اِس خاک کی دُنیا سے جُدا اُس کی ہَوا تھی
کیا حُسن تھا خوارِزم میں، کیا اُس کی ہَوا تھی
آنکھوں سے کہ تھا دِل سے نِکَلتا ہُوا جَیحُوں
تھا خُون رَگوں میں کہ بَپا اُس کی ہَوا تھی
مَنظَر کو تو جیسے بھی ہُوا، جھَیل گَیا تھا
جِس نے مجھے مارا بَخُدا اُس کی ہَوا تھی
کیا بَخت تھا، چلتا تھا میں جَیحُوں کے کِنارے
چُھوتی تھی بَدَن کو جو ہَوا، اُس کی ہَوا تھی
کیا تَخت تھا، پانی پہ بِچھا تھا مِری خاطِر
کیا زُلف تھی، کیا زُلف کُشا اُس کی ہَوا تھی
میوے تھے کہ رُخسار تھے، وَحشت تھی کہ لَب تھے
یا وَقت کوئی اور تھا، یا اُس کی ہَوا تھی
وَہاں پہنچا تو نَنگے پاؤں گَلیوں میں پِھرُوں گا
زَمانوں سے پَرَے ہر نَقشِ پا کو دیکھ لُوں گا
مَیں ہَر آواز سے اَپنی سَمَاعَت کو بَچا کَر
مُقَدَّس آہَٹیں اُن عَرْش قَدَموں کی سُنُوں گا
زَہے وہ گَرد جو اُن کی سَواری نے اُڑائی
میں آنکھوں میں کَہاں تَک مَحْض بِینائی رَکُّھوں گا
چَٹائی اور پَیوَند اور یہ زَرپوش اُمّت
حِرا اور ثَور کے غاروں میں جا کَر رو پَڑُوں گا
ہر سِمْت ہے گَہرا سَنّاٹا، یَہاں کوئی نَہیں
میں تَہہ خانے بھی جھانک آیا، یَہاں کوئی نَہیں
یہاں نَوْبَت بَجتی تھی، یَہاں ہاتھی جُھومتے تھے
دِل ہے اب اُجڑا دَروازہ، یَہاں کوئی نَہیں
تُم تَھکے ہوئے تو ہو لیکِن ایک بات سُنو
یَہاں رات مُسافِر مَت رُکنا، یَہاں کوئی نَہیں
یَہاں کوئی نَہیں کِیوں تارے خُود کو جَلاتے ہیں؟
کوئی پُوچھو چاند سے کِیوں نِکلا؟ یَہاں کوئی نَہیں
یہاں آدھی رات تھی، میں نے جَب پُوچھا، کوئی ہے؟
کوئی گھور اَندھیرے میں چِیخا، یَہاں کوئی نَہیں
کِیوں پُھول اَنار کا آنکھیں مَل مَل روتا ہے؟
کِیوں مہکا بُوٹا تُلسی کا؟ یَہاں کوئی نَہیں
کِیوں گِیلی ریت نے جس میں ٹَھنڈی سانس بَھری؟
کِیوں گَھڑے نے پانی چَھلکایا؟ یَہاں کوئی نَہیں
کِیوں پکی ہوئی گَندُم نے بالی لَہْرائی؟
کِیوں چَلی مُوافِق ہو کے ہوا؟ یَہاں کوئی نَہیں
کِیوں کَٹی ہُوئی سَرْسوں نے مِرا چہرہ چُوما؟
کیا کوئی نَہیں یَہاں میرے سِوا؟ یَہاں کوئی نَہیں
سَب بَھرے ہَیں مال اَسباب سے کوٹھے، چوبارے
سُنسان مگر قَریہ سارا، یَہاں کوئی نَہیں
کَل تَک تو سَب آباد تھے، شاد تھے بَستی میں
جو کچھ بھی ہُوا ہے، آج ہُوا، یَہاں کوئی نَہیں
میزوں پر کھانے چُنے ہیں، کُرسِیاں خالی ہیں
کیا جانِیے اُتری کیسی بلا؟ یَہاں کوئی نَہیں
یَہی مِٹّی سونا چاندی ہے جَیسی بھی ہے
یَہی مِٹّی اپنی مِٹّی ہے جَیسی بھی ہے
اِسی مِٹّی میں ہَم بِیج کی صُورَت جائیں گے
ہَمیں اَپنے اَندَر رَکھتی ہے جَیسی بھی ہے
اِسی مِٹّی سے ہَم پھُوٹَیں گے کونْپَل بَن کَر
یَہی مِٹّی ماں ہَمیں جَنتی ہے جَیسی بھی ہے
اِسی مِٹّی نے ہَمیں دُودھ پِلایا، بَڑے ہُوئے
ہَمیں پاؤں پاؤں چَلاتی ہے جَیسی بھی ہے
اِسی مِٹّی میں اَجداد کی مِٹّی شامِل ہے
یَہی خُون رَگوں میں بَنتی ہے جَیسی بھی ہے
اِسی مِٹّی نے ہَمیں بادَل اور ہوائیں دِیں
یَہی چُھو کے فَلَک کو آتی ہے جَیسی بھی ہے
اِسی مِٹّی نے ہَمیں شَربَت، شَہْد، شَرابَیں دیں
یَہی ہونٹوں کی شِیرِینی ہے جَیسی بھی ہے
اِسی مِٹّی سے زَیتُون کے باغ اُگائیں گے
یَہی غَرناطہ، یَہی سِسِلی ہے جَیسی بھی ہے
جو تَخت پَر تھا، اُسے گِرَفتار کَر چُکے ہیں
پھِر اِک نیا بادشاہ تَیّار کَر چُکے ہیں
یُونہی بَغاوَت کا ہَم نے پَرچَم نَہیں اُٹھایا
جو خَلوَتی ہیں، اُنھیں طَرَفدار کَر چُکے ہیں
جو ہو سَکے تو اَب اَپنا طَرزِ سُخَن نِکالیں
بہت مِری پَیرَوی مرے یار کَر چُکے ہیں
کوئی سَواری نہ آئے اَب دِل کے راستے سے
کہ اِس طَرَف سے بَلَند دِیوار کَر چُکے ہیں
مِلیں جو زیرِ زَمِیں تو عُشّاق کو بَتانا
زَمِیں پَر ہَم حُسْن کو وفادار کَر چُکے ہیں
سَفَر پَر نِکلے ہُوئے ہیں بَچّے اور اَپنی حالَت
کُچھ اِس طَرْح ہے کہ سِینہ گُلزار کَر چُکے ہیں
سِتارہْ ہَمارے جَہانوں میں تھا
مگر گُم کَہیں داستانوں میں تھا
چھَتوں پَر اُتَرتی تھِیں پَریاں کَبھی
یہ قِصّہ کَئی خاندانوں میں تھا
ہر اِک ہونٹ پر بوسۂِ مَرگ تھا
عَجَب زَہر ساری زَبانوں میں تھا
مِری شاعری اور میرا مَعاش
تو گویا یہ چَشمہ چَٹانوں میں تھا
کِتاب اور شَمشِیر، زِیْن اور عَصا
بہت کُچھ ہَمارے مَکانوں میں تھا
میں زِندَگی اور بَخت پانی سے ڈھالتا ہُوں
کبھی سَفِینے، کبھی جَواہِر اُچھالتا ہُوں
یہ پیاس سے جاں بَلَب ہیں مُنکِر مرے ہُنَر کے
میں سَنگِ خارا سے آبِ شِیرِیں نِکالتا ہُوں
میں جا پہنچتا ہُوں چاہ سے شاہ کے مَحَل میں
نِکَل کے زِنداں سے مَیں حُکومَت سَنبھالتا ہُوں
زَمیں سے اور آسماں سے پانی اور ایک کَشتی
مَیں سَینکڑوں سال اِس مُصِیبَت کو ٹالتا ہُوں
میں اپنی تَوقِیر عِشْق میں بُھولتا کہاں ہُوں
میں چاند کے سامنے سِتارہ اُجالتا ہوں
تُم اَپنی اِقْلِیم سے زَر و سِیم جَمَع کَرلو
میں اَپنی گُدْڑی سے ایک آیَت نِکالتا ہوں
تُم تَک نَہیں پہنچی خَبَر؟ میں ہو چُکا مَسْنَد نَشِیں
اے آسْماں نِیچے اُتَر، اُٹھ کَر کھَڑی ہو اے زَمِیں
پھُولوں، پَرِندوں، تِتلِیوں کا بال بھی بَیکا نہ ہو
سُننا نَہِیں چاہُوں گا مَیں کوئی خَبَرِ اَندوہْ گِیں
کَل صُبْح دَم اِس قَصْر کی دِیوار کو ڈھاؤں گا مَیں
مَوجُود ہوں دَرْویش، جِتنے ہَیں یَہاں گوشۂ نَشِیں
یہ پیڑ کے نِیچے بِچھا میرا ہی دَسْتَرْخوان ہے
اِس پر سَجانا ہے اَبھی زَیتون اور نانِ جَویں
عُشّاق سارے چَل دِیے زُلفیں تِری چُھوْتے ہُوئے
مُجھ کو بھی کیا مارے گی اَب اے زِندَگی، اے نازنِیں
کیا لَہْلَہاتی فَصْل ہے، کیا بالِیاں لَہْرائی ہیں
آنے دو جو مِسکِین ہیں، میری غَزَل کے خوشہ چِیں
لِباس کُہنہ ہے اور عام سی کُلاہ مری
بُرائی کَرتے ہَیں اِس پَر بھی بادشاہ مری
غَنیم نے مُجھے ظاہِر کی آنکھ سے دیکھا
نَظر نہ آئے اُسے اَسپ اور سِپاہ مری
یہ عَکْس ہے جو نَظر آ رہا ہے، اَصل نہیں
کہ شَب سَفَید ہے اور رَوشنی سِیاہ مری
فَقِیرِ خاک نَشیں اور اُس کی جُنْبِشِ لَب
پھِر اُس کے بَعد ہُوئی سَلْطَنَت تَباہ مری
حُروف کَشْف کے ہَیں اور ظُروف مِٹّی کے
اُجَڑ سَکی نہ کِسی سے یہ خانْقاہ مری
بَس ایک اِسم دَمِ واپسِیں کہ اُس کے سِوا
کوئی نہیں ہے، کَہِیں بھی نہیں پَناہ مری
یہ مانا جِسم مِٹّی کے جَہانوں میں بَنے ہیں
مَگَر رُخسار و لَب کِن کارخانوں میں بَنے ہیں
زَمِیں نے جَب مُجھے چھوڑا تھا مُشتِ اُسْتخواں تھا
یہ بال و پَر مِرے اُونچِی اُڑانوں میں بَنے ہیں
بَدَن اور رُوح کا یہ مَعْرَکہ ہَم سَر تو کرتے
ہَدَف لیکِن ہماری ہی کَمانوں میں بَنے ہیں
جُدا کرتے ہیں مُجھ کو آسْماں سے اور ماں سے
یہ کَیسے سِلسِلے گَندُم کے دانوں میں بَنے ہیں
کِرائے کے گھَروں میں زِندَگی کاٹی ہے اِظہار
کہ اَپنے گھَر ہَمارے، داستانوں میں بَنے ہیں
نَے عَقْل کی گھاٹی سے نہ تَقدِیر سے پہنچا
اِس اَوج پہ میں اِسم کی تاثِیر سے پہنچا
تارِ رَگِ جاں اور چھَنَک کاسَئہِ سَر کی
بَخشِش کے لِئے راہِ مَزامِیر سے پہنچا
ماں! کھول دے جَنَّت کے دَرِیچے کہ دَمِ مَرْگ
فَرزَند عَجَب حَسرَتِ دِلگِیر سے پہنچا
پہرا تھا کَڑا شَہر کے دَروازوں پہ جِس وَقْت
پَیغام عَدُو کو مرے اِک تِیر سے پہنچا
شَہتُوت کا رَس تھا نہ غَزالوں کے پَرے تھے
اِس بار بھی مَیں جَشْن میں تاخِیر سے پہنچا
روتا، پلٹ کے ہاتھ ہلاتا، رُکا ہوا
آدھا چلے ہے سانس تو آدھا رکا ہوا
بیمار مر چکے ہیں لہو تھوکتے ہوئے
کچھ روز سے ہے کارِ مسیحا رکا ہوا
دیکھا تھا میں نے، کان کی لَو سے چلا تھا یہ
رخسار کے مقام پر شعلہ رکا ہوا
سب صدقِ دل سے کھائی کی جانب رواں دواں
اس بھیڑ میں بس ایک میں اندھا رکا ہوا
جنت میں کیا عجب مجھے اک باغ دیں جہاں
چلتے ہوئے درخت ہوں دریا رکا ہوا
چھٹنے کا اذن ہے نہ برسنے کا حکم ہے
آنکھوں میں ہے اک ابر کا ٹکڑا رکا ہوا
حاکم یہاں سے گزرے گا اظہار کس گھڑی
بدبخت کے لیے ہے جنازہ رکا ہوا
یہ نَخل جِس پہ آج ہیں لَمحے لَگے ہُوئے
اِس پَر تھے سال اور مَہِینے لَگے ہُوئے
یُوں تھا کہ مَیں بھی چاند تھا، دادا مِرا بھی تھا
اِک پَیڑ تھا اور اُس پہ اَلُوچے لَگے ہُوئے
کیا کیا تھے دِن کو اسپِ سَواری کے ذائقے
قاف اور پَری کے رات کو قِصّے لگے ہُوئے
مَستُور سُرْخ رَنگ رَداؤں میں بِیبِیاں
اُونٹوں پہ زَرد رَنگ کَجاوے لَگے ہُوئے
اِک چارپائی بَان کی کِیکَر کی چھاؤں میں
دِیوار پَر وہ سامنے اُپلے لَگے ہُوئے
مَرمَر سے جَیسے تَراشا ہُوا تھا تَمام باغ
پَیڑوں کے ساتھ جَیسے پَرِندے لَگے ہُوئے
پوتوں نَواسِیوں کے چَمَن زار واہ واہ
اَولاد پَر بَہِشت کے میوے لَگے ہُوئے
دیکھا کَریں گے اَہلِ زَمِیں کو پسِ وفات
ہَیں آسمان پہ ہِجر دَرِبیچے لَگے ہُوئے
سَر ہو سَکی نہ اُن کی مَدَد سے کوئی مُہِم
دیوارِ دل پہ عِشْق کے نَقشے لَگے ہُوئے
اِس خارزارِ دَرد میں اَحباب کا وُجود
اِس دھوپ میں ہیں چھاؤں کے ٹُکڑے لَگے ہُوئے
یہ بَحر و بَر ہیں کھیل فِراق اور وِصال کا
ہیں پانِیوں کے ساتھ جَزِیرے لَگے ہُوئے
سواری نہ خیمہ نہ پانی یہاں
جبھی کی ہے نقل مکانی یہاں
شکستہ سی قبر اس کے پہلو میں تھی
وہ بستی کہ تھی جو پرانی یہاں
اگر چرخ اترا زمیں پر کبھی
بدل دوں گا اس کے معانی یہاں
چمن جھاڑ جھنکار سے اٹ گئے
عجب تو نے کی باغبانی یہاں
ہیں اندھے ترے دور میں کوتوال
کریں تو تلے قصہ خوانی یہاں
ترے عہد میں غرق سارے ہوئے
دخانی تھے یا بادبانی یہاں
بہت دیر تک روئے گا بادشہ
سناؤں گا ایسی کہانی یہاں
یہ کوٹھی ہے صاحب! ترے عشق کی
ملازم ہیں ہم خاندانی یہاں
کوئی زاری سنی نہیں جاتی کوئی جرم معاف نہیں ہوتا
اس دھرتی پر اس چھت کے تلے کوئی تیرے خلاف نہیں ہوتا
کبھی دمکیں سونے کے ذرے کبھی جھلکے مرغابی کا لہو
کئی پیاسے کب سے کھڑے ہیں مگر پانی شفاف نہیں ہوتا
کوئی زلف اُڑے تو بکھر جانا کوئی لب دہکیں تو ٹھٹھر جانا
کیا تزکیہ کرتے ہو دل کا یہ آئنہ صاف نہیں ہوتا
کئی موسم مجھ پر گزر گئے احرام کے ان دو کپڑوں میں
کبھی پتھر چوم نہیں سکتا کبھی اذنِ طواف نہیں ہوتا
یہاں تاج اس کے سر پر ہو گا جو تڑکے شہر میں داخل ہو
یہاں سایہ ہما کا نہیں پڑتا یہاں کوہ قاف نہیں ہوتا