدھی رات کے بعد نکلے۔ بیگم اور بچے ساتھ تھے اور اماں جی اور ابا جی بھی! ٹیکسلا اور سنگجانی کے درمیان گاڑی خراب ہو گئی۔ ڈرائیور نے بہت کوشش کی مگر گاڑی اپنی جگہ سے نہ ہلی۔ پریشانی اس لیے زیادہ تھی کہ بزرگ ساتھ تھے۔ اماں جی بس پر چڑھ ہی نہیں سکتی تھیں۔ چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا اور بے بسی۔ ٹیکسی کا کہیں نام نشان نہ تھا۔ کسی دوست کو اس وقت زحمت دینا بہت عجیب لگ رہا تھا۔ بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا کہ اس وقت‘ رات کے دو بجے‘ صرف حلیم قریشی ہی کو مدد کیلئے بلایا جا سکتا ہے۔ فون کر کے انہیں گہری نیند سے بیدار کیا۔ اُس زمانے میں ان کے پاس سوزوکی ڈبہ تھا۔ فون سننے کے فوراً بعد چل پڑے۔ کچھ دیر کے بعد ہمارے پاس تھے۔ ہمیں اسلام آباد گھر پہنچایا۔ والد گرامی مرحوم اور میں نے بہت کہا کہ بقیہ رات گزار کر صبح واپس جائیں مگر اسی وقت واپس چلے گئے۔ والد صاحب کیساتھ انکی بہت اچھی گپ شپ تھی۔ وہ دوستی نبھانا جانتے تھے۔ کڑے وقت میں ساتھ کھڑے ہوتے تھے‘ اور ساتھ کھڑے ہونے میں نفع نقصان نہیں دیکھتے تھے۔ نفاق ان میں بالکل نہیں تھا۔ مخالفت اور ناپسندیدگی کو بھی چھپاتے ہرگز نہیں تھے۔
حلیم قریشی چلے گئے! ہم سب نے جانا ہے۔ بداندیش اور خیر خواہ سب نے جان دینی ہے۔ بات سچی کرنی چاہیے۔ اب بھی سچ نہ لکھا تو کب لکھیں گے۔ بنجارہ لاد چلنے کو ہے۔ کچھ لوگوں نے قریشی صاحب کو دکھ بہت پہنچایا۔ 2018ء میں میرے والد صاحب کی یاد میں تعزیتی تقریب تھی۔ افتخار عارف صاحب‘ فتح محمد ملک صاحب‘ احسان اکبر صاحب سب موجود تھے۔ جناب سعود عثمانی اور جناب معین نظامی لاہور سے تشریف لائے تھے۔ ایبٹ آباد سے جناب واحد سراج صاحب موجود تھے۔ جناب محبوب ظفر نظامت کر رہے تھے۔ تقریب میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس کا ہدف قریشی صاحب تھے۔ اس میں کیا شک ہے کہ جناب انور مسعود‘ جناب افتخار عارف‘ محترمہ کشور ناہید اور جناب احسان اکبر کے بعد حلیم قریشی ہی جڑواں شہروں میں سب سے سینئر اور بڑے شاعر تھے۔ یوں بھی سنیارٹی وہ ہوتی ہے جسے دوسرے تسلیم کریں۔ سنیارٹی وہ نہیں ہوتی جس کا خود دعویٰ کیا جائے اور وہ بھی جارحیت اور شور وغوغا کے ساتھ! مُشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید۔ آخر میں قریشی صاحب کے تین شعر:
کٹ کر بدن تو غیر کے آنگن میں جا گرا
لیکن انا کے زور پہ سر پیچھے رہ گیا
نہ جانے روٹی کے ان نوالوں پہ کس کا حق ہے
گلے سے اترے جو ایک تو دوسرا نہ اترے
اے منتظمِ ہستی! بس اتنی سی خواہش ہے
اُس دن مجھے جینے دے جس روز قضا آئے
ہم دونوں کی شاعری احمد ندیم قاسمی صاحب کے ''فنون‘‘ میں چھپتی تھی۔ ہم ایک دوسرے کو اس حوا لے سے جانتے تھے مگر ملاقات نہ تھی۔ یہ 1980ء سے پہلے کی بات ہے۔ اُن دنوں اسلام آباد کے سِوک سنٹر (میلوڈی مارکیٹ) میں پاکستان کونسل مرحوم کا ہال تھا اور آنجہانی لائبریری بھی! اندر کوئی تقریب ہو رہی تھی۔ میں سیڑھیوں پر کھڑا کسی دوست کا انتظار کر رہا تھا۔ ایک اور صاحب بھی سیڑھیوں پر کھڑے کسی کے منتظر تھے۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے نام پوچھے اور یوں ملاقات غائبانہ سے روبرو بھی ہو گئی۔ وہ دن تھا اور ان کی وفات کا قیامت خیز دن! ان پچاس‘ پچپن برسوں میں ان کی دوستی میرے لیے قیمتی اثاثہ تھی۔ وہ ہر مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ میری عدم موجودگی میں کوئی ایسی ویسی بات ہوتی تو دفاع کرتے۔ ہمارے گھریلو تعلقات مستحکم تھے۔ کوثر بھابی ہمارے پورے کنبے سے محبت کرتی تھیں! ان کے بچے وقاص‘ واجد اور عینی ہمارے بچوں کے ساتھ بڑے ہوئے۔ عینی اب کینیڈا میں ہے اور میری بیٹی‘ ماہ وَش امریکہ میں۔ دونوں کا آپس میں رابطہ ہے۔ تین سال پہلے کوثر بھابی قریشی صاحب کو چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے چلی گئیں۔ میں دو دن قریشی صاحب کے ساتھ ہی رہا۔ تدفین کے ایک دو دن بعد‘ ان کے فارم پر تعزیت کی خاندانی تقریب تھی۔ اس میں صرف میں تھا جو ان کی برادری سے باہر کا تھا۔ فارم قریشی صاحب کو بہت عزیز تھا۔ یہ ان کی آبائی زمین پر ہے۔ محل وقوع زبردست ہے۔ ٹیکسلا عجائب گھر سے ذرا آگے۔ ساتھ نہر بہہ رہی ہے۔ کئی بار ان کے ساتھ جانا ہوا۔ جب بھی مالٹوں کا موسم ہو تا‘ بلاتے یا ساتھ لے جاتے۔ آخری بار بھابھی بھی تھیں اور میری اہلیہ بھی۔ کھانا ان کے گھر سے آیا تھا۔ ہم نے درختوں سے مالٹے توڑ توڑ کر کھائے۔ امید ہے اب وقاص فارم کو نظر انداز نہیں کریں گے اور اس کا خیال رکھیں گے۔
قریشی صاحب انجینئر تھے۔ زیادہ عرصہ واہ سیمنٹ فیکٹری میں گزارا۔ چار سال کراچی رہے‘ چار ہی سال ڈنڈوت میں۔ اپنے شعبے کے ماہر تھے۔ لیاقت‘ ذہانت اور دیانت کا بہترین امتزاج تھے‘ اس لیے ان کی ڈیمانڈ بھی بہت تھی۔ اپنے شوق اور ذوق سے انہوں نے انگریزی ادب میں بھی ایم اے کر لیا تھا۔ عرصۂ ملازمت میں میری تعیناتی واہ میں تین بار ہوئی۔ پہلی بار ڈائریکٹر کمرشل آڈٹ کے طور پر 1980ء میں گیا۔ قریشی صاحب وہیں تعینات تھے۔ اب ہماری قربتوں اور صحبتوں کو چار چاند لگ گئے۔ مجھے سولہ ریٹھا روڈ پر گھر ملا ہوا تھا۔ قریب ہی معروف شاعر حسن ناصر مرحوم کا گھر تھا۔ یہ رتجگوں کا زمانہ تھا۔ ہمارے گھروں میں باری باری رتجگے ہوتے۔ ضیافتیں ہوتیں۔ شاعری سنی اور سنائی جاتی۔ میرا پہلا شعری مجموعہ ''دیوارِ آب‘‘ 1982ء میں شائع ہوا۔ اس کی پہلی تقریب حلیم قریشی صاحب ہی نے واہ میں کرائی۔ پروفیسر جمیل ملک صاحب کا صدارتی خطبہ متاثر کُن تھا۔ پھر وہی ہوا جو ہوتا ہے۔ ہم بکھر گئے۔ حسن ناصر کچھ عرصہ بعددنیا ہی چھوڑ گئے۔ میں واپس اسلام آباد آ گیا۔ حلیم قریشی صاحب نے اپنا شعری مجموعہ بے حد تاخیر سے چھپوایا۔ مسودہ مجھے دیا کہ دیکھوں۔ میں نے اعتراض کیا کہ وہ بہتر شاعر ہیں اور سینئر بھی تو میں کس حساب سے دیکھوں۔ مگر انہوں نے اصرار کیا اور میں نے اپنی ماڑی موٹی سمجھ بوجھ کے حساب سے مشورے بھی دیے۔ انہوں نے مجموعے کا عنوان ''تاخیر‘‘ ہی رکھا۔ دوسرے مجموعے کا عنوان ''جاں سِتاں‘‘ ہے جو 2013ء میں شائع ہوا۔ جاں ستاں کے بعد‘ گزشتہ تیرہ برسوں میں انہوں نے بہت کچھ کہا جو غیر مطبوعہ ہے۔ اب عزیزم واجد قریشی بھی ملک سے باہر ہیں اور عزیزہ عینی بھی! اس غیر مطبوعہ کلام کو چھپوانے کی ذمہ داری عزیزم وقاص پر ہی پڑے گی۔ خدا اسے حوصلہ اور ہمت دے!
شاعر تو وہ درجہ اوّل کے تھے ہی‘ دوستی میں بھی زرِ خالص تھے۔ یہ اسّی یا اکیاسی کی بات ہے۔ ہم واہ سے اسلام آباد کیلئے آدھی رات کے بعد نکلے۔ بیگم اور بچے ساتھ تھے اور اماں جی اور ابا جی بھی! ٹیکسلا اور سنگجانی کے درمیان گاڑی خراب ہو گئی۔ ڈرائیور نے بہت کوشش کی مگر گاڑی اپنی جگہ سے نہ ہلی۔ پریشانی اس لیے زیادہ تھی کہ بزرگ ساتھ تھے۔ اماں جی بس پر چڑھ ہی نہیں سکتی تھیں۔ چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا اور بے بسی۔ ٹیکسی کا کہیں نام نشان نہ تھا۔ کسی دوست کو اس وقت زحمت دینا بہت عجیب لگ رہا تھا۔ بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا کہ اس وقت‘ رات کے دو بجے‘ صرف حلیم قریشی ہی کو مدد کیلئے بلایا جا سکتا ہے۔ فون کر کے انہیں گہری نیند سے بیدار کیا۔ اُس زمانے میں ان کے پاس سوزوکی ڈبہ تھا۔ فون سننے کے فوراً بعد چل پڑے۔ کچھ دیر کے بعد ہمارے پاس تھے۔ ہمیں اسلام آباد گھر پہنچایا۔ والد گرامی مرحوم اور میں نے بہت کہا کہ بقیہ رات گزار کر صبح واپس جائیں مگر اسی وقت واپس چلے گئے۔ والد صاحب کیساتھ انکی بہت اچھی گپ شپ تھی۔ وہ دوستی نبھانا جانتے تھے۔ کڑے وقت میں ساتھ کھڑے ہوتے تھے‘ اور ساتھ کھڑے ہونے میں نفع نقصان نہیں دیکھتے تھے۔ نفاق ان میں بالکل نہیں تھا۔ مخالفت اور ناپسندیدگی کو بھی چھپاتے ہرگز نہیں تھے۔
حلیم قریشی چلے گئے! ہم سب نے جانا ہے۔ بداندیش اور خیر خواہ سب نے جان دینی ہے۔ بات سچی کرنی چاہیے۔ اب بھی سچ نہ لکھا تو کب لکھیں گے۔ بنجارہ لاد چلنے کو ہے۔ کچھ لوگوں نے قریشی صاحب کو دکھ بہت پہنچایا۔ 2018ء میں میرے والد صاحب کی یاد میں تعزیتی تقریب تھی۔ افتخار عارف صاحب‘ فتح محمد ملک صاحب‘ احسان اکبر صاحب سب موجود تھے۔ جناب سعود عثمانی اور جناب معین نظامی لاہور سے تشریف لائے تھے۔ ایبٹ آباد سے جناب واحد سراج صاحب موجود تھے۔ جناب محبوب ظفر نظامت کر رہے تھے۔ تقریب میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جس کا ہدف قریشی صاحب تھے۔ اس میں کیا شک ہے کہ جناب انور مسعود‘ جناب افتخار عارف‘ محترمہ کشور ناہید اور جناب احسان اکبر کے بعد حلیم قریشی ہی جڑواں شہروں میں سب سے سینئر اور بڑے شاعر تھے۔ یوں بھی سنیارٹی وہ ہوتی ہے جسے دوسرے تسلیم کریں۔ سنیارٹی وہ نہیں ہوتی جس کا خود دعویٰ کیا جائے اور وہ بھی جارحیت اور شور وغوغا کے ساتھ! مُشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید۔ آخر میں قریشی صاحب کے تین شعر:
کٹ کر بدن تو غیر کے آنگن میں جا گرا
لیکن انا کے زور پہ سر پیچھے رہ گیا
نہ جانے روٹی کے ان نوالوں پہ کس کا حق ہے
گلے سے اترے جو ایک تو دوسرا نہ اترے
اے منتظمِ ہستی! بس اتنی سی خواہش ہے
اُس دن مجھے جینے دے جس روز قضا آئے
یہ پندرہ اگست 2026ء کی دوپہر تھی۔ میں ماسکو میں تھا۔ اسلام آباد سے پروفیسر ڈاکٹر قیصرہ علوی صاحبہ کی کال تھی کہ حلیم قریشی صاحب کو تمغۂ امتیاز دیے جانے کا اعلان ہوا ہے اور یہ کہ اس سلسلے میں تقریب کا اہتمام کر رہی ہیں۔ فون بند ہوتے ہی میں نے قریشی صاحب سے کال ملائی۔ ماسکو میں اس وقت شام کے ٹھیک سات بج کر سولہ منٹ ہوئے تھے۔ میں نے انہیں مبارکباد پیش کی۔ وہ بہت تلخ تھے اور غمزدہ۔ یہ اعزاز ان کے شایانِ شان نہیں تھا۔ ان کا شکوہ یہ تھا کہ ان سے کہیں زیادہ جونیئر شاعروں بلکہ مبتدیوں کو اس سے بڑے مرتبے کے اعزازات دیے گئے۔ فون لاؤڈ سپیکر پر تھا۔ یہ ساری گفتگو میری اہلیہ نے بھی سنی۔ میں نے انہیں تسلی دی کہ اعزاز بہرطور اعزاز ہے اور یہ کہ ہم یہ خوشی منائیں گے بھی! 20 اگست کو واپس پہنچا اور فیس بک کھولی (روس میں سوشل میڈیا پر پابندی ہے)۔ منظر بدل چکا تھا۔ قریشی صاحب ایک دن پہلے وہاں جا چکے تھے جہ…
یہ پندرہ اگست 2026ء کی دوپہر تھی۔ میں ماسکو میں تھا۔ اسلام آباد سے پروفیسر ڈاکٹر قیصرہ علوی صاحبہ کی کال تھی کہ حلیم قریشی صاحب کو تمغۂ امتیاز دیے جانے کا اعلان ہوا ہے اور یہ کہ اس سلسلے میں تقریب کا اہتمام کر رہی ہیں۔ فون بند ہوتے ہی میں نے قریشی صاحب سے کال ملائی۔ ماسکو میں اس وقت شام کے ٹھیک سات بج کر سولہ منٹ ہوئے تھے۔ میں نے انہیں مبارکباد پیش کی۔ وہ بہت تلخ تھے اور غمزدہ۔ یہ اعزاز ان کے ش…
دانش کے ذخیرے… (2)
اگست 18, 2026
کالم
کالم
خواجہ نظام الملک طوسی دو سلجوقی بادشاہوں (الپ ارسلان اور ملک شاہ) کے وزیراعظم رہے۔ ان کی وفات 1092ء میں ہوئی۔ سیاست نامہ ان کی مشہور کتاب ہے جو حکمرانوں کیلئے دستور العمل ہے۔ اس کتاب کے پہلے تیرہ باب یونیورسٹی آف بمبئی کے کورس میں شامل رہے۔ معروف پبلشر سلیم گاہندری نے لکھا ہے کہ ''برٹش گورنمنٹ کے زمانہ میں یہ کتاب سول سروس کے کورس میں داخل رہی ہے‘‘۔ صرف ابواب دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتاب حکمرانوں کیلئے رہنمائی کے بہترین ذریعوں میں سے ایک ہے۔ باب اول‘ گردشِ روزگار اور مدحِ ذات باری۔ باب دوم‘ حکمرانوں کا جذبۂ شکر۔ تیسرا باب‘ حکمرانوں کا عدل و انصاف۔ چوتھا‘ بیورو کریسی کا احتساب۔ پانچواں‘ اہلکاروں کے طرزِ کار کا جائزہ۔ چھٹا ‘ عدلیہ کی حدود اور اختیارات۔ ساتواں‘ انتظامیہ کے افسران۔ آٹھواں‘ شرعی امور میں غور وفکر۔ نواں‘ حکومت کے کارندوں کی کارکردگی۔ دسواں ‘ ایجنسیوں (مخبروں) کے فرائضِ انتظامی۔ گیارہواں‘ مرکزی حکومت کے احکام کی بجا آوری۔ بارہواں‘ سفیروں کی روانگی۔ تیرہواں‘ مخبروں اور جاسوسوں کا تقرر۔ چودہواں‘ نمائندگانِ سلطنت کا انتخاب۔ پندرہواں‘ احکامات کے اجرا میں احتیاط۔ سولہواں‘ وزیراعظم کے عہدہ کی اہمیت۔ سترہواں‘ کابینہ اور مقربین (کچن کابینہ)۔ اٹھارہواں‘ اہلِ علم سے حکمران کے مشورے۔ انیسواں‘ حفاظتی دستہ (باڈی گارڈز) اور اس کا ساز وسامان۔ بیسواں ‘ اسلحہ کی ترتیب۔ اکیسواں‘ سفارت کے حوالے سے ہدایات۔ بائیسواں‘ مختلف سرکاری منازل پر مویشیوں کیلئے خوارک کی بہم رسانی (آج کے زمانے میں سرکاری گاڑیوں کی دیکھ بھال )۔ تئیسواں‘ لشکریوں کی املاک کا جائزہ۔ چوبیسواں ‘ افواج میں مختلف طبقوں کی نمائندگی کی ضرورت۔ پچیسواں‘ مرکز میں بعض افراد کا قیام بطور ضمانت۔ چھبیسواں‘ مختلف طبقوں کے افراد کی تقرری۔ ستائیسواں ‘ سرکاری عملہ کی عدم اطاعت۔ اٹھائیسوں ‘ حکمرانوں کے ہاں حاضری میں حفظِ مراتب۔ انتیسواں‘ محفل کے آداب۔ تیسواں‘ حکمران کے حضور نشستوں کی ترتیب۔ اکتیسواں‘ اسلحہ کی فراہمی۔ بتیسواں‘ سرکاری ملازموں کی گزارشات۔ تینتیسواں‘ خطاکاروں اور باغیوں کی سرزنش۔ چونتیسواں‘ پروٹوکول کے فرائض۔ پینتیسواں‘ سرکاری ضیافتیں۔ چھتیسواں‘ ملازموں کی حوصلہ افزائی۔ سینتیسواں‘ افسروں کے انتخاب میں احتیاط کی ضرورت۔ اڑتیسواں‘ حکمران کا عجلت پسندی اور جلد بازی سے گریز۔ انتالیسواں‘ مالیاتی حکام۔ چالیسواں ‘ حکمران کی عدل پروری اور قوانین و ضوابط کی پابندی۔ اکتالیسواں ‘ ایک ہی عہدہ دار کو دو مختلف کام سونپنے سے گریز۔ بیالیسواں ‘ فوج کے کمانڈروں کی حیثیت کا تعین۔ تینتالیسواں باب‘ ملحدین اور ان کی ریشہ دوانی۔ اس کے بعد کے کچھ ابواب اس وقت کے باغیوں کے متعلق ہیں۔ اس کے بعد اڑتالیسواں باب بیت المال کے ضابطوں کے متعلق ہے۔ انچاسواں باب مظلوموں کی داد رسی اور قیامِ عدل کے بارے میں ہے۔ پچاسواں باب قومی دولت کے محاسبہ اور بجٹ کے متعلق ہے۔ غور کیجیے کہ حکمرانی اور جہانبانی کے حوالے سے شاید ہی کوئی پہلو رہ گیا ہو جس پر طوسی نے مفید ہدایات نہ دی ہوں۔ اس کتاب کے وہ ابواب جو آج بھی بر محل ہیں اور مناسبت رکھتے ہیں‘ ہمارے نظامِ تعلیم کا حصہ ہونے چاہئیں۔ طوسی نے ہر نکتے کو سمجھانے کیلئے تاریخ سے سچے واقعات بھی بیان کیے ہیں تاکہ متعلقہ موضوع اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے۔
دانش کا ایک اور ذخیرہ ''قابوس نامہ‘‘ ہے۔ اسے بادشاہ کیکاؤس بن سکندر بن قابوس نے 1082ء میں تصنیف کیا۔ اس کا شمار فارسی کلاسکس میں ہوتا ہے۔ کیکاؤس نے یہ کتاب اپنے فرزند گیلان شاہ کی تربیت اور نصیحت کیلئے لکھی اور یہ عوام اور خواص میں مقبول و مشہور ہو گئی۔ میری ذاتی لائبریری میں اس کا فارسی نسخہ بھی موجود ہے اور اردو ترجمہ بھی موجود ہے۔ اردو ترجمہ جناب محمد افضل نے کیا ہے۔ میں یہ کالم ماسکو میں بیٹھا سپردِ قلم کر رہا ہوں‘ ورنہ یہ بھی بتاتا کہ اردو ترجمہ کس نے شائع کیا ہے اور کہاں سے مل سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ محمد افضل وہی ہیں جنہوں نے حال ہی میں قائداعظم کی زندگی کے ہر پہلو پر ایک جامع کتاب ''میرِ کارواں‘‘ تصنیف کی ہے جو دو جلدوں پر اور تقریباً ڈیڑھ‘ دو ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ بدقسمتی سے میرے پاس محمد افضل صاحب کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ جناب منیر احمد منیر سے‘ جنہوں نے قائداعظم پر کئی تحقیقی کتابیں لکھی ہیں‘ افضل صاحب کے بارے میں پوچھوں گا۔ قابوس نامہ بتاتا ہے کہ ایک خاندانی نوجوان کو زندگی کس طرح گزارنی چاہیے۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ سنائی‘ امیر خسرو‘ جامی اور کئی دیگر عالی مقام مصنفین نے اس کتاب سے استفادہ کیا ہے۔ زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں اس میں ہدایات ہیں اور مشورے بھی۔ چند ابواب کے عنوات ملاحظہ فرمائیے۔ خدا کی پہچان۔ پیغمبروں کی بعثت اور رسالت کے بیان میں۔ مال کی زیادتی کے ساتھ نیک اعمال اور عبادت میں اضافے کے متعلق۔ والدین کے حقوق اور ان کا شکریہ۔ ہنر اور ذاتی فضائل کیسے بڑھائیں۔ گفتگو کرنے کے آداب اور طریقے۔ نوشیرواں کی وصیتیں۔ بڑھاپے اور جوانی کے احوال۔ کھانے پینے کے آداب اور طریق کار۔ مہمان نوازی اور ضیافت کے آداب۔ شطرنج اور دیگر کھیلوں کا بیان۔ عشق و محبت اور اس کا احوال۔ سونے جاگنے اور آرام کرنے کا بیان۔ مال جمع کرنے‘ خرچ کرنے اور امانت داری کے متعلق۔ سواری خریدنے کا ہنر۔ شادی کرنے اور بیوی کا انتخاب کرنے کے بیان میں۔ اولاد کی تربیت اور انہیں ہنرمند بنانے کے بارے میں۔ دوست بنانے اور ان کے ساتھ نباہ کرنے کے آداب۔ دشمنوں سے بچنے اور محتاط رہنے کا بیان۔ گھر‘ جائداد اور زمین خریدنے کا بیان۔ تجارت اور سوداگری کرنے کے اصول اور آداب۔ میڈیکل سائنس کا بیان اور ڈاکٹر کے فرائض۔ شعر و شاعری کا فن اور شاعری کے آداب۔ راگ رنگ‘ گلوکاری اور موسیقاری کے آداب۔ حکمرانوں کے ہاں حاضری کے آداب۔ وزیر ہونے کے آداب اور امورِ وزارت۔ فوجی قیادت اور لشکر کشی کے آداب۔ رعایا کی دیکھ بھال کے اصول۔ زراعت‘ کھیتی باڑی اور دہقانی کے کام۔ تصوف‘ درویشی اور صوفیا کے طور طریقوں کا بیان۔ جج ہونے اور انصاف کرنے کے بیان میں۔ مفتی اور فقیہ ہونے کے بیان میں۔ عفو و درگزر اور سخاوت کے بیان میں۔ عاقل اور دانشمند ہونے کی علامات۔ آخر میں کیکاؤس بیٹے کو بتاتا ہے کہ خرد‘ طبعی اور فطری ہوتی ہے۔ یہ قدرت کی طرف سے ودیعت ہوتی ہے‘ سیکھی نہیں جا سکتی۔ جو سیکھی جا سکتی ہے اسے دانش کہتے ہیں۔ چنانچہ اگر قدرت نے کسی کو طبعی خرد عطا کی ہے تو اسے چاہیے کہ دانش سیکھنے کی کوشش کرے تاکہ درجۂ کمال کو پہنچے۔ اور اگر طبعی طور پر خرد نہیں بخشی گئی تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ تاہم کوشش کر کے دانش سیکھ۔ اور طبعی خرد کی کمی پوری کرنے کیلئے حکمت سیکھنے کی دانش کے ذخیرے اور بھی ہیں۔ کیا خبر کسی وقت وہ بھی‘ یا ان میں سے چند ایک مغرب میں مقبول ہو جائیں اور ہم‘ اہلِ مغرب کی دیکھا دیکھی‘ ان کی طرف راغب ہو جائیں۔ کیونکہ یہ تو طے ہے کہ ہم نے خود انہیں پوری طرح نظر انداز کیا ہوا ہے۔ اسی لیے ہماری اخلاقی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ دیانت‘ امانت‘ سچائی تو دور کی بات ہے ہم تو اپنے بزرگوں اور اساتذہ کا احترام کرنا بھی بھول گئے۔ اس لیے کہ دانش کے جو ذخیرے ہمیں آداب سکھاتے تھے انہیں ہم نے پس پشت ڈال دیا۔ آج بچے کہتے ہیں ''ٹیچر آیا یا نہیں آیا‘‘ گویا ٹیچر بھی بجلی یا دودھ والے کی طرح محض ایک خدمتگار ہے۔ باپ گھر میں داخل ہو تو بیٹا‘ نیم دراز‘ اپنے فون یا لیپ ٹاپ پر سے نظر تک نہیں ہٹاتا۔ امریکی یا یورپی تو ہم بن نہ سکے نہ بن سکتے ہیں مگر مشرقی بھی نہ رہے! اب تو آئینے میں اپنے آپ کو پہچاننا بھی مشکل ہے۔
دانش کا ایک اور ذخیرہ ''قابوس نامہ‘‘ ہے۔ اسے بادشاہ کیکاؤس بن سکندر بن قابوس نے 1082ء میں تصنیف کیا۔ اس کا شمار فارسی کلاسکس میں ہوتا ہے۔ کیکاؤس نے یہ کتاب اپنے فرزند گیلان شاہ کی تربیت اور نصیحت کیلئے لکھی اور یہ عوام اور خواص میں مقبول و مشہور ہو گئی۔ میری ذاتی لائبریری میں اس کا فارسی نسخہ بھی موجود ہے اور اردو ترجمہ بھی موجود ہے۔ اردو ترجمہ جناب محمد افضل نے کیا ہے۔ میں یہ کالم ماسکو میں بیٹھا سپردِ قلم کر رہا ہوں‘ ورنہ یہ بھی بتاتا کہ اردو ترجمہ کس نے شائع کیا ہے اور کہاں سے مل سکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ محمد افضل وہی ہیں جنہوں نے حال ہی میں قائداعظم کی زندگی کے ہر پہلو پر ایک جامع کتاب ''میرِ کارواں‘‘ تصنیف کی ہے جو دو جلدوں پر اور تقریباً ڈیڑھ‘ دو ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ بدقسمتی سے میرے پاس محمد افضل صاحب کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ جناب منیر احمد منیر سے‘ جنہوں نے قائداعظم پر کئی تحقیقی کتابیں لکھی ہیں‘ افضل صاحب کے بارے میں پوچھوں گا۔ قابوس نامہ بتاتا ہے کہ ایک خاندانی نوجوان کو زندگی کس طرح گزارنی چاہیے۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ سنائی‘ امیر خسرو‘ جامی اور کئی دیگر عالی مقام مصنفین نے اس کتاب سے استفادہ کیا ہے۔ زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں اس میں ہدایات ہیں اور مشورے بھی۔ چند ابواب کے عنوات ملاحظہ فرمائیے۔ خدا کی پہچان۔ پیغمبروں کی بعثت اور رسالت کے بیان میں۔ مال کی زیادتی کے ساتھ نیک اعمال اور عبادت میں اضافے کے متعلق۔ والدین کے حقوق اور ان کا شکریہ۔ ہنر اور ذاتی فضائل کیسے بڑھائیں۔ گفتگو کرنے کے آداب اور طریقے۔ نوشیرواں کی وصیتیں۔ بڑھاپے اور جوانی کے احوال۔ کھانے پینے کے آداب اور طریق کار۔ مہمان نوازی اور ضیافت کے آداب۔ شطرنج اور دیگر کھیلوں کا بیان۔ عشق و محبت اور اس کا احوال۔ سونے جاگنے اور آرام کرنے کا بیان۔ مال جمع کرنے‘ خرچ کرنے اور امانت داری کے متعلق۔ سواری خریدنے کا ہنر۔ شادی کرنے اور بیوی کا انتخاب کرنے کے بیان میں۔ اولاد کی تربیت اور انہیں ہنرمند بنانے کے بارے میں۔ دوست بنانے اور ان کے ساتھ نباہ کرنے کے آداب۔ دشمنوں سے بچنے اور محتاط رہنے کا بیان۔ گھر‘ جائداد اور زمین خریدنے کا بیان۔ تجارت اور سوداگری کرنے کے اصول اور آداب۔ میڈیکل سائنس کا بیان اور ڈاکٹر کے فرائض۔ شعر و شاعری کا فن اور شاعری کے آداب۔ راگ رنگ‘ گلوکاری اور موسیقاری کے آداب۔ حکمرانوں کے ہاں حاضری کے آداب۔ وزیر ہونے کے آداب اور امورِ وزارت۔ فوجی قیادت اور لشکر کشی کے آداب۔ رعایا کی دیکھ بھال کے اصول۔ زراعت‘ کھیتی باڑی اور دہقانی کے کام۔ تصوف‘ درویشی اور صوفیا کے طور طریقوں کا بیان۔ جج ہونے اور انصاف کرنے کے بیان میں۔ مفتی اور فقیہ ہونے کے بیان میں۔ عفو و درگزر اور سخاوت کے بیان میں۔ عاقل اور دانشمند ہونے کی علامات۔ آخر میں کیکاؤس بیٹے کو بتاتا ہے کہ خرد‘ طبعی اور فطری ہوتی ہے۔ یہ قدرت کی طرف سے ودیعت ہوتی ہے‘ سیکھی نہیں جا سکتی۔ جو سیکھی جا سکتی ہے اسے دانش کہتے ہیں۔ چنانچہ اگر قدرت نے کسی کو طبعی خرد عطا کی ہے تو اسے چاہیے کہ دانش سیکھنے کی کوشش کرے تاکہ درجۂ کمال کو پہنچے۔ اور اگر طبعی طور پر خرد نہیں بخشی گئی تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ تاہم کوشش کر کے دانش سیکھ۔ اور طبعی خرد کی کمی پوری کرنے کیلئے حکمت سیکھنے کی دانش کے ذخیرے اور بھی ہیں۔ کیا خبر کسی وقت وہ بھی‘ یا ان میں سے چند ایک مغرب میں مقبول ہو جائیں اور ہم‘ اہلِ مغرب کی دیکھا دیکھی‘ ان کی طرف راغب ہو جائیں۔ کیونکہ یہ تو طے ہے کہ ہم نے خود انہیں پوری طرح نظر انداز کیا ہوا ہے۔ اسی لیے ہماری اخلاقی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ دیانت‘ امانت‘ سچائی تو دور کی بات ہے ہم تو اپنے بزرگوں اور اساتذہ کا احترام کرنا بھی بھول گئے۔ اس لیے کہ دانش کے جو ذخیرے ہمیں آداب سکھاتے تھے انہیں ہم نے پس پشت ڈال دیا۔ آج بچے کہتے ہیں ''ٹیچر آیا یا نہیں آیا‘‘ گویا ٹیچر بھی بجلی یا دودھ والے کی طرح محض ایک خدمتگار ہے۔ باپ گھر میں داخل ہو تو بیٹا‘ نیم دراز‘ اپنے فون یا لیپ ٹاپ پر سے نظر تک نہیں ہٹاتا۔ امریکی یا یورپی تو ہم بن نہ سکے نہ بن سکتے ہیں مگر مشرقی بھی نہ رہے! اب تو آئینے میں اپنے آپ کو پہچاننا بھی مشکل ہے۔
خواجہ نظام الملک طوسی دو سلجوقی بادشاہوں (الپ ارسلان اور ملک شاہ) کے وزیراعظم رہے۔ ان کی وفات 1092ء میں ہوئی۔ سیاست نامہ ان کی مشہور کتاب ہے جو حکمرانوں کیلئے دستور العمل ہے۔ اس کتاب کے پہلے تیرہ باب یونیورسٹی آف بمبئی کے کورس میں شامل رہے۔ معروف پبلشر سلیم گاہندری نے لکھا ہے کہ ''برٹش گورنمنٹ کے زمانہ میں یہ کتاب سول سروس کے کورس میں داخل رہی ہے‘‘۔ صرف ابواب دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتاب حکمرانوں کیلئے رہنمائی کے بہترین ذریعوں میں سے ایک ہے۔ باب اول‘ گردشِ روزگار اور مدحِ ذات باری۔ باب دوم‘ حکمرانوں کا جذبۂ شکر۔ تیسرا باب‘ حکمرانوں کا عدل و انصاف۔ چوتھا‘ بیورو کریسی کا احتساب۔ پانچواں‘ اہلکاروں کے طرزِ کار کا جائزہ۔ چھٹا ‘ عدلیہ کی حدود اور اختیارات۔ ساتواں‘ انتظامیہ کے افسران۔ آٹھواں‘ شرعی امور میں غور وفکر۔ نواں‘ حکومت کے کارندوں کی کارکردگی۔ دسواں ‘ ایجنسیوں (مخبر…
خواجہ نظام الملک طوسی دو سلجوقی بادشاہوں (الپ ارسلان اور ملک شاہ) کے وزیراعظم رہے۔ ان کی وفات 1092ء میں ہوئی۔ سیاست نامہ ان کی مشہور کتاب ہے جو حکمرانوں کیلئے دستور العمل ہے۔ اس کتاب کے پہلے تیرہ باب یونیورسٹی آف بمبئی کے کورس میں شامل رہے۔ معروف پبلشر سلیم گاہندری نے لکھا ہے کہ ''برٹش گورنمنٹ کے زمانہ میں یہ کتاب سول سروس کے کورس میں داخل رہی ہے‘‘۔ صرف ابواب دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا…